اردوئے معلیٰ

Search

آج جدید عہد کے نامور غزل گو شاعر اختر ملک کا یوم پیدائش ہے

(پیدائش: 10 اکتوبر 1971ء )
——
خاندانی پسِ منظر
——
اختر ملک ضلع چکوال کے نواحی گاؤں بوچھال کلاں سے تعلق رکھتے ہیں جو تحصیل کلرکہار سے دس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ بوچھال کلاں کے ایک زمیندار ملک غلام حسین جو اعوان قوم سے تعلق رکھتے ہیں علاقہ ونہار کی معتبر اور معاملہ فہم شخصیت تھے۔ ان کے ہاں آٹھ بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں ان میں عاشق حسین دوسرے نمبرپر ہیں عاشق حسین کے ہاں دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں جن میں اختر ملک صاحب کا دوسرا نمبر ہے۔اخترؔ ملک کے والد محترم 1973ء تک پاکستان فوج میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے اور حیدرآباد میں مقیم تھے۔
——
خطہ پوٹھوہار کا ادبی و تاریخی پس منظر
——
اختر ملک کا تعلق خطہ پوٹھوہار کے ضلع چکوال سے ہے ۔ ضلع چکوال عسکری و معدنی مقبولیت کے ساتھ ساتھ سنسکرت میں علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے بالخصوص پنجابی اور اردو ادب کے ارتقا کے حوالہ سے علمی و ادبی سطح پر خصوصیت کا حامل ہے ۔ خطہ پوٹھوہار کے اس قدیمی ضلع ( چکوال) کے علمی و ادبی تاریخی پس منظر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : دے بصارت کو رسائی حسن کے دربار تک
——
پانچ ہزار سال قبل از مسیح ضلع چکوال میں دراوڑ نسل آباد تھی جو کہ صاحب علم و ہنر اور تصویری رسم الخط کے ہنر سے مالا مال تھی ۔ انہی کے تراشے ہوۓ نمونے موہڑہ ( چکوال) ڈھیری سیداں سے دریافت ہوۓ۔
اس وقت کٹاس (چکوال) تہذیب و تمدن اور علم و افضل کا گہوارہ تھا ۔1000 قبل مسیح میں دنیا کی قدیم ترین کتاب ” رگ دید ” "شکنتلا یونیورسٹی” ۔ کٹاس کے اردگرد بیٹھ کر لکھی گئی۔  وید سنشکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی علم کے ہیں ۔ وید ان منتروں کے مجموعے ہیں جو پرانے دور میں رشیوں اور منیوں پر الہام ہوۓ۔ آریہ دور میں آریان ان کو وید کہتے تھے اور زبانی یاد کر لیتے تھے ۔ جب تحریر کرنے کا دور شروع ہوا تو سرزمین چکوال ( کٹاس) میں شکنتلا یونیورسٹی میں ہی بیٹھ کر لکھے گۓ۔ یہ وید چار ہیں ۔ جن کے نام یہ ہیں ۔ 1 رگ وید ۔ 2۔یجر وید ۔ 3 ۔ سام وید ۔4 اتھر وید ۔ دو ویدوں کے شواہد رگ وید اور یجر وید کے سرزمین کٹاس پر بیٹھ کر لکھے جانے کے موجود ہیں ۔ دید سنسکرت میں لکھے گۓ تھے اس لۓ ان کو اچھی طرح سمجھانے کے لۓ 500 قبل مسیح میں پاننی نے گرائمر لکھی جو کٹاس ( چکوال) میں ہی بیٹھ کر لکھی گئی۔
پنجابی اردو غزل کے حضرت شاہ مرادؒ 1627ء میں ضلع چکوال کے نواحی گاؤں خان پور میں پیدا ہوۓ ۔ یہ بات بڑے فخر سے کہی جاتی ہے کہ ضلع چکوال سنسکرت سے لے کر آج تک ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا بالخصوص پنجابی ،اردو ادب غزل کا ارتقاء بھی ضلع چکوال کے باسیوں کے لۓ طرہ امتیاز ہے۔ اس طرہ کی لاج کو ضلع چکوال کے ادیبوں اور شاعروں نے روشن در روشن ادبی صلاحیتوں کے جوہر دکھا کر ادبی دنیا میں اس بات کی سند کو قائم رکھتے ہوۓ ادبی معرکوں میں فتح حاصل پائی۔ اس فتح میں دوسرے غزل گو ، نثر نگار ادیبوں شاعروں کی طرح آج بھی ضلع چکوال سے پھوٹنے والی غزل کی بود و باش پروان چڑھ رہی ہے۔ اخترؔ ملک اسی دھرتی ( چکوال) کے خمیر میں گوندھے اور اسی دھرتی کی ادبی فضا میں سانس لے رہے ہیں جہاں سے دنیاۓ پنجابی اردو غزل اور ادب کی شروعات ہوئی۔
——
اختر ملک کی پیدائش اور نام
——
اختر ملک کی پیدائش حیدرآباد کی ہے ۔ آپ 10 اکتوبر 1971ء کو پیدا ہوۓ۔ اوائل عمری میں ہی راولپنڈی منتقل ہو گۓ ۔ والد صاحب نے آرمی میں شمولیت کی لیکن چند ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر ملازمت چھوڑنا پڑی اور بعد میں کافی عرصہ چیمبر آف کامرس میں ملازمت کرتے رہے ۔ وہ راولپنڈی میں بھی تقریباً ایک عشرہ رہے پھر وہاں سے اپنے گاؤں چلے گۓ ۔اخترؔ ملک کہتے ہیں :
” پھر وہاں سے ہم لوگ چکوال شہر اپنے آبائی گاؤں بوچھال کلاں منتقل ہو گۓ جو مجھے بہت پسند ہے ۔ ہماری تحصیل کلرکہار ہے جو سیاحت کے حوالے سے خاصی مشہور ہے۔:
——
یہ بھی پڑھیں : جب کبھی تلخئ ایام سے گھبراتا ہوں
——
مشاغل
——
اخترؔ ملک کے مطابق وہ شاعری اور موسیقی سے بھی بہت لگاؤ رکھتے ہیں ۔
اخترؔ ملک بتاتے ہیں :
” میں گلی ڈنڈا بہت شوق سے کھیلتا تھا ۔ لڑکپن میں ٹکٹیں جمع کرنے کا شوق بھی بہت تھا اور ایک بہترین کلیکشن ابھی بھی موجود ہے ۔ بیڈمنٹن ، کرکٹ، اتھلیٹکس وغیرہ میں بھی خاصا نمایاں مقام رہا۔”
——
تعلیم و تربیت اور ملازمت
——
مالی حالات کچھ زیادہ مستحکم نہیں تھے لہذا اخترؔ ملک کے والد صاحب بیرون ملک چلے گۓ اور لمبا عرصہ بیرون ملک رہے۔ اخترؔ ملک نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول بوچھال کلاں سے حاصل کی ، دینی تعلیم جامع مسجد بہارِ مدینہ کے خطیب اور استاد محترم حافظ شیر محمد صاحب ( مرحوم) سے حاصل کی ۔ پرائمری کے بعد گاؤں میں موجود گورنمنٹ بوائز ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ اپنے گاؤں ہی میں گورنمنٹ ڈگری کالج بوچھال کلاں سے گریجویشن کی ۔ اباکس کمپوٹر کالج سکستھ روڈ راولپنڈی اور این آئی سی ایس بینک روڈ صدر راولپنڈی سے کمپوٹر کی تعلیم حاصل کی۔
اختر ملک نے کالج کی تعلیم کے فوراً بعد یعنی 1997ء میں پی ٹی سی ایل کو جوائن کیا بعدمیں ملازمت کو خیرآباد کہا اور آجکل گلف ( متحدہ عرب امارات) میں ملازمت کر رہے ہیں ۔
——
ازدواجی زندگی اور شخصیت
——
اختر ملک کی شادی 2000ء میں عابدہ حسین سے ہوئی جو ان کی ماموں زاد بھی ہیں ۔عابدہ حسین ایک سلیقہ شعار گھریلو خاتون ہیں جس کا اظہار اخترؔ ملک ان الفاظ میں کرتے ہیں:
” میری اہلیہ نیک سیرت ، خوش کلام ، خوش گفتار اور صوم صلٰوۃ کی پابند خاتون ہیں ۔ میرے ساتھ ان کا رویہ بیوی کی حیثیت سے بہت اچھا ہے”
عابدہ حسین اپنے شوہر اخترؔ ملک کی شخصیت کے بارے میں کہتی ہیں :
” وہ بہت اچھے ہیں ۔ ان کی اچھائی کی جتنی بھی تعریف کی جاۓ وہ کم ہے ۔ وہ سب کے لۓ اچھے ہیں ، بہن بھائیوں اور بچوں کے لۓ انتہائی مخلص ۔ کسی سے گلہ شکوہ یا شکایت نہیں ”
اخترؔ ملک کے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔
——
ادبی زندگی کا آغاز
——
اختر ملک اپنی ادبی زندگی کے آغاز کے بارے میں لکھتے ہیں :
” کافی عرصہ شادی کرنے کے بعد خیال آیا کہ کیوں نہ کسی کو کلام دکھایا جاۓ، اس سے شاعری میں نکھار پیدا ہو گا ۔ کافی سوچ بچار کے بعد اپنا کلام علاقے کے کے معروف شاعر عظمت علی جوگی کے پاس لے گیا ۔ انہوں نے تحمل سے کتاب پڑھی اور ساتھ ساتھ کراس لگاتے گۓ۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ ان میں قافیہ ردیف موجود نہیں ۔ انہوں نے بنیادی رموز سے آشنائی کرائی جو بعد میں بہت کام آئی”
——
یہ بھی پڑھیں : ہر گھڑی اے میرے مالک! تیری کرتے ہیں ثنا
——
نامور سکالر اور ماہر تعلیم پروفیسر نثار احمد جمیل جو کالج کے پرنسپل تھے اور ساتھ ایک منجھے ہوۓ شاعر بھی ۔ انہوں نے بھی اختر ملک کی شاعری میں بہت رہنمائی کی اور انہیں سخن گوئی کے اسرار و رموز سے آشنا کرایا ۔ اخترؔ ملک نے کالج سے ہی شعر کہنا شروع کر دیا اور پہلی کتاب کا مسودہ دوران تعلیم ہی مکمل کر لیا۔ ان کی شاعری میں زندگی کے تمام رنگ و روپ اپنے بھرپور انداز میں ملتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں پیار و محبت، سماجی شکست ، خوابوں کے مختلف رنگگوں کے علاوہ امید و نامیدی کے تمام انداز دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ادب کی طرف رغبت یوں تو کالج کے زمانے سے ہی ہو گئی تھی ۔ پہلی غزل انہوں نے میٹرک کے ایام میں کہی جس کا شعر ہے۔
آج ہوا میں شور نہیں ہے
پاگل پن میں زور نہیں ہے
——
تصانیف
——
1۔ ” بساط میں ہو تو بھول جانا”
2۔ ” دل بہت اداس ہے”
3۔ ” اتنے گم سم کیوں رہتے ہو”
4۔ ” ساری بات محبت کی ہے”
——
مندرجہ بالا اختر ملک صاحب کے حالات زندگی نمل یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے ” مقالہ” میں لکھے تھے اور 150 میں سے 132 نمبر حاصل کۓ تھے۔ اور حال ہی میں اخترؔ ملک پہ ایک اور تھیسس لکھا جا رہا ہے۔
——
اختر ملک صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تمام ادبی محفلوں اور مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں چاہے وہ پاکستان میں ہوں یا جہاں اب وہ متحدہ عرب امارات میں ملازمت کی وجہ سے مقیم ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ نۓ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں انہیں سکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ترغیب دلاتے ہیں کہ وہ لکھیں ۔ اختر ملک کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہر ایک سے بہت محبت اور عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ مجھے ان کا کلام کئی مشاعروں میں سننے کی سعادت نصیب ہوئی بہت ہی خوبصورت لب و لہجے کے مالک ہیں اور مشاعروں میں چھاۓ رہتے ہیں ادبی حلقوں میں انھیں بہت پذیرائی ملتی ہے۔سامعین بھی ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کے کلام کو سراہتے ہیں اور کیوں نہ سراہیں ان کا کلام ہی ایسا ہوتا ہے کہ بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔
——
منتخب کلام
——
ظلم کی انتہا سے نکلا ہے
کرب تو کربلا سے نکلا ہے
——
دیار غیر کا جادو نہ چل سکا مجھ پر
میں ماں کے پاوں کی مٹی اٹھاکے لایا تھا
——
میں ریل گاڑی کا اخترؔ عجیب انجن ہوں
جدا رہوں تو مرا خاندان چلتا ہے
——
زمین والوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا
ترا فرشتہ بشر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا
——
یہ بات سچ ہے وطن کی تمیز ہوتی ہے
جنوں زدوں کو بھی مٹی عزیز ہوتی ہے
——
تیرا شکریہ خدایا کریں کیوں نہ پھر ادا ہم
تیری رحمتوں کےسائے بڑے دن گزر گئے ہیں
——
یہ ٹھیک ہےکہ بچھڑکرسبھی کوجاناتھا
مگر وہ شخص نہیں تھا،مرا زمانہ تھا
——
عدو کہاں کے کسی سے عداوتیں کیسی
جوکم شناس ہواس سےشکایتیں کیسی
——
دل سی نکلی مراد پاتی ہے
لب پہ اتری دعا نہیں ہوتی
——
کچھ لفظ ہمارے ہیں اعراب ہمارے ہیں
اس تیری کہانی میں کچھ باب ہمارے ہیں
ہم لوگ کسی صورت مانگیں گےنہیں تجھ سے
گو تیرے تصرف میں کچھ خواب ہمارے ہیں
——
کہا تھا اس نے فرشتہ سو لاج رکھنا پڑی
میں لڑکھڑا کے بشر کا ثبوت کیا دیتا
——
وہ گُر بتا کہ ایک ہی سجدہ اتار دے
سرپرجوعمربھر کی ندامت کابار ہے
——
کار دنیامیں الجھتے ہی نہیں تیرےفقیر
رنگ بھرتے ہیں کہیں اور چلے جاتے ہیں
——
نہیں بات اب یہ ڈھکی چھپی بڑی بدنصیب عوام ہے
جسے لوگ سمجھے ہیں شہنشاہ وہ غلام ابن غلام ہے
——
بنتے کھیل بگڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے
سارے لوگ بچھڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے
سپنوں سے مت جی بہلاؤ دیکھو لوگو
سپنے پیچھے پڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے
ضبط کرو تو بہتر ہے دیوانو ورنہ
آنسو زور پکڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے
جتنا ہوتا ہے اخترؔ کوئی کسی کے پاس
اتنے فاصلے بڑھ جاتے ہیں دھیرے دھیرے
——
یہ بھی پڑھیں : یا حبیبِ خدا سید الانبیا آپ جیسا کوئی رب کا پیارا نہیں
——
اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا
مل جائے کوئی شخص تو سارا نہیں ملتا
اس کی بھی نکل آتی ہے اظہار کی صورت
جس شخص کو لفظوں کا سہارا نہیں ملتا
پھر ڈوبنا یہ بات بہت سوچ لو پہلے
ہر لاش کو دریا کا کنارا نہیں ملتا
یہ سوچ کے دل پھر سے ہے آمادۂ الفت
ہر بار محبت میں خسارہ نہیں ملتا
کیوں لوگ بلائیں گے ہمیں بزم سخن میں
اپنا تو کسی سے بھی ستارہ نہیں ملتا
وہ شہر بھلا کیسے لگے اپنا جہاں پر
اک شخص بھی ڈھونڈے سے ہمارا نہیں ملتا
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اور گیت کار جان نثار اختر کا یوم وفات
——
رنگ روپ یہ خال اخترترتیب کا دھوکا ہے
یہ حسن و جمال اختر ترتیب کا دھوکا ہے
ہر جسم میں سانسوں کی تعداد معین ہے
دن ہفتے یہ سال اختر ترتیب کا دھوکا ہے
تعبیرکی کیاحسرت سپنوں کی حقیقت کیا
جو بھی ہے خیال اختر ترتیب کا دھوکہ ہے
آنکھوں سےپڑھی جاتی ہیں سوچ کی تحریریں
لفظوں کے یہ جال اختر ترتیب کا دھوکہ ہے
مسکائے تو کیا حاصل روئے تو نتیجہ کیا
یہ لطف و ملال اختر ترتیب کا دھوکا ہے
اس ملنے بچھڑنے کی کچھ اور کہانی ہے
یہ ہجر وصال اختر ترتیب کا دھوکا ہے
کیا جیت کے اترانا کیا ہار سے گھبرانا
یہ اوج و زوال اختر ترتیب کا دھوکا ہے
تقدیر کی لوحوں پر لکّھ دی گئیں تحریریں
ماضی ہو کہ حال اختر ترتیب کا دھوکا ہے
——
حوالہ جات
——
شعری انتخاب و تحریر از فیس بک صفحہ : اخترؔ ملک
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ