اردوئے معلیٰ

غلام ربانی تاباں کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر غلام ربانی تاباں کا یوم پیدائش ہے

غلام ربانی تاباں(پیدائش: 15 فروری، 1914ء- وفات: 7 فروری، 1993ء)
——
غلام ربانی تاباں کا شمار ممتاز ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف شاعری کی سطح پر ترقی پسند فکراور نظریے کو عام کرنے کی کوشش کی بلکہ اس کیلئے عملی سطح پر بھی زندگی بھر جد وجہد کرتے رہے۔
تاباں کی پیدائش ۱۵ فروری ۱۹۱۴ کو قائم گنج ضلع فرخ آباد میں ہوئی ۔ آگرہ کالج سے ایل ایل بی کیا، کچھ عرصہ وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے لیکن شاعرانہ مزاج نے انہیں دیر تک اس پیشے میں نہیں رہنے دیا ۔ وکالت چھوڑ کر دہلی آگئے اور مکتبہ جامعہ سے وابستہ ہوگئے اور ایک لمبے عرصے تک مکتبے کے جنرل مینیجر کے طور پر کام کرتے رہے ۔
تاباں کی شاعری کی نمایاں شناخت اس کا کلاسیکی اور ترقی پسندانہ فکری وتخلیقی عناصر سے گندھا ہونا ہے ۔ ان کے یہاں خالص فکری اور انقلابی سروکاروں کے باجود بھی ایک خاص قسم کی تخلیقی چمک نظر آتی ہے جس ترقی پسند فکر کے تحت کی گئی شاعری کا بیشتر حصہ محروم نظر آتا ہے۔
تاباں نے ابتدا میں دوسرے ترقی پسند شعرا کی طرح صرف نظمیں لکھیں لیکن وہ اپنے پہلے شعری مجموعے’ سازلرزاں ‘(۱۹۵۰) کی اشاعت کے بعد صرف غزلیں کہنے لگے ۔ ان کی غزلوں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے ۔ جن میں ’ حدیث دل ‘ ’ ذوق سفر ‘ ’ نوائے آوارہ ‘ اور ’ غبار منزل ‘ شامل ہیں ۔ تاباں نے شاعری کے علاوہ اپنی فکر کو عام کرنے کیلئے صحافیانہ نوعیت سیاسی ، سماجی اور تہذیبی مسائل پر مضامین بھی لکھے اور ترجمے بھی کئے ۔
ان کے مضامین کا مجموعہ ’ شعریات سے سیاسیات تک ‘ کے نام سے شائع ہوا ۔
تاباں کو ان کی زندگی میں بہت سے انعامات واعزازات سے بھی نوازا گیا ۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ، سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ، یوپی اردو اکادمی ایوارڈ اور کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ کے علاوہ پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اثر بہرائچی کا یوم پیدائش
——
پدم شری کا اعزاز تاباں نے ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واپس کردیا تھا ۔
۷ فروری ۱۹۹۳ کو تاباں کا انتقال ہوا
——
غلام ربانی تاباں اور مجروحؔ سلطان پوری : ایک تقابلی مطالعہ
از محمد اختر علی ، ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی
——
ارون دھتی رائے کے مطابق جس ہندوستان کی اچھی خاصی آبادی ا ن پڑھ ہے، اس میں پڑھا لکھا کہلانا اور اس سے زیادہ ادیب ہونا ایک مشکوک قسم کا اعزاز ہے۔ غلام ربانی تاباں ؔ اور مجروح سلطان پوری کے تعلق سے میراخیال بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ انہوں نے جس طرح سے اپنے عہد میں غزل کی آبیاری کی، وہ بھی ترقی پسندوں کی نظرمیں مشکوک سے کچھ کم نہ تھے۔ یاد کیجئے وہ زمانہ جب غزل کے خلاف منشور جاری کیا جارہا تھا۔ یہی نہیں باقاعدہ جلسہ منعقد کرکے قرارداد پاس کی گیٔ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ بھیمڑی کی آل انڈیاترقی پسندمصنفین کانفرنس جو ۱۹۴۹؁ میں منعقد ہوئی تھی، جس میں باقاعدہ ڈاکٹرعبدالعلیم نے غزل کے خلاف تجویزرکھی تھی اورپاس بھی ہوئی۔مجروح سلطان پوری نے اس تجویز کی مخالفت کی اور اس کے ردعمل میں یہ شعر کہا تھا۔
——
ستم !کہ تیغِ قلم دیں اُسے جو اے مجروحؔ
غزل کو قتل کرے نغمے کو شکار کرے
——
ٹھیک اسی دورمیں غلام ربانی تاباں ؔ نے غزل کی آبیاری کاجوکھم اٹھایا۔ تاباں ؔ کا پہلا شعری مجموعہ ’سازلرزاں ‘ جوکہ تین غزلوں اور بقیہ نظموں پر مشتمل تھا،۱۹۵۰؁ میں شائع ہوا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ’حدیثِ دل‘ کے نام سے۱۹۶۰؁میں شائع ہوا۔ یہ تمام تر غزلوں کا مجموعہ تھا۔ یعنی کہ تاباں ؔ ’سازلرزاں ‘ کے بعد نظمیں کہنا چھوڑ کر غزلوں کی طرف رجوع کرچکے تھے۔ یا یوں کہیے کہ وہ ـــــــ’ساز لرزاں ‘کے بعد غزل کے ہوکر رہ گئے۔ فیضؔ کے خیال میں :
——
وہ توجب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں
——
غلام ربانی تاباں کاتیسرا شعری مجموعہ’ذوق سفر‘ تھا، جو ۱۹۷۰؁ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد ’نوائے آوارہ‘ ۱۹۷۶ ؁ اورــ ـ’ــغبارمنزل‘ ۱۹۹۰؁ منظرعام پہ آئے۔ یہ سبھی غزلوں کے ہی مجموعے ہیں ۔ ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ تاباں ؔ نے اپنے اوپر آل انڈیا ترقی پسندتحریک مصنفین کے حکم نامے کو حاوی نہ ہونے دیا۔
غلام ربانی تاباں ؔ کے ہم عصر شعرا کی فہرست دادی اماں کی دعاؤں کی طرح طویل ہے۔ ظاہرہے سب پہ بات کرنا ممکن نہیں ۔ میں نے ان کے ہم عصروں میں مجروحؔ سلطانپوری کا انتخاب کیا ہے۔ مجروحؔ اور تاباں ؔ کے درمیان کیٗ معاملوں میں مماثلت ہیں ۔ پہلی یہ کہ دونوں ترقی پسند شعرا کی حیثیت سے اردو شاعری میں بلندمقام رکھتے ہیں ۔ دوسری جو ان میں خاص مماثلت ہے وہ یہ کہ دونوں ایک ایسے نازک دورمیں غزل کی آبیاری کررہے تھے جس میں غزل کو جاگیردارانہ نظام کی پروردہ کہہ کرشعری اصناف سے باہر کا راستہ دکھایا جارہا تھا۔ تیسری یہ کہ دونوں نے ترقی پسندنظریہ کواپنی شاعری میں استعمال کیا اور تحریک میں بھی عملاََشامل رہے جس کی پاداش میں انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ چوتھی دونوں کا شعری رویہ کم وبیش یہ تھا کہ اپنے ہوں یا پرائے، کسی نے بھی غزل مخالف راگ چھیڑا تو اس کا مقابلہ کیاجائے گا۔اور پانچوی یہ کہ اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی مسائل کے بارے میں دونوں کافی حساس تھے۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور نقاد اور افسانہ، ناول نگار ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کا یوم پیدائش
——
اگر دونوں میں غیرمماثل پہلوؤں پرغورکریں تو اندازہ ہوگا کہ مجروح ؔکے بارے میں یہ عام تاثرہے کہ انہوں نے اپنی شعری رویّوں میں نرمی کی جگہ تندخوی ٔکو اپنائے رکھا۔ وہیں تاباں ؔ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تمام حالات میں غزل کے نرم لہجے کی پرورش کرتے رہے۔ اسی لیے نیاز فتح پوری نے انہیں مومنؔ اسکول کا شاعر کہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’غلام ربانی تاباں صاحب بڑے اچھے ذوق کے غزل گو شاعرہیں اور حسرت موہانی کا وہ رنگ جو ’مومن اسکول‘ کی یادگار ہے، ان کے یہاں بڑی نفاست اورپاکیزگی کے ساتھ پایا جاتا ہے۔‘‘
(، شفیق انساء قریشی ،غلام ربانی تاباں حیات اورشاعری، نئی آواز،جامعہ نگر، نئی دہلی،1980،ص:106)
تاباں ؔکے چند اشعارملاحظہ ہوں :
——
کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ دیاکرتے ہیں لوگ
خامشی بھی ایک طرزِ گفتگو ہے دوستو
——
اللہ رے یہ حسن کی جادو خرامیاں
جنبش میں جیسے راہ گذر ہے تمہارے ساتھ
——
اب آپ مجروحؔ کے حوالے سے یہ دیکھیے کہ جب ان کاشعری مجموعہ’ غزل‘ ۱۹۵۳ ؁میں شایعٔ ہوا تو اس کے تعارفی مضمون میں سردارجعفری لکھتے ہیں :
’’مجروحؔ کو بڑا شاعر بننے کے لیے اس آہنگ کو اورزیادہ بلندکرنا ہے۔ اور یہ ہوکے رہے گا۔ ہماری لڑائی جاگیرداری اورسامراجی ذہنیت کے خلاف ہے اوراس لیے ہم کو اپنی نوا اور زیادہ بلند وتیز کرنی پڑتی ہے۔‘‘
(تعارف: سردار جعفری،غزل مصنفہ مجروح سلطان پوری،علی گڑھ،۱۹۵۳،ص۲)
مجروحؔ کے چند اشعارملاحظہ ہوں :
——
امن کا جھنڈا اس دھرتی پر کس نے کہا لہرانے نہ پائے
یہ بھی کوئی ہٹلر کا ہے چیلا مارلے ساتھی جانے نہ پائے
——
ستونِ دار یہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
——
جنون دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے
قدو گیسو سے اپنا سلسلہ دار و رسن تک ہے
——
شاعری کی اپنی کائنات ہے اس کائنات سے تاباں ؔ اور مجروحؔ نے اپنے لیے ایک خاص دنیا آباد کی ہیں جس میں عزم کی پختگی، حوصلے کی بلندی اورمنزل کی تلاش گاہے بگاہے دیکھنے کو ملتی ہے۔ تاباں ؔ کے چنداشعارملاحظہ ہوں :
——
یہ بھی پڑھیں : چشم و چراغ عالم امکاں کی بات کر
——
کوئی منزل ہے تیری اور نہ تیرا کوئی پڑاؤ
زندگی خانہ بدوشی کے سوا کوئی نہیں
——
جستجو ہو تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے
یوں تو ہر موڑ پر منزل کا گماں ہوتا ہے
——
اب چنداشعار مجروحؔ کے ملاحظہ ہوں :
——
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
——
دیکھ زنداں سے پرے رنگِ چمن جوشِ بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ
——
مجرو حؔ کی طرح تاباں ؔ نے بھی روایتی غزلیہ موضوعات کو اپنے منفرد اسلوب میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ تاباں ؔ کی روایتی شاعری میں ان کا عہد نمایاں طور پر نظرآتا ہے۔ اس طرح وہ روایتی لب ولہجہ بھی رکھتے ہیں اوراپنے عہد کی نمائندگی بھی کرتے ہیں ۔ بطور ثبوت تاباں ؔ کے چنداشعارملاحظہ ہوں :
——
تشنہ کاموں کو خبر دو کہ مرے ساقی نے
میکدہ کھول دیا گلشنِ مژگاں کے قریب
——
لائی ہے تیری یاد گو دل پہ خرابی
گو دل کو خرابی نے سنوارا بھی بہت ہے
——
تاباں ؔ کی طرح مجروحؔ کی شاعری بھی غزل کی کلاسیکی روایات کی پاسداری کرتی ہے۔ ان کے اشعارمیں روایت اپنے عہد کا جامہ پہنے ہوئے ہے۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے، وہ یہ کہ مجروحؔ روایتی شاعری میں جگرؔ کی پیروی کرتے ہیں اور تاباں ، ؔ حسرتؔ کی۔ دونوں کے اشعار بطورثبوت ملاحظہ ہوں ۔
——
اللہ رے وہ عالم رخصت کہ دیر تک
تکتا رہا ہوں یوں ہی تری رہ گزر کو میں
(تاباں )ؔ
——
جفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئے
تمہاری بات نہیں بات ہے زمانے کی
(مجروحؔ)
——
ظاہرہے کہ جب ہم دونوں شعرا کے اشعار پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دونوں نے اپنے ا ستادوں کی پیروی کی ہے اورساتھ ساتھ روایت کے احترام کا خیال بھی رکھا ہے۔
——
یہ جونکیں یہ انساں کا لہو چوسنے والے
کوئی فرق نہیں ایک ہیں گورے ہوں یا کالے
——
اب مجروحؔ کے دواشعارملاحظہ ہوں :
——
مجروحؔ لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام
ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح
——
جو دیکھتے میری نظروں پہ بندشوں کے ستم
تو یہ نظارے مری بے بسی پہ رو دیتے
——
مذکورہ بالا اشعار کے ذریعہ دونوں شاعروں نے اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی مسائل پر براہ راست حملے کئے ہیں ۔ اصل میں یہ وہی اشعارہیں جن کو بنیاد بناکر غیرترقی پسند نقادوں نے انہیں نعرہ زنی قرار دیا ہے۔ مگر ہم،جب ان کو اس عہد کے پس منظر میں دیکھتے ہیں تو ان کے یہاں ہمیں شاعری کا سماجی پہلو نظرآتا ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : اپنی تمام رونقِ تاباں کے باوجود
——
مجروحؔ اور تاباں ؔ کے انقلابی اشعارمیں بھی الگ الگ رنگ نظرآتے ہیں ۔ تاباں ؔ کے انقلابی اشعار رومانیت کے قالب میں مزین ہیں ۔ جس کی بنا پر وہ فیضؔ کے خیمے میں نظرآتے ہیں ۔ جب کہ انقلابی اشعار میں مجروحؔ نے اپنا الگ رنگ پیداکیا ہے۔ مجروحؔ کی انقلابی شاعری مقصدی شاعری بھی ہے مگر اس پر مقصدیت کم شعریت زیادہ ہے۔
پہلے چنداشعار تاباں ؔ کے ملاحظہ ہوں :
——
ہم آبلہ پایان رہِ شوق کو تاباں ؔ
یہ دوریٔ منزل کاسہارا بھی بہت ہے
——
مقام دار سے گزرو تو زندگی پاؤ
پیو جو زہر ہلاہل سرور آجائے
——
اب مجروحؔ کے چنداشعار ملاحظہ کیجئے:
——
سرپرہوائے ظلم چلے سوجتن کے ساتھ
اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ
——
جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے
جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے
——
یہ وہی انقلابی اشعار ہیں جو آج شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ تاباں ؔ اور مجروح ؔدونوں ہی ترقی پسند شعرا نے اردو کی مقبول صنفِ سخن کے سرمایہ میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں ۔
کسی بھی شاعر کی شاعری میں اس کے عہد کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اپنے عہد کے حالات سے صرف دیوانہ بے خبررہ سکتا ہے، شاعر جیسا حساس انسان نہیں ۔ تاباں ؔ اور مجروحؔ اپنے عہد کے سیاسی و سماجی حالات سے بخوبی واقف تھے۔ اور ان پرگہری نگاہ بھی رکھتے تھے۔ جیسے جیسے ان کے عہد میں کمیونسٹ پارٹی کی ذیلی تنظیموں کے ماتحت چلنے والی تحریکیں پروان چڑھی ان کی شاعری میں ترقی پسندچنگاری کی لو تیزرہی۔تلنگانہ تحریک کی شکست کے بعد جیسے جیسے اشتراکی تحریکیں کمزور پڑتی گئیں اورکلچرل فورم اپٹا(I.P.T.A.)کا دبدبہ فلموں پر سے ختم ہونے لگا توتقریباََ سبھی ترقی پسند شعرا نے اپنے اشعارکے انقلابی لہجہ کو مدھم کرلیا ۔پھراس دور میں تاباں ؔنے کہا:
——
شیشہ نازک تھا ذرا چوٹ لگی ٹوٹ گیا
حادثے ہوتے رہتے ہیں گلہ کیا کرتے
——
شاخ سے ٹوٹے ہوئے پتّوں کی آخرکیا بساط
جس طرف چاہے گی جنگل کی ہوالے جائے گی
——
مجروحؔ سلطانپوری کہتے ہیں :
——
ہم بھی ہمیشہ قتل ہوئے اورتم نے بھی دیکھا دورسے لیکن
یہ نہ سمجھا ہم کو ہوا ہے جان کا نقصاں تم سے زیادہ
——
ظاہر ہے کہ ایک مختصر مضمون میں تاباں ؔ اور مجروحؔ کاتقابل نہیں کیا جا سکتا ۔مگر اتنا تو طے ہے کہ تاباں ؔ اور مجروحؔ دونوں نے اپنی ترقی پسند شاعری کے ذریعے اپنے عہد کے سیاسی و سماجی مسائل کو قلم بند کرکے آنے والی نسلوں کے لئے ایک چراغ روشن کیا تھا، تاکہ وہ مسلسل اس راہ پر گامزن رہیں اور آنی والی نسلوں کو یہ بتائیں کہ اردو شاعری کی کائنات صرف عشق و محبت تک محدود نہیں ہے بلکہ کافی وسیع ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : جس گھڑی جلوہ فگن شاہِ رسولاں ہو گا
——
منتخب کلام
——
ادھر چمن میں زر گل لٹا ادھر تاباںؔ
ہماری بے سر و سامانیوں کے دن آئے
——
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے تاباںؔ
رہ حیات میں ایسے مقام بھی آئے
——
میں نے کب دعویٰ الہام کیا ہے تاباںؔ
لکھ دیا کرتا ہوں جو دل پہ گزرتی جائے
——
منزلیں راہ میں تھیں نقش قدم کی صورت
ہم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا کسی منزل کی طرف
——
میرے افکار کی رعنائیاں تیرے دم سے
میری آواز میں شامل تری آواز بھی ہے
——
یہ چار دن کی رفاقت بھی کم نہیں اے دوست
تمام عمر بھلا کون ساتھ دیتا ہے
——
نکھر گئے ہیں پسینے میں بھیگ کر عارض
گلوں نے اور بھی شبنم سے تازگی پائی
——
ایک تم ہی نہیں دنیا میں جفاکار بہت
دل سلامت ہے تو دل کے لئے آزار بہت
ہائے کیا چیز ہے محرومی و غم کا رشتہ
مل گئے زیست کے ہر موڑ پہ غم خوار بہت
یاد احباب کی خوشبو سے مہکتی شامیں
کچھ کہو ہوتی ہیں کمبخت دل آزار بہت
عشق آوارہ کہاں قید در و بام کہاں
بے نواؤں کے لیے سایۂ دیوار بہت
دل کی رفتار بدل جاتی تھی آواز کے ساتھ
یاد آتا ہے وہ پیرایۂ گفتار بہت
ایک دن وقت بتائے گا جنوں کی عظمت
یوں تو ہم لوگ ہیں رسوا سر بازار بہت
وہ کشاکش ہے کہ جینا بھی ہے دوبھر تاباںؔ
عشق معصوم بہت حسن فسوں کار بہت
——
ہم ایک عمر جلے شمع رہ گزر کی طرح
اجالا غیروں سے کیا مانگتے قمر کی طرح
کہاں کے جیب و گریباں جگر بھی چاک ہوئے
بہار آئی قیامت کے نامہ بر کی طرح
کرم کہو کہ ستم دل دہی کا ہر انداز
اتر اتر سا گیا دل میں نیشتر کی طرح
نہ حادثوں کی کمی ہے نہ شورشوں کی کمی
چمن میں برق بھی پلتی ہے بال و پر کی طرح
نہ جانے کیوں یہاں ویرانیاں برستی ہیں
سبھی کے گھر ہیں بظاہر ہمارے گھر کی طرح
خدا کرے کہ سدا کاروبار شوق چلے
جو بے نیاز ہو منزل سے اس سفر کی طرح
بس اور کیا کہیں روداد زندگی تاباںؔ
چمن میں ہم بھی ہیں اک شاخ بے ثمر کی طرح
——
دل وہ کافر کہ صدا عیش کا ساماں مانگے
زخم پا جائے تو کمبخت نمکداں مانگے
لطف آئے جو کوئی سوختہ سامان بہار
خالق رنگ سے پھر شعلۂ عریاں مانگے
حسرت دید سر بام تماشہ چاہے
عشق بیتاب سر طور چراغاں مانگے
رات زلفوں سے کرے شوخ اندھیروں کا سوال
روشنی لوح جبیں سے مہ تاباں مانگے
اک چراغ اور سر‌‌ رہ گزر باد سہی
چار تنکوں کے لئے کون گلستاں مانگے
کم نگاہی کا تقاضہ ہے کہ پھر جرأت شوق
خود تری شوخیٔ انداز سے عنواں مانگے
دست وحشت کے کوئی حوصلے دیکھے تاباںؔ
جب بھی مانگے تو اسی شوخ کا داماں مانگے
——
شباب حسن ہے برق و شرر کی منزل ہے
یہ آزمائش قلب و نظر کی منزل ہے
سواد شمس و قمر بھی بشر کی منزل ہے
ابھی تو پرورش بال و پر کی منزل ہے
یہ مے کدہ ہے کلیسا و خانقاہ نہیں
عروج فکر و فروغ نظر کی منزل ہے
ہمیں تو راس ہی آئی فغاں کی بے اثری
مگر بتاؤ تو کوئی اثر کی منزل ہے
وہ رہبرئ جناب خضر کی منزل تھی
یہ رہنمائی فکر بشر کی منزل ہے
یہ راز پا نہ سکے صاحبان ہوش و خرد
جنوں بھی اک نگہ پردہ در کی منزل ہے
قیام شامل مشق خرام ہے تاباںؔ
سفر کا ترک بھی گویا سفر کی منزل ہے
——
وہ نازک سا تبسم رہ گیا وہم حسیں بن کر
نمایاں ہو گیا ذوق ستم چین جبیں بن کر
بہت اترا رہی ہے رات زلف عنبریں بن کر
بہت مغرور ہے نور سحر رنگ جبیں بن کر
مری جامہ دری نے راز یہ کھولا زمانے پر
خرد دھوکے دیا کرتی ہے جیب و آستیں بن کر
کرم میں بھی مگر اک غمزۂ خوں ریز شامل تھا
نگاہوں کی طرف اٹھی تو دل کی نکتہ چیں بن کر
مری دیوانگی تھی اک شرار آرزو دل میں
بڑھی تو دار پر روشن ہوئی شمع یقیں بن کر
پیام آتے رہے اکثر کسی محو تغافل کے
ادائے برملا بن کر نگاہ شرمگیں بن کر
وہ اک سجدہ نہ ہو پایا جو برباد حرم تاباںؔ
جبین شوق پر روشن ہے پندار جبیں بن کر
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ