رہتے ہیں تا حیات تعاقب میں سانحے

نوحہ گری ہنر ہی نہیں معجزہ بھی ہے پہلے نہ تھی کبھی نہ دوبارہ کبھی بھی ہے ناکامیاب عمر مری واقعہ بھی ہے ہیں مختلف جہات مری کائنات کی حیرت کدہ بھی ہے تو یہ عبرت کدہ بھی ہے اس کے سوا بھی کون سی شئے کو ثبات ہے بالفرض میرا عشق اگر شعبدہ بھی […]

اُڑ گئے رنگ مگر خواب کا خاکہ اب تک

قابلِ دید بھی ہے ، شاملِ تزئین بھی ہے دل کی دیوار کی زینت کو ضروری ٹھہرا ایک وہ عکس کہ بے رنگ بھی ، رنگین بھی ہے سن رسیدہ ہی سہی عشق کا کرتب لیکن قابلِ داد بھی ہے ، لائقِ تحسین بھی ہے ایک لہجہ کہ فراموش ہوا، یاد بھی ہے وہ تماشہ […]

دستِ قاتل کہ نہیں اذنِ رہائی دیتا

میں نے مرنا تھا بھلے لاکھ صفائی دیتا میں کہ احساس تھا محسوس کیا جانا تھا میں کوئی روپ نہیں تھا کہ دکھائی دیتا دامنِ چاک تو گل رنگ ہوا جاتا ہے اور خیرات میں کیا دستِ حنائی دیتا اب کہیں ہو تو صدا دے کے پکارو ورنہ اس اندھیرے میں نہیں کچھ بھی سجھائی […]

شکوہ تو نہیں خیر سماعت سے تمہاری

لیکن مری آواز کو سن پاؤ تو بہتر دل خاک ہوا خاک میں اب کون سی حس ہو ٹھہرو تو قدم بوس رہے ، جاؤ تو بہتر اب مجھ میں انا نام کی کچھ چیز نہیں ہے تم آؤ تو بہتر ہے ، نہیں آؤ تو بہتر پہلے ہی دلِ سوختہ سر جان بلب ہے […]

سونپ دی جائے گی اب خاک کو ہر اک خواہش

پھر گلے لگ کے دفینے سے رہا جائے گا چاک ہوگا تو سلیقے سے گریبان کہ اب دشتِ وحشت میں قرینے سے رہا جائے گا میں تہہِ آب سے اس طور پکاروں جیسے اب نہیں تیرے سفینے سے رہا جائے گا شہرِ جاناں مجھے رستوں کے حوالے کر دے اور رہتا ہوں تو جینے سے […]

نہ لاتی نرم سماعت ہی تاب، ممکن تھا

ترے سوال کا ورنہ جواب ممکن تھا تمہی کہو کہ بھلا خآک موندتے آنکھیں شکستِ خواب یقینی تھی خواب ممکن تھا نہ شرمسار ہوئے ہیں نہ شرمسار کیا اگرچہ سود و زیاں کا حساب ممکن تھا تمہارے بعد بھلا کون سی امان میں تھے ہمارے سر پہ کوئی بھی عذاب ممکن تھا اُدھر کسی کا […]

اپنی تمام رونقِ تاباں کے باوجود

میں ماہِ نیم شب ہوا، رُو بہ زوال ہوں اک عہدِ مہرباں کا تراشہ ہوا ، سو میں اس عہدِ ناسپاس میں ملنا محال ہوں افسوس ہے کہ مجھ سا کوئی بھی نہیں ہوا کم بخت آج تک بھی فقید المثال ہوں حرفوں سے مطمئن نہیں ہوتی ہیں وحشتیں میں پوچھتا نہیں ہوں سراپا سوال […]

تمہارے لحن میں ابھروں تو دائمی ٹھہروں

میں اس گمان میں قصہ ہوا ہی چاہتا ہوں تم کو لکھا ہے تو لکھا ہے روشنائی سے اب اپنے نام کی خاطر سیا ہی چاہتا ہوں تو پھوٹتی ہوئی پَو ہے سو مجھ کو کیا جانے چراغِ وقتِ سحر ہوں بجھا ہی چاہتا ہوں میں ڈھل رہا تھا سو تجھ کو نہ ڈھالنا چاہا […]

اٹکا ہے بڑی دیر سے خوش فہم کا دم بھی

تم ہاتھ جھٹک دو کہ سہولت سے مَرے دل یہ کم ہے کہ بے آس دھڑکتا ہے ابھی تک اب اور بھلا خآک کرامات کرے دل جاتے ہوئے لمحے نہ ٹھہرنے تھے وگرنہ سجدے کیے رستوں میں تو قدموں دھرے دل اب کوئی صدا ہے ، نہ گلہ ہے ، نہ تقاضہ بیٹھا ہے زمانے […]

شکوہِ مرگِ آرزوُ بھی نہیں

کوئی سامع نہیں ہے توُ بھی نہیں اب مخاطب کوئی نہیں میرا اور اب کوئی روبروُ بھی نہیں میں زمیں بوس ہی نہ ہو جاؤں میری بوسیدگی کو چھوُ بھی نہیں بیج دفنا رہے ہو خوابوں کے میری قدرت میں جب نموُ بھی نہیں گمشدہ خود کو ڈھونڈتا ہوں میں اب تمہاری تو جستجوُ بھی […]