اردوئے معلیٰ

Search

آج عظیم صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید کا یوم وفات ہے

خواجہ غلام فرید(پیدائش: 25 نومبر 1845ء – وفات: 24 جولائی 1901ء)
——
خواجہ غلام فرید چاچڑاں شریف، پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور پنجابی صوفی شاعر تھے۔ آپ کی شناخت شاعری کی صنف”کافی” ہے۔ آپ کا تعلق سلسلہ چشتیہ نظامیہ سے تھا۔ آپ نسباً قریشی فاروقی تھے۔اج کل۔کردستانی بلوچ اور سندھی ان پر سورائیکی کا ٹھپہ لگانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں
خواجہ غلام فرید بن خواجہ خدا بخش بن خواجہ احمد علی بن قاضی محمد عاقل بن خواجہ محمد شریف بن خواجہ محمد یعقوب بن خواجہ نور محمد بن خواجہ محمد زکریا بن شیخ حسین بن شیخ پریابن شیخ حاجی بن شیخ نونندبن شیخ حاجی بن شیخ صدرالدین بن شیخ یعقوب بن شیخ فضل الله بن شیخ پریابن شیخ طاہر بن شیخ دھماچ بن شیخ پنہوں بن شیخ کور بن شیخ پریا بن شیخ حسین بن شیخ محمد بن شیخ محسن بن شیخ موسیٰ بن شیخ زید بن شیخ ناصر بن شیخ حسن بن شیخ یوسف بن شیخ عیسی بن شیخ احمد بن شیخ محمد بن عبدللہ بن منصور بن مالک بن یحییٰ بن محمد بن سلیمان بن ناصر بن عبدللہ بن حضرت عمر فاروق
خواجہ غلام فرید کی پیدائش بروز منگل 25 ذیقعد 1261ھ مطابق 25 نومبر 1845ء کو بہاولپور کے قصبہ چاچڑاں شریف میں ہوئی۔ آپ کے خاندان کا نسلی سلسلہ یا شجرہ نسب حضرت عمر فاروق سے جا ملتا ہے۔ آپ کے خاندان میں ایک شخص، جس کا نام شیخ کوربن، حضرت شیخ پریا تھا اس لیے کور کی وجہ سے لفظ کوریجہ بن گیا۔آپ کا تاریخی نام خورشید عالم رکھا گیا۔ آپ کے والد کا نام خواجہ خدا بخش عرف محبوب الہی تھا۔ آپ چار برس کے ہوئے تو آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور جب آپ کی عمر آٹھ برس ہوئی تو آپ کے والد بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
——
یہ بھی پڑھیں : دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
——
خواجہ غلام فرید نے قرآن کی تعلیم میاں صدرالدین اور میاں محمد بخش سے حاصل کی۔ آپ نے فارسی کی تعلیم میاں حافظ خواجہ جی اور میاں احمد یار خواجہ سے حاصل کی۔ خواجہ غلام فرید کے بزرگوں کے ایک مرید مٹھن خان جتوئی تھے، جن کے نام سے قصبہ کوٹ مٹھن آباد ہوا۔ جب کوٹ مٹھن پر قابض پنجاب کے سکھ حاکم مسلمانوں کو تنگ کرنے لگے تو آپ کے والدخواجہ خدا بخش اپنے خاندان کے ساتھ کوٹ مٹھن سے چاچڑاں شریف، ریاست بہاول پور منتقل ہو گئے۔
جب آپ نواب آف بہاولپور جس کانام نواب فتح محمد جو آپ کے والد کے مرید خاص بھی تھے کے پاس رہائش پزیر تھے تو وہاں پر بھی اساتذہ کرام موجود رہتے تھے جو آپ کو تعلیم دیتے تھے۔ آپ شاہی محل میں تقریباً چار سال رہے۔
جب خواجہ غلام فرید تیرہ برس کے ہوئے تو آپ نے اپنے بڑے بھائی خواجہ فخر جہاں سے بیعت کی۔ جب آپ کی عمر 27 برس تھی تو اس وقت آپ کے مرشد اور بڑے بھائیخواجہ فخر جہاںکا انتقال ہو گیا۔ پھر آپ سجادہ نشین بنے۔ آپ بڑے سخی تھے، آپ کے لنگر کا روزانہ کا خرچہ 12 من چاول اور 8 من گندم تھا۔ تقریباً” 100 سے 500 آدمی ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ کے پاس جو کچھ آتا سب شام تک غرباء و مساکین میں بانٹ دیتے تھے۔ آپ کی جاگیر سے سالانہ آمدنی 35 ہزار روپے تھی، آپ انتہائی سادہ تھے۔ آپ دن میں گندم کی ایک روٹی کھاتے اور رات کو گائے کا دودھ پیتے تھے۔ آپ 18 برس روہی (چولستان) میں رہے۔ آپ نے اپنے مرید خاص نواب آف بہاولپور جس کا نام نواب صادق محمد رابع عباسی تھا کو نصیحت کی تھی کہ” زیر تھی، زبر نہ بن، متاں پیش امدی ہووی ” یعنی نرمی اختیار کرو، سختی نہ کیا کرو، ورنہ اللہ تعالٰی تم پر بھی سختی کر سکتے ہیں۔
آپ نے شاعری بھی کی اور آپ کا زیادہ تر کلام سرائیکی زبان میں ہے۔ جس کا نام” دیوان فرید ” ہے اس کے علاوہ اردو، عربی، فارسی، پوربی، سندھی اور ہندی میں شاعری بھی کی ہے۔ اور آپ کا اردودیوان بھی موجود ہے۔ آپ کے سرائیکی دیوان میں 271 کافیاں ہیں۔ آپ نے کافی کی صنف میں ایسی باکمال شاعری کی ہے کہ بلاشبہ ان کی شاعر دنیاکے عظیم ترین ادب کااثاثہ ہے۔سرائیکی شاعری کو جس اعلیٰ مقام پر آپ چھوڑ کے گئے تھے۔ آج بھی ان سے بہتر نہیں کہاجاسکا۔ لطیف احساسات،جذبات اوراس میں وجدانی کیفیات کواس طرح ملادیناکہ شیروشکر ہوجائیں،خواجہ کی شاعری کاادنیٰ کمال ہے۔
خواجہ غلام فرید کا وصال چاچڑاں شریف میں 24 جولائی 1901ء بروز بدھ ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 56 برس تھی۔ آپ کا ایک بیٹا، حضرت خواجہ محمد بخش عرف نازک کریم اور ایک بیٹی تھیں۔ آپ کا مزارکوٹ مٹھن (ضلع راجن پور) میں ہے۔
سلسلہ چشتیہ کے عام مسلک کے مطابق آپ کا نظریہ بھی”ہمہ اوست”تھا۔ یعنی آپ توحیدِ وجودی کے قائل تھے۔ آپ کاتمام کلام اسی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ انھیں ہر رنگ اورانگ میں اللہ کے حسن کے جلوے نظرآتے۔ بقول پروفیسر دل شاد کلانچوی”خواجہ صاحب عموماً حالت وجدمیں اشعارکہتے تھے۔ یعنی حال وارد ہوتاتوکچھ کہتے تھے ورنہ نہیں۔ ہروقت فکرِ سخن میں محورہناان کامعمول نہ تھا۔ لکھنے پرآتے توالہام کی کیفیت ہوتی۔ بعض اوقات تولمبی لمبی کافیاں دس پندرہ منٹوں میں کہہ ڈالتے تھے۔”
——
یہ بھی پڑھیں : فرید جاوید کا یومِ وفات
——
اکثر کتب میں،علمااورفصحاءاورعامۃ الناس سے سنا ہے کہ آپ علم موسیقی میں خاصادرک رکھتے تھے۔ آپ کو 39 راگ،راگنیوں پر عبورتھا۔ آپ نے ان تمام راگنیوں میں کافیاں کہی ہیں۔ جناب نشتر گوری لکھتے ہیں کہ اگر خواجہ صاحب کے کلام پرغورکیاجائے تو معلوم ہوتاہے کہآپ نے سنگیت کی تمام رمزوں اورلَے تال کی تمام خوبیوں سے استفادہ کیاہے۔ اکثر کافیوں میں لفظوں کے تکرارسے ایسی ہم صوتی اورہم آ ہنگی پیداکی ہے کہ ہوا اور پانی کی لہریں اپنے نغمے بھول جائیں۔ شعر وشاعری کے اسی گُن کو ”تخپراس“ کہتے ہیں۔ کافی ایک مشکل فن ہے۔ جوعربی زبان میں تو ملتا ہے مگر دوسری زبانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
خواجہ فرید کاکلام ہررنگ ونسل،عوم وخواص،عالم وان پڑھ،خواندہ وناخواندہ اورعجم وعرب میں مشہو رہے۔ آپ الفاظ کے ساحر ہیں اورحافظ جیسا سوزِ عشق آپ کے کلام کاخاصہ ہے۔ امیر خسرو جیسا راگ رس کلام کی جان ہے،قآنی کا زورِ بیاں رکھتے ہیں،رومی سی تڑپ کوٹ کوٹ کرروحِ شاعری میں بھری ہے،سعدی جیسا مشاہدہ اوراسلوبِ وانداز اشعرسے ٹپکتاہے،صدیوں کے ظلسم کو اشعارمیں مقید کردیاہے۔ وہ شاعرِ قال نہیں شاعرِ حال تھے۔ ان کا کلام روح پر اس طرح اثر کرتاہے جیسے چشموں اورجھرنوں سے بہتاہوابھیوی راگ نہاں خانۂ دل میں اترتامحسوس ہوتاہے۔ دنیامیں "الحسن” کاحسن ہے۔ حسن وعشق لازم وملزوم ہیں۔
——
منتخب کلام
——
خواب میں بھی نہیں ہے وصل نصیب
بے نصیبوں کے پیشوا ہیں ہم
——
کس دھرتی سے آۓ ہو تم
کس نگری کے باسی رے
پرم نگر ہے دیس تمھارا
پھرتے کہاں اداسی رے
کیوں ہوتے ہو جوگی بھوگی
روگی طرح براگی رے
انگ بھبھوت رما کے کیونکر
رکھتے بدن سنیاسی رے
اپنا آپ سنبھال کے دیکھو
کر کے نظر حقیقت کی
فکر نہ کیجیو یارو ہر گز
آسی یا نہ آسی رے
تم ہو ساگی تم ہو ساگی
واگی ذرا نہ واگی رے
اپنی ذات صفات کو سمجھو
اپنی کر شناسی رے
بات فریدیؔ سوچ کے سنیو
لا کر دل کے کانوں کو
دونوں جگ کے مالک تم ہو
بھولے اللہ راسی رے
——
یہ بھی پڑھیں : حضرت فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ (1173 تا 1266)
——
اُجیاں لمیاں لال کھجوراں تہ پتر جنہاں دے ساویں
جس دم نال سانجھ ہے اساں کوں او دم نظر نہ آوے
گلیاں سنجیاں اُجاڑ دسن میں کو ،ویڑا کھاون آوے
غلام فریدا اُوتھے کی وسنا جتھے یار نظرنہ آوے
اُجیاں لمیاں لال کھجوراں تہ پتر جنہاں دے ساویں
ننگے پنڈے مینوں چمکن مارے، میرے روندے نیں نین نمانے
جنیاں تن میرے تے لگیاں ، تینوں اک لگے تے توں جانے
غلام فریدا دل اُوتھے دیئیے جتھے اگلا قدر وی جانے
اندروں ہی اندروں وگدا رہندا ،پانی درد حیاتی دا
ساڈی عمراں تو وی لمبی عمر وے تیری،ہالے ناں وس وے کالیا
عمراں لنگھیاں پھباں پار،عمراں لنگھیاں پھباں پار
پردیس گیوں پردیسی ہویوں تے نت وٹناں منہ موڑاں
کملی کر کہ چھوڑ دیتو ،تہ میں بیٹھی خاک گلیاں تے رو لاں
غلام فریدا میں تے دوزخ سرساں جے میں مکھ ماہی ولوں موڑاں
عمراں لنگھیاں پھباں پار،عمراں لنگھیاں پھباں پار
عزرایل آیا لین سسی دی جان ہے
جان سسی وچ نظر نہ آوندی
او تے لے گیا کیچ دا خان ہے
قسم قرآن ہے
اندروں ہی اندروں وگدا رہندا ،پانی درد حیاتی دا
ساڈی عمراں تو وی لمبی عمر وے تیری،ہالے ناں وس وے کالیا
عمراں لنگھیاں پھباں پار،عمراں لنگھیاں پھباں پار
——
میڈا عشق وی تُوں، میڈا یار وی تُوں
میڈا دین وی تُوں، ایمان وی تُوں
میرا عشق بھی تم ہو، میرے یار بھی تم ہو
میرا دین بھی تم ہو ، میرا ایمان بھی تم ہو
میڈا جسم وی تُوں، میڈا روح وی تُوں
میڈا قلب وی تُوں، جند جان وی تُوں
میرا جسم بھی تم ہو ، میری روح بھی تم ہو
میرا دل بھی تم ہو ، اور جان بھی تم ہو
میڈا کعبہ قبلہ مسجد منبر
مصحف تے قرآن وی تُوں
میرے لیےقبلہ، کعبہ ، مسجد ، منبر
آسمانی صحیفے اور قرآن مجید بھی تم ہو
میڈے فرض فریضے حج زکاتاں
صوم صلات اذان وی تُوں
میرے لیے فرائض اسلامی ، حج، زکوۃ
روزے، نمازیں اور اذان بھی تم ہو
میڈی زہد عبادت طاعت تقویٰ
علم وی تُوں، عرفان وی تُوں
میرا زُہد، عبادتیں ، اطاعتیں، اور تقویٰ
علم بھی تم ہو، اور میری معرفت ، پہچان بھی تم ہو
میڈا ذکر وی تُوں، میڈا فکر وی تُوں
میڈا ذوق وی تُوں وجدان وی تُوں
میرا ذکر بھی تم ہو ، میرا فکر بھی تم ہو
میرا ذوق بھی تم ہو، وجدان بھی تم ہو
میڈا سانول مٹھڑا شام سلوُنا
من موہن جانان وی تُوں
میرے میٹھے اور سلونے محبوب بھی تم ہو
(یہاں رادھا اور شام کے عشق کی مثال دی گئی ہے)
اور میرے من کو موہ لینے والے جانِ جاناں بھی تم ہو
میڈا مرشد ہادی پیر طریقت
شیخ حقایق دان وی تُوں
میرے مرشد، میرے پیرے پیرِ طریقت اور مجھے ہدایت دینے والے
حقیقتوں سے آشنا شیخ کریم بھی تم ہو
میڈا آس امید تے کھٹیا وٹّیا
تکیہ مان تران وی تُوں
میری آس ، امید ، اور دنیا میں کمایا گیا سب کچھ(دھن ، دولت، عزت، شہرت، نام)
میرا بھروسہ، میرا مان، اور میرے پشت پناہ بھی تم ہو
میڈا دھرم وی تُوں میڈا بھرم وی تُوں
میڈا شرم وی تُوں میڈا شان وی تُوں
میرا مذہب بھی تم ہو، میرا بھرم بھی تم ہو
میرا شرم بھی تم ہو، میری شان بھی تم ہو
میڈا ڈُکھ سکھ روون کِھلن وی تُوں
میڈا درد وی تُوں درمان وی تُوں
میرا دکھ سکھ، رونا، ہنسنا بھی تم ہو
میرا درد بھی تم ہو اور ہر درد کی دوا بھی تم ہو
میڈا خوشیاں دا اسباب وی تُوں
میڈے سُولاں دا سامان وی تُوں
میرے خوش ہونے کا سبب بھی تم ہو
میری تکلیفوں کی وجہ بھی تم ہو
میڈا حسن تے بھاگ سہاگ وی تُوں
میڈا بخت تے نام نشان وی تُوں
میرا حسن ، میرا مقدر ، اور میرا سہاگ بھی تم ہو
(یہاں سہاگ کا مطلب زندگی کا مقصد لیا جا سکتا ہے)
میرا بخت اور میری شہرت اور میرا نام و نشان بھی تم ہو
میڈا دیکھن بھالن جاچن جُوچن
سمجھن جان سنجان وی تُوں
میرا دیکھنا ، بھالنا، اور جانچ ، تحقیق
سمجھنے اور پہچاننے کا علم بھی تم ہو
میڈے ٹھڈڑے ساہ تے مُونجھ مُنجھاری
ہنجواں دا طوفان وی تُوں
میری ٹھنڈی سانسیں (ہجر میں انسان ٹھنڈی آہیں ہی بھرتا ہے) اور میری اداسیاں
آنسوؤں کا طوفان بھی تم ہو
(غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش ِ اشک سے٭٭ بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے)
میڈے تلک تلولے سیندھاں مانگاں
ناز نہورے تان وی تُوں
میرے ماتھے کے تلک ، اور گالوں کے تِل ، اور مانگ
میرے ناز نخرے ، اور ادائیں بھی تم ہو
میڈی مہندی کجّل مُساگ وی تُوں
میڈی سرخی بیڑا پان وی تُوں
میری مہندی ، کاجل ، دنداسہ بھی تم ہو
میری سرخی (لپ سٹک)اور پان بھی تم ہو
میڈی وحشت جوش جنون وی تُوں
میڈا گریہ آہ فغان وی تُوں
میری وحشت، جوش، جنون بھی تم ہو
میرا رونا دھونا، اور آہ و فغاں بھی تم ہو
میڈا شعر عروض قوافی تُوں
میڈا بحر وی تُوں اوزان وی تُوں
میرے شعر ، علم عروض، اور سب قافیے بھی تم ہو
میری بحر بھی تم ہو، اور اوزان بھی تم ہو
میڈا اوّل آخر اندر باہر
ظاہر تے پنہان وی تُوں
میرا اول، آخر، اندر، باہر
ظاہر اور باطن بھی تم ہو
میڈا فردا تے دیروز وی تُوں
الیوم وی تُوں الآن وی تُوں
میرا مستقبل اور میرا ماضی بھی تم ہو
روز ِ ازل بھی تم ہو، اور قیامت کا دن بھی تم ہو
میڈا بادل برکھا کِھمناں گاجاں
بارش تے باران وی تُوں
میرا بادل، برسات، بجلی کی چمک ، اور بادل کی گرج
بارش اور باران بھی تم ہو
میڈا مُلک ملیر تے مارُو تھلڑا
روہی چولستان وی تُوں
میرا وطن ، ملیر ہویا تھل کا صحرا
روہی اور چولستان بھی تم ہو
جے یار فرید قبول کرے
سرکار وی تُوں، سلطان وی تُوں
اے فرید ! اگر محبوب (اللہ تعالیٰ) قبول کر لے
تو سرکار بھی تم ہو ، سلطان بھی تم ہو
نہ تاں کہتر کمتر احقر ادنیٰ
لاشئے لا امکان وی تُوں
نہیں تو سب سے کم تر، سب سے حقیر، اور ادنیٰ
بے کار شے اور بے ٹھکانہ بھی تم ہو
(آخری دو شعروں میں خواجہ صاحبؒ خود سے مخاطب ہیں)
——
یہ بھی پڑھیں : حضرت خواجہ غلام فرید (1845 تا 1901)
——
آ چنوں رل یار
پیلوں پکیاں نی وے
کئی بگڑیاں کئی ساویاں پیلیاں
کئی بھوریاں کئی پھِکڑیاں نیلیاں
کئی اودیاں گلنار
کٹویاں رتیاں نی وے
(یہ بہت ہی خوبصورت رنگوں کی ہیں۔ ان میں کچھ سفید ہیں، کچھ سبز اور زرد ہیں، کئی بھوری اور ہلکے رنگ کی ہیں، کئی دودھیا رنگ کی ہیں اور کئی نہایت سرخ گل اناری رنگ کی ہیں)۔
بار تھئی ہے رشک ارم دی
سک سڑ گئی جڑ دکھ تے غم دی
ہر جا باغ و بہار
ساکھاں چکھیاں نی وے
(ان کی وجہ سے ویرانہ، رشکِ ارم بن گیا ہے۔ ہر طرف باغ و بہار کا سماں بندھ گیا ہے۔ غم و آلام کی بنیاد ختم ہو گئی ہے۔ سبھی لوگ اس پھل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، کیا تو نے بھی انہیں چکھا ہے)۔
پیلوں ڈیلھیاں دیاں گلزاراں
کہیں گل ٹوریاں کہیں سر کھاریاں
کئی لا بیٹھیاں بار
بھر بھر پچھیاں نی وے
(پیلوں اور کریر کے پھلوں نے ریگزار کو رشکِ گلزار بنا دیا ہے۔ انہیں چننے کے لئے کسی نے ہلکی ٹوکری گلے میں لٹکائی ہے اور کسی نے سر پر ٹوکرا رکھا ہوا ہے۔ کئی ٹوکریاں بھر بھر کر اور انبار بنا بنا کر بیٹھی ہیں)۔
جال جلوٹیں تھئی آبادی
پل پل خوشیاں دم دم شادی
لوکی سہنس ہزار
کل نے پھکیاں نی وے
(ہر جھاڑی کے پیچھے لوگوں کے ٹھکانے بن گئے ہیں، ہر طرف انبساط و مسرت کا دور دورہ ہے۔ سینکڑوں ہزاروں آدمی ان پیلوں کو مٹھیاں بھر بھر کر کھا رہے ہیں)۔
حوراں پریاں ٹولے ٹولے
حسن دیاں ہیلاں برہوں دے جھولے
راتیں ٹھڈیاں ٹھار
گوئلیں تتیاں نی وے
(یہاں کی مہ جبیں، حور شمائل، پری پیکر لڑکیاں ٹولیاں بنا کر پیلوں چن رہی ہیں۔ ہر طرف حسن و جمال اور عشق و محبت کی جلوہ آرائی ہے۔ راتیں سرد ترین لیکن گھر خاصے گرم ہیں)۔
رکھدے ناز حسن پروردے
ابرو تیغ تے تیر نظر دے
تیز تِکھے ہتھیار
دِلیاں پھٹیاں نی وے
(حسن و جمال کے پروردہ ہی “رہزن” تیغِ ابرو اور تیرِ نظر جیسے ہتھیاروں سے لیس ہو کر دلوں کو زخمی کر رہے ہیں)۔
کئی ڈیون ان نال برابر
کئی گھِن آون ڈیڈھے کر کر
کئی ویچن بازار
تلیاں تکیاں نی وے
(پیلوں کی خرید و فروخت بھی عجب رونق افزا ہے، کئی اناج کے بدلے فروخت کر رہی ہیں، کئی ڈیڑھ گنا زیادہ قیمت وصول کر رہی ہیں اور کئی وزن کر کے بازار میں بیچ رہی ہیں)۔
کئی ڈھپ وچ وی چنڈھیاں رھندیاں
کئی گھِن چھان چھنویرے بہندیاں
کئی چن چن پیاں ہار
ہٹیاں تھکیاں نی وے
(کئی عورتیں شدید تمازت کے باوجود پیلوں چنتی رہتی ہیں، کئی سائے میں بیٹھی سستا رہی ہوتی ہیں اور کئی چن چن کر تھک ہار بیٹھی ہیں)۔
ایڈوں عشوہ غمزے نخرے
اوڈوں یار خرایتی بکرے
کسن کان تیار
رانداں رسیاں نی وے
(اِدھر سے ناز و ادا ہیں، ادھر سے صاحبانِ نظر قربانی کے بکروں کی طرح ذبح ہونے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔ کیسے مزے کے کھیل رچے ہوئے ہیں)۔
پیلوں چنڈیں بوچھن لیراں
چولا وی تھیا لیر کتیراں
گِلڑے کرن پچار
سینگیاں سکیاں نی وے
(پیلوں چنتے ہوئے کسی کا کا دوپٹہ پھٹ جاتا ہے، کسی کا کرتہ تار تار ہو جاتا ہے اور سہیلیوں کی ہنسی مذاق کا نشانہ بن جاتی ہے)۔
آیاں پیلوں چنن دے سانگے
اوڑک تھیاں فریدن وانگے
چھوڑ آرام قرار
ہکیاں بکیاں نی وے
(وہ آئیں تو پیلوں چننے کی خاطر تھیں لیکن فرید کی طرح تیرِ عشق سے ایسی گھائل ہوئیں کہ اپنا آرام سکون چھوڑ کر نقشِ حیرت بن گئیں)۔
——
یہ بھی پڑھیں : اذاں میں مصطفیٰ کا نام جب ارشاد ہو وے ہے
——
دلڑی لٹی تئیں یار سجن
کدیں موڑ مہاراں تے آ وطن
روہی دے کنڈڑے کالیاں
میڈیاں ڈکھن کناں دیاں والیاں
اساں راتاں ڈکھاں وچ جالیاں
روہی بناؤئی چا وطن
روہی دی عجب بہار دسے
جتھے میں نمانی دا یار ڈسے
جتھاں عاشق لکھ‍ ہزار ڈسے
اتھاں میں مسافر بے وطن
دلڑی لٹی تئیں یار سجن
کدیں موڑ مہاراں تے آ سجن
——
اے حسن حقیقی نور ازل
تینوں واجب تے امکان کہوں
تینوں خالق ذات قدیم کہوں
تینوں حادث خلق جہان کہوں
تینوں مطلق محض وجود کہوں
تینوں علمیہ اعیان کہوں
ارواح نفوس عقول مثال
اشباح عیان نہان کہوں
تینوں عین حقیقت ماہیت
تینوں عرض صفت تے شان کہوں
انواع کہوں اوضاع کہوں
اطوار کہوں اوزان کہوں
تینوں عرش کہوں افلاک کہوں
تینوں ناز نعیم جنان کہوں
تینوں تت جماد نبات کہوں
حیوان کہوں انسان کہوں
تینوں مسجد مندر دیر کہوں
تینوں پوتھی تے قرآن کہوں
تسبیح کہوں زنار کہوں
تینوں کفر کہوں ایمان کہوں
تینوں بادل برکھا گاج کہوں
تینوں بجلی تے باران کہوں
تینوں آب کہوں تے خاک کہوں
تینوں باد کہوں نیران کہوں
تینوں وسرت لچھمن رام کہوں
تینوں سیتا جی جانان کہوں
بلدیو جسودا نند کہوں
تینوں کشن کنیہا کان کہوں
تینوں برما بشن گنیش کہوں
مہا دیو کہوں بھگوان کہوں
تینوں گیت گرنت تے بید کہوں
تینوں گیان کہوں اگیان کہوں
تینوں آدم حوا شیث کہوں
تینوں نوح کہوں طوفان کہوں
تینوں ابراہیم خلیل کہوں
تینوں موسی بن عمران کہوں
تینوں ہر دل دا دلدار کہوں
تینوں احمد عالی شان کہوں
تینوں شاہد ملک حجاز کہوں
تینوں باعث کون مکان کہوں
تینوں ناز کہوں انداز کہوں
تینوں حور پری غلمان کہوں
تینوں نوک کہوں تینوں ٹوک کہوں
تینوں سرخی کجلہ پان کہوں
تینوں طبلہ تے تنبور کہوں
تینوں ڈھولک سر تے تان کہوں
تینوں حسن تے ہار سنگار کہوں
تینوں عشوہ غمزہ آن کہوں
تینون عشق کہوں تینوں علم کہوں
تینوں وہم یقین گمان کہوں
تینون حسن قوی ادراک کہوں
تینوں ذوق کہوں وجدان کہوں
تینوں سکر کہوں سکران کہوں
تینوں حیرت تے حیران کہوں
تسلیم کہوں تلوین کہوں
تمکین کہوں عرفان کہوں
تینون سنبل سوسن سرو کہوں
تینوں نرگس نافرمان کہوں
تینوں لالہ داغ تے باغ کہوں
گلزار کہون بستان کہوں
تینوں خنجر تیر تفنگ کہوں
تینوں برچھا بانک سنان کہوں
تینوں تیر خدنگ کمان کہوں
سوفار کہوں پیکان کہوں
بے رنگ کہوں بے مشل کہوں
بے صورت ہر ہر آن کہوں
سبوح کہوں قدوس کہوں
رحمان کہون سبحان کہوں
کر توبہ ترت فرید سدا
ہر شے نوں پر نقصان کہوں
اسے پاک الکھ بے عیب کہوں
اسے حق بے نام نشان کہوں
——
یہ بھی پڑھیں : محبتوں کے شاعر شِو کمار بٹالوی کا یومِ پیدائش
——
سے سُول سہاں سک سانگ سوا
سکھ سڑ گئے خوشیاں راکھ تھیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
جی جلدا سینے اگ لگی
دل بیکل ہنجھڑوں ڈلھک گئیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
بٹھ سیج سڑی بٹھ تول تتی
گئیاں سینگیاں سیتاں وسر سئیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
گل کوجھے کانٹے خار چُبھن
تھئی چولی سالوں سہنہ دھئیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
کئی لہر لوڑھے کئی روہ رولے
کئی پھردے بوٹے بیٹ لئیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
دن بیت گئے سُدھ بسر گئی
ساجن نے برائیاں جوڑ کیاں
ہے ناز نہیں اعراض منڈھوں
رکھ آس نہ تھی غم واس میاں
بن یار فرید نہ عید ڈٹھم
کھل کھیڈاں ساریاں وسر گئیاں
درشن بن اکھیاں ترس رہیاں
——
خواجہ غلام فرید رح کے کلام کی آسان تفہیم کے لیے مندرجہ ذیل لنک پہ کلک کریں
حضرت خواجہ غلام فرید (1845 تا 1901)
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ