اردوئے معلیٰ

Search

آج طنز و مزاح کی دنیا کے معروف شاعر نشتر امروہوی کا یومِ پیدائش ہے

 

نشتر امروہوی(پیدائش: 9 جون 1957ء – وفات: 16 ستمبر 2020ء)
——
امروہہ کی مردم خیزسر زمین سے تعلق رکھنے والے شاعر ـ’’ڈاکٹر نشتر امروہوی ‘‘ آج کے دور میں محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ان کی شاعری کی ابتداء 1972ء میں ہوئی اور اس راہ پر وہ تا دم حیات مستعد رہے، انھیں مختلف تنظیموں کی جانب سے مختلف القاب و خطابات اور ایوارڈز سے بھی نوازہ گیا جن میں ’’نیّرِقلم‘‘اور ’’دلاورفگار ایوارڈ‘‘قابلِ ذکر ہیں۔
نشتر امروہوی کی تصانیف میں ان کاؤنٹر (شعری مجموعہ) ، پوسٹ مارٹم (2012/شعری مجموعہ) اور اردو ادب میں طنزومزاح (تنقید) شامل ہیں ۔
ڈاکٹر نشتر امروہوی 16 ستمبر 2020ء کو دہلی میں وفات پا گئے
——
نشتر امروہوی کی طنزیہ شاعری کا پوُسٹ مارٹم از محمد عادل فراز
——
آج کے اس دور میں ہم جس ماحول میں جی رہے ہیں اورسانس لے رہے ہیں وہ ذہنی الجھنوں اورکشمکش سے لبریز ہے۔ ایسے پُر آشوب دورِ حیات میں ایک ذرا سی خوشی یا مزاحیہ جملہ بھی ہم کو کچھ لمحے کے لئے ایک پُر سکون دنیا میں لے جاتا ہے اور فضا خوشگوار کر کے ذہنی الجھنوں میں تسکین کا سبب بنتا ہے۔ گویا کہ مزاح کا سہارا لے کر قلبی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے اور اگر کسی عمل یا جملے میں مزاح کے ساتھ طنز بھی شامل ہوجائے تو مئے دو آتشہ کا کام کرتا ہے۔یعنی طنزومزاح کے توسل سے انسان اپنی جملہ تکالیف اور پریشانیوں کو بھول کر ان کا علاج اپنے آس پاس تلاش کرتا ہے اور اگر طنز و مزاح کسی فن پارے پر مشتمل ہو خواہ وہ نثر کی صورت میں ہو یا نظم کے پیرائے میں یہ طنز و مزاح دیر تک اور دور تک اپنا عمل انجام دے کر حیاتِ انسانی کو خوشگوار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سماج میں فلاح اور بہبود کو روا رکھنے کے لئے بھی انتہائی کارآمد ہوتا ہے کیونکہ ایک اچھا فن کار بحیثیتِ مصلح ہوتا ہے۔
ابتداء سے لیکر آج تک اردو ادب میں نہ جانے کتنے طنز و مزاح کے شعراء آئے ان میں سے کچھ وقت کی قبر میں معدوم ہوگئے تو کچھ زمین ِ طنز و مزاح پر آج بھی گل و لالہ کی مانند مثلِ خوباں اپنے حسنِ فن کی خوشبو بکھیر رہے ہیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ کوئی بھی صاحبِ قلم کتنا ہی سنجیدہ مزاج رکھتا ہو وہ زندگی میں بغیر طنز و مزاح کے نہیں رہ سکتا یعنی تخلیق کار کی تخلیق میں کہیں نہ کہیں طنز و مزاح کا رنگ نظر آتا ہے۔ یہ رنگ ان لوگوں کے یہاں وافر مقدار میں ملتا ہے جو طنز و مزاح کو اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کی آماجگاہ بناتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : عظیم امروہوی کا یومِ پیدائش
——
ہم دیکھتے ہیں خواہ وہ قلی قطب شاہؔ ہوں، ولیؔ ہوں، سراجؔ اورنگ آبادی ہوں یا شمالی ہند کے شعراء ان کے یہاں کہیں نہ کہیں طنز و مزاح مل جاتا ہے سامنے کی مثال کے لئے غالبؔ کو لیا جاسکتا ہے۔ ان کے خطوط ہوں یا ان کی شاعری شوخی و ظرافت کے ساتھ ساتھ طنز کی نمایاں مثالوں سے پُر ہے۔ مثلاً غالبؔ اپنے ہم عصر شاعر ذوقؔ کو اپنی شاعری میں اکثر طنز و مزاح کا مرکز بنا کر ان سے شکوہ بھی کرتے ہیں اور ان کا مزاق بھی اُڑاتے ہیں جس بات کا ثبوت ان کی فی
البدیہہ کہی ہوئی غزل ہے
——
؏ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
——
یہ طنزو مزاح غالبؔ کے بعد بھی خوب پروان چڑھا کیونکہ عوام نے اس میں اپنی دلچسپیوں کی بہت سی صورتوں کی نمود پائی۔ یہ فنِ ظرافت جب اکبرؔ الہ آبادی کی بارگاہ میں پہنچا تو اس میں ایک نئے رُخ سے وسعتوں کے چراغ روشن نظر آئے ۔ان کے بعد بہت سے شعرا نے اس گلشن کو سرسبز و شاداب رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی یعنی مزاحیہ شاعری میں اپنے فن کے ایسے جوہر دکھائے جو انتہائی قابلِ ستائش قرار دیے گئے ۔ان شعراء میں سرِفہرست مجیدؔ لاہوری، سید ضمیر جعفریؔ، ظریفؔ لکھنوی، ماچسؔ لکھنوی، ناظرؔ خیامی، راجہ مہدیؔ علی خاں، دلاورفگارؔ، رضا نقوی واہیؔ اور ساغرؔ خیامی وغیرہ نے کافی مقبولیت حاصل کی ۔
جب سے مشاعرے یا شعری نشستیں وجود میں آئیں طنز و مزاح کی ترویج کا بہت بڑا حصہ انھیں کے مقدر میں آیا ۔ان شعری مجلسوں نے جہاں سنجیدگی کو اپنا طرۂ امتیاز بنایا وہیں طنز و مزاح کے زیور سے بھی خود کو آراستہ رکھا ۔ دورِ حاضر میں بھی یہ کام مشاعروں اور شعری نشستوں کے ذریعے سے کیا جارہا ہے۔ موجودہ دور میں طنزو مزاح کے جن شاعروں نے مقبولیت حاصل کی ہے ان میں ڈاکٹر نشتر امروہوی کا نام سرِفہرست ہے۔
امروہہ کی مردم خیز سر زمین سے تعلق رکھنے والے شاعر’’ڈاکٹر نشتر امروہوی ‘‘ آج کے دور میں محتاجِ تعارف نہیں ہیں۔ ان کی شاعری کی ابتداء 1972میں ہوئی اور اس راہ پر وہ آج تک مستعد ہیں انھیں مختلف تنظیموں کی جانب سے مختلف القاب و خطابات اور ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جن میں ’’نیّرِقلم‘‘ اور ’’دلاورفگار ایوارڈ‘‘ قابلِ ذکر ہیں ۔ان کی شاعری غم کی اندھیری چھاؤں میں احساسِ سرخوشی کی مشعل ہاتھ میں لیکر افسردگی اور اندوہ ناکی سے اعلانِ بغاوت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔وہ اپنے اندر مختلف دلکش رنگوں کو سمیٹ کر حبس کے ماحول میں قوسِ قزاح کی مانند اپنی جاذبیت کا جادو بکھیرتی ہے اور عالمِ شعور سے وابستہ انسان کی جمالیاتی حس کو بیدار و متحرک کرنے کا عمل انجام دیتی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : عظیم امروہوی کا یومِ وفات
——
جہاں آج کل کے شاعر لطیفہ سازی اور نازیبا الفاظ کو بھی شاعری میں پیش کرنے سے گریز نہیں کرتے وہیں موصوف کی شاعری ان چیزوں سے اپنا دامن بچاتی ہوئی صحنِ ادب میں گل کاری کے عمل میں سرگرداں و سفر پیرا دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی فضا عام کرنا چاہتے ہیں جس کو پڑھنے اور سننے کے بعد افراد اپنے مستقبل کی راہ ہموار کر سکیں اور اپنی کمییوں اور خامیوں کا تجزیہ کر سکیں۔ ان کو سماج میں ہو رہی تبدیلوں، تغریات، حادثوں، پریشانیوں، کرب اور بے چینی کو بیان کرنے کا خوب صورت ہنر آتا ہے۔ وہ الفاظ کا ایک ایسا جادو بکھیرتے ہیں کہ ایک پورا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور قاری خود کو اسی دنیا میں پاتا ہے۔ مثال کے لئے ان کی مقبول ترین نظم ’’دعوتِ ولیمہ‘‘ پیش کی جاسکتی ہے۔ جس میں انھوں نے ایک ولیمہ کی دعوت کا منظوم ذکر کیا ہے۔اس نظم کا ایک بند دیکھیں
——
میزوں پہ تھی سجی ہوئی ہر چیز بر محل
خوشبو بڑھا رہی تھی بہت بھوک کا عمل
بریانی قورمہ و ہیں روٹی اغل بغل
چٹنی اچار رائتہ اور چاٹ کے تھے پھل
اسٹال میں سجی ہوئی ہر شئے عظیم تھی
کوفی تھی کولڈرنگ تھی آئس کریم تھی
——
اس بند کو دیکھنے کے بعد نشتر امروہوی صاحب کے قدرتِ کلام اور ان کے فنِ پیکر تراشی پر بے ساختہ داد دئے بغیر کون رہ سکتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ میر انیسؔ کے ہنرِ منظر کشی کے نقشِ قدم پر قدم رکھ کر محاکات کی ایک نئی دنیا آباد کر رہے ہیں۔ اس نظم کو پورا پڑھیں تو اس سلسلے سے مزید ثبوت فراہم ہوں گے کہ وہ ایک مصور کی حیثیت سے شاعری کی دنیا میں اپنے تخیل کے زور سے اپنی انفرادیت قائم کرنے میں سرگرمِ عمل ہیں۔
ان کی نظم ’’نان گوشت‘‘ بھی پڑھنے کے لائق ہے جس میں وہ نان گوشت کا قصیدہ پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
——
جب بھی ہمارے سامنے آتا ہے نان گوشت
خوشبو سے اپنی دل کو لبھاتا ہے نان گوشت
ایسا دل و دماغ پہ چھاتا ہے نان گوشت
کھانے میں چار چاند لگاتا ہے نان گوشت
یوں تو مٹن ہے اور چکن بے حساب ہے
کھانے میں نان گوشت مگر لاجواب ہے
——
نشتر امروہوی نے علامہ اقبالؔ سے بھی استفادہ کیا ہے۔ انھوں نے علامہ اقبالؔ کی نظم ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ کی طرز پر نظمیں لکھیں۔ جس میں وہ بیگم سے شکوہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر ’’شکوہ ‘‘ کا یہ بند دیکھیں۔۔
——
کیوں غلط کام کروں فرض فراموش رہوں
کیوں نہ فرض اپنا ادا کر کے سبکدوش رہوں
طعنے دنیا کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا میں کوئی بدھو ہوں کہ خاموش رہوں
جرأت آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ بیگم سے یہ خاکم بدہن ہے مجھ کو
——
’’شکوہ ‘‘پڑھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نشتر امروہوی کا ذہنِ رسا کس قدر بلند پرواز ہے۔اُس کے بعد’’ جوابِ شکوہ‘‘بھی لا جواب اور نہایت متاثر کُن نظم ہے۔
——
آہ جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
گلشنِ زیست جلانے کو شرر رکھتی ہے
توپ تلوار نہ یہ تیغ و تبر رکھتی ہے
بنتِ حوّا کی طرح تیرِ نظر رکھتی ہے
اتنا پرُ سوز ہوا نالۂ سفّاک مرا
کر گیا دل پہ اثر شکوۂ بے باک مرا
——
یہ بھی پڑھیں : درد روزن سے مجھے گھور رہا ہے اب تک
——
کسی بھی بڑے شاعر سے اس طرح فیض اُٹھانا کہ انفرادیت برقرار رہے مشکل کام ہے لیکن وہ یہاں کامیاب نظرآتے ہیں۔ انھیں مشہور مصرعوں پر تضمین کرنے کا فن بھی خوب آتا ہے۔ مثلاً :
——
بیٹے کو ساتھ لے گئے اک مہ جبیں کے گھر
عاشق تو ہو ہی جاتے ہیں پیدل دماغ سے
بیٹے نے ماں سے کہہ دیا سارا معاملہ
’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘
——
وہ جگہ جگہ ازدواجی زندگی کو بھی طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’’بیویاں‘‘ اس سلسلے سے پیش کی جاسکتی ہے۔
——
شادی کے بعد گھر میں جب آتی ہیں بیویاں
شرم و حیا کا ڈھونگ رچاتی ہیں بیویاں
پہلے تو شوہروں کو پٹَاتی ہیں بیویاں
تِگنی کا ناچ پھریہ نچاتی ہیں بیویاں
ہر شب شبِ برات بناتی ہیں بیویاں
کچھ دن کے بعد چھکّے چھڑاتی ہیں بیویاں
——
ان کی ایک نظم’’بیگم اور شاعری‘‘بھی قبلِ تعریف ہے۔
——
ایک دن مجھ سے یہ فرمانے لگی بیوی میری
میری سوتن بن گئی ہے آپکی یہ شاعری
سوچتی ہوں کس طرح ہوگا ہمارا نباہ
مجھ کو روٹی چاہئے اور آپ کو بس واہ واہ
——
پوری نظم پڑھ جائیے بیگم اور شاعری کا تصادم قہقہہ لگانے پر بار بار آمادہ کرتا ہے اسی طرح ’’شادی سے پہلے‘‘ اور ’’شادی کے بعد‘‘بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
نشتر امروہوی صاحب طنز و مزاح کے پردے میں بڑے سلیقے سے اصلاح کا کام انجام دیتے ہیں۔ وہ عورتوں کے پردے کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
——
بہن ہو بیٹی ہو بیوی ہویا کہ پھر ماں ہو
کوئی بھی روپ ہو لیکن حیا ضروری ہے
بتا رہا ہے یہ ہم کو غلاف کعبہ کا
جو محترم ہیں انھیں کو ردا ضروری ہے
——
یعنی ان کا کمال یہ ہے کہ وہ جہاں اپنی شاعری میں طنز و مزاح کے نشتر سے وار کرتے ہیں وہیں سنجیدگی کی تیغ کا بھی لوہا منواتے ہیں۔
انھوں نے متوسط طبقے کے حالاتِ زندگی کو بھی ہنر مندی کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔ نظم’’ابھی پے نہیں ملی‘‘ وہ اپنی بیگم سے مخاطب ہوکر سماج کی تلخ حقیقت کو دلکش پیرائے میں منظم کرتے ہیں۔
——
تو پرس مت نکال ابھی پے نہیں ملی
اور دیکھ میرا حال ابھی پے نہیں ملی
پچکے ہوئے ہیں گال ابھی پے نہیں ملی
ہوں قربِ انتقال ابھی پے نہیں ملی
کر بند قیل و قال ابھی پے نہیں ملی
کیوں کا ہے کیا سوال ابھی پے نہیں ملی
——
ایک دوسری نظم’’ابّا کا چالیسواں‘‘ بھی اسی موضوع پر ہے کہ ایک مڈل کلاس شخص پریشانیوں اور دقتوں کے باوجود قرض لے کر زیادہ سے زیادہ روپیہ پیسا خرچ کرکے اپنے والد کا چالیسواں کراتا ہے۔
——
بوڑھے غریب باپ کے مرنے پہ دفعتاً
بیٹے نے سوچا کیسے کروں دفن اور کفن
اپنے یہاں تو موت میں خرچے کا ہے چلن
غم سے نڈھال بیٹے کے ماتھے پہ تھی شکن
جو کچھ تھا پاس دفن و کفن میں اٹھا دیا
خرچے نے پھر تو موت کا صدمہ بھلا دیا
——
نشتر امروہوی کی نظر سماج کے تقریباً تمام مسائل پر بہت گہری ہے الیکشن سے متعلق ان کی نظم پڑھ کر جہاں ان کی سیاسی سوچ کا اندازہ ہوتا وہیں ان کا کرب بھی ظاہر ہوتا ہے
——
زندگی ہارے ہوئے بوڑھوں پہ بچپن آگیا
خشک رخساروں پہ جیسے پھر سے روغن آگیا
لوٹ کر واپس خزاں میں جیسے ساون آگیا
ہرگلی کوچے پہ اور کھمبے پہ جوبن آگیا
——
یہ بھی پڑھیں : جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہے
——
ان کا طنز و مزاح نہ صرف سماج کی بگڑتی ہوئی تصویر پر کاری وار کرتا ہے بلکہ وہ خود اپنے آپ کو بھی اس کا شکار بناتے ہیں۔
——
جو اپنے عیب چھپانے ہوں تم کو اے نشترؔ
تو عیب جوئی سے پھر اتّفاق مت کرنا
ہر اک جواب میں تھوڑا سا زہر ہوتا ہے
نہ پی سکو تو کسی سے مذاق مت کرنا
——
نشتر امروہوی ہر چھوٹی بڑی شے یا مخلوق کوبھی اپنے کلام میں جگہ دیتے یہاں تک کہ انھوں نے مچھر کو بھی فراموش نہیں کیا ۔
——
ہمیں نہ ٹین نہ چھپّر عجیب لگتا ہے
نہ گھر کا خالی کنسترعجیب لگتا ہے
وہ کاٹتا ہے تو گھنٹوں کھجانا پڑتا ہے
ہمیں تو صرف یہ مچھّر عجیب لگتا ہے
——
نشتر امروہوی کی شاعری کو پڑھ کر پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس راہ میں دور تک اپنا سفر قائم اس صورت میں رکھیں گے کہ لوگ نہ صرف ان سے متاثر ہوں گے بلکہ ان کی شاعری کے رنگ میں اپنی کاوشوں اور شعری صلاحیتوں کو رنگنے کی کوشش کریں گے۔
——
محمد عادل فراز ، سکریٹری انجمن اردوئے معلی
شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
——
کہاں انسان سے ہو پائے گی مدحت محمد کی
زباں کر ہی نہیں سکتی بیاں عظمت محمد کی
خدا خالق ہے ، ربِ دو جہاں ہے اس میں کیا شک ہے
یقیناََ قائم و دائم رہی حُجت محمد کی
ادھر زنجیر میں جنبش ، ادھر گرمی ہے بستر میں
ادھر وہ لوٹ بھی آئے ، یہ ہے رفعت محمد کی
ادھر لشکر لعینوں کے ، ادھر کشتوں کے پشتے ہیں
پسِ پشتِ مسلماں ہے سدا ہمت محمد کی
عظیم المرتبت شبیرؑ کا وہ سجدۂ آخر
بڑھائی کربلا میں آپ نے عظمت محمد کی
کوئی پوچھے اگر اسلام کیا ہے بس یہی کہہ دو
خدا کا ہے تعارف صرف عبدیت محمد کی
جو کُوڑا ڈالتی تھی اس کے گھر پہنچے عیادت کو
یہ ہے رفعت محمد کی ، یہ ہے سیرت محمد کی
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
——
ایک ہی آن میں ، اک لمحے کے اندر چمکے
آپ کے نور سے سب نور کے پیکر چمکے
غیر ممکن ہے کوئی اُن کے برابر چمکے
آپ کے نقشِ کفِ پا سے جو پتھر چمکے
آپ نعتِ شہہِ کونین تو کہہ کر دیکھیں
کیا خبر نعت کہیں اور مقدر چمکیں
اپنے حصے کی ہر اک شہ نے لطافت پائی
پھول مہکے تری خوشبو سے تو گوہر چمکے
پرتوِ صحبتِ سرکارِ دو عالم کے طفیل
کیسے عمار و سلیمان و ابوذر چمکے
ایسی تمثیل زمانے میں نہیں مل سکتی
بڑھ کے شاہوں سے اُسی در کے گداگر چمکے
کاش مجھ کو بھی غلامی کی سند مل جائے
میں بھی اِتراؤں ، مرا نام بھی نشترؔ چمکے
——
ضرورتوں نے ستایا ہے اس قدر مجھ کو
غمِ معاش نے گھر سے نکال رکھا ہے
ہمارے بچے غموں سے ہیں بے نیاز ابھی
ابھی یہ مورچہ ہم نے سنبھال رکھا ہے
——
ہوا جو ظلم تو خاموش تھا ہر اک منظر
کہاں کسی کے کُھلے لب ، کوئی کہاں بولا
تندور میں کبھی زندہ بدن جلائے گئے
زباں کوئی نہ کُھلی تھی مگر دھواں بولا
——
یہ رتجگا ، یہ خونِ جگر ، یہ سخن وری
نشترؔ یہ عمر بھر کی کمائی نہیں تو کیا
لفظوں کو جوڑ لینا کمالِ ہنر نہیں
رنگِ غزل لہو سے حنائی نہیں تو کیا
——
خوشبو جہاں پھولوں کی مہکتی رہی نشترؔ
ہر سمت وہاں آج بارود کی بو ہے
سڑکوں پہ جو بہتا ہے یہی رنگِ حنائی
یہ رنگ نہیں میرے ہی اپنوں کا لہو ہے
——
تمام رات
——
کچھ اس طرح سے اس نے ستایا تمام رات
چپ چاپ صرف گٹکا چبایا تمام رات
دن میں تو کہہ رہی تھی کہ تم میرے شعر ہو
اور اس کے بعد الو بنایا تمام رات
وہ سو رہی تھی اس کا بدن جاگتا رہا
سو سو کے اس نے مجھ کو جگایا تمام رات
بچوں سے منہ کو موڑ کے بیگم تو سو گئیں
سو سو ہر اک کو میں نے کرایا تمام رات
بیگم سے کھانا مانگ کے پچھتا رہے ہیں ہم
مرغا بنا بنا کے کھلایا تمام رات
——
کثرت اولاد
——
کثرتِ اولاد سے ہم اس قدر بیزار ہیں
اب تو بیگم سے الگ رہنے کو بھی تیار ہیں
اب یہ عالم ہے کہ جس کمرے میں بھی ڈالو نظر
گھر کے ہر کونے میں ہیں بکھرے ہوئے لخت جگر
اپنی بیگم پر ہوئے شام و سحر ہم یوں نثار
پوسٹروں کی شکل میں رسی پہ لٹکا ہے وہ پیار
جس طرف بھی دیکھیے اولاد ہی اولاد ہے
خانہ آبادی کے بعد اب خانۂ برباد ہے
سرد آہیں دیکھ کر بیگم کو ہم بھرنے لگے
مسکرا کر دیکھنے سے ان کے ہم ڈرنے لگے
چڑچڑے کچھ اس قدر ہم ہو رہے ہیں آج کل
رکھ کے خنجر درمیاں میں سو رہے ہیں آج کل
خون کے آنسو ہم اپنے حال پر رونے لگے
پہلے سنگل ہو رہے تھے اب ڈبل ہونے لگے
مجھ کو یہ ڈر ہے کبھی شیطان بہکانے لگے
ہم میاں بیوی قریب آنے سے کترانے لگے
ہم کسی تقریب میں ہوں یا کسی بارات میں
لوگ ڈر جاتے ہیں بچے دیکھ کر ہی ساتھ میں
دیکھ کر لوگوں کا غصہ کتنے گھبرائے تھے ہم
اپنے بچوں کی جگہ ان کے اٹھا لائے تھے ہم
ساس بھی اب تو ہمیں کچھ دن کو بلواتی نہیں
اور بیگم بھی بنا بلوائے خود جاتی نہیں
اس دفعہ پھر جب ولادت کا ہوا تھا سلسلہ
آ گئے آنکھوں میں آنسو میں نے رو کر یوں کہا
میرے گھر میں تو بہت پہلے ہی سے بھر مار ہے
اور تو دنیا میں آنے کے لیے تیار ہے
ٹال دے اپنی ولادت اور کچھ دن کے لئے
تو نے ہم سے کون سے بدلے یہ گن گن کے لیے
کیا کہوں حالات اپنے آج کل ایسے نہیں
اب تو مرنے کے لئے بھی جیب میں پیسے نہیں
کوئی بیماری اگر آ جائے تو جاتی نہیں
خرچ کے ڈر سے ہمیں تو موت بھی آتی نہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ