اردوئے معلیٰ

آج معروف کلاسیکل شاعر خاقانی ہند شیخ ابراہیم ذوق کا یوم پیدائش ہے

شیخ ابراہیم ذوق(پیدائش: 22 اگست 1790ء – وفات: 16 نومبر 1854ء)
——
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
——
اردو زبان اور محاورے پر زبردست گرفت رکھنے والے شاعر اور نثر میں محمد حسن آزاد اور غزل میں داغ جیسے استادوں کے استاد، محمد ابراہیم ذوق ایک مدت تک بے توجہی کا شکار رہنے کے بعد ایک بار پھر اپنے منکروں سے اپنا لوہا منوا رہے ہیں مغلیہ سلطنت کے برائے نام بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں، ملک الشعراء کے خطاب سے نوازے جانے والے ذوق اپنے زمانہ کے دوسرے اہم شاعروں، غالب اور مومن سے بڑے شاعر مانے جاتے تھے لیکن زمانہ کے مزاج نے اس تیزی سے کروٹ لی کہ ان کو اک معمولی شاعر کہہ کر مسترد کر دیا گیا یہاں تک کہ رشید حسن خاں نے کہہ دیا کہ غزل میں غالب اور مومن کے ساتھ ذوق کا نام لینا بھی گناہ ہے۔ یہ غالب پرستی کا عہد تھا۔ ذوق کو جب غالب کا مد مقابل اور حریف سمجھ کر اور غالب کو اچھی شاعری کا حوالہ بنا کر پڑھنے کا چلن عام ہوا تو ذوق کی شکست لازمی تھی۔ دونوں کا میدان الگ ہے، دونوں کی زبان الگ ہے اور دونوں کی دنیا بھی الگ ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : لوں نام نبی قلب ٹھہر جائے ادب سے
——
شیخ محمد ابراہیم ذوق کے والد محمد رمضان ایک نو مسلم کھتری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا گھرانہ علم و ادب سے دور تھا ذوق کو حافظ غلام رسول کے مدرسہ میں داخل کر دیا گیا۔ غلام رسول خود بھی شاعر تھے اور شوق تخلص کرتے تھے۔ ان ہی کی صحبت میں ذوق کو شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ شوق سے ہی وہ اپنی ابتدائی غزلوں پر اصلاح لیتے تھےاور تخلص ذوق بھی انہیں کا تجویز کردہ تھا۔ کچھ عرصہ بعد ذوق نے مولوی عبدالرزاق کے مدرسہ میں داخلہ لے لیا۔ یہاں ان کے بچپن کے دوست میر کاظم علی بیقرار ان کے ہم سبق تھے۔ بیقرار نواب رضی خاں، وکیل سلطانی کے بھانجے اور بہادر شاہ ظفر کے ملازم خاص تھے۔ جو اس وقت تک محض ولی عہد تھے، بادشاہ اکبر شاہ ثانی تھے۔ بیقرار کے ہی توسط سے ذوق کی رسائی قلعہ تک ہوئی۔
شاعری ایک فن لطیف ہے اور شاعری کی طرف رغبت ابراہیم ذوق کی شرافت نفس کی دلیل ہے۔ ذوق نے بہرحال طالب علمی کے زمانہ میں اس شوق کو اپنی طبیعت پر حاوی نہیں ہونے دیا، انہوں نے اپنے شوق اور محنت سے مروجہ علوم مثلاً نجوم، طب، تاریخ وغیرہ میں دستگاہ حاصل کی اور ہر فن میں طاق ہو گئے۔ "قسمت سے ہی مجبور ہوں اے ذوق وگرنہ*ہر فن میں ہوں میں طاق مجھے کیا نہیں آتا”۔ شاعری کا سلسلہ بہرحال جاری تھا اور وہ اپنی غزلیں شوق کو ہی دکھاتے تھے۔ لیکن جلد ہی وہ شوق کی اصلاح سے غیر مطمئن ہو گئے اور اپنے زمانہ کے مشہور استاد شاہ نصیر کی شاگردی اختیار کر لی۔
قلعہ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ابراہیم ذوق باقاعدہ درباری مشاعروں میں شرکت کرنے لگےان کے ایک قصیدے سے خوش ہو کر اکبر شاہ ثانی نے ان کو خاقانیٔ ہند کا خطاب دیا۔ شہر میں اس کے بڑے چرچے ہوئے ایک نو عمر شاعر کو خاقانیٔ ہند کا خطاب ملنا ایک انوکھی بات تھی۔ بعد میں ذوق کو سودا کے بعد اردو کا دوسرا بڑا قصیدہ نگار تسلیم کیا گیا ان کے قصائد کی فضا علمی اور ادبی ہے اور فنی اعتبار سے بہت لائق تحسین ہے۔ جلد ہی ان کی شہرت اور مقبولیت سارے شہر میں پھیل گئی یہاں تک کہ ان کے استاد شاہ نصیر ان سے حسد کرنے لگے۔ وہ ذوق کے شعروں پر بیجا نکتہ چینیاں کرتے لیکن ذوق نے کبھی ادب کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا، ذوق کی عوامی مقبولیت ہی تمام نکتہ چینیوں کا جواب تھی۔ ولی عہد مرزا ابو ظفر (بہادر شاہ) کی سرکار سے ان کو چار روپے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا (خیال رہے کہ اس وقت تک خود ظفر کا وظیفہ 500 ماہانہ تھا)۔ جو بعد مدت 100 روپے ہو گیا۔ ذوق مال و جاہ کے طلبگار نہیں تھے وہ بس دہلی میں محترم رہنا چاہتے تھے۔ ان کو اپنے دیار سے محبت تھی۔ سادگی اتنی کہ کئی مکانات ہوتے ہوئے بھی عمر بھر ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے رہے۔ دہلی سے اپنی محبت کا اظہار انہوں نے اپنے شعروں میں بھی کیا۔
——
ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بہت قدر سخن
کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر
——
نہ خدا سے شکوہ، نہ بندوں سے شکایت۔ ان کی عمر بھر کی پونجی بس شعر گوئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے ان کا پورا کلام بھی ہم تک نہیں پہنچ سکا۔ غزل کے مسودے وہ تکیہ کے غلاف، گھڑے یا مٹکے میں ڈال دیتے تھے۔ وفات کے بعد ان کے شاگردوں نے کلام ترتیب دیا اور کام پورا نہ ہونے پایا تھا کہ 1857 کا غدر ہو گیا ذوق کی وفات کے تقریب چالیس سال بعد ان کا کلام شائع ہوا۔
——
یہ بھی پڑھیں : شعر و سخن کا ذوق ودیعت ہوا مجھے
——
ابراہیم ذوق کی زندگی کے واقعات زیادہ تر ان کی شاعرانہ زندگی اور سخنورانہ معرکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ذوق سے پہلے شہر میں شاہ نصیر کی استادی کا ڈنکا بج رہا تھا، وہ سنگلاخ زمینوں اور مشکل ردیفوں جیسے "سر پر طرہ ہار گلے میں’ اور ” فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں” کے ساتھ غزلیں کہہ کر شہر کو مرعوب کئے ہوئے تھے۔ ذوق جب ان سے زیادہ مقبول اور مشہور ہو گئے تو انہوں نے ذوق کو نیچا دکھانے کے لئے بہت سے ہتھکنڈے اپنائے لیکن ہر معرکہ میں ذوق ظفر یاب ہوئے۔ ذوق نے کبھی اپنی جانب سے چھیڑ چھاڑ کی ابتدا نہیں کی اور نہ کبھی ہجو لکھی۔
غالب کبھی کبھی چٹکیاں لیتے تھے۔ شاعری میں ابراہیم ذوق کا سلسلہ شاہ نصیر سے ہوتا ہوا سودا تک پہنچتا تھا۔ ذوق کے کلام میں میر کی سی درد مندی اور کسک کے فقدان پر پھبتی کستے ہوئے غالب نے کہا، "غالب اپنا بھی عقیدہ ہے بقول ناسخ*آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں”۔ غالب نے اپنے مقطع میں ناسخ کا نام لے کر یہ بھی اشارہ کر دیا کہ تمہارے استاد معنوی ناسخ بھی میر سے متاثر تھے اور تمہارے کلام میں میر کی کوئی جھلک تک نہیں۔ اس کے جواب میں ذوق نے کہا، "نہ ہوا پر نہ ہوا میرکا انداز نصیب*ابراہیم ذوق یاروں نے بہت زور غزل میں مارا” یعنی تمہارے یہاں کب میر جیسا سوز و گداز ہے بس خیالی مضمون باندھتے ہو۔ شہزادہ جوان بخت کی شادی کے موقع پر غالب نے اک سہرا لکھا جس میں شاعرانہ تعلی سے کام لیتے ہوئے انہوں نے کہا، ” ہم سخن فہم ہیں غالب کے طرفدار نہیں*دیکھیں کہہ دے کوئی اس سہرے سے بہتر سہرا”یہ بات بہادر شاہ کو گراں گزری۔ گویا ان پر چوٹ کی جا رہی ہے کہ وہ سخن فہم نہیں تبھی غالب کو چھوڑ کر ذوق کو استاد بنا رکھا ہے۔ انہوں نے ذوق سے فرمائش کی کہ اس سہرے کا جواب لکھا جائے۔ ذوق نے سہرا لکھا اور مقطع میں غالب کے شعر کا جواب دے دیا۔ "جن کو دعوائے سخن ہے یہ انہیں دکھلا دو*دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا”۔ بہر حال غالب ذوق پر چوٹیں کس ہی دیا کرتے تھے مگر اس خوبی سے کہ نام اپنا ڈالتے تھے اور سمجھنے والے سمجھ جاتے تھے کہ روئے سخن کس طرف ہے۔ "ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا*وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے”
——
یہ بھی پڑھیں : کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہ
——
ذوق نے غزل کے بنے بنائے دائرہ میں میں شاعری کی لیکن پامال مضامین کو فنکارانہ جدت سے پیش کر کے استادی کا حق ادا کر دیا۔ ان کے ان گنت شعر آج تک ضرب المثل بن کر لوگوں کی زبان پر ہیں۔
——
پھول تو دو دن بہار جاں فضا دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
——
اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے
——
بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
——
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام سے ہیں وہ جو تکلف نہیں کرتے
——
اے ذوق اتنا دختر رز کو نہ منہ لگا
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
——
وغیرہ۔ اخلاقی اور ناصحانہ باتوں میں ابراہیم ذوق نے خاص چابکدستی سے کام لیا ہے اور تمثیل کا پیرایہ ان کے اشعار میں تاثیر بھر دیتا ہےزبان کی صفائی، محاورہ کی صحت اور بندش کی چستی ابراہیم ذوق کی غزل کی عام خوبیاں ہیں۔ ان کے شعر کسی گہرے غور و فکر کی دعوت نہیں دیتے اور وہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جو روزمرہ کےمطابق ہو اور سننے والے کو کسی الجھن میں نہ ڈالے۔ فراق گورکھپوری ابراہیم ذوق کے اعلانیہ منکر ہونے کے باوجود لکھتے ہیں، "آرٹ کے معنی ہیں کسی چیز کو بنانا اور فن کے لحاظ سے ذوق کا کارنامہ بھلایا ہی نہیں جا سکتا۔ اس کارنامہ کی اپنی ایک حیثیت ہے۔ ابراہیم ذوق کے یہاں چیزیں، جو ہمیں محبوب و مرغوب ہیں، نہ پاکر ہمیں بے صبری سے ذوق کا دیوان الگ نہیں پھینک دینا چاہیے۔ اگر ہم نے ذرا تامل اور رواداری سے کام لیا تو اپنا الگ مذاق رکھتے ہوئے بھی ذوق کے مذاق سخن سے ہم لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔” فراق ذوق کی شاعری کو” پنچایتی شاعری” کہتے ہیں لیکن ان کے شعر
——
رخصت اے زنداں جنوں زنجیر در کھڑکائے ہے
مزدہ خار دشت پھر تلوا مرا کھجلائے ہے
——
کو شعری معجزہ بھی ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح شمس الرحمان فاروقی ذوق سے کچھ زیادہ متاثر نہ ہونے کے باوجود ان کی شاعری سے لطف اندوز ہونے کا اعتراف کرتے ہیں ، یہاں ذوق کا یہ شعر بڑا بر محل نظر آتا ہے۔
——
بعد رنجش کے گلے ملتے ہوئے رکتا ہے دل
اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے
——
منتخب کلام
——
کتنے مفلس ہو گئے کتنے تونگر ہو گئے
خاک میں جب مل گئے دونوں برابر ہو گئے
——
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
——
معلوم جو ہوتا ہمیں انجام محبت
لیتے نہ کبھی بھول کے ہم نام محبت
——
بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
——
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
——
مسجد میں اس نے ہم کو آنکھیں دکھا کے مارا
کافر کی شوخی دیکھو گھر میں خدا کے مارا
——
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے
——
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی
تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے
خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں
پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے
پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے
شعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں
پر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے
ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے
آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی
جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے
نہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہرگز
ہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے
سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا
چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے
لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں
اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے
رخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم
مہر و ماہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے
ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں
یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
——
یہ بھی پڑھیں : آپ کا حسن عطا، حسن ادا اچھا لگا
——
آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
ہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا
جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر
جو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا
بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالا
لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا
ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنے
لینے کو خبر اس کی اجل جائے تو اچھا
کھینچے دل انساں کو نہ وہ زلف سیہ فام
اژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا
تاثیر محبت عجب اک حب کا عمل ہے
لیکن یہ عمل یار پہ چل جائے تو اچھا
دل گر کے نظر سے تری اٹھنے کا نہیں پھر
یہ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جائے تو اچھا
فرقت میں تری تار نفس سینے میں میرے
کانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا
اے گریہ نہ رکھ میرے تن خشک کو غرقاب
لکڑی کی طرح پانی میں گل جائے تو اچھا
ہاں کچھ تو ہو حاصل ثمر نخل محبت
یہ سینہ پھپھولوں سے جو پھل جائے تو اچھا
وہ صبح کو آئے تو کروں باتوں میں دوپہر
اور چاہوں کہ دن تھوڑا سا ڈھل جائے تو اچھا
ڈھل جائے جو دن بھی تو اسی طرح کروں شام
اور چاہوں کہ گر آج سے کل جائے تو اچھا
جب کل ہو تو پھر وہ ہی کہوں کل کی طرح سے
گر آج کا دن بھی یوں ہی ٹل جائے تو اچھا
القصہ نہیں چاہتا میں جائے وہ یاں سے
دل اس کا یہیں گرچہ بہل جائے تو اچھا
ہے قطع رہ عشق میں اے ذوقؔ ادب شرط
جوں شمع تو اب سر ہی کے بل جائے تو اچھا
——
دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں
شمع ہے اک سوزن گم گشتہ اس کاشانہ میں
میں ہوں وہ خشت کہن مدت سے اس ویرانے میں
برسوں مسجد میں رہا برسوں رہا مے خانہ میں
میں وہ کیفی ہوں کہ پانی ہو تو بن جائے شراب
جوش کیفیت سے میری خاک کے پیمانہ میں
برق خرمن سوز دانائی ہے نافہمی تری
ورنہ کیا کیا لہلہاتے کھیت ہیں ہر دانہ میں
کس نزاکت سے ہے دیکھو اتحاد حسن و عشق
زلف واں شانے نے کھینچی درد ہے یاں شانہ میں
وحشت و ناآشنائی مستی و بیگانگی
یا تری آنکھوں میں دیکھی یا ترے دیوانہ میں
عشق کو نشوونما منظور ہے کب ورنہ سبز
تخم اشک شمع ہو خاکستر پروانہ میں
ہوش کا دعویٰ ہے بے ہوشوں کو زیر آسماں
خم نشیں مثل فلاطوں سب ہیں اس خم خانہ میں
پتھروں میں ٹھوکریں کھاتا ہے ناحق سیل آب
پوچھو کیا لے جائے گا آ کر مرے غم خانہ میں
ایک پتھر پوجنے کو شیخ جی کعبے گئے
ذوقؔ ہر بت قابل بوسہ ہے اس بت خانہ میں
——
یہ بھی پڑھیں : معروف کلاسیکل شاعر شیخ ابراہیم ذوق کا یوم پیدائش
——
کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے
نہ دے شراب ڈبو کر کوئی کباب تو دے
بجھے گا سوز دل اے گریہ پل میں آب تو دے
دگر ہے آگ میں دنیا یوں ہی عذاب تو دے
گزرنے گر یہ مرے سر سے اتنا آب تو دے
کہ سر پہ چرخ بھی دکھلائی جوں حباب تو دے
ہزاروں تشنہ جگر کس سے ہوئیں گے سیراب
خدا کے واسطے تیغ ستم کو آب تو دے
تمہارے مطلع ابرو پہ یہ کہے ہے خال
کہ ایسا نقطہ کوئی وقت انتخاب تو دے
در قبول ہے درباں نہ بند کر در یار
دعائے خیر مری ہونے مستجاب تو دے
کھلے ہے ناز سے گلشن میں غنچۂ نرگس
ذرا دکھا تو اسے چشم نیم خواب تو دے
بلا سے آپ نہ آئیں پہ آدمی ان کا
تسلی آ کے مجھے وقت اضطراب تو دے
ہوا بگولے میں ہے کشتگان زلف کی خاک
کہ بعد مرگ بھی معلوم پیچ و تاب تو دے
بلا سے کم نہ ہو گریہ سے میرا سوز جگر
بجھا پر ان کی ذرا آتش عتاب تو دے
شہید کیجیو قاتل ابھی نہ کر جلدی
ٹھہرنے مجھ کو تہ تیغ اضطراب تو دے
شکار بستۂ فتراک کو ترے مقدور
ہوا نہ یہ بھی کہ بوسہ سر رکاب تو دے
دل برشتہ کو میرے نہ چھوڑو مے خوارو
جو لذت اس میں ہے ایسا مزا کباب تو دے
نشے میں ہوش کسے جو گنے حساب کرے
جو تجھ کو دینا ہیں بوسے بلا حساب تو دے
جواب نامہ نہیں گر تو رکھ دو نامۂ یار
جو پوچھیں قبر میں عاشق سے کچھ جواب تو دے
رکھے ہے حوصلہ دریا کب اہل ہمت کا
نہیں یہ اتنا کہ بھر کاسۂ حباب تو دے
کہاں بجھی ہے تہ خاک میری آتش دل
کہو ہوا سے ہلا دامن سحاب تو دے
خنک دلوں کی اگر آہ سرد دوزخ میں
پڑے تو واقعی اک بار آگ داب تو دے
کرے گا قتل وہ اے ذوقؔ تجھ کو سرمے سے
نگہ کی تیغ کو ہونے سیاہ تاب تو دے
پہنچ رہوں گا سر منزل فنا اے ذوقؔ
مثال نقش قدم کرنے پا تراب تو دے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات