اردوئے معلیٰ

آج نامور غزل گو شاعر عمران عامی کا یوم پیدائش ہے

عمران عامی
( پیدائش: 5 اکتوبر 1980ء )
——
عامی دورِ حاضر کے جدید اردو غزل نگاروں میں منفرد شناخت اور مقام رکھتے ہیں ۔
مصرعے کی تازہ تراش، ناہمواریوں پر کڑی تنقید اور انسانی رویوں کی کجی پر اظہار ِطنز، ان کے کلام کی خصوصیات ہیں ۔
دنیا بھر کے موقر ادبی رسائل اور اخبارات میں ان کے کلام کی مستقل اشاعت اور بیسیوں چھوٹے بڑے ادبی مراکز کے مشاعروں میں متواتر شرکت نے ادبی و عوامی حلقوں میں ان کی پہچان کو مستحکم کیا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : جدید عہد کے نامور غزل گو شاعر عمیر نجمی کا یوم پیدائش
——
عمران عامی کا ایک حوالہ جدید پوٹھوہاری غزل بھی ہے ان کی پوٹھوہاری شاعری کا لب لہجہ اور اس کے فکری خدوخال، ان کی اردو غزل سے کسی قدر مماثل ضرور ہیں لیکن اس میں اپنی مٹی سے نسبتًا گہرے اور مضبوط تعلق کے اظہار اور خطہ پوٹھوہار کے تہذیبی اور ثقافتی حوالوں کے رچاؤ نے نیا رنگ پیدا کر دیا ہے
——
عمــران عـامـی ، اِقلیـــم ِ غزل کا شاہ زادہ از پرویز ساحر
——
مشرقی شعریات بَہ ہر لحاظ مغربی شعریات سے یک سر مختلف ہیں ۔ اس لئے مشرقی شعریات کو مغربی انتقادیات کے بجائے مشرقی پیمانہِ انتقاد پر ہی جانچا پرکھا جانا چاہیے۔ اور اس انتقادی پرکھ تول کے دوران میں انتقادیانہ دیانت داری اور روشِ توازُن کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے۔
فہمیدگیء شعر سے بے بہرہ ۔ ۔ ۔ خود ساختہ اور بے فیض ناقدین کی مدرسیانہ تحریروں اور رسمی مشاعروں کی بھر مار نے ادب کے معیار کو مجروح کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکّھی ۔ باوجود اس کے کئی سنجیدہ فکر شعرا مسلسل معیاری شعری ادب معرض ِ تخلیق میں لا رہے ہیں۔
جدّت ایسے بُت ِ ہزار شیوہ کو دُودھوں نہلانے والے معدودِ چند جدید کار شاعروں میں ایک نمایاں تر نام عمران عامی کا بھی ہے ۔ عمران عامی کی شاعری کی پہلی خصوصیّت ان کے شعری اسلوب کی تازہ کاری ہے ‘ اسلوبی اعتبار سے ان کی شاعری میں کوئی گُنجَــلتا نہیں بَل کہ سلیس تر پیرایہ ہاے اظہار جالبِ توجّہہ ہیں۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ ان کے اندر کا شاعر اپنے کاندھوں پر کسی مُردہ نظریے کی لاش اٹھائے ہوئے نہیں پھرتا ۔ یوں بھی معیاری اور آفاقی شاعری کسی جامد نظریے یا کسی تھیوری کے زیرِ اثر کبھی معرض ِ تخلیق میں نہیں آتی ۔
عمران عامی کی شاعری کے معروضی مطالعہ سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ان کی ہر غزل میں ان کا وسیع تر جمالیاتی ویژن ضو فشاں ہے ۔ با حُسنِ وجہہ ان کی شاعری میں جا بجا جدّت کے قُمقمے چَمچما رہے ہیں :
——
شـــاہ زادی کو دل کا دورہ پڑے
اور محَـل میں کوئی غلام نہ ہو
——
اچّھــــــی لگتی ہے مجھے ریل کی سِـــیٹی عــامــی !
اچّھے لگتے ہیں مجھے جان سے جاتے ہوئے لوگ
——
میں ایک پھول ہوں کیچڑ میں مسکراتا ہوا
میں سانس لیتی ہوئی زندگی کا آدمی ہوں
——
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ ذرا سی خاموشی
اب اِتنے شور میں ہم کیا تمھیں سُنائی دیں
——
یہ بھی پڑھیں : مظہر کلیم ایم اے کا یوم وفات
——
تتلیاں پھول سے کرتی ہیں ہماری باتیں
اور وہ باتیں کہ جو رنگ اڑا دیتی ہیں
——
مَیں نہایت شــــــــریف آدمی ہوں
کیا تجھے ڈر نہيں لگا مجھ سے
——
شور ایسے مچا رہے ہو تم
جیسے دنیا چلا رہے ہو تم
——
تیرے سائے میں آنا چاہتی ہوں
ایک دیوار نے کہــــا مجھ سے
——
عمران عامی نے اپنی غزلیہ شاعری میں معتد بہ فنّی قرینے بَہ روے کار لا کر شاعری کے مومیائی اثر کی بَہ دولت معاصر ادبی منظر نامہ میں سنجیدگانِ فن کو متوجّہ کر کے اپنی الگ ادبی شناخت قائم کی ۔ ان کے حَجلہِ شعر میں عروسہِ خیال مکمل از خود سپردگی کے جذبات کے ساتھ اظہار کا گھونگٹا نکالے بیٹھی ہے :
——
ہم کو ہمـــــــــــاری نیند بھی واپس نہيں مِلی
لوگوں کو اُن کے خواب جگا کر دیئے گئے
——
فقیر موج میں آئے ہوئے تھے ‘ رات گئے
خُدا کے سامنے بیٹھے ‘ خُدا بنا رہے تھے
——
جـــــو دیکھتا ہے مجھـے’ دیکھتا ہی رہتا ہے
میں اِک نگینہ ہوں اور آنکھ میں جَڑا ہوا ہوں
——
اُس نے کاغذ پہ کوئی پھــــول بنا کر بھیجا
اور اُس پھول سے آنے لگی مہکار مجھے
——
پہلے تو راکھ ہو گئی چـــــوپال گاؤں کی
پھر یوں ہوا کہ لوگ کہانی سے ڈر گئے
——
یہ بھی پڑھیں : جوش ملیح آبادی کا یوم پیدائش
——
یہ شہرِ عشق بہت جَلد اجڑنے والا ہے
دکان دار و خــریدار جھوٹ بولتے ہیں
——
اُس کا چہـرہ دیکھنے والا چہرہ ہے
لیکن چہرے پر جو کالی آنکھیں ہیں
——
یہ مَے کشـوں کا توازُن بھی کیا توازن ہے
کھڑے بھی رہنا’ سہولت سے لڑکھڑانا بھی
——
عمران عامی طبعاً تجدُّد پسند ہیں ‘ ان کی جدّت کاریاں ضغطے میں ڈال کر رکھ دیتی ہیں ۔ عمران عامی نے مضامین ِ نو بَہ نو اور روشن امکانات کی یافت و بازیافت بَہ طریقِ اَحسن کی ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کہ عمران عامی فی الواقعی عصر ِ جدید میں اِقلیم ِ غزل کے شاہ زادہ ہیں ۔ بالیقین ان کا پہلا تخلیقی اعجاز ادبی دنیا میں دُھومیں مچائے گا ۔
——
پــرویــز ســاحِــر ( ایبٹ آباد ‘ پاکــســتان )
مرقومہ بَہ تاریخ پندرہ جنوری دو ہزار بیس
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
چھوڑ کر رونقِ بازار ‘ کوئی نعت کہو
ٹھیک ہو جاؤ گے بیمار ! کوئی نعت کہو
اس طرح گھر کی اُداسی نہيں جانے والی
کہہ رہے تھے در و دیوار ‘ کوئی نعت کہو
مال و دولت سے یہ اعزاز کہاں ملتا ہے
اے شفاعت کے طلب گار ! کوئی نعت کہو
چاہتے ہو کہ اگر حاضری مقبول بھی ہو
مختصر اور لگا تار ‘ کوئی نعت کہو
ورنہ آگے کا سفر اور بھی مشکل ہو گا
اے مرے قافلہ سالار ! کوئی نعت کہو
عمر بھر بیٹھ کے رونے سے کہیں بہتر ہے
مُسکرا کر بھی عزادار ‘ کوئی نعت کہو
نعت توفیق سے ہوتی ہے ریاضت سے نہيں
تم مری مان کے اِک بار ‘ کوئی نعت کہو
ٹوٹ جائے نہ کہیں سانس کی ڈوری’ عامی
وقت سے پہلے مرے یار ! کوئی نعت کہو
——
اِس اُداسی کو کسی کام میں لانے کےلیے
چل پڑا ہوں میں کوئی شعر کمانے کےلیے
——
اب وہ بھی یہ کہتا ہے کہ تُو کون ہے کیا ہے
جو شخص مرے نام سے مشہور ہوا ہے
——
جتنی کسی کے ہاتھ لگی اُس کی ہو گئی
دُنیا بھی جیسے اَندھے کباڑی کا مال ہو
——
حسن کیا شے ہے خدوخال کسے کہتے ہیں
اس کی تصویر نہيں ورنہ دکھاتا تجھ کو
——
ابھی ابھی درِ توبہ کُھلا ہمارے لیے
اور آ گئے ہیں فرشتے بھی گوشوارے لیے
——
بس یہ ہوا کہ خاک بکھرنے کی دیر تھی
کچھ لوگ جی اُٹھے مِرے مرنے کی دیر تھی
——
ٹوٹے دلوں کو جوڑنا آسان تو نہ تھا
لیکن یہ کام ہم نے بہت ٹوٹ کر کیا
——
چُپ رہوں تو مجھے بیمار کہا جاتا ہے
بول اُٹھتا ہوں تو غدار کہا جاتا ہے
——
اِک غیر نے لکھا ہے کہ تُو غیر نہيں ہے
لگتا ہے کہ اِس بار مری خیر نہيں ہے
——
مرے خلاف عدالت بھی تھی زمانہ بھی
مجھےتو جرم بتانا بھی تھا چھپانا بھی
اور اب کی بار تو ایسے کمان کھینچی ہے
کہ تیر لے اُڑا شانہ بھی اور نشانہ بھی
جو سانپ غیر ضروری تھے مار ڈالے ہیں
اب آستیں بھی سلامت ہے آستانہ بھی
یہ مَے کشوں کا توازن بھی کیا توازن ہے
کھڑے بھی رہنا سہولت سے لڑکھڑانا بھی
ہمارے شہر کے لوگوں کو خوب آتاہے
کسی کو سر پہ بٹھانا بھی اور گرانا بھی
ہماری کوزہ گری سے جہان واقف تھا
اور اب تو سیکھ لیے آئنے بنانا بھی
تم اس لیے بھی مجھے اجنبی نہيں لگتے
کہ تم سے ایک تعلق تھا غائبانہ بھی
مرا نہيں مرے ایمان کا تقاضا تھا
کہ مجھ سے عشق کرے کوئی کافرانہ بھی
یونہی تو میر کے در سے نہيں اُٹھائے گئے
ہمارے پاس غزل بھی تھی اور فسانہ بھی
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر اور ڈرامہ نگار عدیم ہاشمی کا یوم پیدائش
——
مرے مُرشد کہا کرتے تھے ‘ سب اچھا نہيں ہوتا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو سوچا نہيں ہوتا
بہت خستہ مکانوں میں رہائش بھی مصیبت ہے
اگر کھڑکی سلامت ہو تو دروازہ نہيں ہوتا
کسی سے راہ چلتے میں اچانک عشق ہو جائے
یہ ایسا جرم ہے ‘ جس پر کہیں پرچہ نہيں ہوتا
مری بینائی کَھو جانے کا اِک یہ فائدہ بھی ہے
کہ میں اب وہ بھی پڑھ لیتا ہوں جو لکھا نہيں ہوتا
محبت ہو کسی سے اور یک طرفہ محبت ہو
یہ وہ احساس ہے ‘ جس میں کبھی دھوکہ نہيں ہوتا
ہر اِک درویش کے کاسے میں درویشی نہيں ہوتی
ہر اِک چشمے کا پانی دوستا ! میٹھا نہيں ہوتا
کسی کے عشق میں برباد ہو کر یہ کُھلا ‘ عامی
بہت خوش حال ہونا بھی ‘ بہت اچھا نہيں ہوتا
——
یہ بھی پڑھیں : لکھنے بیٹھا ہوں میں نعتِ صاحبِ خلقِ عظیم
——
اچھے خاصے دِکھتے ہو بیماری میں
یعنی تم بھی ماہر ہو فن کاری میں
ایک تمہارے نام کی خوشبو زندہ ہے
مر گئی دیمک لکڑی کی الماری میں
جیسے ہی وہ لڑکی آئی لوگوں نے
دھوپ اُترتے دیکھی ژالہ باری میں
اچھے موسم کی چھٹیاں بھی ضائع کیں
ہم سے عشق ہی کر لیتے بے کاری میں
پکی عمر میں کچے خواب نہيں آتے
نیند سی باتیں کرتے ہو بیداری میں
اور تھے جو درویشی اوڑھ کے بیٹھ رہے
ہم نے دُنیا چھوڑی ‘ دنیا داری میں
بَو آیا ہوں بانجھ زمینوں میں کچھ خواب
وقت لگے گا فصلوں کی تیاری میں
درباروں میں آگ لگانا سہل نہيں
دیپک راگ بھی شامل کر درباری میں
چھوڑ کے جانا پڑ جاتا ہے دشمن بھی
ہجرت کرنا پڑ جاتی ہے یاری میں
تم اِس دل میں ایسے رہتے ہو عامی
جیسے سونا پیتل کی الماری میں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات