اردوئے معلیٰ

آج نوجوان شاعر معید مرزا کا یوم پیدائش ہے

معید مرزا(پیدائش: 18 دسمبر 1990ء )
——
معید مرزا 18 دسمبر 1990 میں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔
انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے 2010 – 2014 میں انجینئرنگ کی۔
آجکل شارجہ(متحدہ عرب امارات) میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہیں اور سول انجینئر کی جاب کررہے ہیں۔
معید مرزا نے شاعری کا آغاز 2013 سے کیا، آپ کی پسندیدہ صنف غزل ہے اس کے علاوہ نظم، عشرہ میں بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں اور بڑی خوبصورتی سے نبھاتے بھی ہیں، آپ غزل کو مختلف رنگ سے "پینٹ” کرنے کے ہنر سے واقف ہیں، آپ بڑی بحروں میں اشعار کہنے کو اپنا آسان اظہاریہ سمجھتے ہیں اور "” ردیف ” کو بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے بھی ہیں۔
——
معید مرزا کا حال ان کی اپنی زبانی
——
میرا تعلق پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان سے ہے ہمارے اباؤ اجداد کیتھل ضلع کرنال بھارت سے ہجرت کر کے لاہور پھر مظفر گڑھ اور پھر ڈیرہ غازی خان آئے۔ میری پیدائش بھی ڈیرہ غازی خان کی ہے ۔
گورنمنٹ ہائی سکول ڈی جی خان سے میٹرک
گیریژن پبلک سکول و کالج سے ایف ایس سی اور
انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے 2010-2014میُ بی ایس سی انجینئرنگ کی ۔ 2015 میں روزگار کے سلسلے میں شارجہ ( یو اے ای) آ گیا اور تب سے ایک بلڈنگ کنسٹرکشن کمپنی میں ملازمت کر رہا ہوں آج کل پراجیکٹ انجینئر کے عہدے پر فائز ہوں ۔
کتابیں پڑھنے میں اسکول کے دنوں سے ہی دلچسپی رہی ۔ یو ای ٹی لاہور میں لٹریری سوسائٹی سے منسلک رہا اسی دوران شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ ںظم اور غزل دونوں میں طبع آزمائی کرتا ہوں۔
مجھے قدرتی مناظر سے گہرا لگاؤ ہے چاہے صحرا ہو پہاڑ ہوں یا سمندر، شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک عرصہ سے ان کے قریب رہائش پذیر ہوں
——
میں شارجہ میں سمندر کے پاس رہتا ہوں
فجیرہ کلباء سے آگے عمان سے پہلے
——
پینٹنگ اور سیروسیاحت سے مجھے خاصی دلچسپی ہے جہاں تک شاعری کی بات ہے اگر انسان کو تحلیل کیا جائے تو اس کے تین امتیازی خصائص عقلی وجود ، اخلاقی وجود اور جمالیاتی حس سامنے آئیں گے اور یہی جمالیاتی حس ہمیں شعر تخلیق کرنے کا سفر سکھاتی ہے ۔ مجھے شاعری میں ڈائیلاگ تکنیک پسند ہے ڈائنامک امیجز مجھے متاثر کرتے ہیں ۔ میرے نزدیک شاعری کی زبان آپ کی گفتگو جیسی ہونی چاہیے آپ کا مقصد قارئین و سامعین پر ثقیل الفاظ سے سکتہ یا رعب طاری کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ابلاغ ہونا چاہیے ۔
میر و غالب ہوں یا داغ ، فیض، عرفان صدیقی، جمال ، فراز ان سے متاثر ہوئے بنا کون رہ سکتا ہے موجودہ دور میں ادریس بابر کی غزل متاثر کن ہے
میری شاعری میں رومانوی پہلو زیادہ ہے اسے عمر کا تقاضا سمجھ لیں یا شاعر کا مزاج ۔
میں نے ۲۰۱۲/۲۰۱۳ میں “ادب نامہ” کے نام سے مختلف شعراء کا انتخاب اور تعارفی سلسلہ شروع کیا تھا بعد میں یوٹیوب چینل پر بہت سے سینئر شعرا کے انٹرویوز بھی شائع کیے اور ۲۰۱۸ میں ادب نامہ ویب سائٹ شروع کی جو آج کل تجدیدی مراحل کے باعث روک دی گئی ہے ۔ جلد ہی اس پر کام مکمل کر لیا جائے گا
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر اور ناول نگار مرزا محمد ہادی رسوا کا یوم وفات
——
منتخب کلام
——
مجھے اتنی بڑی دنیا میں اب تک
ضرورت ہے تری نظرِ کرم کی
——
مسکراہٹ کو بچانے کی اجازت دے دو
اپنی تصویر بنانے کی اجازت دے دو
——
کیسے کیسے دل آزاری ہوتی ہے
اپنوں سے بھی دنیا داری ہوتی ہے
رفتہ رفتہ بات سمجھ میں آتی ہے
پہلی محبت سب پر بھاری ہوتی ہے
——
آپ کو لگ رہا ہے لوگ آپ پہ معترض نہیں
تھوڑا سا چل کے دیکھیے تھوڑا پلٹ کے دیکھیے
——
محبت عمر بھر تم سے کریں گے اور تم کو
بزرگوں کے کہے پر عاجزانہ چھوڑ دیں گے
——
جتنا بھرا ہوا تھا وہ اتنا ہی پرسکون تھا
دریا کو آبشار کا لہجہ نہیں دیا گیا
اس کی ہنسی کے راستے اپنی خوشی کے واسطے
کھلتا گلاب توڑ کر تحفہ نہیں دیا گیا
اس کارگہ _ زیست میں اپنا بھی تھوڑا ہاتھ ہے
ہم کو ہمارے کام کا حصہ نہیں دیا گیا
——
اسے پتا ہے کہ ہوتی ہے کیا ادائے غزل
جو مسکرا کے بنا دیتی ہے فضائے غزل
——
کھلی مجھ پر وہ چشمِ کم نظر آہستہ آہستہ
پرندہ کھولتا ہے جیسے پر آہستہ آہستہ
سبھی کو وقت لگتا ہے نئی ترتیب دینے میں
کیے جاتا ہوں اس کے دل میں گھر آہستہ آہستہ
——
تکیہ لگا کے بیٹھ کر بان کی چارپائی پر
تبصرہ کر رہے ہیں لوگ اللہ تری خدائی پر
نوکری ڈھونڈنے ادھار لے کے چلا تو جاؤں میں
باتیں کریں گے سارے لوگ بوجھ پڑے گا بھائی پر
گاؤں کے لوگ آج بھی اس کو امیری کہتے ہیں
کھانا الگ چٹائی پر پڑھنا الگ چٹائی پر
اپنے قدم سنبھال کر سبزے کو روندتے چلو
بس ذرا دھیان یہ رہے پاؤں پڑے نہ کائی پر
ان کے تو بچے بھوک کے مارے تڑپ رہے ہیں گھر
کس نے تجھے کہا تھا یار شرط لگا لڑائی پر
اس پہ کبھی کیا ہے غور فلم سے زندگی ہے اور
کیسے یقین کر لیا تم نے سنی سنائی پر
آب و ہوا کے آر پار , خوف و خلا کے درمیاں
زندگی اور موت بھی جا کے رکی ہیں کھائی پر
——
پرانے رشتوں کی خوش گمانی سے مل رہے ہیں
ہم ایک دشمن کی مہربانی سے مل رہے ہیں
سلگ رہے ہیں پرانی تصویر کے کنارے
ہمارے جسموں کے رنگ پانی سے مل رہے ہیں
ہماری اک دوسرے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے
ہم ایک دوجے سے جس روانی سے مل رہے ہیں
ہمارا انجام لوگ پہلے سے جانتے ہیں
ہمارے کردار اک کہانی سے مل رہے ہیں
ہم ایک مدت کے بعد اپنے گھروں سے باہر
گلی میں بچوں کی بدزبانی سے مل رہے ہیں
——
میں ایک بوسہ ترے جسم پر سجاؤں گا
پھر ایک دُھن میں کئی گیت گنگناؤں گا
میں گرم سانس سے پگھلاؤں گا کوئی پتھر
میں ٹھنڈی سانس سے شیشے پہ دل بناؤں گا
ہوا بھی ڈھونڈنے لگ جائے گی نیا رستہ
میں اس کے جسم کو اتنا قریب لاؤں گا
کئی نشان مرے دل پہ چھوڑنے والے
میں ایک زخم ترے ہونٹ پر لگاؤں گا
دیے کی لَو کو میں جسموں کے بیچ رکھوں گا
اور ایک دوسرے کا صبر آزماؤں گا
کبھی کبھی تو وہ اتنی حسین لگتی ہے
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے مر ہی جاؤں گا
میں کائنات کے سارے نقوش ڈھونڈوں گا
اور ایک دن تمہیں پوری غزل سناؤں گا
——
ہمارے اس سوال کا جواب ہے کہ ہے نہیں
پرانا کوئی خواب زیرِ آب ہے کہ ہے نہیں
اخیر سین، فلم کا، وہ چھوڑ کر چلا گیا
تمہارا موڈ ؛ دل مرا خراب ہے ، کہ ہے نہیں
مشاہدے کے ساتھ ایک، فائدے کی بات ہے
یہ سرخ رنگ کا فضول خواب ہے ، کہ ہے نہیں
یہ چھوڑ کون کس جگہ پہ مر گیا تو یہ بتا
سماعتوں میں نغمہء رباب ہے کہ ہے نہیں
پھر اس کی لپ اسٹک کو دیکھ کر یہ چیک کیا گیا
گلاس پر کھلا ہوا گلاب ہے کہ ہے نہیں
نشہ کسی نگاہ کا اتر رہا ہے کیا کروں
تمہارے پاس قیمتی شراب ہے کہ ہے نہیں
بدل بدل کے چینلوں کو بور ہو گیا کوئی
میں دیکھتا ہوں شیلف پر کتاب ہے کہ ہے نہیں
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی کا یوم پیدائش
——
جنگل میں آگ کی طرح پھیلا نہیں دیا گیا
تم کو تمہارے عشق کا طعنہ نہیں دیا گیا
جتنا بھرا ہوا تھا وہ اتنا ہی پرسکون تھا
دریا کو آبشار کا لہجہ نہیں دیا گیا
جاتے ہوئے فقیر نے کتنی دعائیں دیں ہمیں
ہم سے تو ایک وقت کا کھانا نہیں دیا گیا
ہوٹل کی انتظامیہ کا شکر ادا کرو میاں
اس رات تم کو ہجر کا کمرہ نہیں دیا گیا
بونوں پہ جھاڑ کے چھڑی ٹیبل سے اٹھ گئی پری
بچوں کو بات چیت کا موقع نہیں دیا گیا
اس کی ہنسی کے راستے اپنی خوشی کے واسطے
کھلتا گلاب توڑ کر تحفہ نہیں دیا گیا
جو کچھ ہمارے بیچ تھا پردے میں ہی رکھا گیا
محفل کو اپنی بات سے چونکا نہیں دیا گیا
اپنا تمام قیمتی سامان دیکھ لیجیے
ہم سے سفر کے درمیاں دھوکا نہیں دیا گیا
اس کارگہِ زیست میں اپنا بھی تھوڑا ہاتھ ہے
ہم کو ہمارے کام کا حصہ نہیں دیا گیا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات