منظر لکھنوی کا یومِ وفات

آج معروف کلاسیکل شاعر جعفر حسین منظر لکھنوی کا یومِ وفات ہے

منظر لکھنوی (پیدائش: 1866ء – وفات: 28 مئی 1965ء)
——
نظر لکھنوی۔ نوبت رائے نام نظرؔ تخلص ۔وطن لکھنؤ کائستھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے 1866ء میں پیدا ہوئے ۔ ۔شاعری کا شوق شروع ہی سے تھا ۔آغاز مظہر کے شاگرد ہیں ۔1897 میں لکھنؤ سے رسالہ خدنگ نظر جاری کیا جو سات سال تک جاری رہا ۔1905 میں رسالہ زمانہ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے لیکن 1911میں استعفیٰ دے دیا۔ اور کانپور آ کہ اخبار آزاد کی ایڈیٹری سنبھال لی۔ زاں بعد لکھنؤ جاکہ تفریح کی ادارت کی ۔پھر اودھ اخبار کے ایڈیٹر ہوگئے ۔لیکن خرابی صحت کی بنا پر وہاں سے بھی قطع تعلق کرلیا آخر میں اخبار خادم ہند کے بھی کچھ مدت ایڈیٹر رہے ۔نہایت سادہ مزاج ،سادہ وضع اور خوش اخلاق شخص تھے ۔نمود و نمائش اور غرور و تکبر سے بالکل پاک تھے ۔اعلی پایہ کے مضمون نگار ہونے کے علاوہ خوش نویس اور مصور بھی تھے ۔آخری عمربہت تکفرات اور مصائب میں گزری ۔یہاں تک کہ زندگی سے تنگ آگئے ۔اسی حالت میں 28 مئی 1965 کو انتقال کیا ۔
——
تبصرہ از سراج الحسن صاحب سراج لکھنوی
——
سید جعفر حسین منظر لکھنوی ایسے خاندان کے چشم و چراغ ہیں جس کے افراد علمِ شعر و ادب میں اپنی نظیر آپ تھے ۔
یہ خاندان شہر کے حدود میں آباد تھا جہاں حضرت منظر لکھنوی اب بھی مقیم ہیں جو کسی زمانے میں قدیم لکھنؤ کی جان اور اردو زبان و شاعری کا گہوارہ تھا ۔
زبان و محاورہ اور روزمرہ منظرؔ کا اوڑھنا بچھونا تھا ۔ حضرت سید مہدی حسن صاحب احسن لکھنوی ایک قادر الکلام شاعر ، ایک زبردست اور با سلیقہ ادیب اور ایک نامی گرامی ڈرامہ آرٹسٹ منظرؔ کے سگے ماموں تھے اور جناب شررؔ لکھنوی اپنے وقت کے نہایت خوش گو اور مقبول استادِ فن منظرؔ کے چچا تھے ۔
انہی دونوں بزرگوں کے زیرِ سایہ منظرؔ کی شاعری پروان چڑھی اور جوان ہو کر اپنے نقطۂ عروج تک پہنچی ۔
منظر لکھنوی نہایت نیک نفس ، نیک مزاج اور نیک طینت قابل قدر انسان ہیں اور یہی خوبیاں ان کے کردار کی مضبوطی اور بلندی کی ضامن ہیں جن سے ان کی شاعری بھی متاثر ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : منور لکھنوی کا یوم وفات
——
یہ درست ہے کہ بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کی طرف منظرؔ نے ذرا کم توجہ کی ۔ فکر کی گہرائی ، تخیل کی بلندی اور مضمون نگاری کی وسعتوں کی طرف وہ بالارادہ رجوع نہیں ہوئے ۔
اس کا خاص سبب یہ ہے کہ ان کا بنیادی ذوقِ شعری بذاتِ خود اتنا مضبوط ، دیر پا اور دلکش ہے کہ انہوں نے ان مزید قیود کا اپنے کو پابند کرنا ضروری نہیں سمجھا ۔ فطرت نے انہیں دل کھول کر نوازا ہے ۔ ان کی شعری صلاحیتوں نے ان کے اُس ماحول نے جس میں انہوں نے پرورش پائی اور اُن کی اس شاعرانہ دولت نے جو انہیں ورثے میں ملی ، انہیں اکتسابی ترقی کا محتاج نہیں رکھا ۔
فکر کی بلندی کی کمی کو منظرؔ کی خوش فکری نے بڑی حد تک پورا کر دیا ۔
منظرؔ کا ایک مخصوص رنگ ہے ، ان کی شاعری میں انفرادیت ہے ۔ اُن کے اشعار خود بتاتے ہیں کہ ہم سید جعفر حسین منظر لکھنوی کی دماغی کاوشوں کی حسین مخلوق ہیں ۔ منظرؔ کے یہاں حسن و محبت میں رنگے ہوئے ، ڈوبے ہوئے اور رچے ہوئے دلکش پیغام ہیں ۔
شعروں تاثیر ہے ، بلا کی دلکشی ہے ، نرمی ہے ، سادگی ہے ، جس سے سننے والے کے دل پہ فوری اثر ہوتا ہے ۔
میرے خیال میں منظرؔ کا کلام اگر ملک کے اچھے اور خوشگوار شعرا کے کلام کے ساتھ پرکھا جائے تو کم قیمت نہیں ٹھہرے گا ۔
منظرؔ نے استادی کا دعویٰ نہ کبھی کیا نہ آج کرتے ہیں ۔
منظرؔ کے کلام میں بمقتضائے بشریت کہیں کہیں کمزوریاں بھی ہو سکتی ہیں مگر ان کمزوریوں سے بڑے بڑوں کے دامن بھی پاک نہیں ۔
حضرت اثرؔ کی رائے موصوف کے پیش کردہ معیار پر منظرؔ کا کلام پورا اترتا ہے ۔ میں بھی اُن سے متفق ہوں کہ منظرؔ کو بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے اور شعروں میں نشتریت پائی جاتی ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : شاہِ کونین کی ثنا کیجے
——
منتخب کلام
——
غصہ قاتل کا نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے
ایک سر ہے کہ وہ ہر روز قلم ہوتا ہے
——
ہوئی دیوانگی اس درجہ مشہورِ جہاں میری
جہاں دو آدمی بھی ہیں ، چھڑی ہے داستاں میری
——
ہے وقت ابھی ہو سکتی ہے شکووں کی تلافی
کیا فائدہ محشر میں اُدھر تم ہو اِدھر ہم
——
آؤ اسیرو آج یہی مشغلہ سہی
اِک روئے اور دوسرا پوچھے کہ کیا ہوا
——
تکلیفِ قید بھولنے دیتے نہیں ہمیں
اب لوگ پوچھتے ہیں کہاں تھے ، کہاں رہے
——
دیوانگیٔ عشق سے دھوکے میں کسی کے
بیٹھا ہوا خود اپنے قدم چوم رہا ہوں
——
پوچھنے والے بھری بزم میں قاتل کو نہ پوچھ
نام تیرا ہی اگر لے لیا سودائی نے
——
ساقی کی عنایت نے ہوس اور بڑھا دی
اب مل گئی ہے مے تو گھٹا ڈھونڈ رہا ہوں
——
قید سے چُھٹ کر بھی عرصہ تک رہا اپنا یہ حال
اس طرح پھرتا تھا جیسے پاؤں میں زنجیر ہے
——
موت مانگے نہیں ملتی ہے تو جینا کیسا
ہائے مجبوریاں اُلفت کے گنہگاروں گی
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
میرے مالک تری حمد اور ثنا مشکل ہے
نہ زباں اہل ہے میری نہ دل اس قابل ہے
چھوٹا منہ اور بڑی بات ارے توبہ توبہ
تو کہاں میں کہاں تو حق ہے بشر باطل ہے
تو ہے وہ ذات کہ اپنے آپ پہ ہے ناز تجھے
میں وہ انسان جو خود اپنے سے بھی بیدل ہے
تیرے علموں کی حدیں راز ترے علم میں ہیں
اور جہالت پہ مری خود مرا دل قائل ہے
تو وہ اک ذات کہ افشا ہو تو آفت ہو جائے
میں وہ گتھی ہوں جو سُلجھے بھی تو لاحاصل ہے
تو وہ کامل کہ کمالوں کی ہے تجھ سے تکمیل
میں وہ ناقص ہوں کہ ہر نقص مرا کامل ہے
تو وہ باقی کہ بقا کو بھی بقا ہے تجھ سے
میں وہ فانی ہوں کہ ہر دم میں فنا شامل ہے
تیرے محکوم ہیں خورشید و مہ و ابر و ہوا
میرے بس میں نہ مرا نفس نہ میرا دل ہے
تو وہ بے جسم کہ ہر دل میں بنا ہے ترا گھر
میں وہ ذی روح کہ گھر ہے نہ کہیں منزل ہے
تو نے کُن کہہ کے بنا ڈالے یہ دونوں عالم
اپنی بگڑی بھی بنا لینا مجھے مشکل ہے
سب سے پہلے وہ بنایا جو اک انساں تو نے
جس کی تخلیق میں کچھ نور ترا شامل ہے
جس کا محبوب ہے تو اور وہ تیرا ہے حبیب
جو رسولوں کا رسول اور بشرِ کامل ہے
تو ہی کچھ وصف بیاں کر مرے مالک اُس کے
میرے نزدیک تو اس کی بھی ثنا مشکل ہے
وہ ہو یا اس کا ولی ہو کہ ہو اُس کی اولاد
ذکر سب کا سببِ رونقِ ہر محفل ہے
تو وہی ہے میرے مالک جو ہے مالک میرا
میں وہی ہوں ، وہی منظرؔ جو ترا سائل ہے
——
غصہ قاتل کا نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے
ایک سر ہے کہ وہ ہر روز قلم ہوتا ہے
ستمِ حسن بھی معلومِ کرم ہوتا ہے
سچ تو یہ ہے کہ بڑی چیز بھرم ہوتا ہے
اُف وہ اندازِ نظر تیر برستے ہیں مگر
ہم یہی جان رہے ہیں کہ کرم ہوتا ہے
دیتے ہیں نالے بھی نغموں کا مزا دیتے ہیں
مگر اُس وقت جب آواز میں دم ہوتا ہے
پوجے جاتے ہیں ترے نام پہ مرنے والے
خونِ ناحق کا بڑی دھوم سے غم ہوتا ہے
خونِ دل ہوتا ہے جل جل کے رگوں میں پانی
جب کہیں آنکھ کو اک اشک بہم ہوتا ہے
مہرباں اور نگہِ ناز مبارک منظرؔ
تمہیں کم ہوتے ہو یا درد بھی کم ہوتا ہے
——
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
اور جو دل ہی نہ ہو تو کیا کیجے
غم میں کچھ غم کا مشغلا کیجے
درد کی درد سے دوا کیجے
آپ اور عہد پر وفا کیجے
توبہ توبہ خدا خدا کیجے
دیکھتا ہوں جو حشر کے آثار
اپنے تیور ملاحظہ کیجے
نظر التفات بن گئی موت
مری قسمت کو آپ کیا کیجے
دیکھیے مقتضائے حال مریض
اب دوا چھوڑیئے دوا کیجے
چار دن کی حیات میں منظرؔ
کیوں کسی سے بھی دل برا کیجے
——
ایک نعمت ترے مہجور کے ہاتھ آئی ہے
عید کا چاند چراغ شب تنہائی ہے
قید میں بس یہ کوئی کہہ دے بہار آئی ہے
پھر تو میں ہوں مری زنجیر ہے انگڑائی ہے
کتنا دلچسپ ہے اللہ مرا قصۂ غم
آج کوئی نہیں کہتا مجھے نیند آئی ہے
زہر اور زہر کی تاثیر بتانے والے
اب سمجھ لے کہ نہ سودا ہے نہ سودائی ہے
صبح تک ہوگا مرے گھر پہ ہجوم خلقت
رات کی رات فقط عالم تنہائی ہے
دامن و جیب و گریباں بھی نثار وحشت
اب کسی بات میں ذلت ہے نہ رسوائی ہے
دو گھڑی دل کے بہلنے کا سہارا بھی گیا
لیجئے آج تصور میں بھی تنہائی ہے
مدتیں گزریں ہمیں اشک بہاتے منظرؔ
آج خود اس نے ہنسایا تو ہنسی آئی ہے
——
حوالہ جات
——
تحریر سراج لکھنوی از منظرستان ، دیوانِ منظر
شائع شدہ 1959 ، صفحہ نمبر 23 تا 28
شعری انتخاب از منظرستان ، دیوانِ منظر ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ