واہ کیا حسن کیسا جوبن ہے

کیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہے جس کو دیکھو وہ نور کا بقعہ یے پرستان ہے کہ لندن ہے عبث ان کو مسیح کہتے ہیں مار رکھنے کا ان میں لچھن ہے حسن دکھلا رہا ہے جلوۂ حق روئے تاباں سے صاف روشن ہے رسم الٹی ہے خوب رویوں میں دوست جس کے بنو وہ […]

وہ مسیحا قبر پر آتا رہا

میں موے پر روز جی جاتا رہا زندگی کی ہم نے مر مر کے بسر وہ بت ترسا جو ترساتا رہا واہ بخت نارسا دیکھا تجھے نامہ بر سے خط کہیں جاتا رہا راہ تکتے تکتے آخر جاں گئی وہ تغافل کیش بس آتا رہا دل تو دینے کو دیا پر ہم نشیں ہاتھ میں […]

پادشاہاں را جہاں بخشید و ما را مہرِ خود

دیگراں را سنگ و ما را در ترازو زر نہاد بادشاہوں کو دنیا جہان بخشا اور ہمیں اپنی محبت دے دی، گویا اوروں کو تو (دنیا دے کر) پتھروں سے تولا اور ہمیں (اپنی محبت دے کر) سونے چاندی سے تول دیا

پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے

چلا دو گام بھی جب وہ ادا سے وہ بت آئے ادھر بھی بھول کر راہ دعا یہ مانگتا ہوں میں خدا سے حجاب اس کا ہوا شب مانع دید نقاب الٹی نہ چہرے کی حیا سے اشارہ خنجر ابرو کا بس تھا مجھے مارا عبث تیغ جفا سے بہت بل کھا رہی ہے زلف […]

چنانم در دِلے حاضر کہ جاں در جسم و خوں در رگ

فراموشم نہ ای وقتے کہ دیگر وقت یاد آئی تُو (ہر وقت) اس طرح میرے دل میں موجود ہے جیسے جان جسم میں اور خون رگوں میں میں تجھے کسی وقت بھُولا ہی نہیں کہ کسی دوسرے وقت میں یاد آئے

کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھے

ہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھے عمر بھر یوں تو کبھی لی بھی نہ کروٹ پس مرگ حیف رہ رہ کے کیا کرتے ہیں اب یاد مجھے حکم درباں کو ہے زنہار نہ آنے پائے غیر کے سامنے کرتے ہیں مگر یاد مجھے باغباں گلشن عالم کا میں وہ بلبل ہوں طائر سدرہ […]

گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیا

گیا شباب تو اب موسم خضاب آیا میں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیا کہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا کٹا تھا روز مصیبت خدا خدا کر کے یہ رات آئی کہ سر پہ مرے عذاب آیا کہاں ہے دل کو عبث ڈھونڈھتے ہو پہلو میں تمہارے کوچے میں مدت […]

گئی فصل بہار گلشن سے

بلبلوں اڑ چلو نشیمن سے فاتحہ بھی پڑھا نہ تربت پر جا کے لوٹ آئے میری مدفن سے مجھ کو کافی تھی قید حلقۂ زلف بیڑیاں کیوں بنائیں آہن سے زلف کے پیچ سے نہ رہ غافل دوستی کر دلا نہ دشمن سے ہو گریباں کا چاک خاک رفو تار ہاتھ آئے جب نہ دامن […]

گردِ ما ننشست جز در دامنِ زلفِ بتاں

ہر کجا بینی پریشاں با پریشاں آشناست ہماری (پریشان) خاک، محبوب لوگوں کی زلفِ پریشاں کے سوا اور کہیں نہ بیٹھی تُو جہاں کہیں بھی دیکھ لے تجھے علم ہو جائے گا کہ ایک پریشان دوسرے پریشان کا آشنا ہے

ہیچ ازیں حسرت نمی سوزیم کز بازارِ فیض

اہلِ دل جیبِ مُراد و ما شکم پُر کردہ ایم ہم اس حسرت میں ذرا بھی نہیں جلتے اور کچھ تاسف بھی نہیں کرتے کہ بازارِ فیض سے دل والوں نے تو اپنی مرادوں کی جھولیاں بھر لیں اور ہم نے فقط پیٹ ہی بھرے ہیں