ہے رخشِ سخن مدحتِ آقا کے سفر میں
صد شکر کہ ہے روح، بہاروں کے اثر میں طیبہ کا سفر باعثِ شادابیٔ دل تھا عُشاق کو اب چین مُیَّسر نہیں گھر میں وہ پیروِ سرکار کبھی ہو نہیں سکتا جو ڈھونڈتا پھرتا ہے سکوں لعل و گہر میں وہ عشق جو پہنچائے درِ شاہِ ہدیٰ تک تنویر اسی کی ہو مرے شام و […]