میاں محمد بخش (1830 تا 1907)

میاں محمد بخش ، کلام اور آسان تفہیم

میاں محمد بخش
پنجابی زبان کے مقبول شاعر میاں محمد بخشؒ کی ولادت کھڑی کے گاؤں گوجر پِنڈ میر پور آزاد کشمیر میں  ہوئی.
میاں محمد بخش کا تعلق گجر برادری سے تھا، آپ کا نسب فاروق اعظمؓ سے جا ملتا ہے.
میاں محمد بخش کے والد میاں شمس الدین قادری دربارحضرت پیرا شاہ غازی المعروف دمڑی والا کے سجادہ نشین تھے.
آپ عالم فاضل صوفی اور ولی اللہ تھے.
میاں محمد بخش نے ظاہری تعلیم اپنے والد اور سموال کی دینی درسگاہ سے حاصل کی.
اس کے بعد باطنی علوم کے حصول کی خاطر کسی ولیء کامل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : مادھو لال حسین (1538 تا 1599)
——
کشمیر کے جنگلات میں کئی مجاہدے کیے.
پیر سائیں غلام محمد کلروڑی کی بیعت کی اور واپس کھڑی شریف آ کر رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔
جلد ہی اپنے کشف و کرامات کی وجہ سے مشہور ہو گئے.
آپ کا سلسلہء طریقت قادری قلندری اور حجروی ہے.
میاں محمد بخش نے تجرّدانہ زندگی گزاری. کھڑی شریف میں وفات پائی اور وہیں مزار ہے
میاں محمد بخش کی شاعری، فکر اور مطالعے کی حدود قرآن و حدیث، فارسی شعراء عطار، رومی، جامی کے علاوہ منصور حلّاج، خواجہ حافظ اور پنجابی شعراء تک وسیع ہیں. آپ نے اپنی شاعری میں ہندی تصوّف اور ایرانی روایت کو یکجا کر کے اسے ذاتی و اجتماعی سوز وگداز کے فیضان سے دلکش صورت عطا کی ہے.
ابنِ عربی اور مولانا روم کی صوفیانہ روایت پنجابی شاعری کی روایت سے مل کر دو آتشہ ہو گئی ہے.
میاں محمد بخش کو "رومی کشمیر” بھی کہا جاتا ہے
——
یہ بھی پڑھیں : حضرت سخی سلطان باھو (1630 تا 1691)
——
میاں محمد بخش کی شاہکار تصنیف "سفر العشق” جو قصہ سیف الملوک کے نام سے مشہور ہے۔
آپ کے افکار و تخیلات کی مظہر ہے.
یہ بظاہر ایک عشقیہ داستان ہے مگر اس کو عشقِ حقیقی کا رنگ دے کر معرفتِ الٰہی کے موتی پروئے گئے ہیں
میاں محمد بخش کی شاعری آسان ہونے کی وجہ سے زبان زدِ عام ہوئی جس کے ایک ایک مصرعے میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے
آپ کا اصل موضوع حسن و عشق اور پیار و محبت ہے.
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کو پہچاننا، کارخانہء قدرت پر غور، ذات کے عرفان اور خالقِ کائنات کی معرفت آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں.
آپ کا بنیادی نظریہ طلب اور جستجو ہے
ابنِ عربی کے فلسفہء وحدت الوجود کی آپ ایسی تعبیر پر یقین رکھتے ہیں جو ذرّے ذرّے میں جمالِ حقیقی کا جلوہ دکھاتی ہے.
انسان کو فخر و غرور سے بچاتی ہے.
اسی رویے نے آپ کی شاعری میں گہرائی اور وسعت پیدا کی ہے.
آپ اپنی شاعری میں عمل پر بہت زور دیتے ہیں
آپ ایک صاحبِ طرز، باکمال شاعر تھے.
آپ نے کم و بیش اٹھارہ کتابیں لکھیں جن میں سترہ پنجابی اور ایک فارسی میں ہے.
اپنی مثنوی "سفر العشق” کے بارے میں کہتے ہیں
——۔۔
جنھاں طلب قصے دی ہوسی، سن قصہ خوش ہوسن
جنھاں جاگ عشق دی سینے، جاگ سویلے روسن
——۔۔
(جنہیں قصے کہانیوں سے دلچسپی ہے وہ یہ داستان سن کر خوش ہوں گے.
جن کے سینے میں عشقِ الٰہی موجزن ہے انہیں نیند کہاں، وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر محبوب کی یاد میں روئیں گے)
——
یہ بھی پڑھیں : حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ (1173 تا 1266)
——
یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ میاں محمد بخش کے اصل کلام میں تقریباً چالیس فیصد کلام دوسرے شعراء کا شامل کر کے اسے آپ کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے.
جس پر ابتدائی نسخہ جات کی روشنی میں تحقیق کا کام جاری ہے تاکہ اصل کلام کو دوبارہ مدون کیا جا سکے
——۔۔
منتخب کلام
——۔۔
کر دا نبی کفاراں وچوں، سر پر تاج ٹکا کے
ملکاں تِھیں شیطان بنائے، طوق گلے وچ پا کے
دنیا داراں دے گھر دیندا، بیٹے ولی الٰہی
ولیاں دے گھر پیدا کر دا میرے وانگ گناہی
قدرت اس دی دا کجھ مینوں،انت حساب نہ آوے
سُکّی لکڑ سِرّ حقانی بن رُباب سناوے
——۔۔
ملکاں : فرشتے، ملائک
میرے وانگ: میرے جیسے
سُکّی لکڑ: سوکھی لکڑی، خشک لکڑی
سِرّ: بھید، راز
رُباب : ساز کا نام
مفہوم
یہ خالقِ کائنات کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ وہ چاہے تو کافروں کے گھر میں نبی پیدا کر کے اس کے سر پر تاجِ نبوت سجا دے.
یہ بھی اس کی مرضی کے تابع ہے کہ عبادت و بندگی میں ملائک کا درجہ پانے والے ابلیس کو راندہء درگاہ بنا کر تاقیامت اس کے گلے میں ذلت و رسوائی کا طوق ڈال دے.
فرشتے کو شیطان بنا دینا رب کے دستِ اختیار میں ہے
اللہ جل شانہ چاہے تو دنیادار، دنیا سے محبت رکھنے والے لوگوں کے گھر میں اولیا اللہ پیدا فرما دے جو اپنے رب کی رضا کی خاطر دنیا تج کرنے کو تیار ہوں اور یہ بھی میرے رب کی منشاء ہے کہ ولیوں کے گھر میرے جیسے گنہگار جنم لیں.
میاں محمد بخش نے یہاں اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آپ کو گنہگاروں کی صف میں کھڑا کیا ہے. پھر فرماتے ہیں
اللہ پاک کی قدرت اور اختیار کا کوئی انت نہیں ہے، اس کا حساب یا شمار کرنا میرے لیے ممکن ہی نہیں کیونکہ وہ پاک ذات بے پایاں اختیارات کی مالک ہے، میری ناقص فہم اس کا احاطہ نہیں کر سکتی.
——
یہ بھی پڑھیں : گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں
——
ان اللہ علی کل شی قدیر
بےشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے
اللہ جس پر چاہتا ہے اپنی قدرت نافذ کرتا ہے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ہے، یہی چیز اس کے کمالِ قدرت اور وسعتِ اقتدار کی دلیل ہے
سمجھنے والوں کے لیے اللہ پاک کی قدرت اور اختیار کی اس ایک مثال میں بہت بڑی نشانی ہے کہ کس طرح خشک لکڑی رباب کی شکل میں ڈھل کر اسرارِ حقانی کھولتی ہے.
رباب سے پھوٹنے والے نغمے مالک کی حقانیت کا بھید کھولتے ہیں، سوکھی لکڑی کے بطن سے سُر بکھرتے ہیں تو کارخانہء قدرت میں خالق کی صنّاعی اور اختیار پر انسان عش عش کر اٹھتا ہے
——۔۔
حال اونہاں دا کس نوں مالوم،پھر دے آپ چھپایا
دل وچ سوز پتنگاں والا ، چہرہ شمع بنایا
باہر دِسَن میلے کالے ، اندر آب حیاتی
ہونٹ سُکے ترہایاں وانگر، جان ندی وچ نہاتی
شہر اجاڑ ڈھڈیندے وتدے، دلبر یار بغل وچ
گُنگے ڈورے کَن زبانوں، معنی سب عقل دے
——۔۔
اونہاں دا : ان کا
مالوم : معلوم
پتنگاں : پتنگے، پروانے
دِسَن: دکھائی دیں
سُکے: سوکھے، خشک
ترہایاں : پیاسے
وانگر: کی مانند، کی طرح
ڈھڈیندے: ڈھونڈتے
وتدے : پھِرتے
وِچ: میں
گُنگے ڈورے: گونگے بہرے
کَن: کان
مفہوم
ان اشعار میں عشّاق یعنی رب کے عاشقوں کا احوال بتایا گیا ہے کہ ان کی اصل کیفیت اور حالِ دل کسی کو معلوم نہیں ہوتا کیونکہ یہ خلقت سے اپنا احوالِ باطن چھپائے رکھتے ہیں۔
ان کے دل میں پروانے کی طرح شمع یعنی محبوب پر نثار ہونے کی تڑپ انگڑائیاں لے رہی ہوتی ہے مگر یہ اپنے سوزِ نہانی کو چہرے سے عیاں نہیں ہونے دیتے اور اپنے چہرے کو شمع کی مانند روشن، ہشاش بشاش رکھتے ہیں تاکہ عشقِ الٰہی کا سوز اور تڑپ لوگوں پر ظاہر نہ ہو.
عشقِ حقیقی کا پردہ فاش نہ ہو جائے
——
یہ بھی پڑھیں : ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
——
یہ عاشق باہر سے میلے کچیلے نظر آتے ہیں مگر ان کا باطن آبِ حیات کی طرح صاف و مصفّی اور پاکیزہ ہے.
ان کے ہونٹ پیاسوں کی طرح بظاہر خشک نظر آتے ہیں مگر یہ دریائے وحدت میں غوطہ زن ہو کر نہ صرف سیراب ہو چکے ہوتے ہیں بلکہ دنیاوی آلائشوں سے بھی پاک ہو جاتے ہیں
یہ عاشق بستیوں اور ویرانوں میں اپنے محبوب کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا دلبر، ان کا محبوب ان کی بغل میں ہوتا ہے یعنی یہ اپنے رب کی قربت سے سرفراز ہو چکے ہوتے ہیں مگر دنیا والوں پر اپنا یہ بھید نہیں کھولتے.
یہ زبان سے گونگے اور کانوں سے بہرے دکھائی دیتے ہیں.
دنیا اور دنیا والوں سے بے نیاز نظر آتے ہیں  کسی کے معاملات میں نہیں بولتے مگر ان کی اس خاموشی میں عقل کے کئی اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں.
یہ ولایت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ کر بھی اپنی حقیقت لوگوں پر ظاہر نہیں کرتے. علامہ اقبالؒ نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے
——۔۔
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے پھرتے ہیں اپنی آستینوں میں
——۔۔
مر کے جیون دی گل بھائی، دَسّے کون زبانوں
بعث بعد الموت سخن دے، معنی دور بیانوں
مر کے جیون دی گل چنگی، سو جانڑے جو کر دا
جس دے سر پر ورتی ہووے، کم نئیں ہر ہر دا
——۔۔
دَسّے: بتائے
بعث بعد الموت : موت کے بعد کی زندگی
چنگی: اچھی
سو جانڑے : جو جانے، جو سمجھے
ورتی : استعمال شدہ، یہاں مراد ہے جھیلی، بِیتی
مفہوم
میاں محمد بخش کی شاعری میں خارجی اور داخلی زندگی الگ الگ نہیں بلکہ باہم مربوط نظر آتی ہیں.
آپ کے مطابق جیتے جی مر جانا اور مر کر بھی جیتے رہنا فقر ہے.
——
یہ بھی پڑھیں : وہ رات میاں رات تھی ایسی کہ نہ پوچھو
——
اس لیے کہتے ہیں کہ مر کر زندہ رہنے کی بات زبان سے بیان نہیں ہو سکتی، اس کے معانی کی وسعت کو الفاظ میں نہیں ڈھالا جا سکتا
مر کر زندہ رہنے کی بات کرنے والا ہی اس کی اصل حقیقت سے آشنا ہوتا ہے کیونکہ جس کے اوپر بیتی ہو وہی جانتا ہے.
جس نے راہِ سلوک و طریقت کی مشکل گھاٹی کو عبور کیا ہو وہی اس کو بیان کر سکتا ہے یہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں ہے.
مر کر بھی زندہ رہنے والوں کو اپنے رب کے قربت میسر ہوتی ہے اور ان پر زندگی اور موت کی حقیقت کھل جاتی ہے.
وہ حیاتِ جاوداں پا لیتے ہیں اور ان کی قبریں روشن رہتی ہیں. بابا ُبلھے شاہ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے
بُلھے شوہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ