اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس رفعت سروش کا یوم وفات ہے

 رفعت سروش(پیدائش: 2 جنوری، 1926ء- وفات: 30 نومبر، 2008ء)
——
رفعت سروش 2 جنوری 1926ء کو ضلع بجنور کے نگینہ میں پیدا ہوئے۔
اس وقت کا ماحول ایک انقلابی ماحول تھا جس کا ان کی سوچ اور ان کے نظریے پر اثر پڑا۔ اس وقت متعدد انقلابی تحریکیں سماج پر اپنے اثرات مرتب کر رہی تھیں اور چونکہ رفعت سروش ایک حساس ذہن کے مالک تھے اس لیے انھوں نے ان تحریکوں کے اثرات قبول کیے۔ کسانوں اور مزدوروں کی تحریکوں نے بھی ان کو متاثر کیااور وہ تمام اثرات ان کی تخلیقی سوچ پر حاوی رہے،
——
یہ بھی پڑھیں : خالی اس آستاں سے نہ دریوزہ گر پھرے
——
انھوں نے جس وقت ادبی دنیا میں قدم رکھا ‘اس وقت ترقی پسند تحریک اپنے شباب پر تھی اور سجاد ظہیر‘ علی سردار جعفری‘ جوش ملیح آبادی‘ اسرار الحق مجاز‘فیض احمد فیض‘ ساحر لدھیانوی اورکیفی اعظمی وغیرہ کی مقبولیت عام تھی۔ انھوں نے ان ادیبوں اور شاعروں کے اثرات بھی قبول کیے۔
رفعت سروش نے اپنی ادبی زندگی کے آغاز میں سجاد ظہیر‘ سردار جعفری‘ کیفی اعظمی‘اختر الایمان‘ باقر مہدی‘ ساحر لدھیانوی‘ مجروح سلطانپوری‘ رضیہ سجاد ظہیر اور عصمت چغتائی کے ساتھ ترقی پسند انجمن کی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور بہت جلد ترقی پسند مصنفین کی صف اول میں شامل ہو گئے۔ انھوں نے اسی کی ساتھ اردو ادب میں کئی نئے تجربے کیے۔ انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کی اردو مجلس میں جب ملازمت اختیار کی تو کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اردو مجلس سے نشر کی جانے والی تخلیقات کو اتنا بلند مرتبہ عطا کر دیں گے۔ انھوں نے ریڈیو میں منظوم ڈراموں کی ابتدا کی جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے۔ اردو ادب کو انہوں نے87 کتابیں دی ہیں، جن میں شاعری‘افسانہ ‘تنقید‘ ڈراما اور تاریخ وغیرہ پر کتب شامل ہیں۔
84 سال کی عمر میں 30 نومبر 2008ء کو ان کا انتقال ہوا۔
——
رفعت سروش کی ادبی خدمات از رضوان ڈاکٹر الرحمنٰ
——
رفعت سروش نے اپنی ادبی و تخلیقی زندگی کا آغاز ایک ایسے پس منظر میں کیا جبکہ سیاسی سطح پر آزادی کی لہر ملک کے گوشے گوشے میں پھیل کر ایک فیصلہ کن موڑ کو پہنچ رہی تھی۔ قومیت و حب الوطنی کا جذبہ جنگ آزادی کے ساتھ ہی مضبوط و مستحکم ہو رہا تھا۔ ادبی سطح پر بھی ترقی پسند تحریک ایک زندہ توانا اور طاقت ور تحریک کی صورت میں پورے ملک میں مقبول ہو رہی تھی۔ اس تحریک کے زیر اثر ادب و فن میں بھی آزادی کا مطالبہ اور اس قسم کے دوسرے موضوعات پر اظہار خیال کا جذبہ شدید سے شدید تر ہو تا جا رہا تھا۔ گویا اس طرح کے خیالات سے لوگوں کو ایک نئی زندگی کی طرف گامزن ہونے پر آمادہ کیا جا رہا تھا۔
——
یہ بھی پڑھیں : توفیق رفعت کی برسی
——
شاعری اور نشر نگاری دونوں کے رگ و پے میں آزادی کا تازہ تازہ اور نیا نیا خون ڈالا جا رہا تھا۔ زبان میں نئے الفاظ اور نئے موضوعات و خیالات کی رنگ آمیزی ہو رہی تھی۔ غرض کہ نظم و نشر دونوں میں سیاسی آزادی کی جھلک نمایاں تھی۔ اسی زمانے میں رفعت سروش نے فن کی دیوی کو گلے لگایا اور اپنے ذوق جمال کی تسکین و تزئین کے لئے خود کو آمادہ کیا اور اپنے تخلیقی مزاج و رجحان کو مزید پروان چڑھایا۔
رفعت سروش مختلف الجہات ادبی شخصیت کا ایک مستند و معتبر نام ہے۔ وہ بیک وقت ایک عظیم شاعر اور بلند پایا نثر نگار ہیں۔ انہوں نے اپنی تخلیقی و جمالیاتی شخصیت کے اظہار کے لئے غزلیں بھی کہی ہیں اور نظمیں بھی ناول اور افسانے کی صنف سے بھی اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
تنقیدی و تاثراتی مضامین بھی قلم بند کئے ہیں اور ڈراما نگاری کو بھی رفعت و بلندی عطا کی ہے۔ اس اعتبار سے وہ ادبی دنیا میں کثیر الجہات شخصیت کے مالک ہیں اور یہ شخصیت جلوۂ صد رنگ کی خوبیوں سے مزین ہے۔
اردو کے تقریبا تمام نگاروں نے ان کی اس حیثیت کا یقین کیا ہے اور یہی شناخت انہیں ہم عصروں میں ممتاز و ممیز بھی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کلاسیکیت کے ان ہی عناصر کو صدق دل سے قبول کرتے ہیں جس میں زندگی کی رمق اور ایک واضح اور سلجھا ہوا شعور ہو اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ ترقی پسند کے سکہ بند افکار و تصورات سے صاف طور پر انحراف و احتساب کرتے ہیں اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کسی خاص رجحان و میلان کسی خاص رزم یا اسکول سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ وہ ہمیشہ ادب کو ادب کی حیثیت سے دیکھا ہے اور سمجھا ہے۔
ادب کی جمالیاتی قدروں کو پیش نظر رکھا ہے زندگی کے تجربوں،مشاہدوں اور عشری تقاضوں کی تخلیقی بازیافت کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر قمر رئیس جیسے اہم نا قد کو یہ کہنا پڑا کہ :
”وہ ترقی پسند تحریک ‘ حلقہ ارباب ذوق‘ و مانی تحریک یا دوسری تحریکوں سے وابستہ رہے ہیں مگر میں نے جہاں تک ان کی شاعری کا مطالبہ کیا ہے اور”وادیء گل“ سے لے کر آج تک ان کے جو مجموعے پڑھنے کو ملے ہیں ان سے مجھے ایسا لگا کہ وہ تحریک کے آدمی نہیں ہیں اور کسی بھی تحریک سے ان کی گہری وابستگی نہیں رہی“۔
——
یہ بھی پڑھیں : جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی
——
ڈاکٹر قمر رئیس کی یہ رائے حقیقت پسند انہ انداز نظر کی حامل ہے کیونکہ رفعت سروش کی ذہنی وعملی وابستگی ایک طویل عرصے تک ترقی پسند تحریک سے رہی ہے با وجود اس کے وہ کبھی اس تحریک کی انتہا پسندی اور اس کی اچھائیوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا اور کیمیوں سے انحراف و اجتناب کو اپنا شیوہ بنا لیا تھا۔ساتھ ہی اس طویل تخلیقی سفر کی ہر خوش گوار تبدیلیوں کو اپنے ادب و فن میں سمویا ہے اس لئے کہ وہ ہمیشہ ایک اچھی اور سچی شاعری کے قائل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کلا سیکی صلا حیت، بلند آہنگی اور اپنی ذات کی شناخت کو پورے احساسات و جذبات کی تازگی و توانائی کے ساتھ حاصل شدہ تاثرات کو بڑی فنی ہو شیاری اور چابکدوشی کے ساتھ اظہار کیا ہے۔
اس وصف خاص کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر مظفر حنفی رقم طرازہیں :
” ان کی شاعری نے اپنی جڑیں زرخیز کلا سیکی زمین میں پیوست کر رکھی ہیں اور ترقی پسند نظریات کی دھوپ میں ۳؁ء کے آس پاس اس برگ و بار نکالے ہیں۔ اب ۳۶۱ پر جدید یت کے رجحان کی نرم پھواریں چاروں طرف سے پڑنے لگیں تو ان کی شاخ غزل سے کچھ اس قسم کے پھول اور کلیاں نمودار ہوئیں“۔
یہی وجہ ہے کہ رفعت کی شاعری میں قدیم و جدید زندگی اپنی ہر کروٹ سے نمایاں ہو تی نظر آتی ہے۔اور ایک دوسرے سے ہم رشتہ و پیوستہ بھی رفعت سروش اپنے نظریہ شعری پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
” میری تمام تر شاعری کے اساس میرے ذاتی تجربات و مشاہدات نہیں ہیں میں ذات کے نہاں خانوں میں محصور ہوجانے کو زندگی سے فرار کے مترادف تصور کرتا ہوں اور اپنی ذات کو سماج کا ایک اکائی تصور کرتا ہوں اپنے تجربات کو سماجی زندگی کاایک آئینہ سمجھتا ہوں اور سماج کے مسائل کو اپنے مسائل تصور کرتا ہوں“۔
اس میں شک نہیں کہ رفعت سروش ادب اور سماج کے گہرے اور اٹوٹ رشتے کے قائل ہیں وہ جس صورت میں زندگی کے بدلتے ہوئے حالات اور اپنی تہذیب و معاشرت کے مظاہر و واقعات کو دیکھتے ہیں ان سے گہرے طور پر متاثر ہو کر اپنے شعور اور شعور کا حصّہ بنا لیتے ہیں۔ اور ان سے حاصل شدہ تاثرات و تجربات کو صحہ قرطاس پر نمایاں کرتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : اپنے دربار میں آنے کی اجازت دی ہے
——
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تک جو فن پارے تخلیق کئے ہیں ان میں محض جوش و جذبات کی تسکین کا سامان نہیں ہے بلکہ ان میں ان کی روح کے کرب کا اظہار بھی ہے اور انسانیت اور اس کی اقدار کی حفاظت کا جذبہ بھی۔
——
ڈاکٹر رضوان الرحمٰن سہرسہ بستی علی روڈ وارڈ ، نمبر ۱۳ ، سہرسہ بہار ، انڈیا
——
منتخب کلام
——
میں ڈھونڈتا ہوں شمعِ تجسس لیے ہوئے
گذری ہوئی حیات کے نقش و نگار کو
——
بیانِ غم کے لیے ، شرحِ آرزو کے لیے
کہاں سے لاؤں زباں اُن سے گفتگو کے لیے
——
اُس شوخ کی محفل میں کیا عالمِ زنداں تھا
ہر سمت نگاہوں کی زنجیر نظر آئی
——
شبنم ، شراب ، شعر ، شفق ، صبحِ نو بہار
کیا کیا رکھے ہیں دل نے تری دلکشی کے نام
——
یہ زندگی کا دشت ، یہ محرومیوں کی دھوپ
بیٹھیں کہاں کہ سایۂ دیوار بھی نہیں
——
کیوں میرے لب پہ آئی غمِ آگہی کی بات
گستاخیٔ خرد کی سزا ہے تمام عمر
——
سمٹے تو مشتِ خاک ہے یہ آدمی کی ذات
بکھرے تو پھر یہ عرصۂ لیل و نہار کیا
——
یہ شور ، یہ ہنگامہ ، اس محشرِ دنیا میں
اک عمر سے بہتر ہے اک لمحۂ تنہائی
——
جو دیکھیے تو بگولہ ہے ریگِ آوارہ
جو سوچیے تو یہی آبروئے صحرا ہے
——
رہبر ملے ، رفیق ملے ، ہم سفر ملے
لیکن تلاش جس کی ہے وہ راہزن کہاں
——
اپنے دلِ تباہ کا مجھ کو نہ کچھ ملال تھا
تیرے خیال نے مگر رات رُلا رُلا دیا
——
اک دل درد آشنا ، ایک نگاہِ بے قرار
ایک وفا شعار کو میرے خدا یہ کیا دیا
——
پھول رخسار کو ، آنکھوں کو کنول ہی کہیے
اور جب کہیے بہ اندازِ غزل ہی کہیے
موت ہر لمحہ قریب آتی ہے ہر سانس کے ساتھ
سازِ انفاس کو بھی سازِ اجل ہی کہیے
حسن آوارہ ہے ، بیگانہ ہے آرائش سے
اس کی تعریف میں بے ربط غزل ہی کہیے
دفن ہر قبر میں ہے حسرت و امید کی لاش
کوئی مرقد ہو اسے تاج محل ہی کہیے
دل میں سب جمع ہیں اپنے ہوں کہ بیگانے سروشؔ
اس خرابے کو بھی اک رنگ محل ہی کہیے
——
اپنے گھر ، اپنی دھرتی کی آس لئے بو باس لئے
جنگل جنگل گھوم رہا ہوں جنم جنم کی پیاس لئے
جتنے موتی ، کنکر اور خذف تھے اپنے پاس لئے
میں انجانے سفر پر نکلا ، مدھر ملن کی آس لئے
کچی کاگر پھوٹ نہ جائے ، نازک شیشہ ٹوٹ نہ جائے
جیون کی پگڈنڈی پر ، چلتا ہوں یہ احساس لئے
وہ ننھی سی خواہش اب بھی دل کو جلائے رکھتی ہے
جس کے تیاگ کی خاطر میں نے کتنے ہی بن باس لئے
سوچ رہی ہے کیسے آشاؤں کا نشیمن بنتا ہے
من کی چڑیا تن کے دوارے بیٹھی چونچ میں گھاس لئے
جب پربت پر برف گرے گی سب پنچھی اُڑ جائیں گے
جھیل کنارے جا بیٹھیں گے اک انجانی پیاس لئے
چھوڑ کے سنگھرشوں کے جھنجٹ ، توڑ کے آشا کے رشتے
گوتمؔ برگد کے سائے میں بیٹھا ہے سنیاس لئے
——
توڑ بھی دے یہ رشتے ناطے ، سارے بندھن جھوٹے ہیں
جیون کی اس بگیا میں سب کاغذ کے گُل بُوٹے ہیں
اُن کانٹوں کی قدر و قیمت ہم دیوانوں سے پوچھو
جن کانٹوں پر چلتے چلتے پاؤں کے چھالے پُھوٹے ہیں
عمر کے لمبے دن اور راتیں ہنستے روتے کاٹی ہیں
مٹی کے پنجرے سے تب پرانوں کے پنچھی چُھوٹے ہیں
حرص و ہوس کا پاگل بالک جو من میں وشرام کرے
کتنے شہر اُجاڑے اس نے ، کتنے لشکر لُوٹے ہیں
جن کی نزاکت دیکھ کے شاخِ گُل بھی شرما جاتی تھی
آج ان کی یادوں سے دل میں کتنے خنجر ٹوٹے ہیں
اپنے سازِ نفس کے تارِ لرزاں کی آواز تو سن
تو سچا ، تیرا من سچا ، باقی سارے جھوٹے ہیں
——
کیسے امیر کس کے گدا تاجدار کیا
دارالفنا میں جبر ہے کیا اختیار کیا
وہ تیز دھوپ ہے کہ پگھلنے لگے ہیں خواب
زلفوں کے سائے دیں گے فریب بہار کیا
آباد کر خرابۂ ذہن و خیال کو
شہروں میں ڈھونڈھتا ہے سکون و قرار کیا
سمٹے تو مشت خاک ہے یہ آدمی کی ذات
بکھرے تو پھر یہ عرصۂ لیل و نہار کیا
میں ہوں سروشؔ بندۂ مجبور و ناتواں
مجھ میں بھی تیرا عکس ہے پروردگار کیا
——
شعری انتخاب از رفعت سروش : شخصیت و فن
مرتبہ: ڈاکٹر رضیہ حامد ، 1990 ء ، متفرق صفحات
غزلیات از نقشِ صدا ، مصنف : رفعت سروش
شائع شدہ : 1977 ء ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات