سرکار کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے

دل کہہ رہا ہے آج بھی امکانِ نعت ہے نم آنکھ ، ہاتھ کانپتے ، ہے سر نِگوں مِرا اور قلبِ بے قرار ، یہ وِجدانِ نعت ہے ہیں چند لفظ مدحتِ سرکار میں گُندھے عاصی کے پاس کب کوئی دیوانِ نعت ہے اس زندگی میں جو بھی میسر ہوا مجھے سرکار کا کرم ہے […]

دو عالم میں ہر شے کی جاں ہیں محمد

کہ وجہِ زمیں آسماں ہیں محمد جو پوچھا کسی نے ، ہے کیا مال و دولت بتایا یہ دل ہے یہاں ہیں محمد بصارت میں گر ہو بصیرت بھی شامل تو ہر سو ہر اک جا عیاں ہیں محمد جہاں سے وہ گزریں زمیں معتبر ہے ہے جنت وہاں پر جہاں ہیں محمد غنیم ان […]

نعت کہتا ہوں تو دیدار بلاتے ہیں مجھے

ایسا لگتا ہے کہ سرکار بلاتے ہیں مجھے روشنی دینے تجھے اے دلِ تاریک مرے گنبدِ خضرٰی کے انوار بلاتے ہیں مجھے وہ درودوں کی لہک اور وہ لبیک صدا رحمتوں سے بھرے سنسار بلاتے ہیں مجھے خوشبووں سے وہ مہکتی ہوئی پر کیف فضا دشت و صحرا سبھی گلزار بلاتے ہیں مجھے لفظ تکتے […]

نعتِ نبی مدینے میں جا کر سنائیں گے

سوزِ جگر حضور کو رو رو دکھائیں گے ہنستے ہوئے مدینے کو جائیں گے ایک دن لوٹے تو اشک غم سے بہا کر پھر آئیں گے اس در کے ہیں گدا سو رہیں گے تمام عمر پایا ہے سب حضور سے ، ان کا ہی کھائیں گے نیندوں میں گنگنائیں گے نعتیں رسول کی پڑھتے […]

لکھوں میں نعت ، مدینے سجا کے لے جاؤں

میں لفظ لفظ کو خوشبو بنا کے لے جاؤں نصیب اونگھتا رہتا ہے ہر گھڑی میرا جگانے واسطے در پر شہا کے لے جاؤں میں پھونکتا ہوا جاؤں درود سینے پر بناؤں دل کو دیا اور جلا کے لے جاؤں سفر کرے جو مری نعت جانبِ طیبا تو شوقِ دید کی انگلی تھما کے لے […]

سوال : حُسن کی دنیا میں دیجیے تو مثال؟

جواب : کس کا محمد سے بڑھ کے حسن و جمال سوال : خون سے سینچا ہے دین کو کس نے؟ جواب : کرب و بلا میں جو تھی رسول کی آل سوال : قلبِ حزیں کا علاج کیا ہوگا؟ جواب : دل کو بہت ہے فقط درود کی ڈھال سوال : پیش کرے گا […]

الفاظ جھوم کر یوں قلم سے رواں ہوئے

نعتِ نبی کے واسطے سب ضو فشاں ہوئے ماہِ رسول نے یوں کیا نرم قلب کو مشغول نعت میں سبھی اہلِ زباں ہوئے جب سے درِ حبیب کے ہم ہوگئے غلام تو معتبر زمانے میں ہم بھی میاں ہوئے آمد پہ کھلکھلائیں مدینے کی بچیاں روشن نبی کے نور سے دل کے مکاں ہوئے ادنٰی […]

جو ان کے در پر جھکا ہوا ہے

فلک پہ گویا کھڑا ہوا ہے جو اٹھ گیا ہے درِ نبی سے وہ ذلتوں میں گرا ہوا ہے جڑا ہوا ہے جو ان کے در سے اسی پہ عقدہ کھلا ہوا ہے اگر وہ راضی خدا بھی راضی بڑوں سے ہم نے سنا ہوا ہے بھنور کی زد میں ہے میری کشتی فراتِ عصیاں […]

جو یادِ نبی میں نکلتے ہیں آنسو

گراں موتیوں میں وہ ڈھلتے ہیں آنسو اُمڈتا ہے آنکھوں میں گویا سمندر جو دھیرے سے پلکوں پہ چلتے ہیں آنسو جونہی یاد آتی ہیں طیبہ کی گلیاں نہیں پھر سنبھالے سنبھلتے ہیں آنسو تصور میں لاتا ہوں جب بھی مدینہ تو بے ساختہ یہ ابلتے ہیں آنسو گریں گے یہ ارضِ مدینہ پہ جا […]

ماہِ میلاد ہے اک دعا مانگ لیں

بس درِمصطفٰی پر قضا مانگ لیں وہ خدا کی عطا وہ قسیمِ عطا آؤ قاسم کے در سے عطا مانگ لیں ان کو ہر شے کی کثرت عطا ہو گئی آنے والے خدا جانے کیا مانگ لیں ہر جگہ جن کو صحبت ملی آپ کی کچھ انہی سے ہی صدق و صفا مانگ لیں عدل […]