اردوئے معلیٰ

ہادی مچھلی شہری کا یوم وفات

آج نامور شاعر ہادی مچھلی شہری کا یوم وفات ہے

ہادی مچھلی شہرینام سید محمد ہادی، تخلص ہادی۔ تقریبا ۱۸۹۰ء میں مچھلی شہر ، ضلع جون پور میں پیدا ہوئے۔
فارسی و عربی کے صرف ونحو کی تعلیم مچھلی شہر میں حاصل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ سے بی اے ایل ایل بی کی سندیں حاصل کیں۔ تقریبا ۱۵ سال علی گڑھ میں وکالت کرنے کے بعد الہ آباد منتقل ہوگئے اور ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔
تقسیم ہند کے بعد کراچی آگئے۔
ہادی مچھلی شہری کو شاعری وراثت میں ملی تھی۔ان کے والد سید عبدالرزاق غالب کے شاگرد تھے۔ ان کے نام کے اکثر خطوط مکتوبات غالب کے مجلدات میں موجود ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر سلام مچھلی شہری کا یوم پیدائش
——
ہادی مچھلی شہری کی باقاعدہ شاعری کا آغاز ۱۹۱۰ء میں ہوا۔انھوں نے باقاعدہ زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا۔ البتہ شروع میں چند غزلیں جلیل مانک پوری کو دکھائیں۔ اردو کے علاوہ فارسی میں بھی شعر کہتے تھے۔ ان کا کلام اس زمانے کے رسائل و جرائد میں چھپتا رہا۔
۲۵؍اکتوبر ۱۹۶۱ء کو کراچی میں دمہ کا شدید حملہ ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’صدائے دل‘‘، ’’نوائے دل‘‘
بشکریہ اردو کلاسک
۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکن
اب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤں
مرنا مری قسمت ہے مرنے سے نہیں ڈرتا
پیمانۂ ہستی کو لبریز تو کر جاؤں
تو اور مری ہستی میں اس طرح سما جائے
میں اور تری نظروں سے اس طرح اتر جاؤں
دنیائے محبت میں دشوار جو جینا ہے
مر کر ہی سہی آخر کچھ کام تو کر جاؤں
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں
مآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میں
کہاں یہ وسعت جلوہ کہاں یہ دیدۂ تنگ
کبھی تجھے کبھی اپنے کو دیکھتا ہوں میں
شہید عشق کے جلوے کی انتہا ہی نہیں
ہزار رنگ سے عالم میں رونما ہوں میں
مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا
فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں
ہے تیری آنکھ میں پنہاں مرا وجود و عدم
نگاہ پھیر لے پھر دیکھ کیا سے کیا ہوں میں
مرا وجود بھی تھا کوئی چیز کیا معلوم
اس اعتبار سے پہلے ہی مٹ چکا ہوں میں
شمار کس میں کروں نسبت حقیقی کو
خدا نہیں ہوں مگر مظہر خدا ہوں میں
مرا نشاں نگہ حق نگر پہ ہے موقوف
نہ خود شناس ہوں ہادیؔ نہ خود نما ہوں میں
——
یہ بھی پڑھیں : جو بھی نکلا تری محفل سے نہ تنہا نکلا
——
محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جا
اپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جا
جلوہ ہے بے خودی طلب عشق ہے ہمت آزما
دیدۂ مست یار سے آنکھ ملا کے بھول جا
لطف جفا اسی میں ہے یاد جفا نہ آئے پھر
تجھ کو ستم کا واسطہ مجھ کو مٹا کے بھول جا
لوث طلب کے ننگ سے عشق کو بے نیاز رکھ
ہو بھی جو کوئی آرزو دل سے مٹا کے بھول جا
۔۔۔۔۔۔۔۔
شک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلا
جس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلا
کس قدر دست جنوں بے سروساماں نکلا
تجھ میں اک تار نہ اے چاک گریباں نکلا
اف وہ تقدیر جو تدبیر کی پابند رہی
حیف وہ درد جو منت کش درماں نکلا
خاک ہو کر بھی رہا جلوہ طرازی کا دماغ
میرا ہر ذرۂ دل طور بداماں نکلا
الاماں وہ خلش جاں جو مٹائے نہ مٹی
ہائے وہ دم جو بصد کاوش پنہاں نکلا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ