آج معروف شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اور کالم نگار ادریس آزاد کا یومِ پیدائش ہے ۔

——
ادریس آزاد پاکستان کے خود ساختہ معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اور کالم نگار ہیں ۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا پیدائشی نام "ادریس احمد” ہے لیکن اپنے قلمی نام "ادریس آزادؔ” سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کیں ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب "عورت، ابلیس اور خدا”،”اسلام مغرب کے کٹہرے میں” اور "تصوف، سائنس اور اقبالؒ” ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ "روزنامہ دن”، "آزادانہ” کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔
ادریس آزاد “ قاری سعید احمد اسعد“ کے گھر پیدا ہوئے جو ایک عالم دین "مولانا اسماعلیل دیوبندیؒ” کے بیٹے ہیں۔ خوشاب شہر ان کی جائے پیدائش ہے جو پنجاب کا ایک صوبہ ہے۔ تعلیمی دستاویزات کی رو سے ان کی تاریخ پیدائش 25 مارچ 1970ء ہے جبکہ موصوف 17 اگست 1969ء کو اپنی تاریخ پیدائش تسلیم کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں بتاتے ہیں کہ ؛ "میرے دادا جی (مولانا اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ) نے اپنے نجی ڈائری پر 7 اگست 1969ء کے صفحہ پر لکھا ہے ۔۔۔۔۔ تولد عزیز ادریس احمد بوقت 7:30 بجے دن کے”۔ لٰہذا میری درست تاریخ پیدائش یہی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : کچھ اور نہ بن پائے بھلے شہر بدر سے
——
ان کی تعلیمی دستاویزات واضح کرتی ہیں کہ “گورنمنٹ پرائمری اسکول نمبر 1 مین بازار خوشاب“ سے 1980ء میں پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ 1983ء مڈل گورنمنٹ ہائی اسکول ٹانک (خیبر پختونخوا) سے بہ درجہ اول اور میٹرک 1985ء میں گورنمنٹ ایم۔ سی ہائی اسکول خوشاب سے پاس کیا۔ انہوں نے ایف۔ اے اور بی۔ اے کے امتحانات بالترتیب 1987ء اور 1989ء میں گورنمنٹ کالج سرگودھا (سرگودھا یونیورسٹی)سے پاس کیے۔ اور پنجاب یونیورسٹی لاہور ہے فلسفے کی ڈگری حاصل کی۔
ان کی تربیت دینی و علمی ماحول میں ہوئی۔ علم کی لو اُن کی گھٹی میں ہے۔ انہوں نے اپنی پہلی نظم اس وقت لکھی جب وہ پرائمری اسکول کے طالبعلم تھے۔ ان کی طبیعت کی ادبی آبیاری میں ان کے گھر کے ساتھ ساتھ اسکول اور کالج کا کردار نمایاں ہے۔ "اردو مجلس۔ جوہرآباد” کے تحت انہوں نے اپنے ادبی ذوق کو جلا دی، پھر گورنمنٹ کالج سرگودھا (سرگودھا یونیورسٹی) کے ادبی ماحول سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں لاہور کے ادبی حلقوں اور خصوصاً اسلام آباد کے ادبی حلقوں سے مستفید ہوئے۔ ان کی ادبی شناخت بطور ناول نگار، افسانہ نگار، شاعر اور نثر نگار ہے۔ غیر افسانوی کتب بھی منصۂ شہود پر آچکی ہیں۔
——
شاعری
——
پاکستان کے ادبی حلقوں میں ادریس آزاد ایک کہنہ مشق شاعر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی شاعری ندرت خیال اور فن عروض سے مرسع ہوتی ہے۔ ان کا اسلوب بندھا ٹکا اور نپا تلا ہوتا ہے ۔
——
افسانوی نثر
——
ادریس آزاد کی افسانوی نثر کا محور ناول نگاری ہے۔ ان کے شائع ہونے والے ناولوں کا موضوع اسلامی تاریخ ہے ۔سلطان محمد فاتح ان کا پہلا ناول ہے۔ تاریخی پس منظر میں موضوع کا چناؤ ناول نگار کے حسن انتخاب کے شعور کی دلیل ہے۔ قمر اجنالوی کی ناول نگاری سے حد درجہ متاثر ہیں۔ قمر اجنالوی کے ناول "سلطان، جنگ مقدس، بغداد کی رات اور خان الغازی” جو قرون وسطیٰ کی اسلامی تاریخ پیش کرتے ہیں۔ ادریس آزادؔ کی ناول نگاری ان مذکورہ ناولوں کے قریب قریب نظر آتی ہے۔ ایک ناول نگار گمشدہ تہذیب، تاریخ یا زمانے کی بازیافت کا فریضہ سر انجام دے رہا ہوتا ہے۔ گمشدہ حقائق و واقعات کو منظرعام پر لاکر قدیم و جدید کے درمیان میں رابطہ استوار کرتاہے۔ دراصل ناول نگار اس عمل کے ذریعے ماضی کے طرز احساس کو اجاگر کر رہا ہوتا ہے۔ دیگر ناول نگاروں کی طرح ادریس آزاد نے بھی یہی کام کیا ہے۔ ادریس اپنے ہم عصروں میں اس لیے ممتاز ہیں کہ انہوں نے محض اسلامی تاریخ پر قناعت نہیں کی بلکہ دیگر قبائل اور ممالک کی تاریخ کے دھندلکوں میں بھی جھانکنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کام انتہائی مشکل اور بظاہر ناممکن سہی لیکن اپنے مطالعہ اور ذوق کے پیش نظر ممکن بنایا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : دستِ قاتل کہ نہیں اذنِ رہائی دیتا
——
منظر نگاری
——
"صبح دم افق کے دریچے سے سورج کی پہلی کرن جھانکتی تو سیدھی صدر دروازے کی بالکونی پر پڑتی۔ چڑیاں چہچہانے لگتیں اور ندی صبح کی آمد کا گیت گنگنانا شروع کردیتی۔ سورج غروب ہونے لگتا تو مکان کی عقبی طرف چلا جاتا۔ مکان کی پشت پر لیٹے جھلمل کرتے پانی میں دن بھر کا تھکا ماندا سورج منہ ہاتھ دھوتا شفق پاراترنے سے پہلے مشرقی پہاڑیوں کی اوٹ میں تھوڑی دیر کے لیے رک کر غمگین نظروں کے ساتھ وادی میں رکھے جل پنا کے مقام کو جھانکتا۔ سفق کی لالی پھیل کر تالاب کو چند لمحوں کے لیے خون آلود کرد یتی۔ ”
"ذہن میں تصویر نہیں بنتی، تصور بنتا ہے اور ذہن رحم مادر کی طرح اس تصویر کو اپنے تن بدن کا لہو پلا کر پرورش دیتا ہے۔ بالآخر وہ تصور جنم لیتا ہے تو تصویر بن جاتی ہے۔ میں کیوں نہ چاہوں گی کہ میری بنائی ہوئی تصویر کوئی دیکھے۔ میں مصورہ اس لیے ہوں کہ اپنا شاہکار دوسروں کو دکھا سکوں۔ خدا کیا چاہتا ہے، کیا وہ بھی یہی نہیں چاہتا؟ خدا بھی ایک مصور ہے۔ ”
——
فلسفہ
——
ادریس آزاد رجعت پسند، آئیڈئیلسٹ فلسفی ہیں ۔ ان کا سب سے اہم کام بائیوسوشائیلوجی پر ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کرہ ہر زندہ جاندار بڑی شدت کے ساتھ زمین کے ساتھ منسلک ہے۔ جسے زمینی پویستگی یا ارتھ روٹیڈنس کہتے ہیں۔ جتنا کوئی زمین کے نزدیک ہوگا اتنی اس کی زندگی ارزل ہو گی۔ ادریس آزاد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بائیوسوشائیلوجکلی جانور چار گروہوں میں منقسم ہیں۔ جو مندرجہ ذیل ہیں ۔
جھنڈ
غول
ریوڑ
ڈار
جانوروں کے عمیق مطالعہ کے بعد انہوں نے روح حیوانی کا نظریہ پیش کیا ہے۔ بعینہ ہمہ روح حیوانی کی ترکیب مسلم تصوف میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ ادریس آزاد نے اس ترکیت کا اپنے نظریہ کے ساتھ ططابق پیدا کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ ارتقا کے دروان بہت سی وجوہات ایسی تھیں جن کی وجہ سے انسان نے جانوروں کی خصلتیں اختیار کیں۔ ادریس آزاد انسانوں کو معاشرہ میں، پرندوں کی طرح زندگی بسر کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔ الہٰیات پر بات ہو تو ادریس آزاد کے مطابق خدا کا انکار کسی صورت ممکن نہیں، اگرچہ خدا کے ہونے کو ثابت کرنے میں بھی عقل نارسا ہے۔ ان کی تعلیمات سے بعض اوقات ظاہر ہوتا ہے کہ بدھوں کی طرح غیر شخصی خدا کے قائل ہیں۔ تاہم وہ شخصی خدا کے ماننے پر زور دیتے ہیں جسے ثابت کرنے میں عقل کی رسائی نہیں۔ اسی طرح کائنات کی معقولیت کو شخصی خدا کے ہونے کا ثبوت سمجھتے ہیں۔ آزادیء اختیار کے بارے میں ادریس آزاد اپنی کتاب ” تصوف، سائنس اور اقبال ” میں لکھتے ہیں کہ :
فطرت ہمیں چنتی ہے کہ ہم فطرت کو چنیں
——
یہ بھی پڑھیں : اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
——
وہ انسان کے مسقبل کے بارے میں بہت ہی پر امید ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک دن یہ زمین انسانیت کے لیے بہت ہی اچھی جگہ بن جائے گی۔ ادریس آزاد کے بقول ابھی انسان نادان اور کم علم ہے لیکن وہ بڑی تیزی کے ساتھ اعلیٰ انسانی اقدار کو اختیار کر رہے ہیں ۔
——
تصــــانیف
——
فلسفـــہ
——
عورت، ابلیس اور خدا
موسیقی، تصویر اور شراب
اسلام مغرب کے کٹہرے میں
تصوف، سائنس اور اقبالؒ
——
ناول
——
سلطان محمد فاتحؒ
ابنِ عطاش
سلطان شمس الدین التمش
بحراَسود کے اُس پار
اُندلس کے قزاق
قرطاجنه
——
دیگر تصانیف
——
نئی صلیبی جنگ اور اسامه
بازگشت
ابن مریم ھوا کرے کوئی
منشیات اور تدارک
نجات کے راستے پر
——
منتخب کلام
——
اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو
تم پہ مرتے ہیں تو کیا مار ہی ڈالوگے ہمیں
——
عید کا چاند تم نے دیکھ لیا
چاند کی عید ہو گئی ہو گی
——
تری تعریف کرنے لگ گیا ہوں
محبت نے دیانت چھین لی ہے
——
یہ اضطرار ضعفِ جنوں کی دلیل ہے
یوں خود کو بیقرار نہ کر انتظار کر
——
شاخیں جھکی ہوئی ہیں بدن کے درخت کی
اپنی ہوائے شوق کا پھل پا رہا ہوں میں
——
میں جس میں دفن ہوں، اِک چلتی پھرتی قبر ہے یہ
جنم نہیں تھا وہ ، دراصل مرگیا تھا میں
——
نہیں نہیں میں اکیلا تو دل گرفتہ نہ تھا
شجر بھی بیٹھا تھا مجھ سے کمر لگائے ہوئے
——
وہ شوق ِ ربطِ نَو میں کھڑی جھولتی رہی
میں شاخ ِ اعتبار سے پھل کی طرح گِرا
——
ترے فیصلوں کو ترس گئے ہیں کھڑے کھڑے
ترا حشر یوم ِ حساب ہے کہ عذاب ہے
——
ہم اپنے حصے کا سارا ثواب جھیلتے ہیں
جو لفظ لکھتےہیں اُس کا حساب جھیلتے ہیں
ابھی بھی حُورو شرابِ طہُور کی خاطر
بہت سے لوگ بہت سا عذاب جھیلتے ہیں
غنی، غنی ہے جو تعبیر بَن برستا ہے
کہ ہم غنی ہیں جو خوابوں کے خواب جھیلتے ہیں
یہ کیسے لوگ ہیں دو پل بھی خوش نہیں رہتے
شراب پیتے ہیں اور پھر شراب جھیلتے ہیں
یہ عہد اور یہ عادت زباں درازی کی
سوال کرتے ہیں لیکن جواب جھیلتے ہیں
جو ڈُوب جاتےہیں صحرا میں آن کر دَریا
سمندروں کی طلب میں سراب جھیلتے ہیں
کچھ اِس لیے بھی کسی بات سے نہیں واقف
ہمارے عہد کے بچے نصاب جھیلتے ہیں
وہ پھول پھول پہ لکھا دکھائی دیتاہے
جو انتظار کا موسم گُلاب جھیلتے ہیں
——
ذلّت بہ جبیں، داغ بداماں ہی بھلے ہیں
ہم جیسے بھی ہیں تجھ سے گریزاں ہی بھلے ہیں
تم شعر کہو، علم پڑھو! فلسفہ لکھو!
ہم ایسی خُرافات سے نالاں ہی بھلے ہیں
خاموش پڑی،رُوٹھی ہوئی سڑکوں سے پوچھو!
ہم ٹُوٹے ہوئے پتّے پریشاں ہی بھلے ہیں
میں اپنا مصورہوں میں ہرداغ چھُپادوں
کچھ زخم مگر ہیں جو نمایاں ہی بھلے ہیں
اب ہم سے تو یہ سر بھی اُٹھایا نہیں جاتا
اِس ضعف میں ہم بے سروساماں ہی بھلے ہیں
واقف ہیں بہت، مہنگے خریدار کے ڈھب سے
بِکنا ہی ضروری ہے تو ارزاں ہی بھلے ہیں
ہم کو خطِ قوسین کے ابجد کی خبرکیا
بے کارکی بَک بَک سے غزل خواں ہی بھلے ہیں
یہ قوسِ قزح رہنے دو ! چہرے پہ ہمارے
ہم بھی ابھی بچے ہیں سو ناداں ہی بھلے ہیں
نیکی کا تفاخر رہے نیکوں کو مبارک
ہم اپنے گناہوں پہ پشیماں ہی بھلے ہیں
تم اپنی خُدائی بخدا پاس رکھو ، ہم
انساں ہیں تو بس ٹھیک ہے انساں ہی بھلے ہیں
——
حالات کے دھارے پہ سفر چھوڑدیا جائے
دنیا کی ہرِاک بات کا ڈر چھوڑ دیا جائے
تقدیر حقیقت کہ ارادہ ہے حقیقت
دِل چھوڑ دیا جائے کہ گھر چھوڑدیاجائے؟
دستور ِ عقیدت ہے عمل سے مترشح
گُل توڑ لیا جائے شجر چھوڑ دیا جائے
کہتے ہو جو ہر چیز میں موجود خدا ہے
پھر کیسے یہ ممکن کہ شر چھوڑ دیا جائے
میلا سا، کچیلاسا کوئی دوست بناؤں
اب یار ِ طرح دار کا در چھوڑدیا جائے
سوچا ہے کہ اب دِل کے تقاضوں پہ جیا جائے
سیکھا ہوا سب علم و ہنر چھوڑ دیا جائے
شاید اُسے بھائے نہ مری شان ِ صمدی
بہتر ہے کہ دہلیز پہ سر چھوڑ دیا جائے
یہ راہ کسی اور طرف جانے لگی ہے
اس راہ سے اب اور گزر چھوڑ دیا جائے
——
شام ِ غریباں
——
لوح ِ تقدیر پہ مرقوم تھی شام
جو سیہ شام کے عنوان سے
منسوب ہے اب تک لیکن
شام سے پہلے نکل آئے جو چاند
گیارھویں رات کا چاند
وہ شفق رنگ فرستادۂ غم
شام ہونے ہی کہاں دیتاہے؟
وہ سیاہی کو مٹاتا
یدِ بیضا، وہ عصا
سامریت کے سپولوں کو نگلتا ہوا
پھلتا ہوا پھول
جس کی ہرہررگِ بے تاب
سے پھُٹتے ہوئے خوں رنگ شگوفے
وہ چمکتی، وہ دمکتی ہوئی آنکھوں کے گلاب
جن سے روشن ہیں دروبام ِ حیات
جن کی تقلید میں رکھی ہے نجات
وہ ریاست وہ سیاست
جسے سقراطی بلیدان
نے سینچا تھا کبھی
آج وہ جام لیے پھرتی ہے
زہر کے جام لیے پھرتی ہے
وہ سیہ شام نہیں ہوسکتی
آج تک جس کے شفق
سے ہے شبستان میں نُور
وہ لہو تھا کہ کوئی قوس ِ قزح
ابر یاقوت ہوئے جاتے ہیں
تاج ہائے سر ِسامانِ غرور
جس کی تابانی سے تابوت ہوئے جاتے ہیں
سرفروشی کا سفر
بےسروسامانی سے ہے
باغیو!
اصل ِ محرّم ہے بغاوت کرنا
ظلم سے، جبر سے، نفرت سے عداوت کرنا
شام کی شام تھی
اور صبح کی صبح اے دوست!
ایک دنیائے جہاں سوز کا انجام تھی شام
ایک پیغام تھی شام
ایک پیغام بنام ِ عرب ِ خستہ حال
ایک پیغام بنام ِ عجم سوختہ جاں
اُٹھ کہ اب ماتم ِ دیرینہ کا ہے وقتِ شنید
اے محبت کے شہید!
کربلا پھیل گئی دشتِ بلا پھیل گیا
شعلۂ ِ رنجش و تنفیر وجفا پھیل گیا
ایک پیغام ِ جگر سوزی ہے عاشور کی شام
ایک پیغام کہ تم خاک بسر ہوکر بھی
وقت کے تخت نشینوں کے
ہمیشہ کے لیے بخت گرا سکتے ہو
ایک پیغام کہ تم سر بھی اُٹھا سکتے ہو
زخم کھانے کے لیے تم بھی تو آسکتے ہو
اپنے بچے بھی اگر چاہو تو لا سکتے ہو
——
شعری انتخاب از فیس بک صفحۂ ادریس آزاد