اردوئے معلیٰ

آج جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما اور شاعر رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر کا یومِ وفات ہے۔

 مولانا محمد علی جوہر(پیدائش: 10 دسمبر 1878ء – وفات: 4 جنوری 1931ء)
——
ولانا محمد علی جوہر کی ولادت رام پور میں 1878ء کے اواخر میں ہوئی۔ مولانا نے اپنے ایک مضمون ” میری زندگی کے پچاس سال” میں اپنی تاریخ ولادت 25 ذی الحجہ 1295ھ لکھی ہے ۔ اس اعتبار سے 10 دسمبر 1878ء ہوتی ہے اور منگل کا دن ہوتا ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم رہنما۔ جوہر تخلص۔ ریاست رام پور میں پیدا ہوئے۔ دو سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ والدہ مذہبی خصوصیات کا مرقع تھیں، اس لیے بچپن ہی سے تعلیمات اسلامی سے گہرا شغف تھا۔ ابتدائی تعلیم رام پور اور بریلی میں پائی۔ اعلٰی تعلیم کے لیے علی گڑھ چلے گئے۔ بی اے کا امتحان اس شاندار کامیابی سے پاس کیا کہ آلہ آباد یونیورسٹی میں اول آئے۔ آئی سی ایس کی تکمیل آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی۔ واپسی پر رام پور اور بڑودہ کی ریاستوں میں ملازمت کی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اُٹھا
——
جلد ہی ملازمت سے دل بھر گیا۔ اور کلکتہ جا کر انگریزی اخبار کامریڈ جاری کیا۔ مولانا کی لاجواب انشاء پردازی اور ذہانت طبع کی بدولت نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ہند بھی کامریڈ بڑے شوق سے پڑھا جاتا جاتا تھا۔
انگریزی زبان پر عبور کے علاوہ مولانا کی اردو دانی بھی مسلم تھی۔ انھوں نے ایک اردو روزنامہ ہمدرد بھی جاری کیا جو بے باکی اور بے خوفی کے ساتھ اظہار خیال کا کامیاب نمونہ تھا۔
جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے جرم میں مولانا کی زندگی کا کافی حصہ قید و بند میں بسر ہوا۔ تحریک عدم تعاون کی پاداش میں کئی سال جیل میں رہے۔ 1919ء کی تحریک خلافت کے بانی آپ ہی تھے۔ تحریک ترک موالات میں گاندھی جی کے برابر شریک تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی آپ ہی کی کوششوں سے قائم ہوئی۔
آپ جنوری 1931ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے انگلستان گئے۔ یہاں آپ نے آزادیء وطن کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم انگریز میرے ملک کو آزاد نہ کرو گے تو میں واپس نہیں جاؤں گا اور تمہیں میری قبر بھی یہیں بنانا ہوگی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے لندن میں انتقال فرمایا۔ تدفین کی غرض سے نعش بیت المقدس لے جائی گئی۔
——
مولانا محمد علی جوہر از شکیل فاروقی
——
رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر بے شمار صفات کا مجموعہ تھے۔ تحریک خلافت کے سپہ سالار کی حیثیت سے ان کا نام مثل خورشید تا قیامت روشن رہے گا۔ صحافت اور سیاست ان کا طرہ امتیاز تھا۔ ان کے قلم میں تلوار جیسی کاٹ تھی۔ اس لحاظ سے اگر انھیں صاحب سیف و قلم کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ اردو میں ’’ہمدرد‘‘ اور انگریزی میں ’’کامریڈ‘‘ نامی بے مثل اخبارات میں انھوں نے اپنی قابلیت کے خوب خوب جوہر دکھائے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ محض گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے۔ وہ سر سے پیر تک ایک عملی انسان تھے جن کے قول و فعل میں ذرا سا بھی تضاد نہیں تھا۔ اس اعتبار سے وہ عہد حاضر کے سیاست دانوں اور صحافیوں سے قطعی مختلف تھے۔ ان کے یہاں سیاست اور صحافت دونوں کو ہی عبادت کا درجہ حاصل تھا۔ لہٰذا ان کے اوصاف اور خوبیوں کو بیان کرنا اور ان کی ہمہ جہت شخصیت کا احاطہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے
اسلام صرف ان کا دین نہیں بلکہ مقصد حیات اور زندگی بھر کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس حوالے سے ان کی زندگی کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔
1923 کا آخری زمانہ تھا۔ مولانا کراچی کے مشہور و معروف خالق دینا ہال میں چلنے والے تاریخی مقولے کے بعد دوسری باراسیری سے رہا ہوکر تازہ تازہ دلی تشریف لائے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ان کی شہرت اور مقبولیت بام عروج پر تھی۔ گلی گلی،کوچہ کوچہ اورشہر درشہر بس ان ہی کے چرچے تھے۔ کانگریس کے سرکردہ رہنما گاندھی جی کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان میں ان کی بھی جے جے کار ہو رہی تھی اور کانگریس کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لیے متعدد صوبوں سے ان کا نام منظور ہوچکا تھا۔ ان حالات میں علی گڑھ کے ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران انھوں نے برجستہ فرمایا کہ عقائد کے اعتبار سے ایک عام فاسق مسلمان کو بھی گاندھی جی پر فوقیت حاصل ہے۔ مولانا کے ان کلمات پر ہندو چراغ پا ہوگئے اور کانگریسی حلقوں میں تو ایک طوفانی ہلچل مچ گئی۔ بعض کانگریسی رہنماؤں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ایسا فرقہ پرست شخص کانگریس کا بھلا کیسے بن سکتا ہے؟محمد علی جوہر کی جگہ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو گھبرا کر معذرت خواہی پر اتر آتا۔ مگر اللہ کا یہ شیر پوری جرأت اور استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور ادیب مولانا غلام رسول مہر کا یومِ پیدائش
——
مشہور و معروف امین الدولہ پارک کے ایک اہم جلسہ عام میں انھوں نے ببانگ دہل یہ بھی کہا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیے۔’’جہاں تک سیاست کا تعلق ہے گاندھی جی ہم سب کے پیشوا ہیں لیکن جہاں تک مذہب کا تعلق ہے میرا یہی عقیدہ ہے کہ ایک فاسق و فاجر کلمہ گو بھی اپنے عقائد کے لحاظ سے تنہا مہاتما گاندھی ہی نہیں بلکہ دنیا جہان کے تمام بہتر سے بہتر سارے غیر مسلموں سے بڑھ چڑھ کر ہے۔‘‘ مولانا کی اس جرأت مندی کے نتیجے میں پورے مجمع پر سناٹا چھا گیا۔
اسی طرح جب پونا کے ایک ہندو اخبار میں گؤرکھشا یعنی گائے کے تقدس کی حمایت میں ہندو انتہا پسند رہنما بال گنگا دھر تلک کے حمایت یافتہ ایڈیٹر این سی کیلکر کا ایک متعصبانہ مضمون شایع ہوا تو مولانا بری طرح تڑپ اٹھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کا مشہور انگریزی اخبار کامریڈ فرنگی حکومت کے زیر عتاب ہونے کی وجہ سے بند پڑا ہوا تھا۔ یہ اشتعال انگیز مضمون مسلمانوں کے لیے کسی دھمکی سے کم نہ تھا۔ چنانچہ مولانا نے فوراً اس کے جواب میں ایک زبردست خط تحریر کرکے کیلکر کو ارسال کرنے کے لیے اپنے سیکریٹری حسن محمد حیات کے حوالے کردیا۔ اس خط کا لب لباب یہ تھا کہ اگر مسلمانوں پر ذرا بھی جبر کا کوئی پہلو پیدا ہوا تو میں پونا آکر خود اپنے ہاتھوں سے گائے ذبح کروں گا۔
اسی طرح انگریزوں کی حکومت کو للکارتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ’’میری بغاوت اس وقت سے شروع ہونے لگتی ہے جب دین و مذہب میں حکومت کی مداخلت شروع ہوجاتی ہے۔‘‘
ایک اور واقعہ 1928 کے درمیان کا ہے جب مولانا محمد علی جوہر ذیابیطس کے علاج کے سلسلے میں فرانس اور برطانیہ گئے ہوئے تھے۔ ایک روز لندن کے ایک اخبار میں یہ خبر چھپی کہ ایک مسلمان کو پارلیمنٹ کی گیلری میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا جوکہ بالکل انوکھی بات تھی۔ سب جان گئے کہ یہ مولانا محمدعلی جوہر کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
مولانا پر بس یہی دھن سوار تھی کہ پورا یورپ گھومیں اور قرآن کے انمول خزانے کو ایک ایک شخص تک پہنچائیں اور ہر اسٹیشن، ہر پارک اور ہر چوراہے پر نماز ادا کرکے لوگوں کو دین اسلام کے ابدی پیغام سے روشناس کرائیں۔
اسی سلسلے کا ایک اور واقعہ بھی ہے۔
رات آدھی سے زیادہ ڈھل چکی تھی۔ غالباً شب کا پچھلا پہر تھا۔ ستارے آسمان پر ٹمٹما رہے تھے۔ اس وقت مفتی اعظم فلسطین امین الحسین صاحب خانہ کعبہ کے پاس سے ہوکر گزر رہے تھے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک شخص نہایت عاجزی اور دلسوزی کے ساتھ گریہ و زاری میں مصروف ہے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک جھڑی لگی ہوئی ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ آواز بیٹھی ہوئی اور گردن سجدے میں جھکی ہوئی ہے۔ وہ شخص گڑگڑا کر اور رو رو کر پکار رہا تھا کہ ’’اے کارساز عالم چاہے تو میری کوئی اور آرزو پوری نہ کر، لیکن ایک بار ان آنکھوں کے سامنے خلافت راشدہ کا احیاء کرکے وہ مبارک اور مسعود زمانہ واپس لاکر دکھادے جس کا ذکر ہم نے صرف کانوں سے سنا ہے مگر آنکھیں جس کی دید سے اب تک محروم ہیں۔‘‘
مفتی اعظم فلسطین کا بیان ہے کہ میں حیرت سے یہ عجیب وغریب منظر دیکھ رہا تھا۔ پھر جب اس شخص نے اپنی پیشانی سجدے سے اٹھائی تو دیکھتا کیا ہوں کہ یہ مولانا محمد علی جوہر تھے جن کا نورانی چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
——
یہ بھی پڑھیں : آنکھوں سے فکرِ ذات کے منظر چلے گئے
——
اللہ تعالیٰ نے مولانا محمد علی جوہر کو شاعری کی نعمت سے بھی نوازا تھا اور جوہر ان کا تخلص تھا۔ اس بے بہا نعمت سے بھی انھوں نے وہی کام لیا جو ایک مرد مومن کے شایان شان تھا۔ ان کی شاعری و ارادت قلب سے عبارت ہے اور یہ ان کے دل کی زبان اور جذبہ صادق کی ترجمان ہے۔
——
منتخب کلام
——
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
——
نہ نماز آتی ہے مجھ کو نہ وضو آتا ہے
سجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہے
——
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ زمانے سے خفا میرے لیے ہے
——
شکوہ صیاد کا بے جا ہے قفس میں بلبل
یاں تجھے آپ ترا طرز فغاں لایا ہے
——
دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد
ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد
——
ساری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ سودائی ہے
اب مرا ہوش میں آنا تری رسوائی ہے
——
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
——
قید اور قید بھی تنہائی کی
شرم رہ جائے شکیبائی کی
——
کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیا
کیا ہوا جو آج یوں جامے سے باہر ہو گیا
میرا شہرہ آج اک عالم میں گھر گھر ہو گیا
تیرے ہاتھوں مجھ کو قاتل یہ میسر ہو گیا
کیوں نہیں ملتا ابھی تک تشنہ لب ہیں بادہ خوار
کیا ترا ساغر بھی ساقی جام کوثر ہو گیا
اس قدر وحشت بھی اے دست جنوں کس کام کی
تیرے ہاتھوں میرا جینا بھی تو دوبھر ہو گیا
جوش وحشت کا ارادہ تھا کہ عریاں ہی رہے
بارے مر کر اک کفن مجھ کو میسر ہو گیا
اس کی رسوائی کا بھی آیا نہ تجھ کو کچھ خیال
کس قدر بے باک تو اے دیدۂ تر ہو گیا
مژدہ اے گنج شہیداں تیرے بھی دن پھر گئے
آج دل برداشتہ دنیا سے جوہرؔ ہو گیا
——
یہ بھی پڑھیں : کُن کی اَذانِ ناز کا جوہر نبی مرا
——
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لئے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لئے ہے
پیغام ملا تھا جو حسین ابنِ علی کو
خوش ہوں وہی پیغامِ قضا میرے لئے ہے
یہ حورِ بہشتی کی طرف سے ہے بلاوا
لبیک کہ مقتل کا صلا میرے لئے ہے
کیوں جان نہ دوں غم میں ترے جب کہ ابھی سے
ماتم یہ زمانے میں بپا میرے لئے ہے
میں کھو کے تری راہ میں سب دولتِ دنیا
سمجھا کہ کچھ اس سے بھی سوا میرے لئے ہے
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے
سرخی میں نہیں دستِ حنا بستہ بھی کچھ کم
پر شوخئ خونِ شہداء میرے لئے ہے
راحل ہوں مسلمان بصد نعرہء تکبیر
یہ قافلہ یہ بانگِ درا میرے لئے ہے
انعام کا عقبٰی کے تو کیا پوچھنا لیکن
دنیا میں بھی ایماں کا صلا میرے لئے ہے
کیوں ایسے نبی پر نہ فدا ہوں کہ جو فرمائے
اچھے تو سبھی کے ہیں برا میرے لئے ہے
اے شافعِ محشر جو کرے تو نہ شفاعت
پھر کون وہاں تیرے سوا میرے لئے ہے
اللہ ہی کے رستے میں موت آئے مسیحا
اکسیر یہی ایک دوا میرے لئے ہے
کیا ڈر جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے
جو صحبتِ اغیار میں ہو اس درجہ بیباک
اس شوخ کی سب شرم و حیا میرے لئے ہے
ہے ظلم بہت عام ترا پھر بھی ستمگر
مخصوص یہ اندازِ جفا میرے لئے ہے
——
مل چکا تجھ سے صلہ ہم کو وفاداری کا
تجھ کو آیا نہ سلیقہ کبھی دل داری کا
طفل مکتب ہے ترے سامنے خود چرخ کہن
کس سے سیکھا ہے یہ انداز دل آزاری کا
عقل والا کوئی بچتا نہیں پھندے سے ترے
گو بہت عام ہے شہرہ تری عیاری کا
ہم کو خود شوقِ شہادت ہے، گواہی کیسی؟
فیصلہ کر بھی چکو مجرمِ اقراری کا
میری شہرت بھی اگر ہوگی تو کیا؟ قتل بھی کر
نام ہوجائے گا تیری بھی ستم گاری کا
کیا قباحت ہے مری قتل سے شہرت ہی سہی
نام ہوگا نہ بھلا تیرے ستم گاری کا
قاتل اب دیر ہے کیا؟ جام شہادت دے چک
ہوگیا وقت کبھی کا، مری افطاری کا
تو ہو آمادہ جو، اے دل تو ہے پھر دار بھی ہیچ!
آزما دیکھ، یہ سب کھیل ہے تیاری کا!
سب ہیں فانی، غم دنیا نہ رہا، ہم نہ رہے
رہ گیا نام ِغم عشق کی غم خواری کا
تو تو ہم سب کو یہیں چھوڑ چلا اے جوہر
شور سنتے تھے بہت تیری وفاداری کا
——
دَورِحیات آئے گا قاتِل! قضا کے بعد
ہے اِبتدا ہماری، تِرے اِنتہا کے بعد
جِینا وہ کیا، کہ دل میں نہ ہو تیری آرزو
باقی ہے موت ہی، دلِ بے مُدّعا کے بعد
تجھ سے مُقابلہ کی، کِسے تاب ہے ولے
میرا لہُو بھی خوب ہے تیری حِنا کے بعد
لذّت ہنوز مایدۂ عشق میں نہیں!
آتا ہے لُطفِ جُرمِ تمنّا، سزا کے بعد
قتلِ حُسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اِسلام زندہ ہوتا ہے ہرکربلا کے بعد
مُمکن ہے نالہ جبر سے رُک بھی سکے، مگر
ہم پرتو ہے وفا کا تقاضا، جفا کے بعد
ہے کِس کے بل پہ حضرتِ جوہر یہ رُوکشی
ڈھونڈیں ہے آپ کِس کا سہارا خُدا کے بعد
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات