بابِ توفیقِ ثنا سے اذن ہو جائے اگر

مدحِ محبوبِ خدا لکھتا رہوں شام و سحر اقتداے آیۂ ذِکرک میں جاری ہے سفر خوب پھلتا پھولتا ہے ان کی مدحت کا شجر آپ کے آنے کا جب پیغام لایا نامہ بر رشک گاہِ کل جہاں تب سے ہوا ہے میرا گھر بے بسی، بے چارگی ہے آج میرے چارہ گر طائرِ جاں تولتا […]

مدینہ طیبہ کا حسن، حدِ بیاں سے باہر

ہے رشکِ حسنِ جناں بظاہر جناں سے باہر میں جسم لے کر گیا تھا بس ایک بار طیبہ پہ دل وہیں رہ گیا نہ آیا وہاں سے باہر فقط اُنھی کو شرف ملا ہے وصالِ حق کا وہی گئے ہیں حدِ مقامِ مکاں سے باہر سوال کرنے سے قبل بخشش عطا ہوئی ہے عطاے شہرِ […]

دل دیارِ عشق کی گلیوں میں کھونا چاہیے

جذبِ ہجرِ مصطفیٰ میں روز رونا چاہیے دو جہانوں میں خلاصی کے لیے لازم ہے یہ ذکرِ احمد دم بہ دم ہونٹوں پہ ہونا چاہیے جو ہے مشتاقِ لقاے رحمتہ اللعالمین رُخ اسے طیبہ کی جانب کر کے سونا چاہیے دل بہ ضد ہے اس لیے کہ بعد مرنے کے اسے قبر میں خاکِ مدینہ […]

آزردہ و رنجیدہ ہے دلشاد نہیں ہے

جس دل میں بپا محفلِ میلاد نہیں ہے بس ایک سے دو گز کی زمیں شہرِ کرم میں جز اِس کے کوئی بھی مری فریاد نہیں ہے معبود نہیں بندۂ معبود ہیں لیکن سر کیسے جھکا ان کی طرف یاد نہیں ہے بس کاسہ بہ کف پیش کرو مدح نبی کی یہ راہِ سخن عجز […]

در و دیوار سے محبت ہے

اُن کے دربار سے محبت ہے جو بھی اُس شہر سے جُڑا ہوا ہو گل تو گل خار سے محبت ہے سبز گنبد ہے شوق کا محور اور مینار سے محبت ہے مجھ کو سرکار سے محبت تھی مجھ کو سرکار سے محبت ہے جس کی تطہیر کا گواہ خدا آلِ اطہار سے محبت ہے […]

اب آئے مقدر میں مرے ایسی کوئی شام

اور اذنِ حرم لائے کبھی نامہ مرے نام آواز و نظر دونوں ہی خم رکھنا یہاں پر از بارگہِ رب ہوئے جاری سبھی احکام آماجگہِ رنج و مصائب تھا یہ عالم پھر ایک سحر آئے یہاں دافعِ آلام میں آلِ محمد کے غلاموں کا گدا ہوں ہے میرے مقدر میں یہ نسبت بہ صد اکرام […]

مطلعِ نعتِ نبی میں لکھ رہا ہوں حالِ دل

نطق ہے بے جان میرا لفظ سارے منفعل اے رسولِ ہاشمی امداد کن امداد کن نرغۂ اعداء میں ہے تیرا یہ بندہ مستقل ذکرِ اسمِ پاک سے باقی ہیں آثارِ حیات ذکرِ اسمِ پاک سے ہر زخم ہوتا مندمل اپنے دل پر نقشِ نعلینِ کرم رکھتا ہوں میں لرزشِ تارِ نفس ہوتی ہے جب بھی […]

رہتی ہیں سدا اس پہ کرم بار گھٹائیں

اس واسطے مہکی ہیں مدینے کی ہوائیں ہم پیشِ مدینہ ہیں لیے ایک تمنا سرکار سے گر اذن ملے نعت سنائیں ہے جن کا عقیدہ ورفعنا لک ذکرک ہر روز وہ مدحت کے نئے پھول کھلائیں میں بھیجتا رہتا ہوں درود اُن پہ شب و روز آتی ہی نہیں پاس مرے یوں بھی بلائیں کرتا […]

مطلعِ نعت ہے وراے گماں

مطلعِ نعت ہے ورائے گماں نطق مفلوج سر جھکائے زباں جانے کس دم ، کرم وہ فرما دیں روز اُمید پر سجائے مکاں مرکزِ شوق ہے وہ گنبدِ سبز عاصیوں کے لیے ہے جائے اماں بعدِ سدرہ سفر کدھر تھا، کوئی گر بتائے تو کیا بتائے کہاں جاے وصلِ حبیب و رب تھی عجب تھا […]

جب مدینے قافلہ کوئی بھی جاتا دیکھیے

لازمی ہے چشمِ نم میں جھلملاتا دیکھیے کس طرح آتی ہے جنت کی بہاروں پر بہار وجہِ حسن دو جہاں کو مسکراتا دیکھیے یہ دلیلِ جشنِ میلاد النبی ہے، چار سو قدسیانِ عرش کو پرچم لگاتا دیکھیے جاننا گر چاہتے ہیں اختیارِ مصطفٰیٰ اُمتی کو پُل پہ گرنے سے بچاتا دیکھیے شانِ محبوبِ خدا ہے […]