اردوئے معلیٰ

Search
اللہ تعالیٰ کا یہ بے پایاں کرم ہے کہ سرزمینِ پاکستان فروغ حمد و نعت کے لیے بہت سازگار ثابت ہوئی۔
الحمدللہ! یہاں فروغ پانے والا ’’نعتیہ ادب‘‘ پوری دنیا میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہاں سے اُٹھنے والی ہر ’’حمدیہ و نعتیہ تحریک‘‘ بے مثال اور یادگار ہوتی ہے۔
مرکزِ حمد و نعت یعنی شہر کراچی اپنی دیگر اہم خصوصیات کے ساتھ ساتھ بنیادی طور سے ’’شہرِ حمد و نعت‘‘ کہلانے کا مستحق ہے۔ اس شہر میں سب سے زیادہ ’’شعبۂ حمد و نعت‘‘ کی ہر جہت اور ہر سمت میں تحقیقی و تنقیدی اور علمی نوعیت کے بلند پایہ کام ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف اوقات میں گراں قدر اور نایاب اضافے سامنے آرہے ہیں۔
شہرِ حمد و نعت کراچی کی انفرادی خصوصیت میں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہاں ملک گیر شہرت رکھنے والے نعت گو شعراء کی ایک فوج ظفر موج موجود ہے۔ جس میں معمر ترین شعراء، جوان شعراء اور نوجوان نعت گو شعراء سب ہی یکساں طور پر فروغِ حمد و نعت کے لیے کوشاں ہیں۔
ایسے ہی عزیز ترین نعت گو شعراء میں جواں ہمت اور ہردل عزیز نعت گو عزیز الدین خاکیؔ بھی شامل ہیں۔عزیز الدین خاکیؔ کویہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے نعت خوانی کے ذریعہ اپنی نعت گوئی کے تابناک سفر کا آغاز کیا۔ آج وہ عوام الناّس میں نعت خواں اور نعت گو کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔
نعتیہ ادب میں یادگار خدمات انجام دینے والوں میں ایک نمایاں نام عزیز الدین خاکیؔ کا بھی شامل ہے۔ عزیزالدین خاکیؔ وہ خوش نصیب نعت گو ہیں جو ہمہ وقت نعت خوانی، نعت گوئی اور نعت فہمی کے جذبے سے سرشار رہتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : عزیز احمد کا یوم پیدائش
——
بزرگوں اور بڑوں کا احترام کرنے والے عزیز الدین خاکیؔ ’’باادب با نصیب‘‘ کے حوالے سے اپنی زندگی کے روز و شب گزارتے ہیں۔ ان کی اس بانصیبی نے انھیں ہردل عزیز اور دل میں گھر کر دینے والا بنا دیا ہے۔ ان کی شخصیت کا معیار بہت بلند ہے وہ ہمیشہ نعتیہ ادب میں ایسے مسلسل کام کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے اسلاف کی یاد دلاتے ہوں۔ خاکی شخصی (P.R. Ship) کے سحر میں گرفتار نہیں، بلکہ وہ ہر کام کو ا للہ رب العزت کی خوشنودی اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی عطا کا فیضان سمجھ کر کرتے ہیں۔ اسی جذبے سے سرشار ہو کر وہ ہر کام کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بڑے سے بڑا اور مشکل ترین کام بھی ان کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ جہاں لوگوں کے لیے دروازے بند ہوتے ہیں، وہاں خاکیؔ کے لیے در وا ہوتے جاتے ہیں۔ اتنی کم مدت میں اور اس جذبۂ صادق کے ساتھ ایسی مثال آپ کو مشکل نظر آئے گی۔
عزیز الدین خاکی معروف نعت خواں و نعت گو ہیں۔ شعبہ نعت میں انھوں نے اپنی کم عمری کے باوجود کافی کام کیے ہیں۔ ان تمام کاموں کی تفصیل ترتیب کے ساتھ ملاحظہ کیجئے۔
معروف خوش الحان نعت خواں و نعت گو عزیز الدین خاکیؔ کا پیدائشی نام شیخ محمد عزیز الدین ہے۔ 20فروری 1966ء میں پکا قلعہ حیدرآباد (سندھ) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ مستقل قیام کراچی میں ہے۔ ذریعہ معاش ذاتی کاروبار ہے۔
دعوتِ اسلامی کے امیر حضرت مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری مدفیوضہم سے بیعت ہیں۔
خاکیؔ نے ابتداء میں معروف نعت گو محمد یامینؔ وارثی سے اصلاح لی۔ بعدازاں ممتاز نقاد و شاعر حضرت بابا سیّد رفیق عزیزی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے۔
1980ء میں عزیزالدین خاکیؔ کی نعت خوانی کا باقاعدہ آغاز ہوا نعت خوانی میںان کی سب سے پہلے محرک والدہ صاحبہ اور ماموں محمد بخش (میلاد خواں) تھے۔ اس کے علاوہ مشہور نعت خواں مرزا یٰسین بیگ اور حاجی صادق مراد صدیقی ؒ سے بھی راہنمائی حاصل کرتے رہے۔ والد بزرگوار (شیخ محمد حکیم الدین قطبی رزّاقی قادری) اور برادر مکرم (محمد نصیرالدین) بھی گھر میں نہایت عقیدت و احترام سے محافل میلاد منعقد کرواتے تھے جس کی وجہ سے ان کے شوق کو جِلا ملتی رہی۔
انھوں نے سب سے پہلی نعت اپنے گھر میں پڑھی۔ یہی نعت ان کی نعت خوانی کا آغاز ہے۔ ان کی ابتدائی نعت سکندرؔ لکھنوی (مرحوم) کی یہ مشہور زمانہ نعت ہے۔
——
میرے دل میں ہے یادِ محمدمیرے ہونٹوں پہ ذکر مدینہ
تاجدارِ حرم کے کرم سے آگیا زندگی کا قرینہ
——
اس نعت کے بعد ان کی نعت خوانی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ یہ قمرالدین انجمؔ مرحوم کی سرپرستی میں ہونے والی مستقل محفل نعت جامع مسجد آرام باغ کراچی میں پابندی سے شرکت کرنے لگے۔ اور یہیں سے عزیز الدین خاکیؔ نعتیہ حلقوں میں متعارف ہوتے رہے۔
عزیز الدین خاکیؔ نے اپنی نعت خوانی کے ساتھ ساتھ ابتداء میں مضمون نگاری پر بھی توجہ دی۔ اس میں وہ کامیاب بھی رہے ، کیونکہ ان کے متعدد مضامین اہم موضوعات پر مختلف اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہے۔ بعدازاں ان کی فکر کا محور صرف فروغ نعت کے لیے مخصوص ہو گیا۔
نعتیہ آڈیو کیسٹ
خوبصورت اور مترنم آواز قدرت کا بہترین عطیہ ہے۔ خاکیؔ اس دولت خاص سے بہرہ ور ہیں۔ اسے برتنے کا سلیقہ بھی خوب جانتے ہیں۔ انھوں نے اپنی آواز کا مصرف صرف ثنائے سرکارaکو بنا لیا ہے۔ انھوں نے محافل نعت میں شرکت کے علاوہ اپنی خوبصورت پُراثر اور پاٹ دار آواز کو نعتیہ آڈیو کیسٹوں میں بھی محفوظ کیا ہے۔
انوارِ مدینہ، ذکر صل علیٰ، مدینے کی حسرت اور مدینے کے جلوے یہ چار آڈیو کیسٹ ان کی آواز میں اب تک ریلیز ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ دورِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے 2004ء میں عزیزالدین خاکیؔ کی نعتوں پر مشتمل ویڈیو DVD ’’سرکاراپنا روضۂ انور دکھایئے‘‘ کے نام سے ویژن کمپنی کراچی نے ریلیز کی۔ 2013ء میں خاکی کی آواز میں ’’آئینہ صل علیٰ‘‘ کے نام سے بھی ایک آڈیو CD محفلِ ذکر، پی ای سی ایچ ایس کراچی نے ریلیز کی جسے آج تک پزیرائی مل رہی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
——
نعتیہ انتخاب
فروغ نعت خوانی میں مختلف ’’نعتیہ منتخبات‘‘ کو بھی حد درجہ اہمیت حاصل ہے۔ اس حقیقت سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ صرف وہ نعتیہ انتخاب مقبول عام ہوئے ہیں جنھیں عوامی انداز سے ترتیب دیا گیا۔
عزیز الدین خاکیؔ بھی بنیادی طور پر نعت خوانوں کی صف میں شامل ہیں۔ انھوں نے اپنے تجربے اور عوام الناّس کی پسند کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’نعتیہ انتخاب‘‘ ترتیب دیئے جو بہت مقبول ہوئے۔ اکثر محافل نعت میں یہ دیکھے جاتے ہیں۔
انوارِ مدینہ 1988ء
عزیز الدین خاکیؔ کا مرتب کردہ یہ پہلا نعتیہ انتخاب ہے جسے جیبی انداز میں 1988ء میں شائع کیا گیا جبکہ اس کا دوسرا ایڈیشن 1992ء میں طبع ہوا۔ یکے بعد دیگرے اس کے متعدد ترمیم و اضافے کے ساتھ ایڈشن شائع ہوتے رہتے ہیں۔
نورالہدیٰ 1991ء
خاکیؔ کا یہ دوسرا نعتیہ انتخاب ہے جسے 1991ء میں شائع کیا گیا۔ اسے بھی پہلے جیبی سائز میں طبع کیا گیا متذکرہ نعتیہ انتخاب میں جو قدر مشترک ہے وہ ان دونوں کا مقبول عام ہونا ہے۔ انھیں بڑی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ نورالہدیٰ کے بھی کئی ایڈیشن زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکے ہیں۔
مناقب اولیاء 1992 ء
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ اولیائے کرام کی مناقب پر مشتمل جداگانہ انتخاب ہے۔ جس میں نعت خواں حضرات کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناقب کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جیبی انداز میں یہ انتخاب 1992ء میں شائع ہوا۔ مناقب کے باب میں اس انتخاب کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔
عزیز الدین خاکی کی تمام کتابیں تنظیم استحکامِ نعت (ٹرسٹ) قادری ہاؤس 33-620/بی کورنگی نمبر 21/2 کراچی کے تعاون سے شائع ہوئی ہیں جنھیں مختلف اداروں نے بھی شائع کیا ہے۔
سابقہ سطور میں ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ عزیز الدین خاکیؔ بنیادی طور سے نعت خوانوں کے زمرے میں شامل ہیں۔ وہ اپنی نعت خوانی کے زمانے کو فخریہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعت خوانی کے توسط سے مجھے ’’نعت گوئی‘‘ کا قرینہ آیا۔
خاکیؔ کی نعت گوئی
1986ء سے عزیز الدین خاکیؔ نے اپنی نعتیہ شاعری کا آغاز کیا۔ نعت گوئی میں معروف نعت گو محترم محمد یامینؔ وارثی ان کے ابتدائی ’’اصلاح کار‘‘ تھے۔ بعدازاں حضرت بابا سیّد رفیقؔ عزیزی یوسفی تاجی (علیگ) کے سامنے بھی زانوئے ادب طے کیے۔
خاکیؔ روایتی انداز میں خوب صورت شعر کہتے ہیں۔ بحریں عموماً چھوٹی اور مترنم ہوتی ہیں۔ مشکل پسندی اور فی زمانہ جدت طرازی کی راہ بھی کبھی کبھی اختیار کرتے ہیں۔ وہ اپنا مافی الضمیر سادگی سے بیان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعتیہ شاعری عوامی حلقوں میں فروغ پارہی ہے۔ ان کی کہی اور ازخود پڑھی نعتیں نعت خواں حضرات ذوق و شوق سے پڑھتے اور سنتے ہیں۔
خاکیؔ کی شہرت اور مقبولیت کا ایک راز ان کے پڑھنے کا خوب صورت انداز ہے۔ وہ اپنی ہر نعت کو نہایت دل نشیں انداز سے پڑھتے ہیں۔ ایک تو ان کا کلام عام فہم ہوتا ہے پھر ان کی پاٹ دار آواز اور جاندار طرز اسے دو آتشہ بنا دیتی ہے۔
عزیز الدین خاکیؔ نے سب سے پہلے جو نعت کہی اس کے اشعار پیش خدمت ہیں:
——
رب کا پیغام لانے والا ہے
سب کے دل میں سمانے والا ہے
جن نگاہوں کو دیدِ حضرت ہو
ان میں پھر کیا سمانے والا ہے
——
یہ نعت جس وقت کہی گئی تھی اسے شاید قبولیت و سعادت کی گھڑی کہتے ہیں کیونکہ پھر اس کے بعد خاکیؔ اس سعادت سے مسلسل ہمکنار رہنے لگے۔
بتوفیق خداوندی و بتائید مصطفوی a اس خزانے میں ایسا بیش بہا اضافہ ہوا کہ اب وہ ماشاء اللہ صاحب ُکتب نعت گو شعراء کی صف میں شامل ہیں۔ یوں تو ان کی بہت سی نعتیں قبول عام حاصل کر چکی ہیں مگر ان کی کہی ہوئی ایک نعت تو بہت مقبول ہوئی ہے اور یہی نعت ان کی وجہِ شہرت بن گئی ہے خاص طور سے اس نعت کا مطلع تو بہت عام ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : صبا اکبر آبادی کا یومِ وفات
——
سرکار اپنا روضۂ انور دکھایئے
ہم درد کے ماروں کو بھی طیبہ بلایئے
——
اس کے علاوہ ان کی دیگر نعتیں بھی قبول عام حاصل کرچکی ہیں۔ صرف چند نعتوں کے مطلعے پیش خدمت ہیں۔
——
یا نبی چشم کرم فرمایئے
اپنے روضے پر ہمیں بلوایئے
——
درِ سرکار پر جو جا رہے ہیں
وہ اپنے بخت کو چمکا رہے ہیں
——
یہ مجھ پر بھی ہے احسانِ محمد
کہ میں بھی ہوں ثناء خوانِ محمد
——
ذکرِ خیرالورا 1990ء
یہ عزیز الدین خاکیؔ کا پہلا نعتیہ مجموعۂ کلام ہے جسے مولانا محمد اکبرؔ وارثی اکادمی، وارثی بک ہاؤس اللہ والی مارکیٹ، لانڈھی نمبر6 کراچی نے شائع کیا تھا۔ اس کے صفحات 64، سائز 20×30=16 اور سال اشاعت ستمبر 1990ء ہے۔
ذکر خیرالورا کی نعتوں سے خاکیؔ کو ایسی تحریک و توانائی ملی کہ نعتوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہوگیا۔الحمدللہ ! وہ آج صاحبِ کتب شعرا کی فہرست میں شامل ہیں۔
ذکرِ صل علیٰ 1994ء
خاکیؔ کا یہ دوسرا کلام نعتیہ ہے جس میں نئی کہی گئی نعتیں اور ذکر خیرالورا کا بھی تمام کلام شامل ہے۔ یہ بڑے سائز 23×36=16 میں ہے۔ اسے اہتمام سے شائع کیا گیا ہے اس کا سال اشاعت 1994ء ہے۔
’’ذکر صل علیٰ‘‘ کی اشاعت خاکیؔ کے لیے بہت خوش آیند اور بابرکت ثابت ہوئی۔ ’’ذکر صل علیٰ‘‘ طبع ہونے کے بعد دنیائے نعت کی اہم اور مقتدر و معروف شخصیات خاکیؔ کی جانب متوجہ ہوئیں۔
نغماتِ طیبات 1996ء
عزیز الدین خاکیؔ کے تیسرے کلام نعتیہ کا نام ’’نغماتِ طیبات‘‘ ہے۔ عزیزالدین خاکیؔ تسلسل سے نعتیں کہہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت گوئی الحمدللہ ! عوامی حلقوں میں مقبول ہونے کے علاوہ خواص کی بھی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
عزیز الدین خاکیؔ کی فکر کو پرِ پرواز مل رہی ہے۔ نئے انداز سے نعتیں کہنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ نغمات طیبات کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے انداز و آہنگ میں وسعت اور نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
نغماتِ طیبات کی حمدیں، نعتیں اور آزاد نظمیں پڑھنے والے کو متاثر کرتی ہیں۔ عزیزالدین خاکیؔ نے حمد و نعت کے علاوہ بستان مناقب کا بھی ایک وقیع حصہ شائع کیا ہے۔
مناقب کے باب کو دیکھ کر اندازا ہوتا ہے کہ عزیز الدین خاکیؔ فن مناقب میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ ان نفوس قدسیہ کی مناقب بھی انھوں نے شاندار انداز سے نظم کی ہیں۔
اہم بات!
ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی (شہید) کے مرتب کردہ مجلہ اوج لاہور کے ’’ نعت نمبر‘‘ جلد اوّل (1992-93ء) جس میں ’’نعت گو شعراء سے قلمی مذاکرہ‘‘ کے عنوان سے ایک حسین بزم سجائی گئی تھی جس میں وطن عزیز کے ا نتہائی مقبول و مقتدر نعت گو شعراء شامل ہیں۔ متذکرہ عنوان کے حوالے سے اس پہلی جلد کا اختتام عزیزالدین خاکیؔ کے قلمی مذاکرے پر ہوا ہے۔
فخرِ کون و مکاں 1999ء
’’فخرِ کون و مکاں‘‘ عزیز الدین خاکیؔ کی نعتوں پر مشتمل مجموعہ کلام ہے۔ اسے ضیاء الدین پبلی کیشنز کھارادر کراچی نے جولائی 1999ء میں شائع کیا تھا۔
جیبی انداز میں شائع ہونے والے اس نعتیہ مجموعہ کلام میں عزیزالدین خاکیؔ کے شائع ہونے والے تینوں نعتیہ مجموعہ ہائے کلام ذکرِ خیرالورا، ذکرِ صل علیٰ اور نغماتِ طیبات کی نعتیں شامل ہیں۔
’’فخرِ کون و مکاں‘‘ میں ایک حمدیہ اور 82 نعتیہ کلام شامل ہیں۔ جیبی انداز کتابیں پڑھنے والوں کی دنیا الگ ہے۔ یہ کتابیں زیادہ تر متوسط طبقے کی دسترس میں ہوتی ہیں۔ کم آمدنی والے اور بالخصوص نئے نعت خواں حضرات ان کتب کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیبی انداز کی کتب زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔
اب روایت بن رہی ہے کہ مشہور اور قادرالکلام شعراء کے بڑے بڑے نعتیہ مجموعہ ہائے کلام بھی جیبی انداز میں منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ امر خوش آیند اور لائق تحسین بھی ہے۔
بستانِ مناقب 1999ء
’’بستانِ مناقب‘‘ عزیز الدین خاکیؔ کی شعری تصنیف ہے۔ بستانِ مناقب کی بزم میں خلفائے راشدین، صحابہ کرام و اہل بیت اطہار کے علاوہ اولیاء اللہ و بزرگانِ دین اور عصر حاضر کے علماء و مشائخ کی مناقب شامل ہیں۔ بستانِ مناقب کو ضیاء الدین پبلی کیشنز کھارادر کراچی نے جولائی 1999ء میں شائع کیا تھا۔
’’بستانِ مناقب‘’ میں ایک حمد باری تعالیٰ اور ایک نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم موجود ہے پھر اس کے بعد سلسلۂ مناقب کا آغاز ہوا ہے۔ 38 مناقب اس مجموعہ کلام میں شامل ہیں۔ ’’بستانِ مناقب‘‘ 80 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے جیبی انداز میں شائع کیا گیا ہے۔ مناقب کے عنوان سے یہ ایک یادگار اضافہ ہے۔
’’حبیبی یا رسول اللہ‘‘ 1999ء
’’یارسول اللہ‘‘ کی ردیف میں کہی گئی نعتوں کا ایک اہم انتخاب ہے جسے عزیزالدین خاکیؔ نے مرتب کیا ہے۔ ’’حبیبی یارسول اللہ‘‘ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس موضوع پر اب تک شائع ہونے والے کاموں میں سب سے زیادہ ضخیم اور وقیع کام ہے۔
عزیزالدین خاکیؔ نے اس کام کے سلسلے میں گزشتہ کاموں سے استفادہ ضرور کیا ہے مگر ان کی مستقل لگن اور محنت نے ایسے لوگوں سے بھی اس پابند موضوع پر نعتیں کہلوالی ہیں جو اس مزاج کے حامل نہیں اور نہ ہی اس موضوع سے مطابقت رکھتے ہیں۔
عزیز الدین خاکیؔ نے اس انتخاب کے مرتب کرنے میں جو صبر آزما لمحات گزارے ہیں، اس کیفیت و تکلیف کو وہ لوگ بخوبی محسوس کر سکتے ہیں جو انتخاب کرنے کی اس پابند راہِ پُرخطر سے گزرے ہیں۔ عزیز الدین خاکیؔ نے شعرائے کرام کو سینکڑوں خطوط لکھے۔ اکثر شعراء نے حوصلہ افزائی اور زیادہ تر حضرات نے تو جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔
حمد و نعت کا ایک عام انتخاب مرتب کرنا آسان ہے مگر اتنی پابندیوں کے ساتھ جب کوئی نیا انتخاب سامنے آئے تو محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے کوئی کام کیا ہے اور نعتیہ ادب میں کوئی کام سامنے آیا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : پروفیسر عزیز احمد کا یوم وفات
——
خاکیؔ نے اس انتخاب کو مرتب کرنے میں عربی کا نعتیہ ادب، فارسی کا نعتیہ ادب اور اُردو کے نعتیہ ادب کا مطالعہ کیا اور اپنے موضوع سے متعلق مواد یکجا کردیا۔
’’حبیبی یا رسول اللہ‘‘ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم 4×7 کے سائز میں 304 صفحات پر مشتمل ہے جسے بہت اہتمام و عقیدت کے ساتھ 1999ء میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کی ترتیب و تحقیق دیکھ کر بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرتب نے اسے بہت عرق ریزی اور جانکاہی سے مدون کیا ہے۔
خاکیؔ کا مرتب کردہ یہ انتخاب انشاء اللہ نعتیہ ادب میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگا۔ اس منفرد کام کو برسوں یاد رکھا جائے گا۔ خاکیؔ نے عربی، فارسی، ترکی، سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور انگریزی زبانوں کی نعتوں کو بھی اس میں شامل کیا ہے۔
الحمدللہ ! 2002 ء
الحمدللہ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) خدا کا شکر ہے کہ عزیزالدین خاکیؔ کو نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بدولت حمد گوئی کی سعادت عظمیٰ نصیب ہوئی۔
شعبۂ حمد نگاری میں وہ خوش نصیب اور سعادت مند حمدگو ہیں کہ جن کا اتنی کم عمری میں پہلا حمدیۂ مجموعہ کلام منظر عام پر آیا ہے۔ وگرنہ ان سے زیادہ عمر رکھنے والے اور معمر ترین شعراء کے حمدیہ مجموعہ ہائے کلام ادبِ حمد کی زینت ہیں۔ حمدیہ مجموعۂ کلام الحمدللہ ، دنیائے حمد نگاری میں ایک نیا اضافہ ہے۔
عزیزالدین خاکیؔ نے اپنی شعری صلاحیتوں کو کس طرح بارگاہِ خداوندی میں پیش کیا ہے، اور وہ کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا اندازہ آپ حضرات کو ’’الحمدللہ‘‘ کے مطالعہ سے حاصل ہوگا۔
عزیزالدین خاکیؔ نے اپنی حمد نگاری میں بھی آسان اور عام فہم، رواں و مترنم بحروں کا زیادہ استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام قاری اسے محبت اور دلچسپی سے پڑھتا ہے۔ عزیز الدین خاکیؔ نے کہیں کہیں ضرورتاً غیر مانوس اور طویل ردیفیں بھی استعمال کی ہیں مگر ان میں بھی شعری حسن اور سادگی برقرار ہے۔
بیّنات 2007ء
یہ عزیز الدین خاکیؔ کا ترتیب کے لحاظ سے پانچواں جبکہ نعتوں کے حوالے سے چوتھا نعتیہ مجموعہ کلام ہے جس میں نئی نعتیں مختلف ہیئت اور نئے آہنگ کے ساتھ شامل ہیں۔
خاکیؔ کی بیاضِ نعت روزافزوں ترقی پر ہے۔ یہ امر بہت خوش آیند ہے کہ عزیزالدین خاکیؔ کا فکر و فن اور شعر و سخن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ندرت اور پختگی کی جانب رواں دواں ہے۔ پاکستان بھر میں ردیف و قوافی کے حوالے سے ہونے والے مشاعروں میں بذاتِ خود وگرنہ قلمی طور پر ضرور شرکت کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے خاکیؔ کے نعتیہ کلام میں معیار و مقدار کا اضافہ ہورہا ہے۔
بیّنات کے مطالعہ سے آپ یقینا مسرت حاصل کریں گے کہ عزیزالدین خاکیؔ کی ندرتِ فکر اور قدرتِ شعر شدتِ جذبات کی آئینہ دار بن گئی ہے جس کی وجہ سے ان کا نعتیہ کلام تاثیر سے پُر نظر آتا ہے۔
عزیزالدین خاکیؔ کا یہ انہماک یونہی جاری رہا تو وہ دن دور نہیں کہ ان کا شمار اچھے اور منجھے ہوئے صائب فکر شعراء میں ہونے لگے گا۔
الحمدللہ! عزیز الدین خاکیؔ کا شعری سفر جاری ہے۔ وہ اللہ رب العزت کی عطا کردہ صلاحیتوں کو حمد و نعت کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ وہ مزید اپنی صلاحیتوں کے نکھار میں روز و شب کوشاں ہیں۔
انھوں نے اپنے لیے اصلاح کے دروازے بند نہیں کیے۔ اچھے مشورے کو دل و جان سے قبول کرنے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیتے۔ جلدی ترقی کرنے والوں میں نمایاں وصف یہی پایا جاتا ہے، اور عزیزالدین خاکیؔ اس وصف خاص سے مالا مال ہیں۔
آئینہ صلِّ علیٰ 2011ء
عزیز الدین خاکیؔ وہ خوش نصیب شاعر ہیں۔ جن کی ساری زندگی شعبۂ نعت سے عبارت ہے۔ یہ ہمہ وقت ذکرِ رسول، فکرِ رسول اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے گوہر بار رہتے ہیں۔
’’آئینہ صلّ علیٰ‘‘ ترتیب کے لحاظ سے چھٹا جب کہ نعتوں کے حوالے سے پانچواں نعتیہ مجموعۂ کلام ہے۔ اس کلام نعتیہ میں نئی نعتیں شامل ہیں۔ فکرِ خاکیؔ نے مختلف ہیئت اور نئے آہنگ سے مزّین نعتوں کو پیش کیا ہے۔
خاکیؔ کی فکر روز بروز الحمدللہ! ارتقائی منازل طے کر رہی ہے۔ بالآخر ہمیں یہی کہنا پڑتا ہے کہ خاکیؔ کی بیاضِ نعت پختگی کی جانب رواں دواں ہے۔ یہ بات مسّرت کا باعث ہے کہ عزیزالدین خاکیؔ کی فکر و فن اور شعر و سخن کی ریاضت ندرت آفریں ہے۔
خاکیؔ وہ خوش بخت ا نسان ہیں جو پاکستان بھر کے طول و عرض میں ہونے والے نعتیہ مشاعروں میں ازخود یا قلمی طور پر ضرور شرکت فرماتے ہیں، مختلف ردیف و قوافی میں ہونے والے یہ ریاضتی مشاعرے خاکیؔ کے فکر و فن کو جلا بخش رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خاکیؔ کا نعتیہ کلام روزافزوں ترقی پذیر ہے، جب کہ مشقِ سخن اور معیارِ سخن کے حوالے سے اضافے کا باعث ہے۔
’’آئینہ صلّ علیٰ‘‘ مسلسل ریاضتِ خاکیؔ کا آئینہ دار ہے۔ جس میں خاکیؔ کی ندرتِ فکر و فن اور قدرتِ شعر و سخن قاری کو متاثر کرتی ہے۔ خاکیؔ کا کلام تصنّع اور بناوٹ سے مبرّا ہے۔
عام فہم انداز میں سادگی سے اپنی بات بھرپور انداز میں کہنے کے فن سے بخوبی واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلامِ نعتیہ تاثیر اور تاثر سے پُر نظر آتا ہے۔ خاکیؔ کی مسلسل مشقِ سخن جاری ہے۔ ان کی لگن، توجہ، انہماک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
کلیاتِ عزیز خاکیؔ
’’کلیاتِ عزیز خاکیؔ‘‘عزیز الدین خاکیؔ القادری کی ابتدائی نعتیہ شاعری تا 2014ء پر مشتمل ہے۔ جس میں عزیز خاکیؔ کے تمام مطبوعہ نعتیہ شعری مجموعے اور نیا اضافہ شدہ نعتیہ و منقبتیہ کلام جو 2014ء تک کہا گیا ہے وہ بھی شامل ہے۔
خاکیؔ صاحب تسلسل سے حمد و نعت کہہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کئی نعتیہ مجموعے اور ایک حمدیہ مجموعہ کلام بھی طبع شدہ ہے۔ ذکرِ خیرالورا 1990ء، ذکرِ صلِّ علیٰ 1994، نغماتِ طیبات 1996ء، الحمدللہ 2002ء (حمدیہ مجموعہ کلام)، بیّنات 2007ء اور آئینہ صلِّ علیٰ 2011ء زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکے ہیں۔
’’کلیاتِ عزیز خاکیؔ‘‘ راقم الحروف (شہزاد احمد) کا مرتب کردہ ہے۔ اسے بہت خوبصورتی اور اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جس طرح چھوٹے سائز میں کلیاتِ اقبال اور کلیاتِ غالب دیدہ زیب انداز میں اشاعت پذیر ہو چکی ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : عزیز صفی پوری کا یومِ وفات
——
الحمدللہ ! یہ تمام کام حسنِ ترتیب و تکمیل کے مراحل سے گزر کر کتابی شکل میں موجود ہے۔ عزیزالدین خاکیؔ کا یہ کام اُردو نعتیہ ادب میں تحسین کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ موصوف جس قدر برق رفتاری سے شعر کہتے ہیں اُس سے کہیں زیادہ تیزی سے وہ کتاب چھاپ دیتے ہیں۔
اُن کی ہر دل عزیزی کا یہ عالم ہے کہ اہلِ محبت کی ایک کثیر تعداد نعت کے حوالے سے ان کا حصار کیے رکھتی ہے۔ یہ کسی بھی اہلِ دل کو اس کام کی جانب متوجہ کر دیتے ہیں۔ نعتِ پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت اُنھیں اس قدر حاصل ہے کہ ہر صاحبِ دل ان کی بات کو رد نہیں کرتا۔ جہاں مشکلات و مسائل کا ڈیرا ہوتا ہے اُس سے کہیں زیادہ آسانی اور سہل انداز میں ان کی کتاب چھپ جاتی ہے۔
عزیز خاکیؔ نوجوانی کی حدوں کو پار کرتے ہوئے اب جوان شعرا کی صف میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس عمر کے شعرا میں عزیز خاکیؔ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ شعبۂ حمد ونعت میں ان کے طبع شدہ مجموعوں کی تعداد دیگر سے زیادہ ہے۔
اس حقیقت کی وضاحت بھی بہت ضروری ہے کہ راقم الحروف نے ’’کلیاتِ عزیز خاکیؔ‘‘ ابتدائی کلام سے لے کر 2014ء کے کلام کو یکجا کیا ہے۔ اب بھی وہ شاعری کر رہے ہیں۔ انشاء اللہ ان کا آیندہ کلیات 2014ء کے بعد کی شاعری پر مشتمل ہوگا۔
شعبۂ غزل ہو یا نعت شعرا کی زندگی میں ان کی کلیات یک نہ شد دو شد کی روایت بھی ہمیں ملتی ہے۔ اس عاجز (شہزاد احمد) نے اسی روایت کو اپناتے ہوئے اس کلیات کو مرتب کیا ہے۔
عزیز الدین خاکیؔ کا شمار ہر سہ شعبۂ حیات میں ہوتاہے۔ اولاً وہ نعت خوانی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اس شعبہ میں اُنھوں نے اپنی آواز کا جادو جگاتے ہوئے کئی نئی طرزوں کو متعارف کرایاہے۔ بلاشبہ ان کا شمار اُن خوش قسمت ثناخوانوں میں ہوتا ہے کہ جنھوں نے شعبۂ نعت خوانی کو کچھ نہ کچھ دیا ہے۔ ہمیںاُمید ہے کہ عزیزالدین خاکیؔ آیندہ بھی اپنی خوبصورت اور دل نشیں آواز سے کانوں میں رس گھولتے رہیں گے۔
ثانیاً ، نعت گوئی بھی عزیز خاکیؔ کی نمایاں پہچان ہے۔ اپنی سادہ اور مؤثر نعتوں کے ذریعے نعتیہ شاعری کے میدان میں اپنا اعتبار قائم کر چکے ہیں۔ صفِ اوّل کے نعتیہ خدمت گزاروں نے عزیز خاکیؔ کی نعتیہ شاعری کی تحسین کی ہے۔
ثالثاً عزیزالدین خاکیؔ کو ایک انفرادیت یہ بھی حاصل ہے کہ وہ دنیائے نعت میں فروغِ نعت کے حوالے سے بھی معروف ہیں۔ اُنھوں نے اپنی نعت خوانی، نعت گوئی کے علاوہ تحقیقِ نعت نگاری میں بھی مثالی اور یادگار خدمات انجام دی ہیں۔ دنیائے نعت کراچی اور حبیبی یا رسول اللہ اس کی خوبصورت مثال ہیں۔
’’دنیائے نعت‘’ کراچی
عزیزالدین خاکیؔ نوبہ نو کام کرنے کا جذبہ اور سلیقہ دونوں رکھتے ہیں۔ تنقیدی و معلوماتی کتابی سلسلہ ’’دنیائے نعت‘’ کراچی کا پہلا شمارہ اگست 2001ء میں تنظیم استحکام نعت (ٹرسٹ) پاکستان کے زیر اہتمام بہت خوب صورتی سے شائع کیا گیا۔
دنیائے نعت کراچی عزیز الدین خاکیؔ کے حسن ترتیب و نظم تدوین کا بہترین شاہکار ہے۔ خاکیؔ کے نقش اوّل میں شعبۂ نعت کے نمایندہ افراد کی اجتماعی جلوہ گری دیکھ کر بخوبی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف دیگر حضرات کے نام اور کام کو سراہنے کے جذبے سے نہ صرف مالا مال ہیں بلکہ شعبۂ نعت کے دیگر اہم افراد کے نام اور کام کو سامنے لانے کے لیے بے چین اور کوشاں بھی رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ شعبۂ حمد و نعت کے دیگر کتابی سلسلے اس اجتماعیت کے حسن سے خالی ہیں۔ اپنے اپنے راگ الاپنے میں مصروف ہیں اپنے تئیں بہت سے میدان مار لیے ہیں۔
شعبۂ حمد و نعت کو جس اجتماعیت کی فوری ضرورت ہے، اس کی جانب کسی نے بھی کوشش نہیں کی اس اجتماعی فقدان کے سبب نعتیہ ادب میں جو کام ہونے چاہیے تھے وہ اب تک نہیں ہو پائے ہیں۔
دنیائے نعت کراچی کے صرف سرورق کا ہی اگر ذکر کردیا جائے تو پوری دنیائے نعت کا حق ادا ہو جائے گا۔
عزیزالدین خاکیؔ کا یہ جذبہ لائق ستائش ہے کہ وہ تنقیدی و معلوماتی کتابی سلسلہ ’’دنیائے نعت‘‘ کراچی کے ذریعے شعبۂ نعت کے مخلصین کے کام کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔
شعبۂ نعت کے ا نتہائی مخلص و مہربان معروف و محترم نعت گو و تنقید نگار حضرت بابا سیّد رفیق عزیزی یوسفی تاجی (علیگ) رحمۃ اللہ علیہ کے کام اور نام نامی اسم گرامی سے اس سلسلہ ثانی کا آغاز کیا۔
دنیائے نعت کراچی کا دوسرا شمارہ ’’سید رفیق عزیزی نمبر‘‘ ہے جس میں بابا سید رفیق عزیزی کے فکر و فن کے علاوہ حمدیہ و نعتیہ خدمات کا تفصیلی جائزہ موجود ہے۔ بلاشبہ یہ بابا سید رفیق عزیزی رحمۃ اللہ علیہ کے نام اور کام کے حوالے سے ایک تاریخی دستاویز ہے۔
عزیز الدین خاکیؔ نے ’’دنیائے نعت‘‘ کراچی کا ایک اہم (نعت نمبر) بھی شائع کیا ہے۔ دنیائے نعت کراچی کا یہ نعت نمبر شعبۂ نعت میں ایک جدید و حسین اضافہ ہے۔ کم صفحات (240) کے باوجود عزیزالدین خاکیؔ نے اس نعت نمبر میں جہانِ نعت کی کہکشاں کو یکجائی کے حسن سے نوازا ہے۔
نعت نمبروں کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، عزیز الدین خاکیؔ کے اس وقیع اور حسین و جمیل نعت نمبر کو نمایاں و منفرد مقام حاصل ہوگا۔
عزیزالدین خاکیؔ نے شعبۂ نعت میں اب تک جو کام کیے ہیں ہم نے ان تمام کاموں کی تفصیل آپ کے سامنے پیش کردی ہے۔ کچھ حضرات عزیزالدین خاکیؔ کو عزیز رکھتے ہیں، انھوں نے عزیزالدین خاکیؔ کے حوالے سے چند کام ترتیب دیے ہیں، ایک نظر میں یہ کام بھی ملاحظہ فرمایئے۔
عزیز الدین خاکیؔ کا بنیادی وصف ان کی عاجزی و انکساری اور بڑوں کا ادب ہے۔ ان کے اس مؤثر طریقہ کار و کلّیہ نے بہت ساری شخصیات کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے۔
’’مقیاسِ خاکی‘‘ عزیز الدین خاکیؔ کے فکر و فن پر مشتمل کتاب ہے جبکہ ’’ارمغانِ خاکی‘‘ ان کی مقبول عام نعتوں کا انتخاب ہے۔ ان کے حوالے سے شائع ہونے والی دیگر کاوشوں کی مختصر تفصیل پیش خدمت ہے۔
’’مقیاسِ خاکی ‘‘ 1996 ء
عزیزالدین خاکیؔ کے فکر و فن اور ان کی نعتیہ شاعری کے حوالے سے مرتب کردہ کتاب ’’مقیاسِ خاکی‘‘ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔
’’مقیاسِ خاکی‘‘ میں شعر و ادب کی معروف و مقتدر شخصیات کی بھرپور آراء، قیمتی و گرانقدر تاثرات اور وقیع تبصرے شامل ہیں۔ ان قیمتی و گراں قدر تبصروں اور تاثرات کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عزیزالدین خاکیؔ نے بہت کم عمری میں ا تنی بڑی شخصیات کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
’’مقیاس خاکی‘‘ عزیزالدین خاکیؔ کی شخصیت و نعتیہ شاعری کا بنیادی حوالہ ہے۔ علم و ادب کی شناور شخصیات نے عزیزالدین خاکیؔ کی نعتیہ شاعری کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے۔
1996ء میں شائع ہونے والی اس کتاب کو اہتمام کے ساتھ شائع کیا گیا تھا۔ اس کتاب کے ناشر تنظیم استحکام نعت (ٹرسٹ) پاکستان ہیں۔اس کی ترتیب و پیش کش میں راقم الحروف کا نام شامل ہے۔
’’اعتراف‘‘ 2001 ء
’’اعتراف‘‘ خان اختر ندیمؔ کی جانب سے عزیزالدین خاکیؔ کی پذیرائی کا سلسلہ ہے۔ خان اختر ندیمؔ شعبۂ نعت کے بہت مخلص اور عملی تعاون کرنے والے انسان ہیں۔ ہر کسی کے لیے اپنے دستِ تعاون کو دراز کیے رہتے ہیں۔ اپنا ہو یا پرایا سب کے لیے یکساں سوچ رکھتے ہیں۔
حیدرآباد (سندھ) کے شعراء کی حمد و نعت نگاری کو پاکستان بھر میں متعارف کروانے میں خان اختر ندیمؔ نے مثالی کردار ادا کیا ہے۔
’’اعتراف‘‘ خان اختر ندیمؔ کا مرتب کردہ کتابچہ ہے جس میں شاعری کے حوالے سے مختلف معروف حضرات کی آراء و منظومات شامل ہیں۔ اعترافِ حقیقت کے حوالے سے یہ ایک اچھی کاوش ہے۔
’’اعتراف‘‘ میں آراء و منظومات دیکھ کر یہ اندازا ہوتا ہے کہ عزیزالدین خاکیؔ کو کتنا پسند کیا جاتا ہے۔ مختلف حضرات عزیزالدین خاکیؔ کی ترقی اور بلند اقبالی کے لیے کس کس انداز سے دُعاگو رہتے ہیں۔
اعتراف جیسے سلسلوں کو دیگر شعرائے کرام کے لیے بھی جاری رہنا چاہیے۔
عزیز الدین خاکیؔ کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ ان کے چند غیر مطبوعہ کام ملاحظہ کیجیے۔
’’غوثِ صمدانی‘‘
حضرت پیرانِ پیر غوث الاعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں کہی گئی مشہور و معروف مناقب کا مجموعہ ہے۔ جسے عزیزالدین خاکیؔ نے بہت خوب صورتی کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔ یہ کام ابھی تشنۂ طبع ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں :  صفی لکھنوی کا یوم پیدائش
——
’’ذکرِ عنبریں‘‘
خواجہ سیّد عنبر شاہ وارثی چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں کہی گئی مناقب پر مشتمل مجموعہ کلام ہے۔ جس کی ترتیب و تزئین کا شرف عزیزالدین خاکیؔ کو حاصل ہو رہا ہے۔
عزیز الدین خاکیؔ کی نعتیہ خدمات (مطبوعہ و غیر مطبوعہ) کا یہ مختصر احوال ہم نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ موصوف اس سے بھی زیادہ نعتیہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اللہ رب العزت جل جلالہٗ اپنے حبیب مکرم صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعت کے سائے میں خاکیؔ کے جذبوں کو اور بھی توانائی و جولانی عطا فرمائے۔
عزیزلدین خاکیؔ کی نمایاں نعتیہ خدمات کا مختصر خلاصہ آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ اب ان کی شخصیت اور فکر و فن کے حوالے سے ہونے والے کاموں کا اجمال بھی ملاحظہ کیجیے۔
ارمغان خاکی ؔ 2003ء
’’ارمغان خاکیؔ ‘‘ شعبہ نعت کے معروف شاعر عزیزالدین خاکیؔ کی مشہور و معروف نعتوں کا انتخاب ہے۔ اس انتخاب میں عزیزالدین خاکیؔ کی وہ ساری مقبول عام اور ہردل عزیز نعتیں شامل ہیں جو عوام الناس میں بہت پسند کی جاتی ہیں۔ ’’ارمغانِ خاکیؔ ‘‘ کو مرتب و مدون کرنے کا شرف بھی راقم الحروف شہزادؔ احمد کو حاصل ہے۔
عزیزالدین خاکیؔ خوش الحان نعت خواں ہیں، ا چھے پڑھنے والوں میں ان کا شمار ہوتا ہے، اکثر اپنا کلام پڑھتے ہیں، کبھی کبھی اپنے اسلاف اور بزرگوں کا کلام سامعین کی نذر کرکے خوب داد سمیٹتے ہیں۔
ان کی نعتوں کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا کلام خود پڑھتے ہیں۔ طرزیں عام فہم اور متاثر کن ہوتی ہیں۔ اس لیے وہ مشہور ہو جاتی ہیں۔ اکثر محافل میں نعت خواں حضرات ان کا کلام ان کی بنائی ہوئی طرزوں میں پڑھتے ہیں۔
فی زمانہ ایک نعت گو کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کا کلام نعت خواں حضرات مختلف محافل میں اس کے سامنے پڑھیں۔
الحمدللہ! عزیزالدین خاکیؔ اس حوالے سے بہت خوش نصیب ہیں کہ ان کا کلام بہت دلچسپی و شوق سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔
’’ارمغانِ خاکیؔ ‘‘ عزیزالدین خاکیؔ کی نعتیہ شاعری کا نچوڑ اور ماحصل ہے۔ اس میں وہ ساری روایات آپ کو نظرآئیں گی جو ایک معروف نعت گو کی شاعری کا لازمہ ہوا کرتی ہیں۔
خاکیؔ کی نعتیہ شاعری وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فکر و فن کے ارتقاء کا سبب قرار پارہی ہے۔ ا رمغانِ خاکیؔ میں 1996ء تک کہی جانے والی نعتیہ شاعری شامل ہے۔ ارمغانِ خاکیؔ کو عزیز الدین خاکیؔ کے پتے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
’’ارمغان خاکیؔ ‘‘ کے علاوہ راقم نے دیگر مشہور و معروف نعت گو شعرائے کرام کی مقبول عام نعتوں پر مشتمل انتخاب بھی ترتیب دیے ہیں جو انشاء اللہ وقت آنے پر شائع ہو سکیں گے۔
تنظیم استحکام نعت (ٹرسٹ) پاکستان
تنظیم استحکام نعت (ٹرسٹ) پاکستان 25 دسمبر 1987ء میں قائم کی گئی۔ تنظیم کا بانی و صدر عزیزالدین خاکیؔ کو منتخب کیا گیا۔ 1994ء میں تنظیم استحکام نعت (ٹرسٹ) پاکستان کو باقاعدہ قانونی طور پر رجسٹرڈ کروایا گیا۔ تنظیم اپنی ابتداء سے آج تک فروغِ نعت میںاہم کردار ادا کررہی ہے۔
تنظیم استحکام نعت نے ابتداء میں ’’رکنیت فارم‘‘ سازی کی مہم شروع کی۔ جس کے تحت مؤثر طریقے سے جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم، ایّام بزرگانِ دین، عظیم الشان محافل نعت اور نعتیہ مقابلے اسکول و کالج کی سطح پر منعقد کیے۔
تنظیم نے کورنگی، لانڈھی میں نعت خوانی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ اپنے نمایاں اور منفرد کام کی وجہ سے اس تنظیم کا دائرہ کار مزید وسیع سے وسیع تر ہوتا رہا۔ تنظیم کی نمایاں ترین خدمات کا احوال آج بھی اخباری تراشوں کی شکل میں موجود ہے۔
تنظیم استحکام نعت نے ابتدا میں فروغ نعت خوانی کے لیے بہت جدوجہد کی اس کے ساتھ ہی 1988ء سے نعتیہ کتب کی اشاعت کا سلسلہ بھی احسن طریقے سے جاری ہے۔ اس تنظیم کے زیر اہتمام متعدد نعتیہ کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظرعام پر آچکی ہیں۔ درج ذیل نعتیہ کتب اب تک شائع ہو چکی ہیں۔
-1 انوار مدینہ 1988ء -2 ذکر خیرالورا 1989ء
-3 نورالہدیٰ 1991ء -4 مناقب ا ولیاء 1992ء
-5 ذکر صل علیٰ 1994ء -6 نغماتِ طیبات 1996ء
-7 فخر کون و مکاں 1999ء -8 بستانِ مناقب 1999ء
-9 حبیبی یا رسول اللہ 1999ء -10 الحمد للہ 2002ء
-11 بینات 2005 ء -12 آئینہ صلِّ علیٰ 2011ء
الحمدللہ ! اب تنظیم استحکامِ نعت (ٹرسٹ) ’’کلیاتِ عزیز خاکیؔ‘‘ کی طباعت کا اہتمام کر رہی ہے۔ کلیاتِ عزیز خاکیؔ میں 1988ء سے 2014ء تک کہا گیا کلام شامل ہے۔
مزید کتب کا سلسلہ اشاعت جاری ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے زیر اہتمام تنقیدی و معلوماتی کتابی سلسلہ ’’دنیائے نعت‘‘کراچی کا بھی مسلسل اجراء ہو رہا ہے۔
خاکیؔ بہت خوش نصیب نعت خواں و نعت گو ہیں۔ ہر جگہ اس سعادت کے طفیل ان کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ ان کی نعت خوانی کے اعتراف میں مختلف انجمنوں اور اداروں نے انھیں انعامات و اعزازات سے نوازا ہے۔ اس کی تفصیل ملاحظہ کیجیے۔
انعامات و اعزازات
-1 کلیاں پبلی کیشنز کراچی کی جانب سے 1987ء میں ’’بہترین نعت خواں ایوارڈ‘‘
-2 انجمن خادمانِ چشت اہلِ بہشت گارڈن کراچی کی جانب 1989ء میں ’’حسن کارکردگی ایوارڈ‘‘
-3 آل پاکستان محباّن رسول میلاد کمیٹی کراچی کی جانب سے 1992ء میں ’’حضرت محمد مصطفی ایوارڈ‘‘
-4 المدینہ نعت سینٹر کراچی کی جانب سے 1992ء میں ’’سیدنا صدیق اکبر ایوارڈ‘‘
-5 مولانا محمد اکبر وارثی اکادمی نے 1993ء میں پہلی رسم تاجپوشی کا اہتمام کیا۔ ’’رسم تاجپوشی‘‘
-6 حیدرآباد نعت کونسل کی جانب سے 1993ء میں ’’بلبل گلستانِ رسول کا خطاب‘‘
-7 میلاد کمیٹی کورنگی کی جانب سے 1993ء میں ’’حسنِ کارکردگی ایوارڈ‘‘
-8 بزم ثناء خوانِ مصطفی پاکستان کی جانب سے 1994ء میں ’’یادگاری شیلڈ‘‘
-9 ماہنامہ سماجی لوگ، حیدرآباد کی جانب سے 1994ء میں ’’سالانہ کارکردگی ایوارڈ‘‘
-10 انجمن جانثارانِ مصطفی کراچی کی جانب سے 1994ء میں ’’عاشق رسول ایوارڈ‘‘
-11 لانڈھی کورنگی میلاد کونسل کی جانب سے 1995ء میں ’’فروغِ نعت ایوارڈ‘‘
-12 ینگ کلچرل ویلفیئر سوسائٹی پاکستان کی جانب سے 1995-96ء میں ’’قائداعظم یوتھ ایوارڈ‘‘
-13 تحریک جعفریہ پاکستان کی جانب سے 1996ء میں ’’عظمت مصطفی ایوارڈ‘‘
-14 انجمن عاشقانِ مصطفی ٹرسٹ پاکستان کراچی کی جانب سے 1996-97ء میں ’’حسن کارکردگی ایوارڈ‘‘
-15 بزم ثنائے مصطفی محمود آباد کراچی کی جانب سے 1996ء میں ’’فروغِ حمد و ثنا ایوارڈ‘‘
-16 حضرت عنبر شاہ وارثی پبلی کیشنز کی جانب سے 1996ء میں دوسری رسم تاج پوشی۔
-17 المدینہ نعت سینٹر لانڈھی کی جانب سے 1997ء میں ’’حضرت غوث پاک ایوارڈ‘‘
-18 بزم عاشقان رسول کورنگی 33 بی کی جانب سے 1418ھ، 1998ء میں ’’میلاد النبی ایوارڈ‘‘
-19 بزم ُجمن شاہ بخاری کراچی کی جانب سے 1998ء میں ’’بہترین نعت خواں و نعت گو ا یوارڈ‘‘
-20 یونائٹیڈ ایجوکیشن سینٹر کراچی کی جانب سے 1998ء میں ’’ربِّ زدنی علما ایوارڈ‘‘
-21 بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے 1999ء میں ’’حسن نعت ایوارڈ‘‘
-22 المدینہ نعت سینٹر کراچی کی جانب سے 1999ء میں ’’اسپیشل ایوارڈ بہترین نعت گو‘‘
-23 کریسنٹ یوتھ آرگنائزیشن کی جانب سے 2000ء میں ’’حسن کارکردگی ایوارڈ‘‘
-24 بزمِ محبانِ ُجمن شاہ بخاری کی جانب سے 2000ء میں ’’بیسٹ نعت گو ا یوارڈ‘‘
-25 سنی یکجہتی فورم پاکستان کی جانب سے 2001ء میں
’’حسن کارکردگی ایوارڈ‘‘
-26 المدینہ اکیڈمی لانڈھی کراچی کی جانب سے 2001ء میں’’نعتیہ یادگاری ایوارڈ‘‘
-27 المدینہ نعت سینٹر لانڈھی کراچی کی جانب سے 2001ء میں ’’روشن ضیائی یادگاری ایوارڈ‘‘
-28 کراچی ویلفیئر سٹیزن آرگنائزیشن کی جانب سے 2002ء میں ’’سٹیزن ٹیلنٹ ایوارڈ‘‘
-29 عزیز آرٹ سرکل حیدرآباد کی جانب سے 2002ء میں ’’ابوطالب ایوارڈ‘‘
-30 عرس کمیٹی حضرت جمن شاہ بخاری کی جانب سے 2002ء اور 2003ء میں ’’مہر نبوت ایوارڈ‘‘
-31 دی رہبر میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے 2003ء میں ’’یادگاری شیلڈ‘‘
-32 مسلم کیڈٹ کالج کراچی کی جانب سے 2003ء میں ’’خصوصی نعتیہ ایوارڈ‘‘
-33 سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور آرٹ کونسل کراچی کے باہمی اشتراک سے 2004ء میں بہترین ’’ججمینٹ ایوارڈ‘
-34 مدرسہ مدینۃ العلوم کراچی کی جانب سے 2005ء میں ’’خصوصی نعت خواں ایوارڈ‘:
-35 پاکستان کریسنٹ یوتھ آرگنائزیشن اور سٹی گورنمنٹ کی جانب سے 2005ء میں ’’نعتیہ منصف ایوارڈ‘‘
-36 جامع مسجد غوث الاعظم (ٹرسٹ) پاکستان کی جانب سے 2006ء میں ’’راہِ نجات ایوارڈ‘‘
-37 علی حیدر ا یجوکیشنل سوسائٹی کراچی (پاکستان) کی جانب سے 2006ء میں ’’خصوصی ایوارڈ اور نشانِ سپاس‘‘
-38 کراچی سٹیزن آرگنائزیشن کی جانب سے 2006ء کا ’’نعت ایکسی لنس ایوارڈ‘‘
-39 بزمِ ثناء خوانِ مصطفی ٹرسٹ (پاکستان) کی جانب سے 2006ء میں ’’استقبال رمضان محفل نعت ایوارڈ‘‘
-40 ادارۂ فروغِ نعتِ رسول ٹھٹھہ کی جانب سے 2008ء میں’’اعزازِ حسنِ نعت‘‘
-41 کریسنٹ یوتھ اور نیشنل فورم سندھ کی جانب سے 2009ء میں ’بہترین منصف ایوارڈ‘‘
-42 شہید سلیم عباس نقشبندی اکیڈمی کراچی کی جانب سے 2011ء میں ’’یادگار اعزازی ایوارڈ‘‘
-43 آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے 2012ء میں’’سند اعترافِ خدماتِ نعت‘‘
-44 وزارتِ کھیل و اُمورِ نوجوانان حکومت سندھ کی جانب 2013ء میں ’’یادگار ایوارڈ و سند‘‘
-45 آرٹس کونسل کراچی اور محکمہ اُمور نوجوانانِ حکومت سندھ کی جانب سے جولائی 2014ء میں ’’بہترین ججمنٹ ایوارڈ‘‘
-46 انجمن عندلیبانِ ریاضِ رسول پاکستان کی جانب سے علامہ ریاض الدین سہروری کے عرس کے موقع پر 2014ء میں ایوارڈ دیا۔
-47 وزارتِ اُمورِ نوجوانانِ حکومتِ سندھ کی جانب سے 2015ء میں ’’اسمِ محمد مصطفیٰ ایوارڈ‘‘
-48 کومیکس کالج کراچی کی جانب سے 2016ء میں ’’نعت ججمنٹ ایوارڈ‘‘
-49 انصاری فاؤنڈیشن اور کریسنٹ یوتھ آرگنائزیشن کراچی کی جانب سے 2016ء میں ’’خدماتِ نعت ایوارڈ‘‘
-50 آغاز کمیونیکیشن وائس آف پاکستان کی جانب سے 2017ء میں ’’مدحت مصطفیٰ ایوارڈ‘‘
-51 محمد راشد اعظم نعت اکیڈمی کی جانب سے 2018ء میں ’’بہترین نعت گو ایوارڈ‘
-52 فیڈرل گورنمنٹ ایف جی کراچی ریجن کی جانب سے 2019ء میں ’’سینئر نعت خواں ایوارڈ‘‘
-53 المدینہ نعت سینٹر کراچی کی جانب سے 2020ء میں ’’سیّد حمزہ علی قادری ایوارڈ‘‘
-54 مرکزی بزمِ حسّانِ رسول پاکستان کی جانب سے 2021ء میں ’’حضرت حسّان ایوارڈ‘‘
دربارِ مصطفی کی حاضری سب سے بڑا اعزاز
——
یہ بھی پڑھیں : فانی ہوا میں عشقِ رسالت مآب میں
——
1996ء میں ’’ماسٹر محمد قاسم قریشی‘‘ نعت کونسل حیدرآباد کے روح رواں جناب محمد اعظم قریشی المدنی اور ریٹائرڈ وِنگ کمانڈر پاکستان ایئرفورس محمد حاکم قریشی نے عزیزالدین خاکیؔ کو اپنی فیملی کے ہمراہ عمرے کی عظیم سعادت حاصل کرنے کا موقع عنایت فرمایا، عمرے پر جانے کا سبب خاکی کی یہ نعت تھی،
سرکار اپنا رضۂ انور دکھایئے
ہم درد کے ماروں کو بھی طیبہ بلایئے
اس طرح ان دونوں حضرات کے طفیل خاکیؔ کو حرمین شریفین کی پہلی حاضری نصیب ہوگئی۔ اس حاضری میں جو کرم ہوئے، وہ بیان سے باہر ہیں۔
اس کے علاوہ 2007ء میں اپنے والدین کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل ہوئی اور 2012ء میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ عمرہ کیا۔ حمد و نعت کا فیضان دیکھئے ایک اللہ کے نیک بندے نے خاکیؔ اور خاکیؔ کی اہلیہ کے لیے 2015ء میں حج کا بھی انتظام کردیا ہے۔
——
جائزہ نگار : ڈاکٹر شہزاد احمد ، مدیر ’’حمد و نعت‘‘ کراچی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ