اردوئے معلیٰ

آج نامور شاعر نظام رامپوری کا یوم وفات ہے

نظام رامپوری(پیدائش: 1819ء – وفات: 29 اکتوبر 1872ء)
——
اردوادب کی تاریخ میں دہلی ، لکھنؤ اوررام پورکو بہت بڑامقام حاصل ہے۔ دبستان دہلی اوردبستان لکھنؤ کے بعد جس علاقے میں شعروشاعری کو عروج حاصل ہوااورجس نے شعروسخن کو نئی تہذیبی دولت سے مالامال کیا، وہ رام پو رہے۔ جب یہ دونوں دبستان یعنی دہلی اورلکھنو اجڑے توشعراء اوراہل علم کو رام پورمیں جگہ ملی ۔ جن میں مولانافضل حق خیرآبادی، مرزاغالب ، میرحسن تسکین، میرمظفرعلی اوربہت دوسرے شعرا وعلماء شامل تھے، نواب یوسف علی خان رامپوری کے دربارمیں جمع ہوئے۔ نواب صاحب چونکہ خودبھی شعروشاعری کے دلدادہ تھے ، اس لیے اس نے اپنے دربارمیں گنگاجمنی کر دیا، یعنی دہلی اورلکھنو کے رنگ باہم ملاکر ایک نئے طرزکی بنیادڈالی۔چونکہ رامپور پٹھانوں کاعلاقہ تھا ، اس لیے یہاں تمام ترمحرکات پٹھانوں کی جبلت کے زیراثرہیں۔ سادگی، خلوص ، انسان دوستی ، مہمان نوازی، قوت وطاقت، خودداری اورخوداعتمادی ان کی بنیادی خوبیاں ہیں۔ اس پرمستزاداہل رامپورکاغصہ اورانتقامی جذبہ بھی قابل ذک رہے۔دبستان رامپورکی شاعری میں پٹھانوں کی اس تہذیب کے بڑے اثرات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس دبستان کی شاعری میں خوشی اورمسرت کی لہر، اس کانشہ اورغرور، مردانہ پن، بے ساختگی ،بے باکی اوربے نیازی ہے۔ اس کی شاعری میں صاف ستھری زبان استعمال ہوئی ہے۔اپنی اس انفرادی رنگ کی بدولت بعض محققین اورناقدین رام پورکو علاحدہ دبستان تسلیم کرتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : قیسی رامپوری کا یومِ وفات
——
شاہی سرپرستی ، اہل رامپورکامزاج شاعرانہ اور خوشی اورمسرت کی فراوانی نے رام پورکی فضاشعروسخن کے لیے نہایت سازگاربنادی تھی۔ شعروسخن کے اس دورعروج میں 1823میں رام پور کے محلہ گھیرسخی میں حافظ سید احمدشاہ کے ہاں ایک لڑکانظام شاہ کی ولادت ہوئی۔نظام نے عربی اورفارسی کی تعلیم محلے کے ایک مدرسے میں حاصل کی۔ان کے ابتدائی استادانکے پیرومرشدمیاں احمدعلی شاہ تھے لیکن صحیح معنوں میں ان کے استادعلی بخش بیمارتھے جومصحفی کے شاگرد تھے۔رامپورمیں شعروسخن کی اس فضامیں نظام نے بھی شاعری شروع کی۔نظام کے اساتذہ میں والئی رام پور نواب یوسف علی خان ناظم کانام بھی لیاجاتاہے۔رفتہ رفتہ نظام نے مشاعروں میں حصہ لیناشروع کیااورانکی شاعری میں خوب نکھارآئی۔انکی شاعری کااپناایک انفرادی رنگ ہے، جس میں بانکپن، شوخی، معاملہ گوئی ، ادابندی، اورسب سے بڑھ کرانکے کلام میں سلاست، سادگی اورایسی مٹھاس موجودہے کہ یہ گماں نہیں ہوتاکہ یہ اُس دورکی شاعری ہے۔انکامشہورزمانہ شہر آج بھی ہرزبان پ رہے اورضرب المثل کی حیثیت رکھتاہے۔
——
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھاکے ہاتھ
دیکھاجومجھ کوچھوڑدئے مسکراکے ہاتھ
——
نظام کی زبان میں جوسادگی ہے ، وہ انکی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت ہے ۔ جس دورمیں زبان میں مشکل پسندی کارجحان عام تھا، ایسے میں نظام نے نہایت صاف ، شائستہ اورسلیس زبان استعمال کرکے ، اپنی انفرادیت قائم رکھی۔ایسی زبان کااستعمال ، جسے دیکھ کرآج بھی میرتقی میر، احمدفراز اورناصرکاظمی کی شاعری کاگماں ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ جب مرزاغالب رامپورگئے اوروہاں نظام کاکلام پڑھا توبے ساختہ منہ سے یہ الفاظ نکلے۔’’ یہ تو رام پورکے میرہیں‘‘۔ نظام کے کلام میں دورقدیم اوردورجدیدکاحسین امتزاج موجودہے۔ وہ ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں ، جہاں قدیم رنگ کے نقوش کے ساتھ ساتھ جدید رنگ کے چھاپے ابھرناشروع ہو گئے تھے۔ان کی شاعری میں آنے والے دورکی شاعری کارنگ نظرآتاہے۔ انکی شاعری مکالمہ نگاری، ہجرووصال، معاملہ بندی،ادابندی، جدت پسندی اورلطف زبان کی مکمل کائنات ہے۔ان کے اشعارنظرسے گزرتے ہیں توخوشگوارسااحساس ہوتاہے ، دل امنگوں سے بھرجاتاہے اورترنگوں کے بحربیکراں میں موجیں مارنے لگتاہے۔ہروہ فرد، جس نے عشق کیاہے یااسے رومانوی زندگی کی ہلکی سے ہوالگی ہے، وہ نظام کاشیدائی ہوجاتاہے۔ اس میں کہیں شوخی نمایاں ہے ، کہیں حیادامن گی رہے ، کہیں مجبوری اورخوشی کی البیلی سی رومانیت ہے۔کہیں سادگی ہے اورکہیں پرکاری ہے۔
——
غیر کے دھوکے میں قاصدسے میراخط لے کر
پـڑھنے کو پڑھ تولیا، نام مگرچھوڑدیا
غیر سے وعدہ واقرارہوئے کیاکیاکچھ
میرے خوش کرنے کو ایک فقرہ ادھرچھوڑدیا
——
یہ بھی پڑھیں : مدح خوانوں کے دبستان میں آ جاتے ہیں
——
نظام سے ادب میں جدیدیت کی ابتدائی ہوئی ہے، کیونکہ ان سے پہلے کثرت سے جدت پسندی نہیں ملتی ، یااگرکہیں ملتی ہے توبرائے نام ہے۔کسی تصورکے اظہارکے لیے نئے الفاظ برتنابھی جدیدیت کے زمرے میں آتاہے۔نظام وقتی طورپر کلاسیکی شاعری کے کوچے میں بھی گئے ہیں اورانہوں نے وہ حقائق ورایات اور دردوغم اسی طرح تغزل میں پیش کیے ہیں ، جوہماری کلاسیکی شاعروں کے مزاج میں پائے جاتے ہیں ۔ ان کے کلام میں جوسوزوگداز ہے ، وہ میرسے مشابہت رکھتاہے، چونکہ انکی اولادیں کبرسنی میں فوت ہوتی تھیں ۔ ان کے آٹھ اولادیں ہوئی لیکن فوت ہوئیں، جس وجہ سے ان کے کلام میں دردوغم کے اثرات بھی پائے جاتے ہیں جبکہ رنگ تغزل مومن کی طرح ہے۔مثلاً
——
تم سے کچھ کہنے کوتھا، بھول گیا
ہائے کیابات تھی کیابھول گیا
——
تمہیں یہ بھی کبھی خیال آیا
کہ کوئی راہ دیکھتاہوگا
——
ساقی کیاخطاہے ، قسمت ہے اپنی اپنی
جب اپنادورآیاخالی ہی جام نکلا
——
کس کس کی روزروزخوشامدکیاکرے
ہوتے ہیں ان کے درپہ تودربان نئے نئے
——
اور
——
کس کس طرح ستاتے ہیں ، یہ بت ہمیں نظام
ہم ایسے ہیں کہ جیسے کسی کاخدانہ ہو
——
نظام رامپوری کے کلام کی خوبیاں دیکھ کریہ یقین ہوجاتاہے کہ وہ اپنے دوراوراس سے پہلے دورکے شعرا سے کسی طورکم نہ تھا۔ ان کے کلام میں دبستان دہلی اوردبستان لکھنوکی جملہ خوبیاں موجودتھیں۔ بعض محققین کہتے ہیں کہ نظام رامپوری کے رنگ میں رنگ کر نواب مرزاخان ، داغ بن گئے۔داغ کاجملہ کلام نظام رامپوری کے کلام کے زیراثرپروان چڑھاہے بلکہ بعض مقامات میں داغ نے نظام کے کئی اشعارمیں معمولی تصرف کرکے اپنے نام کردئے ہیں۔لیکن داغ کو اردوشعروسخن میں وہ مقام ملاجوکسی اورکے حصے میں نہ آیاجبکہ نظام رامپوری گوشہ گمنامی میں چلے گئے۔اردواد ب کے اس عظیم شاعرنے1872میں رامپورمیں وفات پائی، جس وقت انکی عمر پچاس برس تھی۔یہ زمانے کے بے اعتنائی تھی یامحققین اورناقدین کاتعصب کہ نظام رامپوری کو وہ شہرت اورمقبولیت نہ ملی ، جس کے وہ حقدارتھے۔ کلب علی خان فائق نے نظام رامپوری کاپوارکلیات مجلس ترقی اردوکے تحت شائع کیاہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : رضائے حضرت احمد رضا صوفی نظام الدین
——
دورجدیدمیں اردوادب کے طلبہ ، اساتذہ، محققین اورناقدین اردوادب کے پرانے کھنڈر کی کھدائی کر رہے ہیں اورایسے ایسے نوادرات ان کے ہاتھ آ رہے ہیں ، جواردوادب میں نئے نئے رجحانات کو پروان چڑھا رہے ہیں۔نظام رامپوری پر تحقیق ہورہی ہے اوربہت جلد اردوادب کے آسمان پر نظام رامپوری کاستارہ پوری آب وتاب کے ساتھ چمکے گا۔
——
منتخب کلام
——
انداز اپنا دیکھتے ہیں آئنے میں وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
——
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئیے مسکرا کے ہاتھ
——
اب تم سے کیا کسی سے شکایت نہیں مجھے
تم کیا بدل گئے کہ زمانا بدل گیا
——
مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے
قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے
——
یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ
——
اٹھتا ہوں اس کی بزم سے جب ہو کے ناامید
پھر پھر کے دیکھتا ہوں کوئی اب پکار لے
——
اب کیا ملیں کسی سے کہاں جائیں ہم نظامؔ
ہم وہ نہیں رہے وہ محبت نہیں رہی
——
اب آؤ مل کے سو رہیں تکرار ہو چکی
آنکھوں میں نیند بھی ہے بہت رات کم بھی ہے
——
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ
بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ
یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ
بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا
ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ
گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں
اپنی تو مرگ و زیست ہے اس بے وفا کے ہاتھ
وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے
اور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ
قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا
گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ
اے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے
سننی پڑیں گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ
وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے
وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ
دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے
گردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ
پھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں
باندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ
کوچے سے تیرے اٹھیں تو پھر جائیں ہم کہاں
بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ
پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں
پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ
دینا وہ اس کا ساغر مے یاد ہے نظامؔ
منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ
——
خیر یوں ہی سہی تسکیں ہو کہیں تھوڑی سی
”ہاں” تو کہتے ہو مگر ساتھ ”نہیں” تھوڑی سی
حال دل سن کے مرا برسر رحمت تو ہیں کچھ
ابھی باقی ہے مگر چین جبیں تھوڑی سی
ہوئی جاتی ہے سحر ایسا بھی گھبرانا کیا
رات گر ہے بھی تو اے ماہ جبیں تھوڑی سی
جام مے دیکھ کے لبریز کس انداز کے ساتھ
اس کا کہنا کہ نہیں، اتنی نہیں، تھوڑی سی
بے خودی یہ دم رخصت تھی کہ سب کچھ بھولا
ان کی باتیں بھی مجھے یاد رہیں تھوڑی سی
اب یہ پیغام کسی کا کوئی لے کر جائے
ابھی لب پر ہے مرے جان حزیں تھوڑی سی
یوں تو تم روز ہی کہتے ہو سبھی کچھ مجھ سے
آج کی بات ہوئی ذہن نشیں تھوڑی سی
ان سے کچھ کہہ نہ سکا میں شب غم کی باتیں
گو کہ بھولا تھا مگر یاد بھی تھیں تھوڑی سی
بوسہ تو اس لب شیریں سے کہاں ملتا ہے
گالیاں بھی ملیں ہم کو تو ملیں تھوڑی سی
اب تو سب کا ترے کوچے ہی میں مسکن ٹھہرا
یہی آباد ہے دنیا میں زمیں تھوڑی سی
اٹھے جاتے ہیں ہمیں آپ نہ بیٹھیں خاموش
آپ کی بات سمجھتے ہیں ہمیں تھوڑی سی
یاد کچھ آ کے یہ حالت ہوئی میری کہ نہ پوچھ
پچھلی گھڑیاں شب غم کی جو رہیں تھوڑی سی
صبح تک شام سے وہ گو کہ رہے پاس مرے
حسرتیں دل کی مگر رہ ہی گئیں تھوڑی سی
کوستے کیا ہو ابھی ہوتے ہیں ہم شادیٔ مرگ
گر ملے دفن کو کوچے میں زمیں تھوڑی سی
سب مرا حال وہاں کیسے کہے گا قاصد!
تو تو سنتا ہے مری بات نہیں تھوڑی سی
دولت فقر سے سب ہو گئی تسکین نظامؔ
اب کریں کیا طلب تاج و نگیں تھوڑی سی
——
ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھ
ناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھ
کس کی کدورتوں سے یہ مٹی خراب ہے
کس کا غبار ہے ترے دامن کے ساتھ ساتھ
اٹھا تھا منہ چھپائے ہوئے میں ہی صبح کو
جاتا تھا میں ہی رات کو دشمن کے ساتھ ساتھ
کوچے میں اس صنم کے خدائی کا لطف ہے
ناحق پھرا میں شیخ و برہمن کے ساتھ ساتھ
دل کی تپش نے خاک اڑائی یہ بعد مرگ
لاشہ پھرا کیا مرا مدفن کے ساتھ ساتھ
اللہ اپنے رشک کا درجہ بھی اب نہیں
کس کس جگہ گیا بت پر فن کے ساتھ ساتھ
جھونکا قفس میں آیا جو باد بہار کا
پہلو سے دل نکل چلا سن سن کے ساتھ ساتھ
اشکوں کے ساتھ ساتھ تو موجیں غموں کی ہیں
آنکھوں کے شعلے ہیں مرے شیون کے ساتھ ساتھ
جس راہ سے گزرتے ہیں وہ، مجھ سے سیکڑوں
ہو لیتے ہیں جنوں زدہ بن بن کے ساتھ ساتھ
زنجیر میرے پاؤں کے پیچھے پڑی ہے یوں
پھرتا ہے رشتہ جس طرح سوزن کے ساتھ ساتھ
کب تک کسی کو کھولیں کسی کو کریں وہ بند
پھرتی ہے یاں نگاہ تو روزن کے ساتھ ساتھ
یوں ساتھ روح کے ہے تن زار اب نظامؔ
پھرتا ہے جیسے سایہ مرا تن کے ساتھ ساتھ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات