احسن مارہروی کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر، داغ دہلوی کے خاص شاگرد احسن مارہروی کا یوم پیدائش ہے

احسن مارہروی(پیدائش: 9 نومبر 1876ء— وفات: 30 اگست 1940ء)
——
پیدائش
——
احسن مارہروی بروز جمعرات 21 شوال 1293ھ مطابق 9 نومبر 1876ء کو مارہرہ میں پیدا ہوئے۔ خاندان میں علم و فضل کے چرچے تھے ۔ ہر شخص صاحبِ فضل و کمال تھا ۔ مولانا ماں باپ کی تنہا اولاد تھے ۔ ان کی پیدائش پہ ہر طرح کی خوشیاں منائی گئیں ۔
——
تعلیم و تربیت
——
احسن مارہروی نے ابتدائی تعلیم اپنے خاندانی مکتب میں حاصل کی ۔ 9 برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرنا شروع کیا ۔ 16-17 سال کی عمر تک تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ 17-18 سال کی عمر میں والدین کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کی ۔
اس چھوٹی سی عمر میں آپ نے مسجدِ اقصیٰ میں بہ سلسلۂ تراویح قرآن سنایا اور وہاں کے حفاظ اور اہلِ علم نے آپ کے ذہنِ رسا کی داد دی ۔
عرب میں ہی آپ نے قرآت سیکھی ۔
——
ابتدائے شاعری
——
شاعری کا ذوق مولانا احسن مارہروی کو فطری تھا ۔ وہ کم عمری میں شعر کہنے لگے تھے ۔ باقاعدہ شاعری 18 سال کی عمر میں شروع کی ۔
والد کے وفات کے بعد چھوٹی سی عمر میں مولانا کے کندھوں پہ ذمہ دار آ پڑی ۔ اتفاق سے ایک بزرگ خاندان میں موجود تھے ۔ لہذا جب تک وہ زندہ رہے مولانا کو کسی خاص پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : معین احسن جذبی کا یومِ وفات
——
رات دن شعر و شاعری کے چرچے رہتے تھے اور شب و روز ادب و شعر کی گتھیاں سلجھائی جاتی تھیں ۔
اسی زمانہ میں مولانا احسن مارہروی نے ریاضِ سخن کے نام سے ایک گلدستہ نکالا ۔ اس میں ہم طرحی غزلیں شائع ہوتی تھیں ۔
——
داغؔ کی شاگردی
——
جذبۂ سخں جب زیادہ ترقی پذیر ہوا تو 1896 ء میں حضرتِ داغؔ سے تلمذ حاصل کیا ۔ یہ تلمذ خط کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا ۔
ملاحظہ ہو :
” عالی جاہا ! میں ایک مشہور قصبہ مارہرہ کا رہنے والا ہوں ۔ ہمیشہ سے آپ کا کلام دیکھنے کا شوق رہا ۔ اب طفننا الطبع میں نے بھی کچھ کہنا شروع کر دیا ہے مگر بے اصلاحِ استاد شعر گوئی کس مصرف کی ؟ ۔
——
شعر گوئی اگرچہ آساں ہے
لیکن اُستاد کی ضرورت ہے
——
اگرچہ مجھ سے ہیچ میرز کا کلام ایسا نہیں ہے جسے آپ سے استاد دیکھیں مگر میں نے یہ خیال کر کے کہ :
——
تری آتش بیانی داغؔ روشن ہے زمانے پر
پگھل جاتا ہے مثلِ شمع دل ہر اک سخنداں کا
——
امیدوار ہوں کہ مجھ کو بھی حلقہ بگوشوں میں داخل کیجیے اور سرفرازفرمائیے ۔
( 27 جون 1896ء از زبانِ داغ )
حضرتِ داغؔ نے جو جواب دیا وہ بھی ملاحظہ ہو :
آپ کا نام شاگردوں میں لکھا گیا ، اطمینان رکھیے ، ڈاکٹر مہدی حسن صاحب نے تاریخ گوئی میں کتاب لکھی ہے وہ ضرور منگوائیے ۔
( داغ دہلوی ، 5 اگست 1896 ء )
تین یا چار سال تک مولانا احسن مارہروی نے استاد سے بذریعہ خط و کتابت اصلاح لی ۔
——
یہ بھی پڑھیں : مناظر احسن گیلانی کا یوم پیدائش
——
اگست 1896ء میں اپنی جائداد بزرگِ خاندان کے انتظام میں دے کر حیدر آباد پہنچے اور استاد سے پہلی ملاقات کا شرف حاصل کیا ۔
مولانا احسن مارہروی کے قیامِ حیدر آباد کو ان کی زندگی میں بہت اہمیت حاصل ہے ۔ شاعری کا ابتدائی دور فنِ شعر سیکھنے اور اس پہ عبور حاصل کرنے کا زور و شور ، داغؔ جیسے مرنجانِ مرنج استاد کے فیوض اور پھر احسنؔ جیسا شاگرد ، شب و روز استاد کی خدمت میں رہ کر انہوں نے پورا پورا استفادہ حاصل کیا ۔
استاد کی محبت اور لگن جو ان کے دل میں حیدر آباد کے قیام کے دوران پیدا ہوئی وہ زندگی کے آخری لمحات تک ان سے جدا نہ ہوئی ۔
اواخر جون 1902 ء میں مولانا احسن مارہروی حیدر آباد سے وطن واپس چلے آئے ۔ داغ کے وفات پانے کے بعد مولانا نے مارہرہ چھوڑ دیا اور لاہور کا رخ کیا ۔
ادبی ذوق ہمراہ تھا ، 1905 ء میں ہی مولانا نے لاہور ہی سے داغؔ کا آخری دیوان یادگارِ داغؔ شائع کروایا ۔
دادا کی علالت کا سن کر وطن واپس آئے اور دادا کی وفات کے بعد مارہرے میں رہنا ان کی مجبوری بن گیا ۔
فصیح الملک کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا جو کہ کلیتاََ داغؔ کی شاعری ، داغؔ کی زبان ، حالات اور معنوی وابستگان کو نمایاں کرنے کے لیے مخصوص تھا ۔
یہ رسالہ کئی سال تک جاری رہا ۔ 1921ء میں مولانا کو علی گڑھ یونیورسٹی میں ملازمت مل گئی ۔ 1921 ء سے 1938ء تک وہ علی گڑھ یونیورسٹی سے وابستہ رہے ۔
——
وفات
——
مولانا احسن مارہروی مرحوم اپنے استاد جناب داغؔ کے سچے پرستار اور شیدا تھے ۔ اگست 40ء کے شروع میں وہ مرض کاربنکل کا شکار ہوئے ۔ پندرہ بیس دن مارہرہ اور علی گڑھ میں علاج و معالجہ ہوا اس کے بعد پٹنہ تشریف لے گئے ۔ وہاں 30 اگست 1940 ء کو وفات پائی ۔
——
منتخب کلام
——
حمدِ باری تعالیٰ
——
یہ ادنیٰ حمدِ خالق میں ہے آدابِ رقم میرا
کہ چلتا ہے تو سر کے بل ہی چلتا ہے قلم میرا
مجھے بھرنے دے سرد آہیں کہ شب بیدار فرقت میں
اُڑاتی ہے عبث خاکا نسیمِ صبح دم میرا
اذیت پاؤں تکلیفیں اٹھاؤں سختیاں جھیلوں
مگر ٹھوکر نہ کھائے راہ میں تیری قدم میرا
تری جاں بخشیوں پر بھی ہوں اپنی جان کا دشمن
عجب ہے وہ کرم تیرا ، غضب ہے یہ ستم میرا
وہ بیکس تھا وہ بے بس ہوں کہ دنیا میں ہوا احسنؔ
نہ کوئی جیتے جی میرا ، نہ کوئی مرتے دم میرا
جو بگڑی ابتدا میری تو کچھ پروا نہیں اس کی
مگر ہو خاتمہ بالخیر احسنؔ مرتے دم میرا
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
خدا کو ہے کتنا خیالِ محمد
کیا رد نہ کوئی سوالِ محمد
بشر میں کہاں ہے مثالِ محمد
جمالِ خدا ہے جمالِ محمد
مجھے محو اس درجہ کر دے الہٰی
رہے خواب میں بھی خیالِ محمد
تمنا ہے یارب کہ اپنے رگ و پے
بنیں رشتہ ہائے نعالِ محمد
بشر کیا حقیقت سے ان کی ہو واقف
خدا ہے خبردارِ حالِ محمد
فقیروں کو فخرِ سلاطیں بنایا
زہے لطف و جود و نوالِ محمد
جو کہنا وہ کرنا ، جو کرنا وہ کہنا
نہیں مختلف حال و قالِ محمد
نہ ہو کیوں حدیث ان کی تفسیرِ قرآں
کہ وحیِ خدا ہے مقالِ محمد
ضیائے کواکب سے کیا اس کو نسبت
نہیں عارضی نورِ خالِ محمد
کھلے عشقِ صادق کی اصلی حقیقت
سنو داستانِ بلالِ محمد
خود اُمی رہے سب کو عالم بنایا
یہ ادنیٰ سا تھا اک کمالِ محمد
خسارے میں وہ ہے جو ان کا عدو ہے
غضب ہے خدا کا جلالِ محمد
لحد میں ، قیامت میں ، دنیا میں احسنؔ
من و دست و دامانِ آلِ محمد
——
یہ بھی پڑھیں : معین احسن جذبی کا یومِ پیدائش
——
جبیں کعبے میں رکھدی یا سرِ کُوئے بُتاں رکھدی
غرض اب اٹھ نہیں سکتی ، جہاں رکھدی وہاں رکھدی
——
قطرۂ خونِ تمنا ہے کہ نیرنگِ طلسم
بہہ گیا تو اشک ٹھہرا جم گیا تو دل ہوا
——
ہوئی جاتی ہے آخر بزم ارباب کمال احسنؔ
اُٹھے جاتے ہیں وہ بھی جو یہاں دو چار بیٹھے ہیں
——
خوش اعتمادِ عشق کا اللہ رے حسنِ ظن
وہ جھوٹ بولتے تھے ، مجھے اعتبار تھا
——
لائے ہو جنازہ تو مجھے دفن بھی کر دو
اٹھے ہیں جہاں چار قدم ایک قدم اور
——
چمکتی ہے بہت دور آسماں پر برقِ سوزندہ
مگر مجھ کو قریبِ آشیاں معلوم ہوتی ہے
——
شمع گُھل گُھل کر دیا کرتی ہے شعلے کو فروغ
سوز ہے مظلوم کا ، ظالم کا سازِ زندگی
——
امیدِ وصل ، شوقِ دید ، دردِ دل ، غمِ ہجراں
یہی اچھے برے دو چار ہیں احسنؔ کے یاروں میں
——
قاتل ہماری سختیٔ جاں سے ہوا خفیف
جب سر نہ کٹ سکا تو خود دل میں کٹ گیا
——
سب کچھ سہی غنچوں کو تری بات نہ آئی
ہر چند چڑایا کئے منہ تیرے دہن کا
——
اُسے چلتے نہ دیکھا بال جس تلوار میں دیکھا
مگر جوہر یہ تیغِ ابروئے خمدار میں دیکھا
——
دنیا کا رہا ہے دلِ ناکام نہ دیں کا
اس عشقِ بد انجام نے رکھا نہ کہیں کا
——
سچ کہا ہے غرض کی دنیا ہے
کوئی بے مطلب آشنا نہ ہوا
——
خوشی ہوتی ہے غم کے بعد احسنؔ یہ مثل سچ ہے
نہ کیوں کر میرے مرنے پر وہ ظالم شادماں ہوتا
——
ہلال و آسماں ہیں جامۂ وحشت کے دو ٹکڑے
کوئی خاکہ ہے دامن کا ، کوئی نقشہ گریباں کا
——
بٹتی ہے امیروں میں ترے حسن کی دولت
یہ مصرفِ خیرات سمجھ میں نہیں آتا
——
بہت بڑھ چڑھ کے دعوے چودھویں کا چاند کرتا ہے
تمہیں میری قسم اٹھنا ، ذرا تم بھی سنور جانا
——
سکوں جاتا ہے ، دل جاتا ہے ، صبر و ہوش جاتے ہیں
مگر الفت تری اے دشمنِ جانی نہیں جاتی
——
زبانِ عشق میں ہیں یہ نیاز و ناز کے معنی
کہ سجدوں کو جبیں کہیے ، جبیں کو آستاں کہیے
——
خواب میں ہم نے تجھے رشکِ قمر دیکھ لیا
ڈال کر پردۂ شب ، رُوئے سحر دیکھ لیا
اُس نے دل دیکھ لیا ، اُس نے جگر دیکھ لیا
اپنا اپنا خلش و درد نے گھر دیکھ لیا
شاملِ محفلِ جاناں ہوں یہ تقدیر کہاں
کبھی اُس راہ سے گزرا تو اُدھر دیکھ لیا
دیکھتے اور وہ کیا حالِ مریضِ وحشت
جاں بلب دیکھ لیا ، خاک بسر دیکھ لیا
سعیٔ مشکور رہِ شوق میں یوں ختم ہوئی
تم کو پہچان لیا ، غیر کا گھر دیکھ لیا
عشق کم ہمت و پسپا نظر آیا نہ کہیں
عجز تیرا مگر اے عقلِ بشر دیکھ لیا
اب تک افسانۂ نیرنگِ جہاں سنتے تھے
آ کے باتوں میں تری شعبدہ گر دیکھ لیا
دل کے آنے کو نہ کیوں جان کا جانا سمجھوں
درِ الفت جو کھلا موت نے گھر دیکھ لیا
پاؤں رکھتے تھے زمیں پر جو مغرور ، انہیں
تیری چوکھٹ پہ رگڑتے ہوئے سر دیکھ لیا
نہ ملی سیلِ حوادث سے کہیں مجھ کو پناہ
میں نے ساحل کو بھی بادیدۂ تر دیکھ لیا
جب مجھے اک نگہ ناز سے تسکیں نہ ہوئی
اُس نے پھر مُڑ کے باندازِ دگر دیکھ لیا
کوئی دیکھے یہ تماشائے تکلف کب تک
ہو چکا پردہ بس اب آؤ ادھر دیکھ لیا
مل گئی دادِ غمِ عشق کہ احسنؔ اس نے
سن لیا قصۂ دل ، زخمِ جگر دیکھ لیا
——
مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے
یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے
فغاں تو عشق کی اک مشق ابتدائی ہے
ابھی تو اور بڑھے گی یہ لے ابھی کیا ہے
تمام عمر اسی رنج میں تمام ہوئی
کبھی یہ تم نے نہ پوچھا تری خوشی کیا ہے
تم اپنے ہو تو نہیں غم کسی مخالف کا
زمانہ کیا ہے فلک کیا ہے مدعی کیا ہے
صلاح کار بنایا ہے مصلحت سے اسے
وگرنہ ناصح ناداں کی دوستی کیا ہے
دلوں کو کھینچ رہی ہے کسی کی مست نگاہ
یہ دل کشی ہے تو پھر عذر مے کشی کیا ہے
مذاق عشق کو سمجھو گے یوں نہ تم ناصح
لگا کے دل کہیں دیکھو یہ دل لگی کیا ہے
وہ رات دن نہیں ملتے تو ضد نہ کر احسنؔ
کبھی کبھی کی ملاقات بھی بری کیا ہے
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر، داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی کا یوم وفات
——
چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا
جس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانا
کسی معشوق کا عاشق سے خفا ہو جانا
روح کا جسم سے گویا ہے جدا ہو جانا
موت ہی آپ کے بیمار کی قسمت میں نہ تھی
ورنہ کب زہر کا ممکن تھا دوا ہو جانا
اپنے پہلو میں تجھے دیکھ کے حیرت ہے مجھے
خرق عادت ہے ترا وعدہ وفا ہو جانا
وقعت عشق کہاں جب یہ تلون ہو وہاں
کبھی راضی کبھی عاشق سے خفا ہو جانا
جب ملاقات ہوئی تم سے تو تکرار ہوئی
ایسے ملنے سے تو بہتر ہے جدا ہو جانا
چھیڑ کچھ ہو کہ نہ ہو بات ہوئی ہو کہ نہ ہو
بیٹھے بیٹھے انہیں آتا ہے خفا ہو جانا
مجھ سے پھر جائے جو دنیا تو بلا سے پھر جائے
تو نہ اے آہ زمانے کی ہوا ہو جانا
احسنؔ اچھا ہے رہے مال عرب پیش عرب
دے کے دل تم نہ گرفتار بلا ہو جانا
——
حوالہ جات
——
شعری انتخاب و تحریر : جلوۂ احسن از رفیق مارہروی
ناشر : نسیم بک ڈپو، لکھنؤ ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ