اردوئے معلیٰ

Search

آج ممتاز شاعر اور ادیب گویا جہان آبادی کا یوم پیدائش ہے۔

 گویا جہان آبادی (پیدائش: 14 جنوری، 1892ء- وفات: 10 ستمبر، 1971ء)
——
مختصر سوانح
——
سید ضامن حسین نقوی گویا جہان آبادی
مقام پیدائش : قصبہ ست پورہ ضلع ایٹا یوپی
ماہ سال ولادت: 14 جنوری 1891
سلسلہ نسب: سلسلہ نسب بواسطہ سید جلال الدین سرخ پوش بخآری حضرت امام نقی علیہ سلام سے ملتا ہے۔
سید جلال الدین سرخ پوش بخآری کے خاندان کے چشم و چراغ اوچھ بھاولنگر پاکستان سے منتقل ہوکر قصبہ جہاں آباد ضلع پیلی بھیت یوپی میں متوطن ہوئے وہی آپکا کا مزار ہے خود کو جہاں آبادی سید بدر الدین جہان آبادی کی نسل کا ایک ناچیز زرہ ہونے کی وجہ سے لکھتے تھے۔
آغاز شعر و سخن : گویا جہان آبادی نے دسمبر 1918 میں راہ شعر و سخن میں قدم رکھا پہلا شعر جو کہا وہ یہ تھا۔
——
کنز اعراض میں پنہاں ہے وہ کیا جوہر ہے
صدف دھر میں مخفی ہے وہ کیا گوہر ہے۔
——
مقصد شعر و سخن: گویا جہان آبادی صاحب ادب برائے حیات کے قائل تھے۔
علمی اثاثہ: گویا جہان آبادی صاحب نے زندگی کے 50 سے زیادہ سال علم و ادب کی راہ میں گزارے انکے علمی اثاثے میں فلسفے شاعری و تاریخ پر کتب موجود ہیں۔
1: فلسفہ نفس
2:فکر و اجتہاد
3:تجدد امثال
4:اصل حیات
5: حیات مابعد
6: فلسفہ خودی و بیخودی
7:فرد ملت کا نظام حیات
8:اقبال کا نظریہ خودی
9:خودی باب حق ہے
10:دکھ کی دوا
11:خودی اصل ہستی و وجود
12: تاریخ معاویہ و آل معاویہ
13 تا 33: علم و ادب کے تعمیر کے لئے 20 مقالے
نظم میں۔
34: مثنوی اسرار ہستی (جس پر علامہ اقبال نے تبصرہ کیا)
35: مثنوی صبہائے راز
36:شعرا الحکم
37:طلوع سحر
38:دور نو
39:اشراق
40:اشارات معنی
41: انسان و انسانیت
42:لوح و قلم
43:نقش دوام
تاریخ وفات: 10 ستمبر 1971
مقام تدفین: شاہ فیصل کالونی قبرستان کراچی
——
گویاؔ صاحب کا آبائی وطن قصبہ جہان آباد ضلع ایٹہ پیلی بھیت تھا لیکن ان کی ولادت 14 جنوری 1891ء کو ضلع ایٹہ میں ہوئی ۔ عربی ، فارسی و اردو سے گھریلو تعلیم کا آغاز ہوا ۔ اس کے بعد سکول میں پڑھا اور فراغت حاصل کر کے معاشی تگ و دو میں لگ گئے ، عرصہ دراز تک بریلی میں قیام رہا جہاں کچہری کے اچھے عہدہ پر فاائز رہے۔
شعر و شاعری سے فطری لگاؤ تھا ۔ زمانہ طالب علمی میں ہی شعر موزوں کرنے لگے تھے جوں جوں عمر میں اضافہ ہوتا گیا اور مشق سخن بڑھتی گئی تخیل میں وسعت اور کلام میں پختگی آتی گئی اور وہ مقامی و غیر مقامی مشاعروں میں بکثرت شرکت کرنے لگے وہ اپنے زمانہ کے خوش فکر و قادر الکلام شعر میں سے تھے اور جملہ اصناف شاعری پر طبع زمائی کرتے تھے نثر بھی بہت اچھی لکھتے تھے اور نثر و نظم میں کئی کتابوں کے مصنف تھے ۔
بحیثیت شاعر ، ادیب و فلسفی اپنے دور کے ادبی حلقوں میں خاصے نمایاں تھے ۔
ان کی ایک مثنوی ” اسرار مستی” نے بڑی شہرت و مقبولیت حاصل کی تھی اس کی تعریف کرنے والوں میں علامہ اقبال بھی شامل تھے ۔
ہند و پاک کی آزادی کے بعد گویاؔ پاکستان آ گئے تھے اور یہاں کے ادبی حلقوں میں خاصے مقبول تھے کراچی میں مقیم تھے ، وہیں تقریباً 75 سال کی عمر میں 10 ستمبر 1971ء کو آخری سانس لی اور ان کی ادبی و علمی سرگرمیوں کا خاتمہ ہو گیا جن کے ذریعہ سے وہ نصف صدی سے زائد عرصے تک اردو زبان و شاعری کی خدمت میں مصروف رہے ۔
تدفین کراچی میں ہوئی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : وہ صورت مرحبا اتنی حسیں معلوم ہوتی ہے
——
تدفین کراچی میں ہوئی ۔
——
مشہور تصانیف
طلوع سحر
دور نو
——
منتخب کلام
——
یہ طوفان و تلاطم بھی محبت کے تقاضے ہیں
کہ دستِ شوق میں ہر موج کے دامن ہے ساحل کا
——
ہر بام و در کے آگے سایہ کا سر جھکانا
یہ بندگی نہیں ہے ، دھوکا ہے بندگی کا
——
سوالِ راہ نہ کر ، دل کی راہیں لیتا جا
اے نامہ بر مرے ، میری نگاہیں لیتا جا
——
پھر ایک بار کہتے ہیں جی مانتا نہیں
ہائے وہ تذکرہ جو کئی بار ہو گیا
——
کسی کو دیکھ کے دل آنسوؤں کو بھول گیا
نظر میں چاند ہو ، تاروں کا کچھ شمار نہیں
——
آجا کبھی تو سامنے اے محشرِ جمال
کب تک ترے خیال کو سجدے کیا کریں
——
میخانۂ کثرت میں یہ فرق ضروری ہے
ساغر اُسے کہتے ہیں ، صہبا اِسے کہتے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : وہ جب سے بدگمان و سرگراں معلوم ہوتے ہیں
——
زندہ حقیقتوں نے کھولی ہے آنکھ تجھ میں
کر خواب سے نہ گویا تعبیر زندگی کی
——
سخن شناس اگر دل کی آرزو ہوتی
تو خامشی بھی حقیقت میں گفتگو ہوتی
——
جبینِ شوق کرے گی کدھر کدھر سجدہ
کہ چاروں سمت سے پردہ اُٹھا رہا ہے کوئی
——
تکبیر کی آواز وہاں آتی ہے برسوں
دنیا میں جہاں دل سے کوئی ہاتھ اٹھا لے
——
ہمت بلند ہو حدِ امکاں نہ پوچھیے
ہوتے ہیں غیب سے سروساماں نہ پوچھیے
——
ذروں میں جب دکھائی دیا عکسِ آفتاب
معنی سمجھ میں آ گئے اپنے غبار کے
——
تیری تصویر کو سینے سے لگا رکھا ہے
ورنہ مجھ پردۂ تصویر میں کیا رکھا ہے
——
جہاں رکھو قدم تم وہ زمیں خود طُور ہو جائے
یہ ممکن ہی نہیں دل کی نہ پستہ دور ہو جائے
——
تجلیوں کی کوئی حد نہیں اے ذرۂ دل
ہر آفتاب میں ایک اور آفتاب بھی ہے
بہر جمال اسے دیکھتا چلا جا تو
جو بے نقاب بھی ہے اور پسِ حجاب بھی ہے
——
اشک آنکھوں میں جب بھی بھر آئے
سرِ ساحل ہی ہم نظر آئے
ہر دمِ سرد ہے نسیمِ سحر
کوئے محبوب سے اگر آئے
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اکبر الہ آبادی کا یوم پیدائش
——
انساں نے آنکھ کھولی ہے بزم شہود میں
آدم کے قبل آیا ہے عالم وجود میں
تسخیر ہی کو ارض و سما کے حدود میں
دیرینہ ایک جنگ ہے بود و نمود میں
——
چلی آتی ہیں موجیں اک جمال گل بداماں کی
بنائیں ہر قدم پر ڈالتی سو سو گلستاں کی
کھلا کرتی ہیں کلیاں آنکھ میں دل کے گلستاں کی
دم نظارہ نظریں پھول برساتی ہیں انساں کی
نہ دل سمجھا ، نہ غم سمجھے ، نہ دنیا ساز و ساماں کی
یہ کیا سرگوشیاں تھیں چپکے چپکے اشک و مژگاں کی
لیے بیٹھا ہوں آنسو دیر سے دامان مثگاں میں
سرپ داستاں ہوں شبنم و برگِ گلستاں کی
جہاں سے بزم ہستی میں ہوا ہے خاک پروانہ
وہیں سے برق چمکی ہے کسی کے حسن پنہاں کی
ٹھہر اے سوز نظارہ کہ لو دینے لگے آنسو
حبابوں سے شعاعیں پھوٹ نکلیں آتش جاں کی
پڑا ہوں سر بسجدہ پھر رہا ہے کوئی نظروں میں
جبیں سائی میں منزل ہے نیاز دراز پنہاں کی
فروغ شعلہء شبنم سے حیرااں مہ و انجم
نظر ہے قطرہء ناچیز پر ، مہر درخشاں کی
مرے اشکوں کی فطرت ہے مسلسل جستجو گویاؔ
ستارے منزلیں طے کر رہے ہیں کوئے جاناں کی
——
خود تماشائی چراغِ سرِ منزل نہ بنے
داغِ دل داغ رہے ، رونقِ محفل نہ بنے
بندگی میں جو تڑپ ہے وہ خدائی میں کہاں
موج ہی موج رہے ، قلزم و ساحل نہ بنے
سخت مشکل ہے کسی کام کو آساں کہنا
سہل اُس بات کو سمجھو جو بمشکل نہ بنے
نہیں انساں جو خود ہی ذبح کرے اپنا ضمیر
آدمی کچھ بھی بنے اپنا مقابل نہ بنے
بیچ کا پردہ اٹھانا نہیں آساں گویاؔ
سعیٔ نظارہ کہیں پردۂ حائل نہ بنے
——
جو لاکھوں مرتبہ معلوم و نامعلوم ہوتی ہے
حقیقت کا وہی موج آئینہ معلوم ہوتی ہے
نظر کے بعد کوئی دیکھنے والا نہیں رہتا
نظر کی ابتدا خود انتہا معلوم ہوتی ہے
جہاں سے کھینچتا ہے راہ کا ہر ذرہ خود دل کو
وہاں سے قربِ منزل کی فضا معلوم ہوتی ہے
مخاطب محو ہوتا ہے اُسی راہِ تکلم میں
جہاں ہر بات دل کا آئینہ معلوم ہوتی ہے
کبھی طوفاں میں بھی سامنے ساحل نہیں آتا
کبھی موجوں میں شکلِ ناخدا معلوم ہوتی ہے
تماشائے جہاں نزدیک سے کچھ بھی نہیں گویاؔ
——
یہ بھی پڑھیں : اُن سا تو دو جہان میں ان کے سوا کہیں نہیں
——
نظم
منزل مہر و ماہ
ستاروں میں ہوئی آہٹ کسی کے پاؤں دھرنے کی
تحیر سے نظر چاروں طرف ااہلِ نظر نے کی
فرشتوں نے کہا دیکھو تو یہ انداز کس کے ہیں
سکوتِ شب کے پردے میں خرم راز کس کے ہیں
مہ و پرویں کو اپنا رستہ کس نے بنایا ہے
ستاروں سے یہ سوئے عرش جانے کون آیا ہے
سہر مہتاب پر ہے آج یہ نقش قدم کس کا
جبین مہ کو چمکا رہا ہے یہ کرم کس کا
الٰہی یہ کوئی سیارہء فردوس اعلٰی ہے
کہ حدِ قرب کی آبادیوں کا ایک اجالا ہے
جہان آفرینش نے کہا یہ تو مرا "دل” ہے
کہ حاصل جلوہء تخلیق کا ” انسان کامل” ہے
رسائی ہے اسی کی سرحد ادراک سے آگے
مقام آدمیت ، منزل افلاک سے آگے
فلک نے ، نور کے رستے میں خود آنکھیں بچھائی ہیں
ستاروں نے ضیائیں ، چاند ہی کے در سے پائی ہیں
مکمل شمع محفل کا دو عالم میں اجالا ہے
یہی وہ چاند ہے ، جس کا یہ عالم ایک ہالا ہے
اسی کی زندگی سے زندگی قائم ہے عالم کی
دم خورشید سے تابندگی قائم ہے عالم کی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ