اردوئے معلیٰ

Search

آج اردو غزل ‘ رباعی اور قطعہ میں ایک معروف نام نریش کمار شاد کا یوم وفات ہے

 

 نریش کمار شاد(پیدائش: 11 دسمبر 1927ء— وفات: 21 مئی 1969ء)
——
نریش کمار شاد 11 دسمبر 1927ء کو مشرقی پنجاب کے ایک گاؤں یحییٰ پور، ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔
تقسیم ہند کے بعد وہ دلّی چلے گئے۔ شاد کے والد، دردؔ نکودری بھی شاعر تھے۔ شاد نے بہت کم عمری میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے والد سے اصلاح لینے کے ساتھ ساتھ تلوک چند محروم اور جوش ملسیانی سے بھی مشورۂ سخن کیا۔
آپ کچھ عرصہ کانپور میں بھی رھے ۔جہاں آپ نے چند دن کیلئے ساحر ھوشیار پوری کے ساتھ بطور شریک ایڈیٹر کام کیا ۔
آپ کو مجاز ، سعادت حسن منٹو اور سلام مچهلی شهری کی طرح اردو اور فارسی زبان پر بہت دسترس حاصل تھی۔ آپ بھی ضرورت سے زیادہ شراب کے عادی تھے۔ اور اپنی اس کمزوری کے باعث کوئی بھی ملازمت مستقل مزاجی سے نہ کر سکے۔ کثرت شراب کے استعمال کی وجہ سے وہ جگر کے امراض کا شکار ھو گئے اور 1969ء میں آپ انتقال فرما گئے۔ ان کے والد نوحیرا رام درد بھی جو کہ ایک بہت اچھے شاعر تھے۔ وہ بھی کثرت شراب نوشی کا شکار تھے ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ھے کہ انہوں نے خودکشی کر لی تھی۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اور نقاد کمار پاشی کا یومِ پیدائش
——
نریش کمار شاد ، اپنے عہد کا ادبی قلندر از فاروق ارگلی
——
اُردو زبان و ادب کی تاریخ ایسی شخصیتوں سے منور ہے جنھوں نے اپنے خونِ جگر سے تخلیقی چراغ روشن کیے اور ادب کے ایوان میں اُجالے بکھیرے۔ تقسیم ہند کے بعد برِّصغیر میں اُردو کی عظمت کا پرچم بلند کرنے والوں میں نریش کمار شاد کا نام ہمیشہ احترام و محبت سے لیا جاتا رہے گا۔ شادؔ کوپیدائشی شاعر کہا جاسکتا ہے کیونکہ ان کے والد نوہریا رام دردؔ نکودری استاد شاعر اور اُردو کے مقتدر صحافی تھے۔ نریش کمار شاد کا جنم 11 دسمبر 1927 ء کو موضع یحییٰ پور ضلع ہوشیارپور (مشرقی پنجاب) میں ہوا تھا۔ بعد میں ان کے والدین نے قصبہ نکودر میں سکونت اختیار کرلی۔ جس زمانے میں نریش کمار نے ہوش سنبھالا پنجاب میں ملک کے دوسرے حصوں کی طرح اُردو کا بول بالا تھا۔ نریش کمار نے بنیادی تعلیم اُردو میں ہی حاصل کی۔ قصبہ نکودر میں ساتویں جماعت پاس کرنے کے بعد وہ کوٹ رادھا کشن ضلع لاہور کے مڈل اسکول میں داخل کرائے گئے۔ آٹھویں جماعت کے امتحان میں امتیازی کامیابی کے بعد قصبہ جونیا کے گورنمنٹ ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان دیا۔ اس امتحان میں نریش کمار نے اُردو اور فارسی میں پورے صوبہ پنجاب میں ٹاپ کیا اور سرکاری ملازمت میں چلے گئے۔ کچھ عرصہ وہ ملازمت کے سلسلے میں جالندھر اور راولپنڈی میں رہے، لیکن سرکاری ملازمت میں ان کا دل نہیں لگا۔ ان کے والد شاعر اور صحافی تھے، گھر کا ماحول علمی و ادبی تھا، ان کا مزاج بھی اسی رنگ میں رنگا ہوا تھا، شاعری تو بچپن سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ والد کی اصلاح اور حوصلہ افزائی نے آٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے اچھا خاصا شاعر بنا دیا تھا۔ سرکاری ملازمت ترک کرکے وہ لاہور پہنچے اور ایک فلمی ادبی رسالہ ’شالیمار‘ کے ایڈیٹر بن گئے جو اس وقت خاصا مقبول جریدہ تھا۔ اسی دور میں وہ خوشترؔ گرامی کے مشہور ماہنامہ ’بیسویں صدی‘ سے بھی وابستہ رہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد جب خوشترؔ گرامی ہندوستان آگئے تب بھی ’بیسویں صدی‘ سے ان کی قلمی وابستگی برقرار رہی۔ ’بیسویں صدی‘ میں ہی انھوں نے ادبی شخصیتوں پر منٹو کے ’سیاہ حاشیے‘ کے طرز پر ’سرخ حاشیے‘ کا سلسلہ لکھا جو ادبی دنیا میں بہت مشہور و مقبول ہوا۔ نریش کمار شادؔ تقسیم کے بعد کانپور چلے گئے، جہاں کئی پنجابی ادیب اور ان کے احباب مقیم تھے۔ کانپور میں شادؔ اور ساحرؔ ہوشیار پوری نے ایک اُردو رسالہ ’چندن‘ کا اجراء کیا لیکن ’چندن‘ کامیاب نہ ہوا۔ دل برداشتہ ہوکر شادؔ دہلی آگئے اور اس وقت ایک دوست بلدیومتر دہلی سے رسالہ ’راہی‘ نکال رہے تھے۔ شادؔ نے ’راہی‘ کی ادارت سنبھال لی۔ وہ اس دور میں ہندوستان سے ایک معیاری ادبی جریدہ نکالنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کی تکمیل میں انھوں نے امرتسر سے ’نقوش‘ کی اشاعت شروع کی، لیکن ان کی یہ کوشش اس لیے کامیاب نہ ہوسکی کہ سرمایہ کی کمی کے ساتھ ساتھ تجارتی معاملات سے وہ ناواقفیت تھے۔ پانچویں دہائی کے آخر میں وہ دہلی آگئے۔ دہلی کا بھرپور علمی ادبی ماحول انھیں بہت راس آيا۔ اس وقت دہلی میں پنجاب کے اُردو ادیبوں، صحافیوں اور شاعروں کی دھوم تھی۔ تلوک چند محرومؔ، ان کے صاحبزادے جگناتھ آزاد، عرشؔ ملسیانی، خوشترؔ گرامی، کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ اور دوسرے سرکردہ اصحاب نے اُجڑی ہوئی دلّی کو پھر سے رونق بخش دی تھی۔ شادؔ بھی اُردو کے اس کارواں میں شامل ہوگئے۔ کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ حکومت ہند کے اعلیٰ عہدیدار اور محترم شخصیت تھے۔ انھوں نے شادؔ کو ہاؤسنگ ڈپارٹمنٹ میں ملازمت دلوادی جس سے ان کو بہت سہارا ملا۔ لیکن اس وقت تک شادؔ ایک بڑے شاعر، بڑے ادیب اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ مجازؔ کی راہ پر چلتے ہوئے خود کو شراب، شاعری اور آزاد روی کی نذر کرچکے تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : شاد عظیم آبادی کا یومِ پیدائش
——
راقم الحروف کی نریش کمار شاد صاحب سے ملاقات 1960ء میں ہوئی، اس وقت وہ ایک معتبر شاعر اور ادیب بن چکے تھے۔ شراب اور لکھنے پڑھنے کے علاوہ انھیں دنیا و مافیہا کی خبر نہ تھی۔ چونکہ وہ ایک ہردلعزیز شاعر تھے اس لیے مسلسل غیرحاضریوں اور دفتر کا کوئی کام نہ کرنے کے باوجود حکومت کی مہربانیاں جاری رہیں۔ 1965-66ء کے زمانے میں ان کا سرکاری عہدہ محکمہ کے پی آر او کا تھا، لیکن سنٹرل سکریٹریٹ میں ان کے کمرے میں کبھی کوئی فائل نہیں ہوتی تھی۔ دفتر کی میز پر اُردو کے چند اخبارات اور رسائل پڑے رہتے تھے اور شاعروں، ادیبوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔ ان کی شاعری اور نثری تخلیقات ہندوستان، پاکستان کے بڑے بڑے جریدوں میں شائع ہورہی تھیں۔ ایک سلیقہ شعار بیوی اور ایک بچہ بھی تھا لیکن انھیں دنیاداری سے کچھ کام نہ تھا۔ ان کے ساتھیوں نے دہلی میں رہ کر بڑی بڑی پوزیشنیں حاصل کیں، دولت و ثروت کے مالک بن گئے لیکن شادؔ نے سچ مچ قلندری اختیار کرلی۔ سرکاری کوارٹر کے علاوہ اپنا مکان بنانے کے بارے میں سوچا تک نہیں، جبکہ اس وقت دہلی میں زمین جائداد کوڑیوں کے مول تھی۔ جو دنیادار تھے وہ زمین جائداد خرید کر بعد میں کروڑپتی بن گئے کیونکہ دہلی میں وقت کے ساتھ ساتھ قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔ نریش کمار شادؔ شاعری، شراب اور لکھنے پڑھنے میں کھو چکے تھے، ان کا برسوں تک معمول یہ رہا کہ نشے میں دُھت ہوکر ہر شام اُردو بازار آجاتے، رات گئے تک ادیبوں، شاعروں کے ساتھ گزارتے اور پھر کسی نہ کسی طرح گھر چلے جاتے یا کوئی نہ کوئی دوست یا چاہنے والا پہنچا آتا۔ لیکن دہلی شہر کے ایک مشہور شرابی ہونے کے باوجود شادؔ نے شائستگی اور ہر ایک سے محبت کا دامن نہیں چھوڑا، ان کی ہر بات میں ایک بات ہوتی تھی، لوگ چھیڑچھیڑ کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے۔ اُردو بازار میں شادؔ صاحب کی کچھ شاموں کا گواہ راقم الحروف بھی ہے۔ ایک دن خوب سج بن کر اُردو بازار پہنچے۔ جامع مسجد کی سیڑھیوں کے پاس سردی میں ٹھٹھرتا ہوا ایک فقیر دیکھا تو اپنا بالکل نیا کوٹ اُتار کر فقیر کو دے دیا اور آگے بڑھ گئے۔ میں نے لپک کر فقیر کو کچھ پیسے دیے اور کوٹ لیتے ہوئے کہا ’’بابا وہ نشے میں ہیں۔‘‘ ایک دم پلٹ کر بولے ’’میں نشے میں نہیں ہوں۔ تم سب نشے میں ہو جو ایک غریب کی حالت نہیں سمجھ سکتے۔‘‘
معلوم ہوا کہ کوٹ کی جیب میں ان کی پوری تنخواہ تھی جو اس دن لے کر گھر جانے کے بجائے اُردو بازار آگئے تھے۔
ان دِنوں چارمینار سگریٹ کی بلیک مارکیٹ جاری تھی۔ ڈھائی آنے والی ڈبیہ بارہ آنے میں مل رہی تھی۔ انھیں سگریٹ کی طلب ہوئی تو پان والے کی دُکان کی طرف بڑھے، میں ان کا ہاتھ پکڑ کر ایک دُکان پر لے گیا۔ یہ ہول سیل کی دُکان تھی، دکان کا مالک اُن کا قدردان تھا۔ شادؔ صاحب کی فرمائش پر چارمینار کی دو ڈبیا دے دیں۔ شادؔ صاحب نے دو روپے کا نوٹ دیا، دکاندار نے پانچ آ’ے اصل قیمت وضع کرکے ریزگاری واپس کی تو پیسے گنتے ہوئے نشے کے عالم میں کہا: ’’یہ زیادہ پیسے کیوں دیے؟‘‘ دُکاندار نے عرض کیا: ’’آپ اتنے بڑے شاعر ہیں، آپ سے زیادہ کیسے لے سکتا ہوں۔‘‘شادؔ یہ سن کر اُکھڑ گئے۔ ’’اچھا اب بنیے بقال بھی اپنا نام اپنے ہمدردوں کی فہرست میں لکھوانا چاہتے ہیں۔‘‘ شادؔ صاحب نے بضد ہوکر دُکاندار کو ڈیڑھ روپیہ لینے پر مجبور کردیا۔
نریش کمارشاد کی یادگار کتابوں میں ان کے شعری مجموعے ’دستک‘، ’پھوار‘، ’بت کدہ‘، ’للکار‘، ’آہٹیں‘، ’فریاد‘، ’قاشیں‘، ’آیاتِ جنوں‘، ’سنگم‘، ’میرا منتخب کلام‘، ’میرا کلام نو بہ نو‘ ہمیشہ زندہ رہنے والی شاعری کے مرقعے ہیں۔ شادؔ کا ایک اور وقیع کارنامہ حافظ شیرازی کے فارسی کلام کا ترجمہ ہے جو ’دوآتشہ‘ کے نام سے شائع ہوا، یہ ترجمہ فارسی زبان و ادب میں ان کی گہری دسترس کا نمونہ ہے۔ شادؔ کی نثری مطبوعات میں ’سرخ حاشیے‘، ’راکھ تلے‘، ’ڈارلنگ‘، ’جان پہچان‘ کے علاوہ تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’مطالعے‘، ’غالب اور اس کی شاعری‘ ان کی علمی و ادبی بصیرت کی غماز ہیں۔ انھوں نے بہت سے ادیبوں شاعروں سے عالم خیال میں انٹرویو تحریر کیے جو اپنی قسم کی اوّلین کوشش تھی۔ انہی کی طرز پر مشہور صحافی اور ادیب سلامت علی مہدی نے غالبؔ سے خیالی انٹرویو لکھ کر بڑی شہرت پائی۔ مشورہ پاکٹ بکس سے ان کی کتابیں پانچ مقبول شاعر اور ان کی شاعری اور پانچ مقبول طنز و مزاح نگار بہت مقبول ہوئیں۔ یہی نہیں انھوں نے بچوں کے لیے بھی ’شام نگر میں سنیما آیا‘، ’چینی بلبل‘ اور ’سمندر کی شہزادی‘ جیسی کہانیوں کی کتابیں بھی لکھیں۔شادؔ صاحب اگرچہ اپنے والد دردؔ نکودری سے دور دہلی میں رہتے تھے لیکن انھیں ان سے بیحد محبت تھی۔ دردؔ صاحب پنجاب کے سب سے بڑے اخبار ’ہندسماچار‘ کی ادارت میں شامل تھے اور ضعیف العمری میں بھی صحافتی فرائض انجام دے رہے تھے۔ ان کی حق گوئی، متعصب اور تنگ نظر ذہنیت کے لیے رہر قاتل ثابت ہوئی۔ انھیں قتل کردیا گیا اور اس طرح کہ آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ اس سانحے نے شادؔ کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالا۔ وہ پہلے سے زیادہ شراب میں ڈوبے رہنے لگے۔ اس عالم میں رو رو کر اپنے والد کو یاد کرتے تھے۔ 20 مئی 1969ء کو وہ اپنے گھر سے غائب ہوگئے۔ اگلے دن ان کی لاش جمنا میں تیرتی پائی گئی۔ آج تک یہ بھی صاف نہیں ہوپایا کہ شادؔ نے خودکشی کی یا پھر ان کی موت ایک حادثہ تھی۔
——
یہ بھی پڑھیں : کمار پاشی کا یومِ وفات
——
نریش کمار شاد نے غزل، نظم اور قطعہ گوئی میں کمال حاصل کیا۔ ہر صنف میں ان کے لہجے اور فکر کی انفرادیت نمایاں ہے۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اربابِ نقد و نظر اور اُردو کی اکیڈمیوں وغیرہ نے اس عہد کے جلیل القدر شاعر کو اس طرح فراموش کیا ہے کہ ان کا کلام بھی اب آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔
اُردو فارسی کے ماہر نریش کمار شاد اُردو تعلیم کے زوال کو ہندوستان کی تہذیب و تمدن کا نقصانِ عظیم تصور کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک بار جامع مسجد کی سیڑھیوں پر واقع ظہیر کے مشہور چائے خانے میں ہندی اور اُردو کے تعلق سے باتیں ہورہی تھیں، شادؔ صاحب نے کہا تھا: ’’ہماری نسل والے خوش قسمت ہیں کہ وہ اس وقت تک یہ دیکھنے کے لیے موجود نہ ہوں گے جب ہندوستان اُردو زبان اور اس کی تہذیب سے محروم ہوگا۔‘‘
——
منتخب کلام
——
بدنامیوں پہ بھی مجھے کرنا پڑا ہے فخر
یارانِ نیک نام کے اطوار دیکھ کر
——
ذرے ذرے میں دھڑکتی ہے کوئی شے جیسے
تیری نظروں نے فضاؤں میں بکھیرا کیا ہے
——
شادؔ ہمارے شعروں کے ان رنگا رنگ اشاروں میں
اپنے گھر کی ، دنیا بھر کی ، قلب و نظر کی باتیں ہیں
——
ڈرتا ہوں کہیں آپ کی بے لوث نوازش
خودداریٔ احساس کو مجروح نہ کردے
پھولوں کے تو قابل نہیں شاید مرا دامن
اے صاحبِ گلشن اسے کانٹوں سے ہی بھر دے
——
دل پھر بھی آگیا غمِ دوراں کے پھیر میں
ہر چند مصلحت نے بڑی دیکھ بھال کی
——
اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو
——
جب بھی اس گل بدن کی یاد آئی
ہو گئی پُر بہار تنہائی
چونک اُٹھے حادثات دنیا کے
میرے ہونٹوں پہ جب ہنسی آئی
جب کسی نے تمھارا نام لیا
جانے کیوں مجھ کو اپنی یاد آئی
دیکھ اے شیخ میرے ساغر میں
اپنی جنت کی جلوہ فرمائی
ہوش میں شاد جب تجھے دیکھا
تجھ میں ہم نے تیری کمی پائی
——
کشمکش
سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے
وہ میرے رنج ومصائب کا مداوا تو نہ تھی
رنگ افشاں تھی مرے دل کے خلاؤں میں مگر
ایک عورت تھی علاجِ غم دنیا تو نہ تھی
میرے ادراک کے ناسور تو رستے رستے
میری ہو کر بھی وہ میرے لئے کیا کر لیتی
حسرت ویاس کی گمبھیر اندھیرے میں بھلا
اک نازک سی کرن ساتھ کہاں تک دیتی
اس کو رہنا تھا زرو سیم کے ایوانوں میں
رہ بھی جاتی وہ مرے ساتھ تو رہتی کب تک
ایک مغرور سہو کار کی پیاری بیٹی
بھوک اور پیاس کی تکلیف کو سہتی کب تک
ایک شاعر کی تمناؤں کو دھو کہ دے کر
اس نے توڑی ہےاگر پیار بھرے گیت کی لے
اس پہ افسوس ہےکیوں،اس پہ تعجب کیسا
یہ محبت بھی تو احساس کا اک دھوکہ ہے
پھر بھی انجانے میں جب شہر کی راہوں میں کبھی
دیکھ لیتا ہوں میں دوشیزہ جمالوں کے ہجوم
روح پر پھیلنے لگتا ہےاداسی کا غبار
ذہن میں رینگنے لگتے ہیں خیالوں کے ہجوم
سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے
وہ میرے رنج ومصائب کا مداوا تو نہ تھی
رنگ افشاں تھی مرے دل کے خلاؤں میں مگر
ایک عورت تھی علاجِ غم دنیا تو نہ تھی
——
یہ بھی پڑھیں : محبتوں کے شاعر شِو کمار بٹالوی کا یومِ پیدائش
——
میکدوں کے بھی آس پاس رہی
گل رخوں سے بھی روشناس رہی
جانے کیا بات تھی کہ اس پر بھی
زندگی عمر بھر اداس رہی
——
یہ انتظار غلط ھے کہ شام ھو جائے
جو ھو سکے تو ابھی دور ِ جام ھو جائے
خدانخواستہ پینے لگے جو واعظ بھی
ھمارے واسطے پینا حرام ھو جائے
مجھ جیسے رِند کو بھی حشر میں تونے یارب
بلا لیا ھے تو کچھ انتظام ھو جائے
وہ شان ِ باغ میں آئے ھیں مےکشی کیلئے
خدا کرے کہ ھر اک پھول جام ھو جائے
مجھے پسند نہیں اس پہ گامزن ھونا
وہ راھگزر جو گزر گاہ ِ عام ھو جائے
——
بجلیوں کی ہنسی اڑانے کو
خود جلاتا ہوں آشیانے کو
رو رہا ہے اگرچہ دل پھر بھی
مسکراتا ہوں مسکرانے کو
مطلقاً دل کشی نہ تھی اس میں
کون سنتا مرے فسانے کو
چھین لی اس نے طاقت پرواز
آگ لگ جائے آشیانے کو
شادؔ اتنا ہی ہم سمجھتے ہیں
ہم سمجھتے نہیں زمانے کو
——
ڈوب کر پار اتر گئے ہیں ہم
لوگ سمجھے کہ مر گئے ہیں ہم
اے غم دہر تیرا کیا ہوگا
یہ اگر سچ ہے مر گئے ہیں ہم
خیر مقدم کیا حوادث نے
زندگی میں جدھر گئے ہیں ہم
یا بگڑ کر اجڑ گئے ہیں لوگ
یا بگڑ کر سنور گئے ہیں ہم
موت کو منہ دکھائیں کیا یا رب
زندگی ہی میں مر گئے ہیں ہم
ہائے کیا شے ہے نشۂ مے بھی
فرش سے عرش پر گئے ہیں ہم
آرزوؤں کی آگ میں جل کر
اور بھی کچھ نکھر گئے ہیں ہم
جب بھی ہم کو کیا گیا محبوس
مثل نکہت بکھر گئے ہیں ہم
شادمانی کے رنگ محلوں میں
شادؔ با چشم تر گئے ہیں ہم
——
دل ِ پُر آرزو ناکام ھو کر
زیادہ خوبصورت ھو گیا ھے
کرم ایسے کیے ھیں دوستوں نے
کہ ھر دشمن پہ پیار آنے لگا ھے
تیرا غم تو میری جان ِ تمنا
تیری صورت سے بڑھ کر دلربا ھے
جب آئے تو اجالا ھو گیا تھا
گئے تو پھر وہی گھر کی فضا ھے
نہیں ھے اپنا غم اے شاد جب سے
زمانے بھر کا غم اپنا لیا ھے
——
دشمنوں نے تو دشمنی کی ھے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ھے
لوگ ، لوگوں کا خون پیتے ھیں
ھم نے تو صرف مےکشی کی ھے
کی نہیں عمر بھر خطا جس نے
اس نے توھین ِ زندگی کی ھے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ