فراقِ ہستیِ اقدس کا غم رُلا جاتا
وہ جب گزرتے درختوں کو صبر آ جاتا مرے حضور ہیں رحمت وگرنہ طائف میں پہاڑ شہر کے اوپر اُلٹ دیا جاتا جو تھا وہ ابر کا پارہ وہ کاش میں ہوتا تو چھاؤں چھاؤں ، شتربان دیکھتا جاتا وہ جس مقام پہ نَعلَین آپ کے گئے ہیں مجال کیا کہ وہاں کوئی دوسرا جاتا […]