اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر عرفان صدیقی کا یومِ پیدائش ہے

عرفان صدیقی(پیدائش: 11 ستمبر، 1939ء- وفات: 15 اپریل، 2004ء)
——
نام عرفان صدیقی
11 ستمبر 1939ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔
(نوٹ : تاریخ پیدائش مرزا شفیق حسین شفق کی کتاب عرفان صدیقی : شخص اور شاعر ، صفحہ نمبر 19 سے لی گئی ہے ۔)
بریلی کالج، آگرہ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی۔
1962ء میں وزارت اطلاعات ونشریات کی مرکزی اطلاعاتی سروس سے وابستہ ہوگئے۔ ملازمت کے سلسلے میں دلی، لکھنؤ وغیرہ قیام رہا۔
یہ نیاز بدایونی کے چھوٹے بھائی تھے۔
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
’کینوس‘، ’عشق نامہ‘، ’شب درمیاں‘، ’سات سماوات‘ (مجموعہ شاعری)
اس کے علاوہ دو تین کتابیں ابلاغ و ترسیل وغیرہ سے متعلق موضوعات پر شائع ہوئیں۔
عرفان صدیقی 15 اپریل 2004ء کو لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔
——
عرفان صدیقی کی شاعری کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ- ابراہیم نثار اعظمی
——
غزل اپنی ہماری تخلیقی قوت مندی اور تہذیبی اور ثروت مندی کے اظہار کا ایسا آبگینہ ہے ۔جس میں خارجی اور باطنی دونوں زندگی کا عکس دیکھا جا سکتا ہے ۔غزل میں احساسات ،و جذبات، اورتجربات و مشاہدات کے مرقع بھی خلق کئے جاتے ہیں۔ غزل اپنی ابتدا سے لیکر آج تک لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنی ہوئی ہے۔ یہ ایسی صنف شاعری ہے۔ جس میں فکر و نظر کے نت نئے چراغ روشن کئے جاتے ہیں ۔ میر تقی میر سے لیکر غالب تک، اور غالب سے لیکر اقبال تک،اور پھر اقبال سے لیکرفراق و عرفان صدیقی تک غزلیہ شاعری کی ایسی مربوط و مضبوط روایت قائم ہو چکی ہے۔ جو یقینا آنے والی نسل کی رہنمائی کرتی رہے گی۔۔ اگر یہ کہا جائے کہ خواجہ الطاف حسین حالی نے جس جدید شاعری کی بنیاد ڈالی تھی وہ شاد و حسرت، جگر و فانی سے ہوتی ہوئی ناصر کاظمی،منیر نیازی، شکیب جلالی،ظفر اقبال، عادل منصوری، احمد مشتاق،شہریار ،اور عرفان صدیقی تک پہونچ کر کمال کو پہونچی تو بے جا نا ہوگا۔
ترقی پسندوں نے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے سب سے ذیادہ توجہ افسانے اور نظم پر دی تو جدیت نے غزل کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ اور نظمیہ شاعری کے میدان میں نئے تجربے کئے جو مقبول بھی ہوئے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جدید فضا میں غزل کا دم گھٹنے لگا۔ اس میں بہت کچھ یکسانیت و یک رنگی پیدا ہو گئی۔ مگر یہ کیفیت زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رہی ۔اردو زبان و ادب میں کئی بار ایسا ہوا کہ کسی نا کسی تحریک اور رجحان نے غزل کے مزاج و منہاج اور آہنگ کو بدلنے کی کوشش ضرور کی ۔مگر غزل اپنی حدود میں رہ کر نئے پن کے احساس کے ساتھ اپنے وجود قائم رکھنے میں کامیاب رہی اور تحریک و رجحان کے گزرتے ہی نئے برگ وبار کے کے ساتھ اپنے وجود کے استحکام کا احساس دلایا ۔
۱۹۷۰ء کے آس پاس غزل کے تمام اصناف ادب میں تبدیلی واقع ہونا شروع ہوگئی ۔اور ۱۹۸۰ ء کے بعد والی تخلیقی صورت حال کی شکل میں پہچانی گئی ۔اس تبدیلی کے تحت غزل میں کلاسکی سرمائے ،اور تاریخ وتہذیبی ورثہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جانے لگی۔ اس نئے تخلیقی صورت ِحال میں جن شاعروں نے غزل کا مثبت ارتفاع کیا۔ اور اپنی پہچان بنائی ان میں عرفان صدیقی کا نام بہت نمایاں ہے۔
عرفان صدیقی ایک ایسے شاعر کا نام ہے جو اپنی خوبیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ان کی شاعری صدیوں پرانے احساسات و جذبات ارو تہذیب کے بکھراؤ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کشمکش اور دکھ کی امین ہے،ان کا لہجہ،ان کا اسلوب، ان کا طرز،ان کی فکر ، ان کا شعور، اور ان کا تخیل، صرف ہم عصروں ہی میں نہیں پیش رؤوں میں بھی سب سے انوکھا اور دل پزیر ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام’’ کینوس ‘‘ ۱۹۷۸ء میں شائع ہوا۔ مگر اس کی خاطر خواہ پزیرائی نہیں ہوئی۔ ایسا شاید اس لئے ہوا کہ اس وقت تک ادب پر جدیدیت کے خاص موضوعات کی پکڑ مضبوط تھی۔ اور ان کے ہم عصر وں میں بلراج کومل،عمیق حنفی، کمار پاشی،بانی، اور زبیر رضوی وغیرہ پوری طرح سرگرم عمل تھے۔ جب کہ کینوس ان کی شاعری بہت حد تک اپنے ہم عصروں کے پسندیدہ مو ضوعات سے صرف نظر کر رہی تھی۔ اس کا فکری نظام کھلے طور پر تہذیبی روایت کی طرف مراجعت کرتا محسوس ہو رہا تھا ۔گویا عرفان صدیقی بھیڑ میں اپنی راہ آپ تلاش کر رہے ہیں ۔ مظہر امام صاحب نے لکھا ہے کہ۔
’’عرفان صدیقی مزاجاََ گوشہ نشیں اور کم آمیز تھے، ہر کس و ناکس کو شعر سنانے کا شوق نا تھا شعری محفلوں سے احتزاز کرتے تھے‘‘
——
یہ بھی پڑھیں : یہی عرفان ہستی ہے یہی معراج انساں کی
——
ظاہر ہے جو شخص بھیڑ میں گم ہونا ،یا بھیڑ کا حصہ بننا گوارہ نہیں کرتا ہے ۔اور عام مزاق سے ہٹ کر کچھ کہنا چاہتا ہے ۔اسے آسانی سے شہرت مقبولیت نہیں ملتی۔ ایسا ہی کچھ عرفان صدیقی صاحب کے ساتھ بھی ہوا۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام’ ’شب درمیان ‘‘۱۹۸۴ء میں منظر عام پر آیا۔ مگر یہ مجموعہ کلام بھی زیادہ مقبول نہیں ہو سکا۔ البتہ شاعر کی شخصیت کا احساس دلانے میں کامیاب رہا۔ اور سنجیدہ حلقہ میں ایک اچھے شاعر کی آمد کے امکان پر ہلکی پھلکی گفتگو کا آغاز ہو گیا۔ ۔ لیکن جب ان کا تیسرا مجموعہ کلام’’سات سماوات‘‘۱۹۹۲ء میں افق ادب پر نمودار ہوا ۔تو اس نے اپنی تابناکی سے قارئین کو چونکا دیا۔ اور تخلیقی سچائیوں کے فنکار اور ناقد نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بعض لوگوں کاخیال ہے کہ عرفان صدیقی کو نمایاں کرنے میں ’شمش الرحمان‘،اور ’ محمود ایاز ‘ کا بڑا ہاتھ ہے ۔عرفان صدیقی فاروقی صاحب کے حلقہ ٔ احباب میں شامل تھے ۔اور محمود ایاز صاحب ان کو اپنا محبوب شاعر مانتے تھے۔عرفان صدیقی کی شاعری اس وقت تک بھی اس پائے کی تھی کی اپنے وقت کا بڑا ناقد اس سے متاثر ہوتا ۔اور اپنے وقت کے سب سے بڑے اہم رسالے کا مدیر، اسے اپنا محبوب شاعر مانتے تھے ۔گویا عرفان صدیقی کی شاعری میں ابتداء ہی سے وہ خوبی پائی جاتی تھی۔ جس نے بعد میں وہ شخصیت کو استحکام بخشا۔ مگر عام لوگوں ہر ان کی شاعری کی خوبی’’عشق نامہ ‘‘ کی اشاعت کے بعد کھلی عرفان صدیقی کی تخلیقی،سنجیدگی اور انہماک کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے زمانے کے فیشن کے مطابق نا تو غزل کے ساتھ کھلواڑ کیا اور نا سستی شہرت ی طرف توجہ دی۔
بقول مظہر امام۔ ’’حکومت ہند کی انفارمیشن سروش سے وابستہ ہونے کے باعث ان کی پوسٹنگ کئی قسطوں میں رہی ۔ دہلی میں بھی اچھے خاصے عرصے تک رہے۔ لیکن وہ یہاں کے ادبی حلقوں سے دور ہی رہے ۔ہر چند دہلی میں ان کے قیام کا زمانہ اس وقت کی نئی نسل یعنی جدیدیت سے وابستہ یا متاثر نسل کے عروج اور ہماہمی کا زمانہ تھا۔ ‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عرفان صدیقی تخلیقی قوت پر بھروسہ رکھنے والے ایک خود آگاہ شاعر تھے ۔ انھیں یہ گوارہ نہیں تھا کہ وہ کسی طرح کی ہنگامہ آرائی کے ساتھ اپنی پہچان پر اصرار کریں ۔۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ رسالوں میں شائع ہونے کے معاملے میں دوسرے شاعروں کی طرح افتراط و تفریط کے شکار نہیں ہوئے ۔عرفان صدیقی کے یہاں جدیدیت کی بہترین مثال تو پائی جاتی ہیں ۔ مگروہ بعض شدت پسند جدید شاعروں کی طرح محض تشکیک، تنہائی، وجودیت، فردیت، اور دوسرے موضوعات تک محدود ہو کر نہیں رہ جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں کے اشعار کوئی جدانی تجربے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
جدید غزل کے تناظر میں عرفان صدیقی کا نام ایک انفرادی پہچان رکھتا ہے ۔انھوں نے غزلیہ شاعری کو اس کی صحت مند تہذیبی روایت کے دائرے میں رکھ کر ہم عصر زندگی کے تمام تر مسائل کو کربلا کے استعارتی تناظر میں اس طرح سمیٹ لیا ہے کہ غزل کا محسوساتی نظام ابدیت کی رمزیت کا حامل بن گیا۔ کربلا کے استعاروں کو استعمال کرنے والے فن کاروں میں عرفان صدیقی کا نام سب سے معتبر اس لئے ہے کہ انھوں نے دوسرے فن کاروں کی بہ نسبت خود کو کربلائی صورتِ حال اور کربلا کے تہذیبی انسلاکات سے زیادہ قریب محسوس کیا ۔اگر کربلا کے استعاروں کو عرفان صدیقی کی شاعری سے خارج کر دیا جائے تو یقینا ان کی شاعری انفرادیت اور تنوع سے بہت حدتک محروم ہو جائے گی۔ ان ک شاعری کا تو یہی کمال ہے کہ انھوں نے زندگی کے تمام مسائل وقعات، حادثات، سانحات، اور جذبات کو اس ایک استعارے سے اس طرح روشن کیا ہے کہ اکتاہت کے بجائے ایک طرح کی دل پزیری ہوگئی ہے۔
ایک مثال ملاحظہ ہوں۔۔۔
——
نوک سناں نے بیعت جاں کا کیا خیال
سر نے کہا قبول نظر نے کہا نہیں
——
تیری تیغ میری فتح مندی کا اعلان ہے
یہ بازو کٹتے اگر میرا مشکیزہ بھرتا نہیں
——
عرفان صدیقی کی غزلوں میں صوفیانہ روایت کے حامل اشعار بھی مل جاتے ہیں ۔جب روشن خیالی کی فکر میں ہمارے بیشتر فن کار مغرب سے روشن خیالی کشید کر رہے تھے۔ اس وقت عرفان صدیقی اپنے سر چشمے سے رشتہ بنائے ہوئے تھے۔ اور اپنی روحانی سرشاری کے لئے اپنے ہی سرمائے سے سیرابی حاصل کرنے کے لئے طمانیت محسوس کر رہے تھے ۔
——
ورنہ ہم ابدال بھلا کب ترک قناعت کرتے
اک تقاضا رنج سفر کا خواہش مال ومنال میں تھا
——
عرفان صدیقی کی شاعری میں روحانی اور وجدانی تجربہ کا جو وجدان پایا جاتا ہے۔ اس میں مذہبی تقدس کی بحالی، ہجرت کا درد، اور کربلا کا سانحہ مثلث بن کر ابھرتا ہے ۔اور عرفان صدیقی کی تخلیقی ثروت مندی کو اعتبار بخش جاتا ہے ؏ میں اپنی کھوئی ہوئی لوح کی تلاش میں ہوں
کوئی طلسم مجھے چار سو پکارتا ہے
عرفان صدیقی نا صرف ہندوستان کی اردو غزل کو اپنے منفرد طرز سخن سے اعتبار بخشا ۔بلکہ پاکستانی غزلوں پر بھی ایک ایسے دور میں اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔ جس دور میں اپنے عمومی تاثر کے تحت جدید اردو غزل کا مرکز پاکستان کو قرار دیا ۔ عرفان صاحب کی غزلوں کے منبع اور ماخذ کو ایک ایسی سرشار تاریخ اور بیدار تہذیب کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ جن کے قائم کردہ نشانات کی نا تو کوئی ظاہری حد ہے ناباطنی دوسرے لفظوں میں وہ تاریخ کے آدمی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شاعری کو منتخب ہی اس لئے کیا گیا ہے۔ کہ وہ ان منطقوں کے ثقافتی حدود کو ایک تخلیقی وسعت سے ہمکنار کرتا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : شمعِ عرفان و یقیں دل میں جلا دے مولیٰ
——
جہاں طبعی اور غیر طبعی، مرئی اور غیر مرئی طور پر اسے اتارا جائے وہ عالم انسانی کا کچھ اس طرح نمائندہ بن کر سامنے آتےہیں ۔
——
سر حدیں اچھی کی سر حد پہ نا رکنا اچھا
سونچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
——
عجیب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
میرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لئے
——
اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انسان
دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے کیسے
——
عرفان صدیقی کے یہاں یہ معاملہ انسانی دوستی سے زیادہ انسان شناس کا ہے ۔ جس میں ارتقاء بھی ہے اور احیاء بھی، روایت کی بازیافت بھی۔ ان کی کلیات ’’دریا‘‘ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے۔ کہ وہ مضمون نو یا شعر دگر کی اس صورت گری کے قائل ہیں جو آہستہ روی سے واضح تر ہوتی ہے۔ ان کا تخلیقی عمل رویوں ، رجحانات کی فی زمانہ غیر فطری تیز رفتاری کے دباؤ سے آزاد ہیں۔ مگر ہر تیز رو پر نظر جمائے ہوئے ہے ۔ عرفان صاحب کی شاعری ایک حد تک رسمی ضرور ہے ۔ آپ اگر رسم و رواج کے پابند رہے ہیں ، تو فساد خلق کا خطرہ ٹل جاتا ہے ۔ مگر یہ کلام ایک نہج پر غیر رسمی اور غیر روایتی بھی معلوم ہوتا ہے۔ مگر کبھی کبھی وہ اپنی عمومی ڈگر سے کچھ ہٹ کر بھی بات کر جاتے ہیں ۔کچھ اس طور سے کہ پہلے سے دلائی ہوئی وفا اور نباہ کی یقین دہانیوں پر بھی شروع ہونے لگتا ہے ۔
——
تم مسیحا ہونے میں کوئی طورسے شامل ہو جاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ
——
اور اسی صورت ِ حال کو مزید اجاگر کرتا ہوا ایک اور شعر ۔
——
تو نے مٹی سے الجھنے کا نتیجہ دیکھا
ڈال دی میرے بدن نے تیری تلوار پہ خاک
——
عرفان صدیقی کو بیشتر لوگوں نے ’’عشق نامہ‘‘ کے بعد ہی پہچانا۔ اور اسی شاعری کے حوالے سے یاد کیا ہے کہ ’’عشق نامہ‘‘ کی شاعری غزلیہ شاعری کے موضوع کا ارتقاء کرتی ہے۔ اور سچے جذبہ کی تطہیر کا بہت کچھ حق ادا کرتی ہے ۔ان کی شاعری کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کی انھوں عشق کی وارفتگی کے باوجود اظہار کے سلیقہ کی ندرت کو برقرار رکھا ہے۔ اچند اشعار جو اپنے وقت میں بیحد مشہور ہوئے تھے ۔اور آج بھی اسی وارفتگی سے پڑھے جاتے ہیں ۔ ترے تن کے بہت رنگ ہیں جان من، اور نہاں دل کے نیرنگ خانوں میں ہیں
——
لامسہ،شامہ،ذائقہ،سامعہ، باصرہ، سب میرے رازدانوں میں ہیں
اور کچھ دامن دل کشادہ کرو دوستو! شکر نعمت زیادہ کرو
پیڑِ ، دریا،ہوا،روشنی ،عورتیں، خوشبوئیں سب خدا کے خزانوں میں ہیں
——
عرفان صدیقی کے یہاں شاعری کا جوہر پایا جاتا ہے وہ داخلی آگ سے روشن تو ہے ۔مگر اس میں خارجی حالات کا آتش سیال بھی شامل ہے۔ انھیں خوب معلوم تھا کہ شاعری زندگی کا رخ نہیں موڑ سکتی ہے۔ مگر زندگی کے بارے میں سونچنے کا جذبہ ضرور پیدا کر سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں ۔
——
رات کو جیت تو سکتا نہیں لیکن یہ چراغ
کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
——
فن کار صرف اپنے عہد کی تبدیلی کا ادراک نہیںرکھتا ہے۔ بلکہ وقت اور حا لات کی ستم ظریفی سے بھی واقف ہوتا ہے ۔۔در اصل یہی وہ چیز ہوتی ہے۔ جو کسی بھی فن کار کے فن کو اعتبار بخشتی ہے ۔عرفان صدیقی کی شاعری صرف زبان و بیان ،جدت و ندرت ہی نہیں، بلکہ موضوع کے نئے پن کے احساس کی وجہ سے قابل توجہ ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے ان کی شاعری کا کھلے ذہن سے مطالعہ کیا جائے۔ اور ان کے یہاں تخلیقی قوت مندی کا جو احساس پایا جاتا ہے۔ اسے نمایاں کیا جائے کیونکہ تخلیقی قوت مندی کا احساس انہیں اپنے ہم عصروں میں اور اس سے زیادہ اپنے پیش رؤں میں ممتاز بناتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مختار صدیقی کا یوم پیدائش
——
منتخب کلام
——
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
——
اٹھو یہ منظر شبِ تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
——
رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ
کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
——
بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں
کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
——
ہوشیاری دلِ نادان بہت کرتا ہے
رنج کم سہتا ہے اعلان بہت کرتا ہے
——
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
——
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
——
میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہو جاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ
——
اپنے کس کام میں لائے گا بتاتا بھی نہیں
ہم کو اوروں پہ گنوانا بھی نہیں چاہتا ہے
——
ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے
——
ایک میں ہوں کہ اس آشوبِ نوا میں چپ ہوں
ورنہ دنیا مرے زخموں کی زباں بولتی ہے
——
کچھ عشق کے نصاب میں کمزور ہم بھی ہیں
کچھ پرچۂ سوال بھی آسان چاہیئے
——
اداس خشک لبوں پر لرز رہا ہوگا
وہ ایک بوسہ جو اب تک مری جبیں پہ نہیں
——
شعلۂ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے
وہ مگر خود کو جلانا بھی نہیں چاہتا ہے
——
ہم کون شناور تھے کہ یوں پار اترتے
سوکھے ہوئے ہونٹوں کی دعا لے گئی ہم کو
——
اے لہو میں تجھے مقتل سے کہاں لے جاؤں
اپنے منظر ہی میں ہر رنگ بھلا لگتا ہے
——
وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا
میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا
——
خدا کرے صفِ سر دادگاں نہ ہو خالی
جو میں گروں تو کوئی دوسرا نکل آئے
——
یہ ہم نے بھی سنا ہے عالم اسباب ہے دنیا
یہاں پھر بھی بہت کچھ بے سبب ہوتا ہی رہتا ہے
——
سر تسلیم ہے خم اذنِ عقوبت کے بغیر
ہم تو سرکار کے مداح ہیں خلعت کے بغیر
——
اس کی تمثال کو پانے میں زمانے لگ جائیں
ہم اگر آئینہ خانوں ہی میں جانے لگ جائیں
——
ناچیز بھی خوباں سے ملاقات میں گم ہے
مجذوب ذرا سیر مقامات میں گم ہے
بھلاتا ہوں مگر غم کی درخشانی نہیں جاتی
وہ آئینہ مقابل ہے کہ حیرانی نہیں جاتی
نگاہ شوق سے تا دیر حیرانی نہیں جاتی
شباب آیا تو ظالم شکل پہچانی نہیں جاتی
تجھے دیکھوں کہ تیرے التفات نرم کو سمجھوں
محبت بھی ترے جلووں میں پہچانی نہیں جاتی
سحاب و سیل دھو سکتے نہیں گرد فلاکت کو
بہار آئی مگر دنیا کی ویرانی نہیں جاتی
کہاں تک ساتھ دے سکتی ہیں آنکھیں سوزش دل کا
بہت رویا مگر غم کی گراں جانی نہیں جاتی
جوانی کو گناہوں سے الگ کرنا نہیں ممکن
یہ وہ مے ہے جو فرط کیف سے چھانی نہیں جاتی
محبت تار تار پیرہن کر اپنے کانٹوں سے
کہ ان پھولوں سے میری تنگ دامانی نہیں جاتی
نشورؔ اس وقت بھی دنیا اسیر ملک و دولت ہے
ابھی فکر و نظر تا حد انسانی نہیں جاتی
——
دیکھ لے، خاک ہے کاسے میں کہ زر ہے سائیں
دستِ دادار بڑا شعبدہ گر ہے سائیں
تو مجھے اس کے خم و پیچ بتاتا کیا ہے
کوئے قاتل تو مری راہ گزر ہے سائیں
یہ جہاں کیا ہے بس اک صفحۂ بے نقش و نگار
اور جو کچھ ہے ترا حسنِ نظر ہے سائیں
شہر و صحرا تو ہیں انسانوں کے رکھے ہوئے نام
گھر وہیں ہے دلِ دیوانہ جدھر ہے سائیں
ہم نے پہلے بھی مآلِ شبِ غم دیکھا ہے
آنکھ اب کے جو کھلے گی تو سحر ہے سائیں
پاؤں کی فکر نہ کر بارِ کم و بیش اتار
اصل زنجیر تو سامانِ سفر ہے سائیں
آگے تقدیر پرندے کی جہاں لے جائے
حدِّ پرواز فقط حوصلہ بھر ہے سائیں
شاعری کون کرامت ہے مگر کیا کیجے
درد ہے دل میں سو لفظوں میں اثر ہے سائیں
عشق میں کہتے ہیں فرہاد نے کاٹا تھا پہاڑ
ہم نے دن کاٹ دیئے یہ بھی ہنر ہے سائیں
——
بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میں
کہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
تجھی پہ ختم ہے جاناں مرے زوال کی رات
تو اب طلوع بھی ہو جا کہ ڈھل رہا ہوں میں
بلا رہا ہے مرا جامہ زیب ملنے کو
تو آج پیرہن جاں بدل رہا ہوں میں
غبار راہ گزر کا یہ حوصلہ بھی تو دیکھ
ہوائے تازہ ترے ساتھ چل رہا ہوں میں
میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ وہ پکارتا ہے
اور اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں میں
——
حق فتح یاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا
تو نے کہا تھا تیرا کہا کیوں نہیں ہوا
جب حشر اسی زمیں پہ اٹھائے گئے تو پھر
برپا یہیں پہ روز جزا کیوں نہیں ہوا
وہ شمع بجھ گئی تھی تو کہرام تھا تمام
دل بجھ گئے تو شور عزا کیوں نہیں ہوا
واماندگاں پہ تنگ ہوئی کیوں تری زمیں
دروازہ آسمان کا وا کیوں نہیں ہوا
وہ شعلہ ساز بھی اسی بستی کے لوگ تھے
ان کی گلی میں رقص ہوا کیوں نہیں ہوا
آخر اسی خرابے میں زندہ ہیں اور سب
یوں خاک کوئی میرے سوا کیوں نہیں ہوا
کیا جذب عشق مجھ سے زیادہ تھا غیر میں
اس کا حبیب اس سے جدا کیوں نہیں ہوا
جب وہ بھی تھے گلوئے بریدہ سے نالہ زن
پھر کشتگاں کا حرف رسا کیوں نہیں ہوا
کرتا رہا میں تیرے لیے دوستوں سے جنگ
تو میرے دشمنوں سے خفا کیوں نہیں ہوا
جو کچھ ہوا وہ کیسے ہوا جانتا ہوں میں
جو کچھ نہیں ہوا وہ بتا کیوں نہیں ہوا
——
فقیری میں یہ تھوڑی سی تن آسانی بھی کرتے ہیں
کہ ہم دست کرم دنیا پہ ارزانی بھی کرتے ہیں
در روحانیاں کی چاکری بھی کام ہے اپنا
بتوں کی مملکت میں کار سلطانی بھی کرتے ہیں
جنوں والوں کی یہ شائستگی طرفہ تماشا ہے
رفو بھی چاہتے ہیں چاک دامانی بھی کرتے ہیں
مجھے کچھ شوق نظارہ بھی ہے پھولوں کے چہروں کا
مگر کچھ پھول چہرے میری نگرانی بھی کرتے ہیں
جو سچ پوچھو تو ضبط آرزو سے کچھ نہیں ہوتا
پرندے میرے سینے میں پر افشانی بھی کرتے ہیں
ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا
کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں
بہت نوحہ گری کرتے ہیں دل کے ٹوٹ جانے کی
کبھی آپ اپنی چیزوں کی نگہبانی بھی کرتے ہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات