اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر منور لکھنوی کا یوم پیدائش ہے

منور لکھنوی(پیدائش: 8 جولائی 1897ء— وفات: 24 مئی 1970ء)
——
منور لکھنؤی 8 جولائی 1897ء کو آبائی مکان محلہ نوبستہ، لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی نام بشیشور پرشاد تھا۔ قوم کے سکسینہ کائیستھ تھے۔منور کے ایک بڑے بھائی بابو رام شنکرپرشاد بھی تھے۔ وہ بھی خاندانی روایات اور ماحول کے زیر اثر صحافت اور شعرگوئی میں دلچسپی لیتے تھے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد منور اَودھ اخبار، لکھنؤ کے شعبہ اِدارت میں ملازم ہو گئے۔ منور نے ذاتی ہفتہ وار اخبار تفریح کے نام سے بھی جاری کیا۔منور کے والد اُفق بڑے شاعر اور ادیب تھے۔ لیکن بدقسمتی سے وہ شراب نوشی کی عادت قبیحہ میں مبتلا تھے۔اِسی عادت قبیحہ نے جلد ہی اُن کی موت کا سامان کر دیا۔ والد کی وفات کے بعد منور کی تعلیم پر ناخوشگوار اثرات پڑے۔ اُس وقت یہ آٹھویں درجے کا امتحان دے چکے تھے۔لیکن گھر کی حالت اِس قابل نہیں رہ گئی تھی کہ یہ آگے تعلیم جاری رکھ سکتے۔ بڑے بھائی بابورام شنکرپرشاد کی بے وقت موت کے صدمے سے گھر کے حالات مزید خراب ہو گئے۔کم عمری میں ہی منور پر خاندان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پڑ گئی جبکہ اُس وقت منور کی عمر سولہ برس تھی۔ بھائی بابورام شنکرپرشاد کی وفات کے بعد اَودھ اخبار میں اُن کی ملازمت کی جگہ مقرر ہو گئے تھے۔ ستمبر 1913ء میں کوشش کرکے ریلوے کے حسابات کے دفتر میں عارضی ملازمت کرلی۔ اِس ملازمت پر مشاہرہ 1800 روپئے مقرر ہوا تھا۔خوش قسمتی یہ ہوئی کہ منور کی یہ ملازمت جلد ہی مستقل ہو گئی۔ اِسی ملازمت کے دوران منور نے 1919ء میں پرائیویٹ اِمتحان کے دسویں درجے کی سند حاصل کرلی۔ اِس سے ترقی کا راستہ کھل گیا لیکن اُنہوں نے ذاتی مطالعے اور محنت سے اپنی استعداد میں بہت اِضافہ کر لیا تھا۔ فارسی زبان اور سنسکرت زبان میں خوب مہارت رکھتے تھے اور اِن دونوں زبانوں کی کتب کو باآسانی ترجمہ کرتے رہے۔ منور عمر بھر ریلوے کے اِسی محکمے سے وابستہ رہے اور مختلف مقامات جیسے کہ لاہور، دہلی اور لکھنؤ میں تبادلے کی خاطر سفر کرتے رہے۔ آخری مرتبہ وہ ماہِ اکتوبر 1927ء میں دہلی گئے اور اُس کے بعد دہلی میں ہی مقیم ہو گئے۔ محکمہ ریلوے سے ماہِ جنوری 1957ء میں سبکدوش ہو گئے اور پنشن پر زندگی بسر کرنے لگے۔
——
یہ بھی پڑھیں : منور بدایونی کا یومِ پیدائش
——
منور لکھنوی کو شعرو سخن سے دلچسپی ابتدائی زمانے میں پیدا ہو گئی تھی، گھر کی فضا بھی ادبی تھی جس کا اثر منور پر پڑا۔ شروع میں اُن کا کلام اپنے بڑے بھائی کے پرچہ تفریخ اور اَودھ اخبار میں شائع ہوتا رہا۔ بعد ازاں وہ اپنا کلام مختلف ادبی رسائل و جرائد میں بھیجنے لگے۔ منور کے چچا منشی رام سہائے تمنا بھی ایک ماہانہ پرچہ ’’دربار‘‘ شائع کرتے تھے، اُس میں نظم و نثر ہوتی تھیں۔ پرچے کی دیکھ بھال منور کے سپرد ہوئی تو نثر کو ڈاکٹر گوری سہائے اور نظم کو منور دیکھتے تھے۔ 1930ء میں ایک روزنامہ وطن کے نام سے جاری ہوا تو منور کا کلام اُس میں بھی چھپتا رہا۔
آخری دِنوں میں منور لکھنوی کی صحت بہت خراب رہنے لگی تھی۔ مرض فواق (ہچکی کا مرض) میں مبتلا ہو گئے تھے۔ ذیابیطس کی شکایت نے اُن کو لاغر کر دیا تھا۔ آخری ایام میں بینائی بھی بہت کمزور ہو گئی تھی۔ اِن سب عوارض کے باوجود یہ گمان تک نہیں تھا کہ وہ قریب المرگ ہیں۔ کہیں نا کہیں ادبی مجالس میں نظر آتے تھے۔ 24 مئی 1970ء کو صبح پونے سات بجے خاموشی سے اِس جہاں سے جہانِ ابدی کی طرف رخصت ہو گئے
——
اقتباس از نوائے کفر ، تبصرہ نگار : راج نرائن رازؔ
——
منورؔ کے ہاں جذبات کا تیز و تند طوفان نہیں لیکن جذباتی اضطراب ہے :
——
ان سے مرے مزاج کی آسودگی نہیں
کھلنے کو پھول لاکھ کھلے ہیں بہار میں
——
کارفرمائی معمارِ تخیل کیا ہے
کوئی تعمیر در و بام سے آگے نہ بڑھی
——
وہ بیشتر ہمہ تن سوال بن جاتا ہے ۔ منور لکھنوی اپنے جذبات کے اظہار کے لیے جو علامتیں استعمال کرتا ہے وہ نہ کل پرانی تھیں ، نہ آج پرانی ہیں اور نہ کل پرانی ہوں گی ۔ بلکہ یوں کہیے کہ روایتی علامتوں کے انفرادی استعمال سے منورؔ نے بڑے تازہ کار اثرات پیدا کیے ہیں ۔
اس کی نظر باریک بیں ہے ، مشاہدہ دیدنی ہے ۔ اکثر اس کا لب و لہجہ مشاہدے اور کیفیت سے ہم آہنگ ہوتا ہے ۔
وہ اپنی بات جس طرح کہنا چاہتا ہے اسی طرح کہتا ہے ۔
اسے بیان پر عبور حاصل ہے ۔ وہ الفاظ کا نباض ہے ۔ یہی عناصر شدتِ احساس پر دال ہیں ۔
منور لکھنوی کے لہجے میں جو دھیما پن ، اعتدال اور شعار میں جو سلامت روی ہے اس کا خمیر خود اس کے اپنے مزاج سے اُٹھا ہے ۔
اس کے جذبات میں ٹھہراؤ ہے ۔ اس کی فکر منطقی ہے ۔ محرومی سے اسے موت سے پیار کرنا نہیں سکھایا ۔ وہ زندگی سے دامن کشاں کبھی نہیں گزرا ۔
اس کی رجائیت بجھی بجھی سہی ، اختیاری نہیں ۔ یہ اس کے مزاج کا حصہ ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : منور مرزا کا یوم وفات
——
منورؔ کی غزلوں میں جدت ، تشبیہوں اور ترکیبوں میں ندرت ہے ۔ الفاظ میں موسیقی اور اسلوب میں نیا پن ہے ۔
غزل بجائے خود انجذاب توجہ کی خصوصیت کی حامل ہے ۔ منورؔ کی غزل میں آپ کو لفظ و معنی کی نئی دنیا آباد ملے گی ۔
——
منتخب کلام
——
مری فنا کا نہایت بلند رتبہ ہے
چراغِ صبح نہیں آفتابِ شام ہوں
——
ممکن نہیں چمن میں دونوں کی ضد ہو پوری
یا بجلیاں رہیں گی یا آشیاں رہے گا
——
تنہا تو دو جہاں کا سفر کر چکا ہوں میں
اُٹھا نہ اک قدم بھی مگر رہنما کے ساتھ
——
دیکھنا ٹھیس نہ لگ جائے ان آئینوں کو
موت سے بڑھ کے ہے جذبات کی تحقیر مجھے
——
اپنی طرف سے جذبِ قفا میں کمی نہیں
ہوتا ہے پھر بھی کوئی کشیدہ اگر تو ہو
——
مرے اعمال کی اُلٹی وہ سزا دیتے ہیں
میں جو مرتا ہوں تو پھر مجھ کو جلا دیتے ہیں
یہ ستارے ، یہ غبارے ، یہ شرارے ، یہ حباب
اور ہی ہستیِ فانی کا پتا دیتے ہیں
——
رہ گئے محوِ تحیر ترے دیوانۂ عشق
دو قدم اور جو آگے بڑھے ویرانے سے
——
ناامیدی میں نظر تھی وقتِ نیرنگ امید
ڈوبنے والے کو اک تنکا بھی ساحل ہو گیا
——
مرنے پہ جو مائل دلِ ناشاد ہوا ہے
مر کر بھی کوئی قید سے آزاد ہوا ہے
——
کیجیے شوق سے آرائشِ گیسوئے جمال
نہ پڑے بال مگر ایک بھی آئینے میں
——
عشوۂ کامیاب ہے ، جو بھی ہے بے حساب ہے
رحم ترا ، کرم ترا ، قہر ترا ، غضب ترا
——
اٹھا کر لے گئے سُوئے لحد ہوتے ہی بند آنکھیں
تھکے ماندے مسافر کو بھی سستانے نہیں دیتے
——
یہ بھی پڑھیں : اگر دل میں یادِ مدینہ رہے گی
——
جب نظر جانب اسباب فنا کرتے ہیں
پہلے ہم اپنی طرف دیکھ لیا کرتے ہیں
جن کو ہے طوق و سلاسل کے تقاضوں کا شعور
وہی پابندی آئین وفا کرتے ہیں
کاش ہم کو بھی بتا دیں یہ بتانے والے
چوٹ لگتی ہے کوئی دل پہ تو کیا کرتے ہیں
ترجمانی کا وسیلہ تو ہیں دراصل یہ اشک
دل کے مطلب کو ہم آنکھوں سے ادا کرتے ہیں
تہمت عشق کہاں اور کہاں یہ معصوم
مفت بدنام منورؔ کو کیا کرتے ہیں
——
یہ اتنی برہمی کیوں ہے یہ مجھ سے بد گماں کیوں ہو
جو میں تم کو سناتا ہوں وہ میری داستاں کیوں ہو
الٰہی خیر کیا کوئی مصیبت آنے والی ہے
جو اک دنیا سے کھنچتا ہو وہ مجھ پر مہرباں کیوں ہو
مری غیرت یہ خود آرائی گوارا کر نہیں سکتی
نہ جو میرا خدا ہو وہ خدائے دو جہاں کیوں ہو
رخ گیتی کا غازہ خاک ہے ان خوش نہادوں کی
وجود اہل دل اہل زمانہ پر گراں کیوں ہو
زمانہ لمحہ لمحہ کام آتا ہے زمانے کے
منورؔ عمر اک میری ہی عمر رائیگاں کیوں ہو
——
دل کی ہو دل سے ملاقات بہت مشکل ہے
اور سب سہل ہے یہ بات بہت مشکل ہے
عشق والوں کی تو دعوت ہے جنوں سے ممکن
حسن والوں کی مدارات بہت مشکل ہے
بزم فطرت کے بھی آئین کہیں بدلے ہیں
سب کے مابین مساوات بہت مشکل ہے
جیب خالی ہو تو اک لمحہ بھی ہوتا ہے پہاڑ
مفلسی میں بسر اوقات بہت مشکل ہے
ہدیۂ غم ہیں منورؔ مرے دل کے ٹکڑے
کوئی ٹھکرائے یہ سوغات بہت مشکل ہے
——
حد امکاں سے آگے اپنی حیرانی نہیں جاتی
نہیں جاتی نظر کی پا بہ جولانی نہیں جاتی
لب خاموش ساحل سے سکوں کا درس ملتا ہے
مگر امواج دریا کی پریشانی نہیں جاتی
جہاں پہلے کبھی سب گوش بر آواز رہتے تھے
وہاں بھی اب مری آواز پہچانی نہیں جاتی
حقیقت کچھ تو اپنی آبرو کا پاس ہو تجھ کو
ہزاروں پیرہن ہیں پھر بھی عریانی نہیں جاتی
نہیں تعظیم کے لائق نہیں تکریم کے قابل
وہ در جس کی طرف خود کھنچ کے پیشانی نہیں جاتی
سکوں ہوتا تو ہے پھر بھی سکوں حاصل نہیں ہوتا
کہ جانے کی طرح اپنی پریشانی نہیں جاتی
——
حوالہ جات برائے اقتباس : کتاب نوائے کفر از منور لکھنوی
شائع شدہ 1961 ، صفحہ نمبر 15
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات