اردوئے معلیٰ

خالد اقبال یاسر کا یومِ پیدائش

آج اقبال اور شاہینوں کے شہر کے دیدہ ور شاہین خالد اقبال یاسر کا یومِ پیدائش ہے

خالد اقبال یاسر(پیدائش: 13 مارچ، 1952ء)
——
پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال یاسر شاہینوں کے شہر سرگودھا کے معروف علاقے بھیرہ کا افتخار، گلشن ِ اردو کی بہار اور ہماری ادبی دنیا کاسنگھار ہیں۔ دنیائے ادب و تحقیق میں انہوں نے بڑے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ، جو ان کے طویل اور کامیاب ادبی سفر کی داستان سناتے نظرآتے ہیں ۔ایک شاعر، ادیب، محقق، ماہر اقبالیات ، مدیر ، مترجم ، مولف اور اسکالر کی حیثیت سے انہوں نے اپنے جوہر دکھائے اور علم و عرفان کے موتی لٹائے۔ان کی زندگی کاسورج تو 13 مارچ 1952 کو بھیرہ ، ضلع سرگودھامیں طلوع ہوگیا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز زندگی کی 15ویں سیڑھی پرقدم رکھنے کے بعد کیا۔ بہت سی جامعات سے تاریخ ، ادب ، ایم ایس سی پاکستان اسٹڈیز کی ڈگریاں سمیٹیں ۔ افکار ِ اقبال سے اپنے دل اور دماغ کو منور کیا۔لاہور ، بہاولپور ، سرگودھا میں احباب کو اپنے فکروخیال سے مالامال کیا ۔بہت سی کتابیں لکھیں ۔ دروبست ، گردش ، مزاج ،اور رخصتی ان کے خوبصورت شعری مجموعے ہیں ، جنہیں پڑھ کرایک قدآور شاعر ہمارے سامنے آتا ہے ۔نثر نگاری میں بھی انہوں نے کمالات دکھائے ۔ احوال و آثار ، ادب اور زمانہ ، جدید تحریکات اور اقبال کے مطالعے سے ایک مضبوط قلم کار خود کو منواتا اور عرفان و آگہی کے دیپ جلاتا نظر آتا ہے ۔ڈاکٹرخالداقبال یاسر بہت سے اداروں سے وابستہ رہےاور ادب و صحافت کی اعلیٰ اقدار و روایات کے پاسبان کی حیثیت سے نام اور مقام کمایا۔اردو سائنس انسائیکلو پیڈیا کی دس جلدوں پر بھی ہمیں ان کے دستخط نظر آتے ہیں ۔ ان سےنسبت اور محبت مجھے ورثے میں ملی۔ قبلہ والد بزرگوار سید فخرالدین بلے کے ساتھ ان کے دیرینہ مراسم تھے۔ یہ دونوں ایک دوسرےکابےحد احترام کرتے تھے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر علی یاسر کا یوم پیدائش
——
جن اصحاب ِ ادب و صحافت کےساتھ میرے والد بزرگوار سید فخرالدین بلےصاحب کا گہرا تعلق رہا ، انہوں نے اپنا رشتہ آج بھی برقرار رکھا ہوا ہے اور میں بھی انہیں اپنے ساتھ ساتھ پاتاہوں ۔ ڈاکٹر خالد اقبال یاسر کی زندگی ، شخصیت ، شاعری ، تراجم ، نثر اور ادب کے جن جن شعبوں میں انہوں نے اپنے رنگ دکھائے ،ان کے تفصیلی ذکر کے بغیرمحبت کاحق ادانہیں کیاجاسکتا۔ اسی لئے میں نے ان کی سوانح ِ زندگی مہ و سال کے آئینے میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی کچھ غزلیات اور نظموں کو بھی شامل کیا ہے تاکہ آپ بھی فیضیاب ہوسکیں اور جان سکیں کہ ڈاکٹر خالد اقبال یاسر کا کام ادب کی کتنی جہتوں میں پھیلاہوا ہے
——
چکا تو دوں میں حسابِ عمر ایک ساتھ یاسر
مگر یہ سودوزیاں کی پوتھی کراڑ ایسی
——
پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب کو دنیائے علم و ادب میں ایک کثیر الجہت شخصیت کے طور پر قابل رشک مقام حاصل ہے ۔ ان کا علمی و ادبی سفر بہت دلچسپ اور مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت صبر آزما بھی رہا۔ اس سفر میں ہموار راستے بھی یقیناً آئے لیکن زیادہ تر مسافت دشوار گزار اور ناہموار راستے سے ہوتی ہوئی آج اس مقام پر ہے کہ جہاں ہم خالد اقبال یاسر صاحب کو دیکھ رہے ہیں۔ اس میں تو دو رائے ہیں ہی نہیں کہ اگر انہوں نے سمجھوتہ اور مفاہمت پسندانہ روش اختیار کی ہوتی تو بے شک وہ موجودہ منزل تو کئی دہائیوں پہلے پا لیتے لیکن شاید آپ کے اور ہمارے دلوں میں ان کی اسقدر اور اتنی قدر و منزلت اور تعظیم نہ ہوتی۔
پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب معیار کے قائل ہیں مقدار کے نہیں اور دوسری بات جو انہیں دیگر معاصرین سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کی اصول پسندی ہے۔ میرٹ کے نفاذ کی تحریک کا اگر آپ انہیں بانی نہیں مانتے تو نہ مانیے لیکن اس تحریک کا علمبردار اور صف اول کا قائد ہونے کا اعزاز ان سے نہیں چھینا جاسکتا۔ ان کی اس تحریک سے خود انہیں کتنا نقصان پہنچا اس کی تفصیل ایک طویل داستان ہے۔ اس علمی و ادبی سفر کے دوران علم و ادب کے فروغ کے نام پر قائم ہونے والے چند اداروں کو یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ ان کو ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب جیسا سربراہ میّسر آیا کہ جس نے چند برسوں میں ثابت کر دکھایا کہ تیز رفتاری سے بھی اعلی معیار کی کارکردگی ثابت کی جاسکتی اگر کام کرنے کی صلاحیت اور اہلیت ہو تو ۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انتہائی غیر یقینی حالات اور ناقدری کے رویوں کا سامنا کرنے کے باوجود ان کا تخلیقی سفر بہت بھرپور اور کامیاب انداز میں جاری رہا اور خیر سے ہے۔
ہم نے قارئین کی دلچسپی کے لیے جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب کے علمی اور ادبی سفر کو انتہائی اختصار کے ساتھ ماہ و سال کے آئینے میں ترتیب دینے کی کوشش کی ہے تاکہ ہم اندازہ کرسکیں کہ محض کم و بیش چار دہائیوں کی جہد مسلسل، مشقِ سخن اور تحریر و تحقیق اور ترجمہ نگاری کے دشوار مراحل سے گزر کر انہوں نے اردو ادب کو کتنا مالا مال کیا ہے۔ ان کی شعری اور نثری کتب کے ساتھ ساتھ برسوں کی محنت کے نتیجے میں جو شاہکار تراجم سامنے آئے ہیں ان کی قدر و قیمت کا اندازہ اگر عہد موجود میں اس انداز میں نہ بھی کیا گیا کہ جس کا وہ متقاضی ہے تو مستقبل کا مورخ تو کر کے ہی رہے گا۔ یہاں اس امر کی وضاحت ازحد ضروری ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ مختلف جامعات میں ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب کے فن کی مختلف جہتوں کے حوالے سے متواتر تحقیقی اور تصنیفی کام جاری ہے۔ لیکن اگر اس تحقیقی کام کے معیار کے حوالے سے ہمارے کچھ تحفظات ہیں تو شاید اتنا تو ہمارا حق ہے۔
آئیے اب پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب کے علمی و ادبی سفر کا سرسری سا جائزہ لیتے ہیں۔
——
ممتاز اسکالر ، محقق ، ادیب ، شاعر ، مدیر ، متعدد علمی و ادبی اداروں کے سربراہ ، تمغہ ء امتیاز استاذالاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال یاسر کا علمی و ادبی سفر ماہ و سال کے آئینے میں ۔
خالد اقبال یاسر:
پیدائش: 13 مارچ، 1952 ، بھیرہ، ضلع سرگودھا
میٹرک: گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2, سرگودھا، 1967
سی کام، ڈی کام : گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، سرگودھا, 1969
بی کام آنرز: ڈھاکہ یونیورسٹی ۔۔۔ نتیجہ معلوم نہیں۔ 1971
بی اے: پنجاب یونیورسٹی، 1973.
ایم اے تاریخ: پنجاب یونیورسٹی، 1978
ایم ایس سی پاکستان سٹڈیز، قائد اعظم یونیورسٹی، 1980
ایم فل اقبالیات: علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، 1992
پی ایچ ڈی اقبالیات:اردو، جامعہ اسلامیہ، بہاولپور
شاعری کا آغاز: 1967
پہلی مطبوعہ نظم: اعتراف، ماہنامہ سیارہ، لاہور، 1968
پہلی دو مطبوعہ غزلیں: فنون، لاہور، 1970
پہلا بین الکلیاتی مشاعرہ: ایبٹ اباد، 1967
——
مدیر اعلیٰ / مدیر
——
پہلی ادارت: احتساب، گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، سرگودھا ، 1967-69
زیر ادارت خبر نامے، مجلے: ارتکاز، قائد اعظم یونیورسٹی
خبر نامہ اکادمی1982- 1990
سہ ماہی ادبیات، اکادمی ادبیات پاکستان، 1987- 2000
اردو سائنس میگزین، اردو سائنس بورڈ، لاہور 2002 – 2008
بانی مدیر : رسالہ . نملین ۔ 2017
——
یہ بھی پڑھیں : تصور میں مدینے کی فضا ہے اور میں ہوں
——
تصانیف
——
شاعری
دروبست ، گردش ، مزاج ، رخصتی
——
نثر
——
احوال و آثار ، ادب اور زمانہ ، جدید تحریکات اور اقبال
کینیڈا؛ ماضی و حال، اردو سائنس انسائیکلوپیڈیا (10- جلدیں), نوبل انعامات کے 103 سال(6 جلدیں)
——
دیگر کتب: مقالات، ادبی رجحانات، ادبی جائزے، ادبی تناظر وغیرہ
——
تراجم: محبت روشن رہتی ہے، انداز، کیمیا دان، ڈیلفی کا رتھ بان، پولینڈ کی عشقیہ شاعری، پھل بوٹے وغیرہ
——
ملازمتیں
——
ثانوی تعلیمی بورڈ، سرگودھا 1974-1973
مسلم کمرشل بینک، 1974-75
انجینئرنگ ڈویژن، وزارتِ دفاع، سلطنتِ مسقط و اومان، 1975-77
ادارہ برائے بارانی دیہی ترقی، پنجاب، 1981
اکادمی ادبیات پاکستان، 1981-2001- 2008-9, 2011
قومی مرکز برائے آ لات تعلیم، لاہور (اضافی چارج)
اکادمی برائے تعلیمی منصوبہ بندی و انتظامیات (2000-2001)
اردو سائنس بورڈ، 2001-2008
نیشنل میوزیم برائے سائنس و ٹیکنالوجی، 2011
اردو سائنس بورڈ، 2011-2012
یو این ڈی پی: 2014- 2015
نمل ، اسلام آباد: 2015- 2020 شعبہ ترجمہ و تفہیم اور شعبہ انگریزی زبان و ادب
جامعہ فاطمہ جناح برائے خواتین، راولپنڈی، 2021 تا حال ، شعبہ اردو
——
ملک کی مختلف جامعات میں تحقیقی کام جاری
——
پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب کی شخصیت اور فن کی مختلف جہتوں کے حوالے سے ملک کی بہت سی جامعات میں تحقیقی کام زور و شور سے جاری ہے۔ تمام تحقیقی مقالات کے عنوانات پر تو نہیں البتہ سر دست جو چند تحقیقی مقالات ہمارے سامنے ہیں ان کے عنوانات پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔
——
نمبر1:۔ خالد اقبال یاسر کی غزل گوئی ۔ مقالہ نگار: ۔محترمہ مریم زیر نگرانی ڈاکٹر جاوید سیال نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز ۔ اسلام آباد
نمبر2:۔ خالد اقبال یاسر شخصیت اور فن ۔ مقالہ نگار: عظمی مجید۔ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی۔ لاہور۔ پاکستان
نمبر3:۔جدید تحریکات اور اقبال از ڈاکٹر خالد اقبال یاسر ۔ مقالہ نگار محترمہ صائمہ فاروق جبکہ نگران مقالہ ڈاکٹر شاہد اقبال کامران ۔ علامہ اقبال یونیورسٹی ۔ اسلام آباد
نمبر4:۔ خالد اقبال یاسر کی کتاب رخصتی کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ ۔ مقالہ نگار یاسر حمید جبکہ نگران مقالہ ڈاکٹر عبدالکریم خالد ۔ ڈویژن آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز ۔ یونیورسٹی آف ایجوکیشن ۔ لاہور
نمبر5:۔خالد اقبال یاسر بحثیت مترجم ۔ مقالہ نگار محترمہ عالیہ بتول سیشن 2018 تا 2020. نگران مقالہ ڈاکٹر طاہر عباس طیب صاحب ۔ گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی ۔ سیالکوٹ
——
منتخب کلام
——
رہتی ہے ساتھ ساتھ کوئی خوش گوار یاد
تجھ سے بچھڑ کے تیری رفاقت گئی نہیں
——
ہاں یہ ممکن ہے مگر اتنا ضروری بھی نہیں
جو کوئی پیار میں ہارا وہی فن کار ہوا
——
بھول جانا تھا جسے ثبت ہے دل پر میرے
یاد رکھنا تھا جسے اس کو بھلا بیٹھا ہوں
——
پلٹ کے آئے نہ آئے کوئی سنے نہ سنے
صدا کا کام فضاؤں میں گونجتے تک ہے
——
جیسی نگاہ تھی تری ویسا فسوں ہوا
جو کچھ ترے خیال میں تھا جوں کا توں ہوا
——
اپنا مرا وہاں پہ کوئی بس نہیں رہا
رہنے کو جی نہیں تھا مرا، پس، نہیں رہا
دوآتشہ سے کم نہ ہو آب ِگراں خمار
صہبائے نیم رس سے کبھی مس نہیں رہا
فطرت وہی ہے، زہر وہی، سانپ بھی وہی
پھنکار تو رہا ہے مگر ڈس نہیں رہا
مکروفریب سے مجھے کر تو لیا ہے زیر
مشکیں مگر حریف مری کس نہیں رہا
اتنی بھی شاید اب مری وقعت نہیں رہی
حاسد بھی مجھ پہ فقرہ کوئی کس نہیں رہا
پتلا رہا خطاؤں کا وہ ساری زندگی
میں بھی بزعمِ خویش مقد نہیں رہا
اپنی ہی فکر کرنے کی نوبت بھی آ گئی
یاسر خیالِ ہر کس و ناکس نہیں رہا
——
یہ بھی پڑھیں : کوئی سلیقہ ہے آرزو کا ، نہ بندگی میری بندگی ہے
——
اس جنم میں بھی غلام اگلے جنم میں بھی غلام
اس ریاست میں ہیں تو ملکِ عدم میں بھی غلام
مستعد پاؤ گے واں بھی اپنی خدمت کے لیے
دست بستہ ہوں گے ہم باغِ ارم میں بھی غلام
صرف آقا ہی بدلتے ہیں شکست و فتح سے
اس محل کی باندیاں ہیں اس حرم میں بھی غلام
قسمتوں کا کھیل کہتے ہیں برہمن اور پیر
اس دھرم میں جو ہیں شودر اس دھرم میں بھی غلام
ہو کے رہنا ہے کسی دربار یا درگاہ کا
ہیں سگِ سلطان یا دیر و حرم میں بھی غلام
گو مقرب ہو گیا ہے شاہ کا حلقہ بگوش
بندہ بے دام ہے وضع ِحشم میں بھی غلام
قدردانی ہے مری طاعت گزاری کے عوض
یوں تو مل جاتے ہیں دامِ بیش و کم میں بھی غلام
——
جیسا بھی اس گھڑی تھا اسی دل سے آ گیا
لنگر اٹھا کے ناخدا ساحل سے آ گیا
آئے جو اپنی آئی پہ یارانِ پیش دست
دامن سمیٹتے ہوئے محفل سے آ گیا
دنیا کو میں قبول ہوں نہ دنیا مجھے قبول
جی تنگ روز روز کی کل کل سے آ گیا
اس کا میں ہم نشیں ہوا کیا کچھ نہ ہار کر
لیکن اتر کے یار کے محمل سے آ گیا
تصویر جیسی دل میں تھی ویسی نہیں تھی وہ
اس واسطے میں لوٹ کے منزل سے آ گیا
جس کی طلب تھی اس کی نہ نکلی کوئی سبیل
درکار جو نہ تھا وہ محاصل سے آ گیا
پہلی سی سرکشی نہ رہی یاسر آخرش
جھکنا مجھے بھی طوق حمائل سے آ گیا
——
اپنا مرا وہاں پہ کوئی بس نہیں رہا
رہنے کو جی نہیں تھا مرا، پس، نہیں رہا
دوآتشہ سے کم نہ ہو آب ِگراں خمار
صہبائے نیم رس سے کبھی مس نہیں رہا
فطرت وہی ہے، زہر وہی، سانپ بھی وہی
پھنکار تو رہا ہے مگر ڈس نہیں رہا
مکروفریب سے مجھے کر تو لیا ہے زیر
مشکیں مگر حریف مری کس نہیں رہا
اتنی بھی شاید اب مری وقعت نہیں رہی
حاسد بھی مجھ پہ فقرہ کوئی کس نہیں رہا
پتلا رہا خطاؤں کا وہ ساری زندگی
میں بھی بزعم خویشِ مقدس نہیں رہا
اپنی ہی فکر کرنے کی نوبت بھی آ گئی
یاسر خیالِ ہر کس و ناکس نہیں رہا
——
آلودہ ہے بارود سے گلزارِ ستمبر
شاید ہے عدو پھر سے طلب گار ِستمبر
مربوط ہوئے رخنے جواں، گاڑھے لہو سے
مضبوط ہوئی اور بھی دیوارِ ستمبر
کچھ اور ہوئی آہن و آتش کی تپش تیز
کچھ اور گھنے ہو گئے اشجارِ ستمبر
بےنام زمانوں کی کماں ہاتھ میں اس کے
سالار ہے تقویم کا سالار ِستمبر
اس قوم کی تاریخ میں کچھ اور بھی دن ہیں
اونچا ہے مگر طرہ دستارِ ستمبر
امثال و علامات و حکایات و روایات
معیار ابدگیر ہے معیار ِستمبر
ہر چند کہ چہکار بھی تھی اس کے گلو میں
تلوار کی جھنکار تھی گفتارِ ستمبر
قدرت کی رعایت تھی، عنایت تھی وگرنہ
ہم تھے نہ کسی طور سزاوارِ ستمبر
گلے کی طرح بٹتی ہے بےبات خدائی
رکھتا ہے بہم نکتہء پرکار ِستمبر
دربان ہی درگاہِ شہیداں کے سہی ہم
کافی ہے یہی نسبتِ دربار ِستمبر
اک تیر ہوا میں بھی چلایا نہیں یاسر
لفظوں سے ہوئے شاملِ پیکارِ ستمبر
——
یہ بھی پڑھیں : حصار دین کے منظر میں آزر ہو نہیں سکتا
——
پرانادن ہی اگلاہےنیاکیاہے
شمارِسال بدلاہےنیاکیاہے
وہی کائی،وہی ٹھہراہواپانی
وہی تالاب گدلا ہےنیاکیاہے
نگاہوں میں رکاہےایک ہی منظر
وہی کھاڑی ہےبگلاہے نیاکیاہے
وہی کونپل، وہی خواہش پنپنےکی
وہی رنگین گملاہےنیاکیاہے
وہی بنسی وہی تانیں گڈریےکی
وہی بھیڑوں کا گلہ ہے یاکیاہے
وہی اک دن کی دوری ہے وہی جھیلیں
وہی مسدود رستہ ہےنیاکیاہے
وہی گھر بے درودیوارسایاسر
وہی سوکھا تغارہ ہےنیاکیاہے
——
وجد انگیز برف اڑتی ہے
شمس تبریز! برف اڑتی ہے
جاگ اٹھتا ہے برف زارِ دل
شورانگیز برف اڑتی ہے
برف صحرا میں کوئی نخلستان
کوئی کاریز، برف اڑتی ہے
آمد آمد ہے پھر زمستاں کی
پھر سے نوخیز برف اڑتی ہے
کاروانوں سے راستے آباد
سوئے کرغیز برف اڑتی ہے
اور دہکاؤ من کی انگیٹھی
ہے ہوا تیز، برف اڑتی ہے
ہیں سماوار کی گلابی سے
جام لبریز، برف اڑتی ہے
خامہ و نامہ و لفافہ برف
برف کی میز، برف اڑتی ہے
پار یاسر ، دراز شیشوں کے
زمزمہ ریز برف اڑتی ہے
——
ہر غمِ روزگار چھوڑ دِیا
بے ثمر اِنتظار چھوڑ دِیا
تب مِلی جبر سے یہ آزادی
جب سے ہر اِختیار چھوڑ دِیا
چھوڑ دی بوریا نشینی بھی
دائمی اِقتدار چھوڑ دِیا
فتح اوروں کے نام کرتے ہُوئے
دَم بَخود کارزار چھوڑ دِیا
غیر تو خیر ساتھ کیا دیتے
خود پہ بھی اِنحصار چھوڑ دِیا
چل دِیا وہ بھی دُوسری جانِب
میں نے بھی وہ دیار چھوڑ دِیا
دفن کردِیں بَھلی بُری یادیں
یاریاں چھوڑیں، یار چھوڑ دِیا
میں یہ سمجھا، کہ میں نے ہی شاید
یارِ مطلب برار چھوڑ دِیا
قافلے نے گزر کے رستے سے
گرد اُڑائی، غُبار چھوڑ دِیا
اپنی خوش بختِیاں تو یاد رَکِھیں
حسرتوں کا شُمار چھوڑ دِیا
سینت کر عجز رکھ لیا دِل میں
برمَلا اِنکسار چھوڑ دِیا
بے دِلی باقی رہ گئی یاسر
بے کلی، اِضطرار چھوڑ دیا
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ڈاکٹر علی یاسرکا یوم وفات
——
پکڑ کے ہاتھ قدم قدم مجھے لے گیا
ترا خیال مرا قلم مجھے لے گیا
رکا ہوا تھا جو تیرے گوشہ چشم پر
بہا کے ساتھ وہ بوند نم مجھے لے گیا
کوئی خبر نہ یہاں وہاں کی مجھے رہی
ٹرا جمال تری قسم مجھے لے گیا
پہنچ سکا نہ کوئی جہاں پہ وہاں وہاں
مرا گمان ترا بھرم مجھے لے گیا
خموشیاں بھی تری غضب تھیں مرے لیے
کلام کا ترے زیروبم مجھے لے گیا
کہاں کہاں نہ تری شبیہ لیے پھری
کہاں کہاں نہ مرا شکم مجھے لے گیا
اسیری تھی وہ کہ ہمرہی یہ پتا نہیں
نگاہ کا تری جامِ جم مجھے لے گیا
میں دم بخود وہیں رہ گیا جسے دیکھ کر
صنم کدے سے وہی صنم مجھے لے گیا
الجھ گیا تری مرکیوں کے رچاؤ میں
تراوہ بھاؤ سبھاؤ سم مجھے لے گیا
ستم بلا کے ہٹا سکے نہ مقام سے
تری جبیں کا خفیف خم مجھے لےگیا
ہزار غم تھے اکیلی جاں کو لگے ہوئے
نہ جانے کب کوئی ایک غم مجھے لے گیا
نکل گیا تھا میں دور اپنی زمین سے
تلاش کر کے مرا کٹم مجھے لے گیا
رکا نہ رودک عمر چاہے مرے لیے
بھٹک بھٹک کے سوئے عدم مجھے لے گیا
——
شبِ مہ تو ہو گی مگر نے نہ ہوگی
مغنی کی آواز میں لے نہ ہو گی
وہ دستِ طلب تو بڑھائے گا لیکن
صراحی میں اک بوند بھی مے نہ ہو گی
بجز چند مٹتی ہوئی جدولوں کے
خزانے میں باقی کوئی شے نہ ہو گی
وہ روپوش ہو جائے گا خامشی سے
کبھی واپسی کی گھڑی طے نہ ہو گی
نہ وہ تخت ہو گا نہ وہ خانوادہ
دوبارہ عمل داری کے نہ ہو گی
رعیت کو اس نے بہت آزمایا
کسی خشک لب پر کوئی جے نہ ہو گی
——
اگرجدائی یونہی رہےگی دراڑ ایسی
یہ زندگی کس طرح کٹے گی پہاڑ ایسی
ابھی تو آنا ہیں ماہ کےپوہ کےمہینے
ابھی تو پڑنی ہیں گرمیاں جیٹھ ہاڑ ایسی
نہ کوئی مہلت نہ کوئی وقفہ مکالمے کا
گزرتی جاتی ہے سانس پر سانس باڑھ ایسی
خیال اک دوسرے کا خوش وقتیوں میں بھی تھا
بوقت دشنام بھی محبت تھی آڑ ایسی
مرے لیے تھی تری زبانی مزاج پرسی
کسی لحد پر دمکتے فانوس جھاڑ ایسی
کسی کسی کے تھے بول بادِ سموم ایسے
وگرنہ دنیا نہ تھی بیاباں اجاڑ ایسی
سمجھ کے در میں نکلنے لگتا تو سر پٹختا
چنائی دیوار کی تھی کھلتے کواڑ ایسی
کبھی کبھی کوئی جگنو یک بارگی چمکتا
شبِ سفر تھی گھنیری ورنہ جھنکاڑ ایسی
چکا تو دوں میں حساب ِ عمر ایک ساتھ یاسر
مگر یہ سودوزیاں کی پوتھی کراڑ ایسی
——
کچھ تصاویری جھلکیاں
——

خالد اقبال یاسر

 

خالد اقبال یاسر

 

خالد اقبال یاسر
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ