اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو زبان کے نامور شاعر اور نعت خواں اعجاز رحمانی کا یوم پیدائش ہے

 

اعجاز رحمانی(پیدائش: 12 فروری 1936ء – وفات:26 اکتوبر 2019ء)
——
اعجاز رحمانی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور شاعر اور نعت خواں تھے۔ معروف نعت گو شاعر، اقبال کے جہان نو کے خوابوں کے نقیب، مولانا مودودی کے فکری ساتھی اعجاز رحمانی صاحب محض ایک شاعر نہیں وضع داری اور تہذیب کا نام تھا۔
اعجاز رحمانی 12 فروری 1936ء کو ہندوستان کے مشہور شہر (علم و ادب کے شہر) علی گڑھ کے محلّہ اسرا میں سید ایوب علی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان مکمل نام سید اعجاز علی رحمانی تھا۔ اعجاز رحمانی کی کم عمری میں ہی والد اور والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ دینی تعلیم علی گڑھ ہی میں حاصل کی۔ وہ 1954ء میں پاکستان منتقل ہو گئے۔ اعجاز رحمانی کراچی میں ابراہیم انڈسٹری عثمان آباد میں ملازم ہو گئے۔
اعجاز رحمانی پاکستان آ کر معاشی جدوجہد میں لگ گئے۔ لیکن ساتھ ہی شعر کہنا نہیں چھوڑا۔ ایک طویل عرصہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی میں ملازمت کی۔ ۔
اعجاز رحمانی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے رکن رہے۔ پہلی نعت 1955ء میں لکھی۔ نعت خواں بھی تھے۔اعجاز رحمانی نے قمر جلالوی کی شاگردی اختیار کی۔ اعجاز رحمانی کا شاعری میں اک اپنا ہی مقام تھا۔ ایک نعت گو کی حیثیت سے انہیں منفرد مقام حاصل تھا۔ آپ نے احادیث مبارکہ کا بھی منظوم ترجمہ نہایت احتیاط سے کیا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کیا یہ غمِ جاناں کا تو اعجاز نہیں ہے
——
پروفیسر منظر ایوبی نے کہا کہ اعجاز رحمانی کی شاعری اصلاح معاشرہ اور تبلیغ دین سے مزین ہے، تبلیغ دین کا جذبہ ان کی رگ رگ میں بسا ہوا ہے، شخصیتی پہلو دیکھا جائے تو انہوں نے ہر دور میں مختلف موضوعات پر زمانے کے اعتبار سے اخلاص کے ساتھ شعر و شاعری کا کام کیا ، عظمت کے مینار اور خلفائے راشدین کے کردار اور کارناموں کو نہایت ہی خوبصورتی اور کمال کے ساتھ شاعری میں پیش کیا۔
طارق رئیس فروغ کے مطابق اعجاز رحمانی اردو کے عصر حاضر کے ایک ایسے منجھے ہوئے اور ممتاز شاعر ہیں، جو بیشتر اصناف سخن میں اپنی حیثیت تسلیم کرا چکے ہیں۔ اعجاز رحمانی بیسویں اور اکیسویں صدی کے ان شعرائے کرام میں سے ہیں جنھوں نے اپنی نعت و حمد گوئی، غزلیات اور خوش گوئی کی بدولت شہرت پائی۔ مطالعہ، محنت اور تجربے نے ان کے اسلوب میں مزید نکھار پیدا کیا۔ دین سے سچی وابستگی اور عشق رسول کے جذبوں نے ان کے کلام کو پُر اثر بنادیا ہے۔ اعجاز رحمانی نے تقریباً ہر صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔
غزل اور نظم کے ساتھ ساتھ انھوں نے بے حساب خوبصورت نعتیں کہی ہیں۔ اعجاز رحمانی کے غزل، نظم اور نعتوں کی کلیات شائع ہوچکی ہیں۔ جو کہ اردو ادب میں ایک بہت بڑا اضافہ ہے۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر متعدد مشاعروں میں اعجاز رحمانی نے حصہ لیا اور انتہائی خوبصورت ترنم کے ساتھ اپنا کلام پیش کیا۔ اعجاز رحمانی نے مختلف اخبارات میں بڑی تعداد میں بہت خوبصورت قطعات لکھے ہیں۔ اردو ادب میں دو کام ایسے ہیں جو اعجاز رحمانی کے علاوہ کسی نے نہیں کیے۔ سیرت محمد پر الطاف حسین حالی نے مدو جزر اسلام لکھی لیکن وہ اسلام کی تاریخ ہے۔ جبکہ ابو الاثر حفیظ جالندھری نے شاہنامہء اسلام لکھی۔ وہ بھی تاریخ اسلام پر ہے۔ ان دونوں میں بھی آنحضرت کے بارے میں تحریر ہے۔
لیکن اعجاز رحمانی کی تصنیف ’’سلامتی کا سفر‘‘ منظوم سیرت نگاری ہے، جس میں پورے عہدِ رسالت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک شاہکار تخلیق ہے جو بعثت سے وصال تک دو حصوں پر مشتمل ہے، جس میں ۶ ہزار سے زائد اشعار شامل ہیں۔ پہلے حصے میں قبل بعثت حضور سے شروع ہو کر نزول رسالت اور اس کا دور شامل ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں مدینے آمد سے حضور کی وفات، ان کے اخلاق و اوصاف کا بیان اور آپ کے ارشادات اور آخر میں خلاصہ کلام پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا کام، ہمارے ہاں بے شمار شاعروں نے خلفائے راشدین اور دیگر صحابہء کرام پر منقبتیں کہیں ہیں، حضرت علی کرم اللہ وجہ پر نظمیں بھی لکھی ہیں اور بہت سارا کام کیا ہے، لیکن خلفائے راشدین پر کسی نے کام نہیں کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی​
——
اعجاز رحمانی کی ایک کتاب ’’عظمتوں کے مینار‘‘ کے نام سے چاروں خلفائے راشدین کے حالات پر مشتمل ہے۔ جس میں چار سو سے زائد بند شامل ہیں، جو ولادت سے وصال تک پورا کام ہے۔ روانی اور سلاست میں اعجاز رحمانی کا بحیثیت شاعر جواب نہیں۔ غزلیات، حمد و نعت نگاری اور نظموں میں لفظی آہنگ، شعری غنائیت، جذبے کی عقیدت اور سچائی، زبان کی خوبصورتی اور دلکشی اور بحروں کا صحیح استعمال، ان کی شاعرانہ فنکاری سے عبارت ہے۔ اعجاز رحمانی صاحب پر حیدر آباد یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ہورہی ہے اور ایم فل کے کئی مقالے لکھے جاچکے ہیں۔ اتنے معتبر اور بزرگ شاعر کے ساتھ زیادتی یہ رہی کہ ابھی تک انھیں حکومت کی جانب سے کسی اعزاز سے نہیں نوازا گیا۔
——
وفات
——
اعجاز رحمانی 83 برس کی عمر میں 26 اکتوبر 2019ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
——
اعجاز رحمانی کی تصانیف
——
خوشبو کا سفر
سلامتی کا سفر
لہو کا آبشار
جذبوں کی زبان
آخری روشنی (نعتیہ مجموعہ)
پہلی کرن آخری روشنی
اعجاز ِ مصطفٰی
کاغذ کے سفینے
افکار کی خوشبو
غبار انا
لمحوں کی زنجیر (غزلوں کا مجموعہ)
چراغ مدحت
گل ہائے سلام و منقبت: (2013ء)
——
"کلیاتِ نعت” اعجازؔ رحمانی کے پانچ نعتیہ مجموعہ ہائے کلام پر مشتمل ہے۔ 1184 صفحات ہیں۔ مئی 2010ء میں شائع ہوئی
——
حرفِ اول از ڈاکٹر ابوالخیر کشفی ، پہلی کرن آخری روشنی
——
اعجاز رحمانی صاحب سے میرا تعارف اعجازِ مصطفیٰ کے حوالے سے ہوا اور میرا اور ان کا رشتہ اس شعر کی بنیاد پہ استوار ہے :
——
میری عسرت کو ہے نسبت ایک ایسے شخص سے
جس کے دامانِ تہی میں دولتِ کونین ہے
——
نعت کا یہ انتہائی خوبصورت اور مؤثر شعر ایک عجب لسانی تجربہ ہے ۔ شخص، دامانِ تہی ، بھلا حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی ذاتِ گرامی سے ان لفظوں کو کیا نسبت ۔ لیکن ” ایک ایسے ” اور ” دولتِ کونین ” کی پیوند کاری نے ایک نیا اور مختلف لسانی سیاق و سباق تخلیق کر دیا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فقرِ رسول ، دامانِ تہی کی جگہ اس کائنات کے واسطے دامانِ رحمت بن جاتا ہے ۔ زبان کی یہ تسخیر نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے نسبت کی مرہونِ منت ہے۔
اعجازِ مصطفیٰ کی نعتوں میں اردو نعت گوئی کی روایات کے التزام کے ساتھ ساتھ ایک بے قرار روح کی تڑپ اور بے چینی کا بھی عکس نظر آتا ہے ۔
ایک طرف تو دامانِ رسول کی خوشبو ہر غم سے فراغ کی ضمانت ہے اور دوسری طرف عہد حاضر کی زندگی کے تضادات اور آج کے انسان کا المیہ ، اس مثالی انسان کی کردار و حیات سے رجوع کی دعوت ہے ۔ اعجاز رحمانی کی یہ آرزو مندی اُن کے مومنِ قلب کا اشاریہ ہے کہ وہ اپنے عہد کو تعلیماتِ محمدی کے قالب میں ڈھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ۔
آدمی اپنے آپ کو حقیر سمجھے تو اس کی شناخت کے جو الفاظ استعمال ہوں گے وہ بھی حقیر ہو جائیں گے ۔ اور اس نے محنت کی عظمت تک سیدِ ابرار کے توسط سے رسائی حاصل کی ہے ۔
——
آج تک آپ کے پسینے سے
جل رہا ہے چراغ محنت کا
——
یہ اعجاز رحمانی کی شخصیت کا ایک پہلو ہے ۔ اسی پہلو کا تقاضا یہ تھا کہ وہ معاشرہ کی اصلاح کو عملی طور پہ اپنائیں ۔ بلدیۂ کراچی کی کونسلری ان کے لیے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔
اس جذبۂ حُبِ نبی اور تقلیدِ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اعجاز رحمانی کو خدائے محمد نے وہ شعورِ نغمہ اور آہنگ عطا کیا ہے جو ان کی نعتوں میں ہر جگہ سنائی دیتا ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ اردو نعت گوئی کی روایت ان کے سامنے ہے ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ حضور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کا ذاتی تعلق ایسا واضح ہے کہ اسے محبت کی اعلیٰ ترین اور ارفع ترین سطح کہہ لیجیے ۔
ان کا ذوقِ عمل اور شعورِ نغمہ اسی محبت کا نتیجہ ہے ۔
آج نعت گوئی پہ جیسی توجہ دی جا رہی ہے غالباََ ہماری ادبی تاریخ کے کسی دور میں نہیں دی گئی اس کا سبب یہی ہے کہ ہم اپنے ویران ویران دلوں کو اس ویرانے اور ظلمت کدے میں لے کر جب روشنی ، خوبشو اور سرسبزی کی تلاش میں نکلے تو دیارِ رسالت تک پہنچ گئے ۔ لیکن آج کے بہت سے نعت گو شعراء کرام کے ہاں دل اور ذہن کی یہ ہم آہنگی نہیں ملتی ۔
نعت کے میدان میں مضمون آفرینی سے کام نہیں بنتا ۔ اس کے لیے دل اور اُس کے مطابق مطالبوں کو غلامیٔ رسول میں دینا پڑتا ہے اور پھر آگاہی کی اس منزل تک پہنچنے کی جدوجہد کرنی ہوتی ہے جس پر پہنچ کر منصبِ رسالت کے مفاہیم دل و نظر کی متاع بن جائیں :
——
ثنائے شفیعِ اُمم لکھ رہا ہوں
میں تاریخِ لوح و قلم لکھ رہا ہوں
میں جتنا بھی لکھتا ہوں شانِ نبی میں
یہ محسوس ہوتا ہے کم لکھ رہا ہوں
خدا میرا روئے سخن جانتا ہے
کسے محترم، محتشم لکھ رہا ہوں
——
کتنی صدیوں سے تھا انتظار آپ کا
اس زمانے کو کتنے زمانے لگے
——
اعجاز رحمانی نے اردو غزل کی ایک روایت کو شعوری طور پہ برتا ہے ، کسی طرح ان کی نعتوں میں بعض مشہور شعروں کی صدائے بازگشت ، نئی بلندیوں پہ گونجتی نظر آتی ہے ۔ اس شعر کو بڑی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے :
——
حسن اس شان سے چلتا ہو خدا ہو جیسے
زیر پا چاند ستاروں کی ردا ہو جیسے
——
یہ خیال اعجاز رحمانی کے نعتیہ شعروں میں نئے انداز سے اپنے آپ کو دہراتا ہے ۔ لیکن حسن کا یہ مرتبہ ، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے غلاموں کا مرتبہ بن جاتا ہے :
اس وقت بھی ہونٹوں پہ محمد کی ثنا ہو
جب زیرِ قدم چاند ستاروں کی ردا ہو
——
مانگتا ہوں میں خاکِ درِ مصطفیٰ
چاند تاروں کو کس کی ردا چاہیے
——
غزل کی کئی اور علامتیں اور روایتی تصور ، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت سے ایک نئی بلندی کے حامل بن گئے ہیں ۔ مثلاََ پھولوں کا تبسم ، زخم ، چاک گریبانی ، ایک روایتی تصور ہے لیکن یہ شعر ایک نیا تصور اور خیال بن کر ابھرا ہے ۔
——
حضور آئیں تو سب زخم مندمل ہو جائیں
یہ پھول کب سے تبسم کا بار اٹھائے ہیں
——
چند ایسے اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جن میں غزل کی علامتیں نئے سیاق و سباق کا آئینہ بن گئی ہیں :
——
ہونٹوں پہ ہے میرے شبِ اسریٰ کی حکایت
کچھ دیر کو اے گردشِ ایام ٹھہر بھی
——
چمن میں آمدِ خیر الوریٰ کی جب خبر پائی
پئے تعظیم خوشبو پھول سے باہر نکل آئی
——
آئینہ خانے کی حد میں کس نے رکھا ہے قدم
جل اٹھے ہیں آئینہ خانے میں حیرت کے چراغ
——
صفاتِ الہٰیہ کی جھلک حضور کی زندگی میں بحدِ بشریت انتہائی مکمل شکل میں نظر آتی ہے ۔ حضور اخلاقِ الہٰی کا مظہر ہیں اور یہی سب سے اچھا رنگ ہے جس میں ہمیں اپنے آپ کو رنگنا ہے ۔ کیونکہ یہی ہماری معراج ہے ۔ جنہوں نے اس نکتے کو سمجھ لیا وہ تاریخِ انسانی کے سمت نما بن گئے :
——
اُس کی راہ پہ چلنے والے سورج بن کر اُبھرے ہیں
سنگ زنوں کو جس کی سیرت آئینہ کردار کرے
——
اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمارے مستقبل کو تعمیر کر سکتا ہے ۔
——
منتخب کلام
——
میں جتنا بھی لکھتا ہوں شانِ نبی میں
یہ محسوس ہوتا ہے کم لکھ رہا ہوں
——
شکریہ مالکِ کتاب و قلم
تو نے اعجاز کو زباں دے دی
——
مصطفیٰ کا جواب ہے کوئی ؟
کیا رسالت مآب ہے کوئی ؟
——
اُسوۂ مصطفیٰ کی یہ تفسیر ہے
روشنی ، روشنی ، روشنی ، روشنی
——
مجھے یہ فخر ہے اعجازؔ حاصل
کہ مدّاحِ شہِ ابرار ہوں میں
——
کسی اور کے خدا سے نہ غرض نہ واسطہ ہے
ہے وہی خدا ہمارا جو حضور کا خدا ہے
یہ جو بزمِ آب و گِل ہے یہ تمام کربلا ہے
جہاں امن و آشتی ہے وہ دیارِ مصطفیٰ ہے
یہ جو آدمی کا رتبہ ہے بلند قدسیوں سے
کسی اور کا نہیں ہے یہ کرم حضور کا ہے
مہ و آفتاب کیا ہیں تری گردِ رہگور ہیں
وہی راستہ ہے روشن جہاں تیرا نقش پا ہے
جسے مصطفیٰ نے روشن کی ظلمتِ حرا میں
سرِ بزمِ علم ودانش وہ چراغ جل رہا ہے
کوئی اس کی عظمتوں کو نہ سراغ پا سکے گا
وہ نعال پا ہے اس کی جسے عرش چومتا ہے
کسی اور راستے سے نہ ملے گی ہم کو منزل
جو حضور نے بتایا وہی ٹھیک راستہ ہے
مری بات کی گواہی ہے اذان اور کلمہ
جہاں ذکر ہے خدا کا وہیں ذکرِ مصطفیٰ ہے
مجھے ناز بخت پر ہے مجھے فخر ہے یہ اعجاز
کہ مرا نبی وہی ہے جو امام الانبیاء ہے
——
یہ بھی پڑھیں : جب تلک باقی رہے آنکھوں میں بینائی دکھا
——
ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں
قولِ نبی دلیل قرآن بن گئے ہیں
تعلیمِ مصطفےٰ نے ایسا شعور بخشا
جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں
آدم سے تابہ عیسیٰ، عیسیٰ سے مصطفیٰ تک
اک داستان کے کتنے عنوان بن گئے ہیں
اسلام چاہتا ہے اس واسطے اُخوّت
جب مل گئے ہیں قطرے طوفان بن گئے ہیں
اخلاقِ مصطفیٰ ہے کردار کی کسوٹی
اقوال مصطفےٰ کے میزان بن گئے ہیں
اسلام سے ہٹے ہیں جس دور میں بھی انساں
فرعون بن گئے ہیں ہامان بن گئے ہیں
کلمہ، نماز، روزہ، حج و زکوۃ یارو
دینِ محمدی کے ارکان بن گئے ہیں
جن کو ہوئی میسر دربار میں حضوری
وہ لوگ مصطفےٰ کے مہمان بن گئے ہیں
کیا حشر اپنا ہوگا اعجاز روزِ محشر
ہر بات جان کر ہم انجان بن گئے ہیں
——
ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگ
سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ
کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاں
پوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ
سائے کی مانگتے ہیں ردا آفتاب سے
پتھر سے آئنے کا بدل چاہتے ہیں لوگ
کب تک کسی کی زلف پریشاں کا تذکرہ
کچھ اپنی الجھنوں کا بھی حل چاہتے ہیں لوگ
بار غم حیات سے شانے ہوئے ہیں شل
اکتا کے زندگی سے اجل چاہتے ہیں لوگ
رکھتے نہیں نگاہ تقاضوں پہ وقت کے
تالاب کے بغیر کنول چاہتے ہیں لوگ
جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں
کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ
درکار ہے نجات غم روزگار سے
مریخ چاہتے ہیں نہ زحل چاہتے ہیں لوگ
اعجازؔ اپنے عہد کا میں ترجمان ہوں
میں جانتا ہوں جیسی غزل چاہتے ہیں لوگ
——
اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا
سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا
فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا
پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر
سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا
ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے
خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے گا
میں سوچ رہا ہوں یہ سر شہر نگاراں
یہ اس کی گلی ہے تو ٹھہرنا ہی پڑے گا
اب شانۂ تدبیر ہے ہاتھوں میں ہمارے
حالات کی زلفوں کو سنورنا ہی پڑے گا
اک عمر سے بے نور ہے یہ محفل ہستی
اعجازؔ کوئی رنگ تو بھرنا ہی پڑے گا
——
ہزار آرائشیں کیجے مگر اچھا نہیں لگتا
جودل وحشت بداماں ھو تو گھر اچھا نہیں لگتا
نمائش جسم کی بے پیرھن اچھی نہیں ھوتی
خزاں کے دور میں کوئ شجر اچھا نہیں لگتا
خوشی میں بھی نکل آتے ھیں آخر آنکھ سے آنسو
یہ بے موقع مذاقِ چشمِ تر اچھا نہیں لگتا
سوادِ قریہءِ جاں میں تغیّر بھی ضروری ھے
کوئی موسم ھو لیکن عمر بھر اچھا نہیں لگتا
بچھڑ کرساتھیوں سے زندگی بے کیف ھوتی ھے
اکیلا پر ھوا کے دوش پر اچھا نہیں لگتا
یہ آئینہ ھے سب کے منہ پہ سچی بات کہتا ھے
نگاھیں پھیر لو تم کو اگر اچھا نہیں لگتا
بھلا لگتا ھے جب پھول پھولوں میں رھے شامل
ستارہ آسماں سے ٹوٹ کر اچھا نہیں لگتا
بچاسکتاھےدامن کون فطرت کے تقاضوں سے
کوئی ساتھی نہ ھوجب تک سفر اچھا نہیں لگتا
وہ اپنے ھوں کہ بیگانے سبھی بیزار ھیں مجھ سے
سرِ محفل کوئی شوریدہ سر اچھا نہیں لگتا
حصارِ ذات سے اعجازؔ جو باھر نہیں آتے
انہیں کوئی بہ الفاظِ دِگر اچھا نہیں لگتا
——
یہ بھی پڑھیں : لکھے تھے کبھی نعت کے اشعار بہت سے
——
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں
کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے
میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں
کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی
میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں
ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے
میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں
یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی
پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں
وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے
جہاں پہ گردشِ ایام چھوڑ آیا ہوں
مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ
کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں
——
حوالہ جات
——
اقتباسات : سید ابوالخیر کشفی از پہلی کرن آخری روشنی ، مصنف : اعجاز رحمانی
شائع شدہ : 1982 ء ، صفحہ نمبر 12 تا 18
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ