تھکن سے جب بدن ٹوٹے گا تو آرام کر لیں گے
ابھی دن ہے جہاں سورج ڈھلے گا شام کر لیں گے ہمیں اپنے ارادوں کی ثباتی پر بھروسہ ہے ہم اپنی منزلوں کے راستوں کو رام کر لیں گے چراغِ زیست کی افسانویت کے جو قائل ہیں وہی اندھے خنک جھونکوں کو اپنے نام کر لیں گے کبھی ہم میں طلب جاگی اگر بادہ گساری […]