ہے رخشِ سخن مدحتِ آقا کے سفر میں

صد شکر کہ ہے روح، بہاروں کے اثر میں طیبہ کا سفر باعثِ شادابیٔ دل تھا عُشاق کو اب چین مُیَّسر نہیں گھر میں وہ پیروِ سرکار کبھی ہو نہیں سکتا جو ڈھونڈتا پھرتا ہے سکوں لعل و گہر میں وہ عشق جو پہنچائے درِ شاہِ ہدیٰ تک تنویر اسی کی ہو مرے شام و […]

قرآن سے پاتے ہیں کیا خوب یہ دانائی

’’جآوٗکَ‘‘ پڑھا جب سے، عُشاق کی بن آئی اقرار گناہوں کا کرتے ہوئے روتے ہیں کہتے ہیں ’سیہ کاری‘ روضے پہ تو لے آئی! دربارِ رسالت سے پاتے ہیں تسلی وہ آتے ہیں یہاں جو بھی بخشش کے تمنائی! ہوں عفو طلب عاصی، آقا بھی یہی چاہیں! تن رَبّ کی طرف سے یوں ہوتی ہے […]

امداد امام اثر کا یوم پیدائش

آج اردو کے نامور شاعر شمس العلماء امداد امام اثر کا یوم پیدائش ہے شمس العلماء امداد امام اثر اردو کے شاعر اور ان کی وجہ شہرت اردو تنقید کی کتاب ” کاشف الحقائق” ( دو جلدیں : 1894ء) ہے۔ اثر 17 اگست 1849ء میں بہار آرہ ء کے ضلع سالارپور میں پیدا ہوئے اور 17 اکتوبر 1934ء میں […]

نالۂ درد مرا زود اثر ہو جائے

کاش آقا کی مری سمت نظر ہو جائے ہجرِ طیبہ میں گریں آنکھ سے جتنے آنسو کرمِ شاہ سے ہر ایک گُہر ہو جائے! خواب دیکھوں تو مدینے کی زمیں کے دیکھوں دل بھی طیبہ کی کوئی راہ گزر ہو جائے! وہ جو چاہیں تو یہ اِدبار کی گھڑیاں ٹل جائیں چند لمحوں میں مری […]

خرد کی تیرہ شبی کی اگر سحر ہو جائے

تو روح عشقِ محمد سے معتبر ہو جائے یقیں کے ساتھ اٹھیں ہاتھ جب دعا کے لیے قفس کی آہنی دیوار میں بھی در ہو جائے خجل ہو قوم عمل پر تو مہربان ہو رَبّ ہر آنکھ فرطِ ندامت سے خوں میں تر ہو جائے لہک لہک کے جو آقا کا نام لیتے ہیں اب […]

شمیمِ ذوقِ عمل مدتوں سے آئی نہیں

نمودِ عشق ہمالہ، خلوص رائی نہیں تڑپ رہا ہے یہ دل حاضری کو مدت سے پہنچ کے روضے پہ رُودادِ غم سنائی نہیں مجھے نصیب نہیں آفتاب کا پر تو شبِ سیاہ میں لمعات کی رسائی نہیں ہم اپنا حال بدلنے کا عزم ہار گئے اگرچہ کون سی ذلت ہے جو اُٹھائی نہیں بجا کے […]

طالب دنیا جو دو دل منفصل ہو جائیں گے!

دین سے پیوستہ ہو کر ایک دل ہو جائیں گے! یعنی جو افراد ہوں گے دشمنی میں دور دور پیرویٔ مصطفی ﷺ سے متصل ہو جائیں گے! آخرش مٹ جائیں گی ساری ہی آوازیں مگر مدحتِ آقا ﷺ کے نغمے مستقل ہو جائیں گے! شاد ہوں گے دامنِ ختم الرسل تھا میں گے جو جو […]

قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی

میں شان دیکھ پاؤں رسالت مآب کی! ہاں میں بھی سر جھکائے کھڑا تھا حضورِ شاہ ! لگتا ہے یوں کہ جیسے یہ باتیں ہوں خواب کی! خوں رنگ ہو گئی ہے حضوری کی آرزو! شاید اسے نصیب ہو صورت گلاب کی! ایماں کے ساتھ جس نے عمل سے کیا گریز اس نے تو اپنی […]

حسن و جمالِ اُسوۂ آقا ﷺ پہ ہو نظر!

زِنہار دھیان ہو نہ قریب و بعید کا کر ان کا ذکر اور سنا کر انہی کی بات مقصود ہو فقط یہی گفت و شنید کا افسانیہ سنیے یار کا ذکر اس کا کیجیے مقصود ہے یہی مری گفت و شنید کا (کلیات آتشؔ۔ ص ۳۰۰) ہفتہ : ۹؍ ذیقعدہ ۱۴۲۹ھ…۸؍ نومبر ۲۰۰۸ء