خیر کی حرز گاہ نعت شریف

ہے زمانہ پناہ نعت شریف آج بھی شاہدِ نیاز مری کل بھی ہو گی گواہ نعت شریف افتخار و علو و شان و شرَف نازش و عز و جاہ نعت شریف فوز پرور ، نشانِ خیر و فلاح اوج افروز راہ نعت شریف گوشۂ چشمِ التفات ، حضور ! ہے مری داد خواہ نعت شریف […]

یہ خاکداں پہ جو رخشاں ہے شمع دانِ شرَف

شرَف نواز ! یہ تیرا ہے آستانِ شرَف ہے ثبت عالَمِ امکاں پہ معنئ ذِکرَک بیانِ وصفِ پیمبر ہے کُل بیانِ شرَف مدینہ یوں کفِ دستِ زمیں پہ ہے منقوش کہ جیسے خاک پہ چمکا ہو آسمانِ شرَف اُسی کے نقش ہویدا رہیں گے تا بہ ابد ترے جلو میں چلا تھا جو کاروانِ شرَف […]

نثار احمد فاروقی کا یومِ پیدائش

آج معروف سکالر اور صوفی علوم کے ماہر پروفیسر نثار احمد فاروقی کا یومِ پیدائش ہے (پیدائش: 29 جون 1934ء – وفات: 28 نومبر 2004ء) —— نثار احمد فاروقی اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے۔ والد تسلیم احمد اور والدہ میمونہ خاتون تھیں، ان کی اولاد میں سے بڑے تھے۔ ان کے خاندان […]

مالکِ مُلکِ سخا ، صاحبِ کاشانۂ لطف !

خیر آرائے دو عالَم ہے ، ترا ریزۂ لطف حسرتِ حرف میں رہتا نہیں مداح تیرا لب پہ صلِ علیٰ ، ہاتھ میں ہے بُردۂ لطف کیا عجب طُرفہ رفاقت کے نشاں ہیں دونوں دستِ اُمید مرا اور ترا بادۂ لطف جُود پرور ہے ترا نقشِ عطا گنبدِ سبز خیر یاور ہے ترا شہرِ سخا […]

یہی دُعا کی ریاضت ، یہی عطا کے چراغ

فصیلِ شوق پہ روشن ہیں جو ثنا کے چراغ حضور ! ملتی رہے مقتضائے شوق کی بھیک عطا پذیر رہیں حرفِ اقتضا کے چراغ اُنہی کا پر تَوِ تاباں ہیں مہر و ماہ و نجوم فلک فروغ ہیں جو تیرے نقشِ پا کے چراغ رہیں گے راہ نما عرصۂ حیات میں بھی جلیں گے زیرِ […]

کیسے کوئی سمجھے ترے اسرار الٰہی

تو ربِ علٰی مالک و مختار الٰہی یہ چپ مجھے خاموش نہ کر دے ترے ہوتے دے نطق کو اب طاقتِ اظہار الٰہی واصف ہیں ترے برگ و شجر اور پرندے ہے اذنِ ثنا مجھ کو بھی درکار الٰہی یکتائی میں یکتا ہے تو واحد ہے احد ہے تو اول و آخر ہے تو غفار […]

شان ، پہچان اور شرَف کے چراغ

مدحتِ شاہ سے شغَف کے چراغ ضَوفشاں ہیں بہ اوجِ مطلعِ دید ایک دستِ ضیا کی کَف کے چراغ قبر میں بھی چلیں گے ، حشر میں بھی تیری نسبت ، تری طرَف کے چراغ تا ابد نُور بار و ضَو انگیز تیرے نعلینِ پا سے لَطف کے چراغ اُفقِ نعت پر سحَر آثار طلع […]

حرف کے طُرۂ دستار سے اوسع ، ارفع

نعت ہے فکرِ قلم کار سے اوسع ، ارفع گو تمنا ہے ، مگر مدحِ شہِ دیں کا محافظ ہے مرے حیطۂ اظہار سے اوسع ، ارفع ہے کوئی جاں ترے آثارِ محبت سے ورا ؟ ہے کوئی دل ترے انوار سے اوسع ، ارفع ؟ بخدا وسعت و رفعت میں نہیں ہشت بہشت کوچۂ […]

کُن کے کُل التفات کا مطلع

آپ ہیں کائنات کا مطلع آپ کے اسم کا توارد ہے خاورِ شش جہات کا مطلع ہے خیالِ جمالِ شہرِ کرم شوق کی بات بات کا مطلع تابشِ نعت سے فروزاں ہے مقطعِ ممکنات کا مطلع زلف و رُخ سے ہیں مستنیر ہوئے صبح کی تاب ، رات کا مطلع خاتمِ انبیا ہی ہیں لا […]

کر لیں کتنا بھی اہتمام یہ لفظ

بن نہیں سکتے مدحِ تام یہ لفظ بھیجتے ہیں درود اور سلام صورتِ جذبِ ناتمام یہ لفظ باریابی کی آرزو میں ہیں شاہِ عالَم ! ترے غلام ، یہ لفظ خاص ہیں ، معتبر ہیں ، روشن ہیں نعت آثار عام خام یہ لفظ لب یُوحیٰ کی لمس یابی سے ہو گئے صاحبِ مقام یہ […]