اردوئے معلیٰ

آج پاکستان کے مشہور فلمی شاعر لاتعداد گیتوں کے خالق فیاض ہاشمی کا یوم وفات ہے۔

فیاض ہاشمی——
(پیدائش: 18 اگست 1920ء – وفات: 29 نومبر 2011ء)
——
لازوال گیتوں کا خالق ، فیاض ہاشمی از رئیس فاطمہ
——
فیاض ہاشمی پر خدا کی خاص رحمت تھی کہ ان کو کمسنی میں ہی شہرت عطا ہوئی، وہ 1924ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کلکتہ گرامر اسکول سے حاصل کی اور باقاعدہ ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی بنے، لیکن پریکٹس نہیں کی کیونکہ طبیعت شاعری کی طرف مائل تھی۔ 1935ء سے فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے تھے، آٹھ زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے، انھوں نے فلمی گیتوں میں اُردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا رنگ بھرا جس کی وجہ سے ان کے گیتوں کو لازوال شہرت عطا ہوئی۔ نویں جماعت ہی سے بہت پختہ شعر کہنے شروع کردیے تھے۔ جس کی بناء پر کلکتہ میں ہونے والے ہر مشاعرے میں انھیں کمسن شاعر کی حیثیت سے بطورِ خاص بلوایا جاتا تھا۔ جہاں انڈیا میں قدرت نے ان کے سر پر شہرت کا تاج رکھ دیا تھا، اسی طرح پاکستان میں بھی انھیں وہی پذیرائی ملی۔ بے شمار گیتوں کے علاوہ، کئی فلمیں ان کے کریڈٹ پر ہیں، جن میں سہیلی، آشیانہ، اولاد، دل کے ٹکڑے، سہاگن، لاکھوں میں ایک، زمانہ کیا کہے گا، عید مبارک، سویرا، ہزار داستان اور ایسا بھی ہوتا ہے سرِ فہرست ہیں۔
فلمی دنیا میں یوں تو اور بھی لوگ گیت نگاری کر رہے تھے، لیکن فیاض ہاشمی صاحب کی انفرادیت یہ تھی کہ ان کے اندر شاعر کے ساتھ ساتھ ایک موسیقار بھی چھپا تھا، اسی لیے دھن بناتے وقت اگر کہیں کوئی اڑچن آتی اور میوزک ڈائریکٹر ان سے کہتا کہ ’’فیاض صاحب! بول صحیح نہیں بیٹھ رہے، آپ مصرعے میں تبدیلی کر دیجیے‘‘۔ تو وہ فوراً وہ مصرعہ خود گا کر بتاتے کہ دھن یوں بنے گی، تب مصرعے فٹ ہوں گے، تو میوزک ڈائریکٹر حیران ہوکر انھیں دیکھتا اورکہتا ’’ہاں، بالکل آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘‘ اور بغیر مصرعوں کی تبدیلی کے گانا ریکارڈ ہوجاتا۔ ان کی اس منفرد اور قابل قدر خصوصیت کی بناء پر H.M.V نامی گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے۔ وہی مشہورِ زمانہ گراموفون کمپنی جس کے ریکارڈوں کے درمیان سرخ رنگ کے دائرے پر ایک گراموفون اور اس کے آگے ایک کتّا بیٹھا نظر آتا تھا، یعنی ’’ہیز ماسٹر وائس‘‘۔ اور اس کے گیت گھر گھر بجتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ریکارڈ پر گلوکاروں کے بجائے فلم کے کرداروں کے نام ہوتے تھے۔ مشہور و مقبول فلم ’’محل‘‘ کے لازوال گیت ’’آئے گا آنے والا‘‘ پر گلوکارہ کا نام ’’کامنی‘‘ لکھا ہوتا تھا جوکہ فلم کی ہیروئن مدھوبالا کا نام تھا۔ بہت عرصہ بعد لتا جی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ چونکہ اس وقت وہ مشہور نہیں ہوئی تھیں، اس لیے H.M.V نے ہیروئن کا نام دیا۔
فیاض ہاشمی کا تعلق زمانۂ طالب علمی ہی میں اس گراموفون کمپنی سے ہوچکا تھا۔ اس وقت اس کمپنی کا راج تھا، ہر گلوکار چاہتا تھا کہ H.M.V اس کا گانا ریکارڈ کرے۔ مجھے بھی یاد ہے کہ ہوش سنبھالتے ہی جب ریڈیو گرام پر گیت اور غزلیں سننے کا اتفاق ہوا تو ہر ریکارڈ H.M.V ہی کا ہوتا تھا۔ اس کمپنی میں فیاض ہاشمی کی ملاقات ایک بہت بڑے موسیقار کمل داس گپتا سے ہوئی۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر سید فیاض علی زیدی کا یوم پیدائش
——
ان دونوں کی جوڑی، خوب نبھی اور بڑے لازوال گیت تخلیق ہوئے۔ فیاض ہاشمی کا نام ہندوستان بھر میں ایک کم عمر گیت نگار کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ ہر فلم ساز چاہتا تھا کہ اس کی فلم کے گیت فیاض ہاشمی ہی لکھیں۔ کمل داس گپتا اور فیاض ہاشمی کی جوڑی نے جگ موہن، طلعت محمود، جونتھیکا رائے، پنکج ملک اور ہیمنت کمار جیسے بڑے گلوکاروں کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا اور بے پناہ شہرت کا حامل بنایا، ان گلوکاروں کے مشہورگیتوں میں تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی، چودہویں منزل پہ ظالم آگیا، اِک نیا انمول جیون مل گیا، یاد دلواتے ہیں وہ یوں میرا افسانہ مجھے، ہونٹوں سے گل فشاں ہیں وہ، کے علاوہ طلعت محمود کی آواز میں بے شمار گیت اور غزلیں ہیں۔
اسی طرح پنکج ملک یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، ہیمنت کمار کا بھلا تھا کتنا اپنا بچپن، جگ موہن کا یہ چاند نہیں تیری آرتی ہے، جوتھیکا رائے ان ہی کی وجہ سے ’’بھجن کی شہزادی‘‘ قرار پائیں۔ جوتھیکا رائے کا ’’چپکے چپکے یوں ہنسنا‘‘ ہر موسیقی کے رسیا کو یاد ہوگا۔ 1948ء میں وہ پاکستان آگئے، انھوں نے گراموفون کمپنی سے مطالبہ کیا کہ ان کا ٹرانسفر لاہور کردیا جائے۔ کمپنی انھیں کھونا نہیں چاہتی تھی، انھیں روکنے کی بہت کوشش کی، مگر پاکستان کی محبت پر کوئی چیز غالب نہ آسکی۔ لہٰذا کمپنی نے انھیں H.M.V لاہور کا ڈائریکٹر بنادیا۔ وہ جب لاہور آئے تو یہاں ایک جلے ہوئے اسٹوڈیو اور چوکیدار کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ فیاض صاحب نے اس کمپنی کو نئے سرے سے کھڑا کیا اور بے شمار فنکاروں کو اکٹھا کیا، جن میں منور سلطانہ، فریدہ خانم، زینت بیگم، سائیں اختر اور سائیں مرنا کے علاوہ اور بھی بہت سے فنکار تھے۔ 1956ء میں رائلٹی کی ادائیگی پر اختلاف کی بناء پر وہ کمپنی سے علیحدہ ہوگئے اور کراچی آگئے، لیکن 1960ء میں ایس ایم یوسف انھیں دوبارہ لاہور لے آئے اور وہ ان کے ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ فیاض ہاشمی اسمِ بامسمیٰ تھے، وہ دل کے بھی فیاض تھے۔ اسی لیے جب وہ پاکستان آئے تو انھوں نے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ استاد حسیب خاں ببن کار، استاد فتح علی خاں، استاد بڑے غلام علی خاں، استاد مبارک علی خاں، ماسٹر غیاث حسین اور استاد شریف خان پونچھ والے کو بھی گراموفون کمپنی میں ملازمت دلوائی۔ شاعر حزیں قادری اور مشیر کاظمی بھی انھی کے توسط سے کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ ریاض شاہد کو بڑا مکالمہ نگار بنانے میں فیاض ہاشمی کی معاونت شامل ہے۔
فیاض ہاشمی نے تین شادیاں کیں، پہلی بیگم سے سات بچے ہیں، دوسری شادی اداکارہ کلاوتی سے کی جو مسلمان تھیں، ان سے ایک بیٹا تھا، تیسری بیگم سے چار بچے ہیں جو اپنی والدہ کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : امیر الاسلام ہاشمی کا یومِ پیدائش
——
29 نومبر 2011ء کو انھوں نے اس فانی دنیا سے رخصت لی اور بے شمار چاہنے والوں کو روتا چھوڑ گئے
——
تصانیف
——
1944ء – راگ رنگ (شاعری)
——
بطور نغمہ نگار مشہور فلمیں
——
سہیلی
آشیانہ
اولاد
دل کے ٹکڑے
سہاگن
لاکھوں میں ایک
زمانہ کیا کہے گا
عید مبارک
سویرا
ہزار داستان
ایسا بھی ہوتا ہے
——
مشہور فلمی نغمات
——
تو جو نہیں ہے توکچھ بھی نہیں ہے (گلوکار: ایس بی جون، فلم: سویرا)
آج جانے کی ضد نہ کرو (گلوکار: حبیب ولی محمد، فلم: بادل اور بجلی)
تصویر تیری دل مِرا بہلا نہ سکے گی (گلوکار: طلعت محمود)
چلو اچھا ہوا تم بھول گئے (گلوکار: نورجہاں، فلم: لاکھوں میں ایک)
گاڑی کو چلانا بابو (گلوکار: زبیدہ خانم، فلم: انوکھی)
قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: داستان)
یہ کاغذی پھول جیسے چہرے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: دیور بھابی)
نشان کوئی بھی نہ چھوڑا (گلوکار: مہدی حسن، فلم: نائلہ)
لٹ الجھی سلجھا رے بالم (گلوکار: نورجہاں، فلم: سوال)
ساتھی مجھے مل گیا (گلوکار: ناہید اختر، فلم: جاسوس)
ہمیں کوئی غم نہیں تھا غمِ عاشقی سے پہلے (گلوکار: مہدی حسن / مالا، فلم: شب بخیر)
رات سلونی آئی (گلوکار: ناہید نیازی، فلم: زمانہ کیا کہے گا)
مشہور ملی نغمات
یوں دی ہمیں آزادی کے دنیا ہوئی حیران، اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
سورج کرے سلام، چندا کرے سلام
——
منتخب کلام
——
عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
——
چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
——
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
آج جانے کی ضد نہ کرو
ہائے مر جائیں گے، ہم تو لٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
آج جانے کی ضد نہ کرو
تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں
جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جان جاں
بات اتنی مری مان لو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
آج جانے کی ضد نہ کرو
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر مری جان جاں
عمر بھر نا ترستے رہو
آج جانے کی ضد نہ کرو
کتنا معصوم رنگین ہے یہ سماں
حسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جان جاں
روک لو آج کی رات کو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
آج جانے کی ضد نہ کرو
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اور گیت کار جان نثار اختر کا یوم وفات
——
ہمیں کوئی غم نہیں تھا غم عاشقی سے پہلے
نہ تھی دشمنی کسی سے تری دوستی سے پہلے
ہے یہ میری بد نصیبی ترا کیا قصور اس میں
ترے غم نے مار ڈالا مجھے زندگی سے پہلے
مرا پیار جل رہا ارے چاند آج چھپ جا
کبھی پیار تھا ہمیں بھی تری چاندنی سے پہلے
میں کبھی نہ مسکراتا جو مجھے یہ علم ہوتا
کہ ہزار غم ملیں گے مجھے اک خوشی سے پہلے
یہ عجیب امتحاں ہے کہ تمہیں کو بھولنا ہے
ملے کب تھے اس طرح ہم تمہیں بے دلی سے پہلے
——
نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری
تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری
نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ
دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری
عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
یہ منزل یہ حسیں منزل جوانی نام ہے جس کا
یہاں سے اور آگے بڑھنا یہ عمر رواں میری
——
مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی
اک بوند بھی نہ کل کے لیے تو بچا کے پی
کیوں کر رہا ہے کالی گھٹاؤں کے انتظار
ان کی سیاہ زلف پہ نظریں جما کے پی
چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
فیاضؔ تو نیا ہے نہ پی بات مان لے
کڑوی بہت شراب ہے پانی ملا کے پی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات