اردوئے معلیٰ

رحمت النساء ناز کا یوم وفات

آج برصغیر کی نامور شاعرہ، ماہر تعلیم اور سماجی کارکن رحمت النساء ناز کا یوم وفات ہے۔

رحمت النساء ناز (پیدائش: 28 جون 1932ء – وفات: 9 جولائی 2008ء)
——
رحمت النساء ناز برصغیر کی نامور شاعرہ، ماہر تعلیم اور سماجی کارکن تھیں۔
رحمت النساء ناز 28 جون 1932ء کو بنگلور، کرناٹک ( سابق ریاست میسور ) برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ دسویں جماعت تک تعلیم میسور سے ہی حاصل کی، اس کے بعد جلد ہی ان کی شادی ڈاکٹر محمد غوث شریف سے طے پائی۔ قیامِ پاکستان کے کچھ ماہ بعد یکم جنوری 1948ء کو اپنے شوہر اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ بنگلور سے ہجرت کرکے کراچی آگئیں۔ اور یہاں تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر کے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے، بی ایڈ کیا اور بعد ازاں درس و تدریس سے منسلک ہوئیں۔
شاعری کا شغف بچپن سے رہا۔ جب پاکستان آئیں تو شہر کی دیگر ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کے مشاعروں میں بھی شرکت کی۔ اُن کا کلام پاکستان اور بھارت کے کئی اردو اخبارات میں باقاعدگی سے چھپتا رہا۔
9 جولائی 2008ء کو رحمت النساء نازؔ کا انتقال کراچی میں ہوا۔ اور ان کی تدفین ناظم آباد کے قبرستان میں ہوئی۔
——
مجموعہٴ کلام ”زخمِ ہجراں“ کا اجرا
——
رحمت النساء ناز نے باقاعدہ مشاعروں میں شرکت کے باوجود کبھی مجموعہِ کلام شائع کروانے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ تاہم بے نظیر بھٹو صاحبہ کے بہت اصرار پر انہوں نے کتاب شائع کروانے کی ہامی بھری لیکن ابتدائی مرحلے کے کام کے دوران ہی بے نظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت کا واقعہ رونما ہو گیا۔ لہذا اس کتاب میں وہ دو نظمیں بھی شامل ہیں جو انہوں نے بے نظیر بھٹو کے چہلم پر ان کو خراج میں پیش کیں ۔9 جولائی 2008 کو رحمت النسا ناز صاحبہ کی وفات کے بعد ان کی کتاب کی مکمل تدوین و اشاعت کا کام ان کے بیٹے سیف اللہ سیفی اور ان کے بھائی سید ضیا الحق(ضیا کرناٹکی)صاحب نے کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : رحمت النساء ناز کا یوم وفات
——
کتاب کا اجرا اتوار 7 جولائی 2013ء کو اُن کے پیدائشی شہربنگلور میں ہوا اورضیا کرناٹکی صاحب کے ادارہ برائے آرٹ،سوشل اور ادبی ترقی ”الصدا“ نے کیا ہے۔ 24 ستمبر 2013 کو ان کے مجموعہ کلام کا اجرا کی تقریب بلجیم کے دار الحکومت برسلز میں بھی منعقد ہوئ۔ تقریب کا اہتمام پاکستان پریس کلب بلجیم نے کیا۔ ان کے مجموعہِ کلام میں ہجرت کے غموں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ان کے کلام میں ایک طرف اپنوں سے جدائی کا درد، تو دوسری جانب پاکستان سے شدید محبت کا بھرپور اظہار بھی موجود ہے۔
——
مشہورِ زمانہ غزل’’جب دل کا درد منزلِ شب سے نکل گیا‘‘ لیجنڈری گلوکارہ حمیرا چنا کی آواز میں اجرا کے لیے تیار
——
برصغیر کی معروف شاعرہ اور ماہر تعلیم، محترمہ رحمت النساء ناز کی مشہورِ زمانہ غزل’’جب دل کا درد منزلِ شب سے نکل گیا‘‘ لیجنڈری گلوکارہ حمیرا چنا کی آواز میں اجرا کے لیے تیار کرلی گئی ہے۔یہ غزل مرحومہ کی تیرہویں برسی پر ریلیز کی جائے گی۔ مرحومہ رحمت النسا ءنازؔ کی یہ غزل اس لیے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ عوام کے ساتھ ساتھ شاعروں کی بھی پسندیدہ غزلوں میں سے ایک ہے۔یہ غزل نازؔ صاحبہ کے مجموعہِ کلام’’ زخمِ ہجراں‘‘سے منتخب کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ’’زخمِ ہجراں‘‘ کا 2013 میں یورپی دارالحکومت برسلز میں اس وقت کے سفیر پاکستان منور سعید بھٹی کے ہاتھوں ہوا تھا۔غزل کی ریکارڈنگ کے موقع پر گلوکارہ حمیرا چنا کا کہنا تھا کہ یہ غزل ان کے دل کے بہت قریب ہے۔اس غزل کے ساتھ بہت ساری یادیں اور جذبات جڑے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے ایک عظیم شخصیت کے خوبصورت کلام کو گانے کا موقع ملا۔معروف شاعر،کمپوزر ،انٹرٹینر اور مرحومہ کے صاحب زادے سیف اللہ سیفیؔ کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کے سارے کلام دل کو چھونے والے ہیں اور وہ انھیں بھی جلد ریلیز کریں گے۔
——
یہ بھی پڑھیں : جمیلہ ہاشمی کا یومِ پیدائش
——
ان کا کہنا تھا کہ والدہ کے مجموعہِ کلام’’زخمِ ہجراں‘‘میں ہجرت اور اپنوں سے جدائی کے دکھ کی منظر کشی کی گئی ہے۔ غزل کی کمپوزیشن سیف اللہ سیفی کی ہے، جہاں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اس میں ناز صاحبہ کے مخصوص ترنم کی روح بھی برقرار رہے جب کہ میوزک ارینجمنٹ عالمی شہرت یافتہ نوجوان کامران اختر نے کی ہے۔ اس غزل پروجیکٹ کی نگراں مرحومہ کی پوتی ،ہالی ووڈ اور برطانوی فلم انڈسٹری کی پروڈیوسر و ایڈیٹر ردا شریف ہیں۔پروجیکٹ کی ڈائریکشن کے فرائض نوجوان سنگر،کمپوزر اور ڈائریکٹر فیضان علی نے انجام دیئے ہیں۔ اس موقع پر حمیرا چنا نے فیضان علی کے ٹیلنٹ کی تعریف کرتے ہوئے ان کی مزید کامیابیوں کے لیے دعا کہ اور انہیں سندھ کی روایتی اجرک بطور ہدیہ پہنائی۔ قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ مرحومہ نازؔ صاحبہ 28 جون 1932 کو بھارت کے تاریخی شہر بنگلور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم کے فوراً بعد رشتہِ اِزدواج میں منسلک ہوگئیں۔ قیام پاکستان کے پانچ مہینوں بعد ہی جنوری 1948 میں اپنے شوہر ڈاکٹرمحمد غوث شریف کے ہمراہ پاکستان تشریف لے آئی تھیں۔پاکستان میں بھی انھوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور بی اے بی ایڈ کے علاوہ اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں اور بطور ایجوکیشن آفیسر ریٹائرڈ ہوئیں۔آپ سماجی کاموں کے علاوہ باقاعدگی سے مشاعروں اورادبی محفلوں میں شرکت کرتی رہیں، جہاں اپنے مخصوص اندازِ ترنم کی وجہ سے اساتذہ کے ساتھ ساتھ ہم عصر شعرا کی بھی پسندیدہ شاعرہ کا اعزازپایا ۔آپ کے کلام روزنامہ جنگ میں بھی ہر ہفتے باقاعدگی سے شایع ہوتے رہے۔شوہر کے انتقال اور اکلوتے بیٹے کی جدائی کے بعدمرحومہ نے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔مرحومہ ہمیشہ اپنے مجموعہِ کلا م کی اشاعت سے انکار کرتی رہیں لیکن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے اصرار پر اس کی اشاعت کے لیے تیار ہوئیں تو کچھ ہی دنوں بعد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوگئیں جس پرناز صاحبہ نے ان کے لیے دو نظمیں بھی لکھیں لیکن وہ بی بی کی شہادت کا دکھ برداشت نہ کر سکیں اور سات مہینوں بعد 9 جولائی 2008 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئیں۔ ان کے واحد مجموعہِ کلام ’’زخمِ ہجراں کو بعد ازاں بنگلور میں ان کے سب سے چھوٹے بھائی مرحوم ضیاؔ کرناٹکی(سید ضیا الحق) اور ہالینڈمیں مقیم صاحبزادے سیف اللہ سیفیؔ نے مرتب کرنے کے بعدان کی پانچویں برسی کے موقعے پر 2013 میں شایع کیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : رحمتوں کا سلسلہ اچھا لگا
——
منتخب کلام
——
کتنے لگے ہیں زخم جگر پر کسے خبر
ڈھائی ہے کس نے کتنی قیامت نہ پوچھیے
——
اب تو ہے صرف آمد فصل بہار یاد
دل ایک پھول تھا جو سر شاخ جل گیا
——
میں سب کچھ بھول جاتی ہوں
کبھی موسم بھی بدلے تھے
دھنک کے رنگ پھیلے تھے
مرے آنگن میں بھی شاید
کبھی اک چاند اترا تھا
میں اکثر یاد کرتی ہوں
مگر پھر بھول جاتی ہوں
وہ دن جب زندگی کو
زندگی کی چاہ ہوتی تھی
کسی کے اک اشارے پر
دھڑکتا تھا کسی کا دل
میں اکثر یاد کرتی ہوں
مگر پھر بھول جاتی ہوں
ستاروں کا تبسّم
مسکرانا غنچہ وگل کا
مرا شہر نگاراں
اور کئی مانوس رستے بھی
میں اکثر یاد کرتی ہوں
مگر پھر بھول جاتی ہوں
——
جب دل کا درد منزلِ شب سے نکل گیا
محسوس یہ ہوا کوئی طوفان ٹل گیا
اب تو ہے صرف آمدِ فصلِ بہار یاد
دل ایک پھول تھا جو سرِ شاخ جل گیا
جب تک کسی کا نقشِ کفِ پا ہمیں ملا
ہم سے کچھ اور دور زمانہ نکل گیا
ہر گُل کے ساتھ ساتھ ہے اک پاسبانِ گُل
گُل چیں کو ارتباطِ گل و خار کھل گیا
کچھ راہروانِ شوق بھٹکنے سے بچ گئے
ہم کیا سنبھل گئے کہ زمانہ سنبھل گیا
ممکن نہیں کہ بزمِ طرب تک پہنچ سکیں
اب کاروانِ شوق کا رستہ بدل گیا
اے نازؔ غم نہیں جو فرشتہ نہ بن سکا
کیوں اہرمن کے روپ میں انسان ڈھل گیا
——
ایک بوڑھا خزاں رسیدہ شجر
جس نے اِک عمر سب کا ساتھ دیا
جب مسافر اگر کوئی تھکتا
یا، تپش دھوپ کی ستاتی اسے
اس کے سائے میں بیٹھ جاتا تھا
اس کے سائے میں کھیل کر بچّے
ایسے خوش ہوتے جیسے جنت ہو
اس کی بانہوں میں جُھولتے تھے کبھی
اور شاخوں سے کھیلتے تھے کبھی
چھاؤں میں اس کی بیٹھ کر کچھ لوگ
اپنے دکھ سکھ کے قصّے کہتے تھے
راز کتنے ہی دفن تھے اس جا
آج اس میں نہ شاخ ہے نہ ثمر
اب کسی کو نہیں ہے اس کا خیال
ہائے بوڑھا خزاں رسیدہ شجر!
——
رنج و الم کی کوئی حقیقت نہ پوچھیے
کتنی ہے میرے درد کی عظمت نہ پوچھیئے
کتنے لگے ہیں زخمِ جگر پر کسے خبر
ڈھائی ہے کس نے کتنی قیامت نہ پوچھیے
اشکوں نے راز دل کا کیا جب کبھی عیاں
کتنی ہوئی ہے مجھ کو ندامت نہ پوچھیے
——
کتنے لمحے ، کتنی گھڑیاں ، کتنے دن
وقت کے بہتے سمندر کے حوالے کر گئے
کتنی خوشیاں ، کتنے جذبے ، کتنے رشتے
بھیک کے پیار کی خاطر غیروں سے منسوب کیے
کتنا درد چھپایا اپنا ، کتنے پرائے دکھ اپنائے
کتنے پتھر موم کیے ، کتنے پتھر کنکر چُن کر
کتنے رستے آسان کیے
——
اگر پیروں میں اک زنجیر پڑ جاتی تو اچھا تھا
مرے سینے میں بھی پتھر کا دل ہوتا تو اچھا تھا
مرے ہونٹوں پہ بھی اک مُہر لگ جاتی تو اچھا تھا
سماعت بھی اگر میری کھو جاتی تو اچھا تھا
جگر کی آگ بھی ٹھنڈی ، جو ہو جاتی تو اچھا تھا
بھرم میرا اگر تھوڑا سا رہ جاتا تو اچھا تھا
مگر جو کچھ ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا
وہ باقی آنکھ بھی پتھر کی ہو جاتی تو اچھا تھا
مگر جو کچھ ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا ، اچھا ہوا
——
حوالہ جات
——
شعری انتخاب : شریف سٹوڈیوز ، یوٹیوب چینل
بشکریہ : سیف اللہ سیفی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ