فیض احمد فیض کا یوم پیدائش

آج معروف شاعر فیض احمد فیض کا یوم پیدائش ہے

فیض احمد فیض——
(پیدائش: 13 فروری 1911ء– وفات: 20 نومبر 1984ء)
——
فیض احمد فیض 13 فروری 1911ء کو کالا قادر، ضلع نارووال، پنجاب، برطانوی ہند میں ایک معزز سیالکوٹی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد، سلطان محمد خان، ایک علم پسند شخص تھے۔ وہ پیشے سے ایک وکیل تھے اور امارت افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن خان کے ہاں چیف سیکرٹری بھی رہے۔ بعد از، انہوں نے افغان امیر کی سوانح حیات شائع کی۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ تھا۔
فیض کے گھر سے کچھ دوری پر ایک حویلی تھی۔ یہاں اکثر پنڈت راج نارائن ارمان مشاعروں کا انعقاد کیا کرتے تھے، جن کی صدارت منشی سراج الدین کیا کرتے تھے؛ منشی سراج الدین، مہاراجہ کشمیر پرتاپ سنگھ کے منشی تھے اور علامہ اقبال کے قریبی دوست بھی۔ انہی محفلوں سے فیض احمد فیض شاعری کی طرف مرغوب ہوئے اور اپنی پہلی شاعری دسویں جماعت میں قلمبند کی۔
فیض کے گھر کے باہر ایک مسجد تھی جہاں وہ فجر کی نماز ادا کرنے جاتے تو اکثر مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کا خطبہ سنتے اور ان سے مذہبی تعلیم حاصل کرتے۔
1921ء میں آپ نے سکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا اور یہاں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔میٹرک کے امتحانات کے بعد آپ نے ایف اے کا امتحان مرے کالج سیالکوٹ سے پاس کیا ۔ آپ کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق ( جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے) بھی شامل تھے ۔ آپ نے اسکول میں فارسی اور عربی زبان سیکھی۔
——
یہ بھی پڑھیں :
——
بی اے آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور پھر وہیں سے 1932ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں بھی ایم اے کیا۔
1935ء میں آپ نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علی گڑھ میں انگریزی و برطانوی ادب کے لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت کی؛ اور پھر ہیلے کالج لاہور میں ۔ آپ نے 1936ء میں سجاد ظہیر اور صاحبزادہ محمودالظفر کے ساتھ مل کر انجمن ترقی پسند مصنفین تحریک کی بنیاد ڈالی۔ فیض ترقی پسند تحریک کے بانیان میں شامل تھے لیکن اِس تحریک کے بقیہ شعرا میں جو شدت اور ذہنی انتشار پایا جاتا ہے، فیض اِس اِنتہا پسندی سے گریز کرتے ہوئے اعتدال کی راہ اختیار کرتے رہے۔
فیض احمد فیض نے 1941ء میں لبنانی نژاد برطانوی شہری ایلس جارج سے سری نگر میں شادی کی۔ اِن کا نکاح شیخ محمد عبد اللہ نے پڑھایا۔ بعد از، ازدواجی بندھن میں بندھنے والے اِس نو بیاہتا جوڑے نے مہاراجہ ہری سنگھ کے پری محل میں اپنا ہنی مون منایا۔ فیض کی طرح، ایلس بھی شعبۂ تحقیق سے وابستہ تھیں اور اِن کی شاعری اور شخصیت سے متاثر تھیں۔فیض کے خاندان کو یہ بات بالکل ناپسند تھی کہ اُنہوں نے اپنے لئے ایک غیرملکی عورت کا انتخاب کیا، لیکن فیض کی ہمشیرہ نے اپنے خاندان کو ایلس کے لئے آمادہ کر لیا۔
1942ء میں آپ نے فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ دوسری جنگ عظیم سے دور رہنے کےلیے آپ نے اپنے لئے محکمۂ تعلقات عامہ میں کام کرنے کا انتخاب کیا۔ آپ فوج میں جنرل اکبر خان کے ماتحت ایک یونٹ میں بھرتی تھے۔ جنرل خان بائیں بازو کے سیاسی خیالات رکھتے تھے اور اس لیے آپ کو خوب پسند تھے۔ 1943ء میں فیض احمد فیض میجر اور پھر 1944ء میں لیفٹیننٹ کرنل ہوئے۔
1947ء میں پہلی کشمیر جنگ کے بعد آپ فوج سے مستعفی ہو کر لاہور آگئے۔
1947ء میں آپ پاکستان ٹائمز اخبار کے مدیر بنے۔ ترقی پسند تحریک کے دیگر بانیان، بشمول سجاد ظہیر اور جلال الدیں عبدالرحیم، کے ہمراہ آپ نے اِشتراکیت پسند کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان‎ کی بنیاد بھی اسی سال میں رکھی۔ 1948ء میں آپ پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے نائب صدر منتخب ہوئے۔
1948ء تا 1950ء آپ نے پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے وفد کی جنیوا میں سربراہی کی اور دریں اثنا آپ ورلڈ پیس کونسل کے رکن بھی بن گئے۔
لیاقت علی خان کی حکومت کشمیر کو پانے میں ناکام ہو گئی تھی اور یہ بات پاکستانی افواج، یہاں تک کہ قائد اعظم‎ محمد علی جناح، کو بھی گوارا نہ تھی۔ جناح نے خود لیاقت علی خان کی ناکامی پر ناراضی کا اظہار کیا۔ یہ بات بھی یقینی تھی کہ جنرل ڈگلس گریسی نے بھی اِس معاملے میں قائد اعظم‎ کی نہ سُنی۔ اور تو اور، امریکہ سے واپسی پر لیاقت علی خان نے کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان سوشلسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی۔ مشرقی پاکستان میں البتہ، ایسٹ پاکستان کمیونسٹ پارٹی فعال رہی اور دھرنے دیتی رہی۔
——
یہ بھی پڑھیں : مری سرکار کا فیض و عطا، جاری و ساری ہے
——
23 فروری 1951ء کو چیف آف جنرل سٹاف، میجر جنرل اکبر خان کے گھر پر مبینہ طور پر ایک خفیہ ملاقات کا انعقاد ہوا۔ اِس ملاقات میں دیگر فوجی افسران بھی سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض کے ساتھ، شامل تھے۔ یہاں موجود اِن سب لوگوں نے لیاقت علی خان کی گورنمنٹ کو گرانے کا ایک منصوبہ تجویز دیا۔ یہ سازش بعد میں راولپنڈی سازش کے نام سے جانی جانے لگی۔
9 مارچ 1951ء کوفیض احمد فیض کو راولپنڈی سازش كیس میں معاونت كے الزام میں حكومتِ وقت نے گرفتار كر لیا۔ آپ نے چار سال سرگودھا، ساہیوال، حیدرآباد اور کراچی كی جیلوں میں گزارے؛ جہاں سے آپ كو 2 اپریل 1955ء كو رہا كر دیا گیا ۔ زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اِسی عرصہ میں لكھی گئیں۔ رہا ہونے کے بعد آپ نے جلاوطنی اختیار کر لی اور لندن میں اپنے خاندان سمیت رہائش پزیر رہے۔
1959ء میں پاکستان آرٹس کونسل میں بطورِ سیکرٹری تعینات ہوئے اور 1962ء تک وہیں پر کام کیا۔ 1964ء میں لندن سے واپسی پرآپ عبداللہ ہارون کالج کراچی میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے۔
وہ بلاشبہ اس عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ ایسے شاعر اور ایسے انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ انہوں نے ساری زندگی ظلم، بے انصافی اور جبر و استبداد کے خلاف جدوجہد کی اور ہمیشہ شاعر کا منصب بھی نبھایا۔
وہ اردو شاعری کی ترقی پسند تحریک کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ ان کی فکر انقلابی تھی، مگر ان کا لہجہ غنائی تھا۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت سے انقلابی فکر اور عاشقانہ لہجے کو ایسا آمیز کیا کہ اردو شاعری میں ایک نئی جمالیاتی شان پیدا ہوگئی اور ایک نئی طرز فغاں کی بنیاد پڑی جو انہی سے منسوب ہوگئی۔
فیض احمد فیض نے اردو کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرایا اور انہی کی بدولت اردو شاعری سربلند ہوئی۔ فیض نے ثابت کیا کہ سچی شاعری کسی ایک خطے یا زمانے کے لئے نہیں بلکہ ہر خطے اور ہر زمانے کے لئے ہوتی ہے۔
نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، سروادی سینا، شام شہریاراں اور مرے دل مرے مسافر ان کے کلام کے مجموعے ہیں اور سارے سخن ہمارے اور نسخہ ہائے وفا ان کی کلیات۔
——
یہ بھی پڑھیں : جس جگہ آپ کے قدموں کے نشاں ہوتے ہیں
——
اس کے علاوہ نثر میں بھی انہوں نے میزان، صلیبیں مرے دریچے میں، متاع لوح و قلم، ہماری قومی ثقافت اور مہ و سال آشنائی جیسی کتابیں یادگار چھوڑیں۔
فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ءکولاہور میں وفات پا گئے اورلاہورہی میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ حکومت پاکستان نے ان کے انتقال کے بعد انہیں نشان امتیاز کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔
——
فیض احمد فیض نے ’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ کس کی یاد میں لکھی تھی؟
تحریر : عقیل عباس جعفری
——
اردو کے ممتاز نقاد محمد حسن عسکری نے اردو شعرا کی منتخب نظموں کا ایک مجموعہ ’میری بہترین نظم‘ کے عنوان سے شائع کیا تھا جس میں اس زمانے میں شاعری کے افق پر چھائے ہوئے تمام ممتاز تخلیق کاروں کی منتخب نظمیں اور ان کے خود تحریر کردہ حالات زندگی شامل تھے۔
فیض احمد فیض نے اس مجموعے کے لیے اپنی جس نظم کا انتخاب کیا وہ وہی نظم تھی جس کا پہلا مصرعہ اس تحریر کا عنوان ہے،
——
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
——
فیض احمد فیض نے اپنے حالات زندگی میں تحریر کیا کہ ’میری شاعری پر جن حالات اور شخصیات کا اثر پڑا ان میں سرفہرست نام ’م۔پ‘ کا ہے جس سے کالج کے زمانے میں محبت تھی‘۔
ڈاکٹر ایوب مرزا اپنی کتاب ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’پنڈی کلب کے لان میں ایک خاموش شام میں ہم اور فیض بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا فیض صاحب آپ نے کبھی محبت کی ہے؟ بولے ’ہاں کی ہے اور کئی بار کی ہے۔‘
’یہ کہہ کر پھر چپ ہو گئے۔ ’سیرئس لو‘ میں نے پوچھا، بولے ’ہاں ہاں تمہارا مطلب پہلی محبت سے ہے نا، محبت پہلی ہی ہوتی ہے، اس کے بعد سب کچھ ہیرا پھیری ہے۔‘
ایوب مرزا لکھتے ہیں کہ ’پہلی محبت میں دونوں جہان ہارنے کے بعد فیض ایم اے او کالج امرتسر پہنچے۔ ان کی عجب کیفیت تھی۔ محبت کے میدان میں پہلے تجربے کا اہم ترین پہلو تحیر ہوتا ہے۔ اس تحیر کے عالم گومگو میں فیض امرتسر کے شہر میں گواچ گئے۔‘
آغا ناصر نے لکھا ہے کہ ’امرتسر میں ان کی ملاقات ایک دانشور جوڑے سے ہوئی، ان کے نام تھے صاحبزادہ محمودالظفر اور ڈاکٹر رشید جہاں۔ صاحبزادہ صاحب ایم اے او کالج کے وائس پرنسپل تھے اور ان کی بیگم پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھیں۔ دونوں میاں بیوی مارکسسٹ تھے۔ ان دنوں یورپ میں ترقی پسند تحریک ابھرنا شروع ہو گئی تھی۔ ادھر فیض صاحب کا یہ عاشقی کا زمانہ تھا، فیض صاحب کا ان دونوں سے رابطہ ہوا، پھر یہ تعلق قرب اور چاہت میں بدل گیا۔‘
ایوب مرزا لکھتے ہیں کہ ’غور فرمائیں فیض صاحب کبھی بیڈمنٹن کھیل رہے ہیں اور تو کبھی کرکٹ ٹیم کی تشکیل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر رشید جہاں کی نگاہ دوررس نے اس تنہا لیکچرار کو بھانپ لیا، پوچھا معاملہ کیا ہے۔ کسی کام کاج میں تیرا جی نہیں لگتا۔‘
’جب فیض نے جواب میں تکلف کیا تو بلاتکلف بولیں: محبت میں ناکامی اور فیض نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مشورہ دیا، یہ حادثہ تمہاری ذات واحد کا بہت بڑا حادثہ ہوسکتا ہے مگر یہ اتنا بڑا بھی نہیں کہ زندگی بےمعنی ہو جائے۔‘
’انھوں نے فیض کو ایک کتاب مطالعے کے لیے دی اور پھر ملنے کے لیے کہا۔ بقول فیض انھوں نے اس کتاب کو پڑھا اور ان پر چودہ طبق روشن ہو چکے تھے، یہ کتاب کارل مارکس اور اینگلز کی کمیونسٹ مینیفیسٹو تھی۔‘
آغا ناصر کے بقول ’یہ واقعہ فیض کی زندگی کا ایک اہم موڑ بن گیا اور ان کی شاعری اور ان کا ذہنی رجحان بدل گیا۔ وہ غریبوں، مفلسوں، ضرورت مندوں، مجبور اور مفلوک الحال عوام کے شاعر بن گئے۔ اپنے ان جذبات کے اظہار کے لیے یہ ان کی پہلی نظم تھی جسے ان کی شاعری کا اہم ترین سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔‘
’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ ایک ابھرتے ہوئے عظیم شاعر کا اعلان تھا کہ اب اس کے شعر اور اس کے خیال عوام کی امانت ہیں۔
——
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے
پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
——
فیض کی یہ پہلی محبت کس شہر میں پروان چڑھی تھی اس بارے میں مختلف لوگوں نے مختلف شہروں کا نام لیا ہے۔
حمید نسیم نے افکار کے فیض نمبر میں شائع ہونے والے اپنے مضمون ’کچھ فیض صاحب کے بارے میں‘ میں لکھا ہے کہ ’فیض صاحب سے میرا تعارف میرے بڑے بھائی رشید بھائی نے کروایا اور ان کے بارے میں بتایا کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے میں پڑھتے ہیں اور ملتان میں مقیم ایک لڑکی سے عشق کرتے ہیں۔‘
’فیض صاحب کی اس دور کی تمام نظموں کا محرک اور محبوب یہی خاتون تھیں جو اپنے نیم خواب شبستان میں فیض صاحب کا انتظار کرتی تھیں، مخملی بانہوں والی محبوب۔‘
آغا ناصر نے اپنی کتاب ’ہم جیتے جی مصروف رہے‘ میں فیض کی نظم ’رقیب سے‘ کا پس منظر لکھتے ہوئے لکھا کہ ’اس نظم کے شان نزول کے بارے میں مجھے کچھ مدد امرتاپریتم کے ساتھ فیض صاحب کی گفتگو سے ملی، جس کے دوران فیض صاحب نے بڑی بےتکلفی سے امرتا پریتم سے کہا تھا ’لے ہن تینوں دساں میں پہلا عشق اٹھارہ ورہیاں دی عمروچ کیتا سی۔‘
سوال ہوا کہ ’اسے زندگی میں حاصل کیوں نہ کیا‘ تو جواب تھا کہ ’ہمت کب ہوتی تھی اس وقت زبان کھولنے کی، پھر اس کا بیاہ کسی ڈوگرے جاگیردار کے ساتھ ہو گیا۔‘
پھر پوچھا گیا کہ ’ایک تمہاری نظم ہے جس میں تم رقیب سے مخاطب ہو، تم نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ۔ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے۔‘ یہ نظم کس کے بارے میں تھی تو فیض صاحب نے جواب دیا کہ ’یہ بھی اسی کے بارے میں ہے جس کی خاطر نقش فریادی کی نظمیں لکھیں۔‘
آغا ناصر لکھتے ہیں کہ ’یہ فیض صاحب کا پہلا عشق تھا۔ ان کی محبوبہ کا تعلق ایک افغان گھرانے سے تھا۔ یہ نوعمر لڑکی سیالکوٹ میں ان کے ہمسائے میں رہتی تھی اور فیض صاحب کمرے کی کھڑکی سے اس کو آتے جاتے دیکھا کرتے تھے۔ چونکہ طبعاً بہت شرمیلے تھے اس لیے بات کرنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔‘
’یہ باتیں خود فیض صاحب نے زہرہ نگاہ کو بتائیں جن سے ان کے بڑے قریبی روابط تھے۔ زہرہ آپا نے مجھ سے کہا ‘فیض صاحب اس لڑکی سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی اس دیوانگی میں اس کے لیے خوبصورت شعروں کے ڈھیر لگا دیے۔ ان کا عشق اپنے شباب پر تھا جب تعلیم کے لیے انھیں سیالکوٹ سے لاہور جانا پڑا۔‘
فیض صاحب نے بتایا کہ ’پھر ہوا یوں کہ ہم ایک بار چھٹیوں میں لاہور سے واپس آئے تو کھلی کھڑکی کی دوسری جانب وہ چہرہ نظر نہ آیا۔ ہم نے کسی سے دریافت کیا تو پتا چلا کہ اس کی شادی ہو گئی۔‘
فیض صاحب کے لیے یہ خبر بڑی اندوہناک تھی۔ وہ ٹوٹے دل سے واپس لاہور چلے گئے اور مدتوں اس غم کو بھلانے کی کوشش کرتے رہے۔ پھر خاصا عرصہ گزر جانے کے بعد وہ ایک بار پھر سیالکوٹ آئے تو ان کی محبوبہ بھی آئی ہوئی تھیں۔
وہ فیض صاحب سے اپنے شوہر کو ملانے کے لیے لائی۔ اس کا شوہر بہت حسین و جمیل انسان تھا۔ دراز قد، شہابی رنگت، تیکھے خدوخال، مردانہ وجاہت کا نمونہ۔
فیض صاحب سے مل کر وہ دونوں رخصت ہو گئے مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر واپس آئی۔ اس بار اکیلی تھی صرف یہ کہنے کے لیے ’تم نے دیکھا میرا شوہر کس قدر خوبصورت ہے۔‘
فیض صاحب کی یہ نظم اس وقت مقبول ہوئی جب ملکہ ترنم نور جہاں نے اسے اپنی آواز دی۔ پھر 1962 میں فلم ساز آغا جی اے گل نے اسے اپنی فلم قیدی میں شامل کیا
فیض صاحب کہتے ہیں کہ ’بس اس کا یہی فقرہ نظم ’رقیب سے‘ کی تخلیق کا سبب بنا۔‘
فیض صاحب کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے اپنے مضمون ’فیض اینڈ پرفارمنگ آرٹس‘ میں فیض صاحب کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’میں رفتہ رفتہ شاعر بنتا گیا۔ دو تین عناصر نے یہ راہ طے کی۔ پہلا جذبہ جس نے یہ اضطرار پیدا کیا کہ ہم اپنی اذیتوں کا اظہار شاعری میں کریں یہ تھا کہ ہمیں عشق ہو گیا جیسا کہ اس عمر میں سب کو ہوتا ہے۔‘
’17، 18 سال کی عمر میں ہمیں ایک افغان لڑکی سے عشق ہوا جو بچپن میں ہمارے ساتھ کھیلا کرتی تھی۔ اس کے گھر والے افغانستان سے اسی وقت آئے تھے جب والد صاحب آئے۔‘
’وہ فیصل آباد (لائل پور) کے ایک گاؤں میں آباد ہوئے تھے۔ میری بہن کی شادی بھی اسی گاؤں میں ہوئی چنانچہ ہم بہن سے ملنے کے لیے وہاں جاتے تھے۔ ایک صبح ہم جاگے تو ایک حسین لڑکی اپنے طوطے کو دانہ کھلا رہی تھی، اس نے ہمیں دیکھا، ہم نے اسے دیکھا اور دونوں میں محبت ہو گئی بلکہ ہمیں ہو گئی۔‘
’روایت کے مطابق ہم رازداری سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے تھے لیکن ہم اس سے آگے نہ جا سکے۔ اس کی شادی کسی امیر زمیندار سے ہو گئی اور ہم ہمیشہ کے لیے دکھی دکھی رہنے لگے۔۔۔ آٹھ سال تک۔‘
اب آئیے اشفاق بخاری کی تحقیق کی طرف۔ وہ اپنی کتاب ’فیض احمد فیض، چند نئی دریافتیں‘ میں اسی روایت کی تصدیق کرتے ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ ’فیض احمد فیض کی ہمشیرہ بلقیس بانو سنہ 1922 میں شادی کے بعد لائل پور میں آباد ہوئیں، ان کے شوہر چوہدری نجیب اللہ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے۔ سنہ 1923 میں جب ان کے ہاں پہلی ولادت ہوئی تو بلقیس بانو کی والدہ سلطان فاطمہ اپنے تینوں بیٹوں طفیل احمد، فیض احمد اور عنایت احمد کے ساتھ سیالکوٹ سے لائل پور آئی تھیں۔‘
1929 میں فیض صاحب دوسری مرتبہ لائل پور آئے۔ اس وقت ان کی عمر 18 برس تھی۔ فیض صاحب نے امرتا پریتم کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بھی یہی بتایا تھا کہ جب وہ پہلی مرتبہ عشق میں مبتلا ہوئے تو اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی۔ یہی بات سلیمہ ہاشمی نے بھی لکھی۔ فیض احمد فیض اس وقت گورنمنٹ کالج لاہور میں تھرڈ ایئر کے طالب علم تھے۔
فیض کی ایک عزیزہ شفقت سلطان نے اشفاق بخاری کو بتایا کہ ’(چنیوٹ بازار میں واقع) ہماری حویلی کے دروازے اور کھڑکیاں بازار اور گلی دونوں جانب کھلتے تھے، نیچے بہت بڑے بڑے کمرے تھے۔ ان کے آگے بہت وسیع صحن تھا۔ ان کمروں میں کابل سے آتے جاتے مہمان ٹھہرا کرتے۔‘
’ان کمروں کے اوپر کی چھت انھی مہمانوں کے لیے مخصوص تھی کیونکہ حویلی تین منزلہ تھی ہمارے اپنے خاندان کے لوگ تیسری منزل پر سویا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ کی حویلی کی بناوٹ بھی ایسے ہی تھی۔ دونوں کے درمیان دیوار تو تھی مگر ایک چھت پر کھڑے ہوں تو دوسری جانب کے لوگ صاف دکھائی دیتے تھے۔‘
’میں عموماً دیوار پھلانگ کر ان کی چھت پر دھرے کابکوں میں بند کبوتر اور دوسرے کئی پالتو پرندے دیکھنے چلی جایا کرتی تھی، اس حویلی میں کئی سید خاندان آباد تھے، حسن و دلکشی میں ان کا جواب نہ تھا۔ مجھے خاندان میں ہونے والی سرگوشیوں کی بعد میں سمجھ آنے لگی کہ ماموں فیض کو ان میں سے کسی سے محبت ہو گئی ہے۔‘
سلیمہ ہاشمی نے ’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ ’شاید یہ فیض کی بہترین نظم نہ ہو لیکن یہ سب سے زیادہ مقبول اور بلاشبہ ان کی پہچان مانی جاتی ہے۔‘
فیض صاحب کی یہ نظم اس وقت مقبول ہوئی جب ملکہ ترنم نور جہاں نے اسے اپنی آواز دی۔ پھر سنہ 1962 میں فلمساز آغا جی اے گل نے اسے اپنی فلم قیدی میں شامل کیا۔ قیدی کے موسیقار رشید عطرے تھے۔
نور جہاں کی آواز میں یہ نظم اتنی مقبول ہوئی کہ فیض صاحب کہا کرتے تھے کہ ’بھئی اب یہ نظم ہماری نہیں، ہم نے تو یہ مادام نور جہاں کو دے دی۔‘
——
منتخب کلام
——
موتی ہو کہ شیشہ، جام کہ دُر
جو ٹوٹ گیا، سو ٹوٹ گیا
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا ، سو چھوٹ گیا
تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
شاید کہ انہی ٹکڑوں میں کہیں
وہ ساغرِ دل ہے جس میں کبھی
صد ناز سے اُترا کرتی تھی
صہبائے غمِ جاناں کی پری
پھر دنیا والوں نے تم سے
یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا
جو مے تھی بہا دی مٹی میں
مہمان کا شہپر توڑ دیا
یہ رنگیں ریزے ہیں شاید
اُن شوخ بلوریں سپنوں کے
تم مست جوانی میں جن سے
خلوت کو سجایا کرتے تھے
ناداری، دفتر، بھوک اور غم
ان سپنوں سے ٹکراتے رہے
بے رحم تھا چومکھ پتھراو
یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے
یا شاید ان ذروں میں کہیں
موتی ہے تمہاری عزت کا
وہ جس سے تمہارے عجز پہ بھی
شمشاد قدوں نے رشک کیا
اس مال کی دھن میں پھرتے تھے
تاجر بھی بہت، رہزن بھی کئی
ہے چورنگر، یاں مفلس کی
گرجان بچی تو آن گئی
یہ ساغر، شیشے، لعل و گہر
سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں، تو فقط
چبھتے ہیں، لہو رُلواتے ہیں
تم ناحق شیشے چن چن کر!
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
یادوں کے گریبانوں کے رفو
پر دل کی گزر کب ہوتی ہے
اک بخیہ اُدھیڑا، ایک سیا
یوں عمر بسر کب ہوتی ہے
اس کارگہِ ہستی میں جہاں
یہ ساغر، شیشے ڈھلتے ہیں
ہر شے کا بدل مل سکتا ہے
سب دامن پُر ہو سکتے ہیں
جو ہاتھ بڑھے ، یاور ہے یہاں
جو آنکھ اُٹھے، وہ بختاور
یاں دھن دولت کا انت نہیں
ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ ، مگر
کب لوٹ چھپٹ سے ہستی کی
دوکانیں خالی ہوتی ہیں
یا پربت پربت ہیرے ہیں
یاں ساگر ساگر موتی ہیں
کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر
پردے لٹکائے پھرتے ہیں
ہر پربت کو، ہر ساگر کو
نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں
کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بھِڑ کر
یہ پردے نوچ گراتے ہیں
ہستی کے اُٹھائی گیروں کی
ہر چال اُلجھائے جاتے ہیں
ان دونوں میں رَن پڑتا ہے
نِت بستی بستی نگر نگر
ہر بستے گھر کے سینے میں
ہر چلتی راہ کے ماتھے پر
یہ کالک بھرتے پھرتے ہیں
وہ جوت جگاتے رہتے ہیں
یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں
وہ آگ بجھاتے رہتے ہیں
سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر
اس بازی میں بَد جاتے ہیں
اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اِس رَن سے بلاوے آتے ہیں
——
یہ بھی پڑھیں : خام ہے خامہ جو لفظِ حق نما لکھتا نہیں
——
آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال
مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی
دل نشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی
حرفِ اُلفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے
جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت
اتنا روشن کہ سرِ موجۂ زر ہو جیسے
صحبتِ یار میں آغازِ طرب کی صورت
حرفِ نفرت کوئی شمشیرِ غضب ہو جیسے
تا ابَد شہرِ ستم جس سے تباہ ہو جائیں
اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے
لب پہ لاؤں تو مِرے ہونٹ سیاہ ہو جائیں
آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا
ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز
جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح
چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز
آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت
لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز
نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی
صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی
——
درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بُنِ مُو سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دور ترے صحن میں گویا
پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر
حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا
میرے ویرانہء تن میں گویا
سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کُھل کر
سلسلہ وار پتا دینے لگیں
رخصتِ قافلہء شوق کی تیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی ، مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا
——
ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اُٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ سفا مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھّے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
——
تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن
جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کرے
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہو گا
کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں
تیرے ایوانوں میں پرزے ہوے پیماں کتنے
کتنے وعدے جو نہ آسودۂ اقرار ہوے
کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بدخواہوں کی
خواب کتنے تری شاہراہوں میں سنگسار ہوے
’’بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا
جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا
مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر
لہو کے داغ تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا‘‘
ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں
اپنے عشّاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے
تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم
ہم تو مہماں ہیں گھڑی بھر کے، ہمارا کیا ہے
( یہ دو اشعار مرزا رفیع سودا کے ہیں )
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم وفات
——
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گےغمگسار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ