آسمانوں کو سنبھالوں تو زمیں گرتی ہے
میں زمیں تھام کے رکھوں تو فلک جاتا ہے پھر ترے بخت میں جو ہو سو وہی صورت ہے راستہ دشت کے آغاز تلک جاتا ہے ساقیِ عشق ، ہر اک بار ہی دریا دل تھا عمر کا جام ہی چھوٹا ہے چھلک جاتا ہے دید کچھ یوں بھی تہی دست ہوئی جاتی ہے ہر […]