مرے محبوب، محبوبِ خُدا ہیں

مرے آقا، امام الانبیا ہیں حبیبِ کبریا، خیر البشر ہیں جنابِ فاطمہؓ خیر النساء ہیں سراپا روشنی، نورِ مجسم وہی شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ ہیں وہی جو رحمۃ اللعالمیں ہیں وہی نورالہدیٰ، خیر الوریٰ ہیں جو محروموں میں خوشیاں بانٹتے ہیں وہی بے آسروں کا آسرا ہیں سخی ایسے، کوئی جتنا بھی مانگے فزوں تر، بیش […]

مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے

کرم اُن کا ہے یہ اُن کی عطا ہے سراپا خیر ہے، نورِ مجسم مرا خیر الوریٰ نور الہدیٰ ہے وہ آیا پُرسکوں مسرور واپس جو اُن کے در پہ آزردہ گیا ہے ہوئی نہ آپ کی جس کو زیارت وہ عاشق زار سمجھو مر گیا ہے وہی ممتاز، یکتا، منفرد ہیں نہیں کوئی بھی […]

میرے دِل میں حضور رہتے ہیں

کون کہتا ہے دُور رہتے ہیں اُن کے قدموں میں اُن کے دیوانے اہلِ فکر و شعور رہتے ہیں جن کو نظرِ کرم کی بھیک ملے وہ مجسم سرُور رہتے ہیں جو درُود و سلام پڑھتے ہیں اُن کے دِل نور نور رہتے ہیں اُن کی گلیوں سی وہ کہاں جنت جس میں حور و […]

میں آپ کے در کا ہوں گدا گر شہِ والا

ہیں آپ عطاؤں کے سمندر شہِ والا محبوب ہو، یکتا ہو، معظم ہو، مکرم ثانی نہ کوئی آپ کا ہمسر شہِ والا سرکار کے القاب ہیں صادق بھی، امیں بھی محبوبِ خُدا، نور کے پیکر شہِ والا دیتے ہیں حیات آپ نئی مردہ دِلوں کو دُکھیاروں کے ہیں آپ مبشر شہِ والا تائیدِ خُداوندی اگر […]

میں لکھوں حمد ربِّ مصطفیٰ کی

میں لکھوں نعت محبوبِ خدا کی میں حمد و نعت باہم لکھ رہا ہوں ثنا سے حمد ہرگز نہ جدا کی جو لکھی نعت ختم المرسلیں کی خدا کی حمد سے ہی ابتدا کی محبت باہمی روزِ ازل سے شبِ معراج تجدیدِ وفا کی درُود اللہ جب بھیجے نبی پر گھڑی ہوتی ہے وہ فیض […]

نبی کا گُلستاں ہے اور میں ہوں

محبت کا جہاں ہے اور میں ہوں درِ سرکار پر ہے چشم گریاں جبیں سجدہ کناں ہے اور میں ہوں یہ اُن کا فیض ہے اُن کی عطا ہے نبی کا آستاں ہے اور میں ہوں درِ اقدس پہ لرزاں، خیزاں، اُفتاں گروہِ عاشقاں ہے اور میں ہوں ادب سے سر خمیدہ اُن کے در […]

نگاہوں میں مدینہ آ گیا ہے

مصائب کو پسینا آ گیا ہے اندھیروں میں وہ اِک شمعِ فروزاں ضیاؤں میں نگینہ آ گیا ہے بھنور میں نام جب اُن کا پُکارا کنارے پر سفینا آ گیا ہے بفیضانِ پیمبر عاشقوں کو محبت کا قرینا آ گیا ہے جو ڈُوبے بحرِ عشقِ مصطفی میں اُنھیں مر مر کے جینا آ گیا ہے […]

نہ تیرنے کے ہنر سے واقف نہ ہم ہیں پختہ سفینے والے

تری شفاعت کے آسرے پر رواں دواں ہیں مدینے والے ستم تو یہ ہے مرے پیمبر فقط یہ حلیے کی ورزشیں ہیں وگرنہ ایسے دکھائ دیتے تری اطاعت میں جینے والے درود گوئ کا سلسلہ تو فقط بہانہ بنا ہوا ہے اکٹھے ہوتے ہیں روز جامِ رخِ منور کو پینے والے جوسوچتے تھے دیا جلائے […]

وہ سدا کامگار رہتا ہے

آپ سے جس کو پیار رہتا ہے اِک قدم میرے دِل میں میرے حضور ہجر میں بے قرار رہتا ہے عاشقوں کے دِلوں میں بستا ہے حُسن یوں پردہ دار رہتا ہے کتنا خوش بخت ہے وہ عاشق جو جان و دِل اُن پہ وار رہتا ہے ہم فقیروں پہ اُن کا لُطف و کرم […]

آپ کے آستاں پہ آتا ہوں

اپنے من کی مراد پاتا ہوں آپ فیض و عطا کا مرکز ہیں آپ کے در پہ سر جھُکاتا ہوں آپ کا سایا میرے سر پہ رہے اس دُعا کو میں ہاتھ اُٹھاتا ہوں دِل میں پڑھتا ہوں میں درُود و سلام یوں میں سنسان گھر بساتا ہوں میں پہنتا ہوں آپ کا اُترن میں […]