اردوئے معلیٰ

آج مشہور معروف شاعر میرا جی کا یوم وفات ہے

میرا جی (پیدائش: 25 مئی 1912ء — وفات: 3 نومبر 1949ء)
——
نام: محمد ثنا اللہ ثانی ڈار
والد کا نام: منشی محمد مہتاب الدین
والدہ کا نام: زینب بیگم عرف سردار بیگم
ولادت میرا جی: ۲۵ مئی ۱۹۱۲ء
تخلص: پہلے ’’ساحری‘‘ اور پھر ’’میرا جی‘‘۔
ہزلیہ شاعری میں تخلص ’’لندھور‘‘ آیا ہے۔
——
تصانیف:
——
شاعری:
میرا جی کے گیت مکتبہ اردو لاہور ۱۹۴۳ء
میرا جی کی نظمیں ساقی بک ڈپو دہلی ۱۹۴۴ء
گیت ہی گیت ساقی بک ڈپو دہلی ۱۹۴۴ء
پابند نظمیں کتاب نما، راولپنڈی ۱۹۶۸ء
تین رنگ کتاب نما، راولپنڈی ۱۹۶۸ء
سہ آتشہ بمبئی ۱۹۹۲ء
کلیاتِ میرا جی۔مرتبہ ڈاکٹر جمیل جالبی اردو مرکز لندن ۱۹۸۸ء
کلیاتِ میرا جی۔مرتبہ ڈاکٹر جمیل جالبی، نیا ایڈیشن۔لاہور ۱۹۹۴ء
تنقید:
مشرق و مغرب کے نغمے:(تنقید و تراجمِ شاعری) اکادمی پنجاب (ٹرسٹ)لاہور ۱۹۵۸ء
اس نظم میں : ساقی بک ڈپو۔دہلی
تراجم:
نگار خانہ : (سنسکرت شاعر دامودر گپت کی کتاب ’’نٹنی مَتَم‘‘ کا نثری ترجمہ)۔
پہلے ماہنامہ خیال بمبئی میں شائع ہوا۔جنوری ۱۹۴۹ء۔ اور پھر کتابی صورت میں مکتبۂ جدید لاہور سے نومبر۱۹۵۰ء میں شائع ہوا۔
خیمے کے آس پاس:(عمر خیام کی رباعیات کا ترجمہ)۔مکتبۂ جدید لاہور۔
۱۹۶۴ء(کلیاتِ میرا جی سے انتخاب)
——
میرا جی، شخصیت اور فن
(ڈاکٹر رشید امجد کا پی ایچ ڈی کا مقالہ)
——
میرا جی کا اصل نام ثناء اللہ ڈار تھا۔۲۵ مئی ۱۹۱۲ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔(ایک روایت میں گجرات بھی مذکور ہے)ان کے والد منشی محمد مہتاب الدین کی پہلی بیوی فوت ہوئیں تو انہوں نے میرا جی کی والدہ سے شادی کر لی جو عمر میں منشی صاحب سے بہت چھوٹی تھیں۔ عمروں کے اس تفاوت نے بھی میرا جی کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ان کے والد کو ریلوے کی ملازمت کی وجہ سے مختلف شہروں میں قیام کرنا پڑا۔گجرات کا ٹھیا واڑ سے لے کر بوستان، بلوچستان تک انہوں نے سکھر، جیکب آباد، ڈھابے جی، جیسے مقامات گھوم لیے۔بنگال کے حسن کے جادو نے انہیں لاہور میں اپنا اسیر کیا۔ ۱۹۳۲ء میں انھوں نے ایک بنگالی لڑکی میرا سین کو دیکھا اور پھر اسی کے ہو رہے۔یہ سراسر داخلی نوعیت کا یکطرفہ عشق تھا۔ میرا سین کو اس کی کلاس فیلوز میرا جی کہتی تھیں، چنانچہ ثناء اللہ ڈار نے اپنا نام میرا جی رکھ لیا اور رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی کی زندہ مثال بن گئے۔اس عشق میں میٹرک پاس نہ کر سکے۔ہومیو پیتھک ڈاکٹری سیکھ لی لیکن نہ اس کی بنیاد پر ڈاکٹر کہلوانا مناسب سمجھا اور نہ ہی اس مہارت سے کوئی تجارتی فائدہ اٹھایا۔ بال بڑھا لیے، ملنگوں جیسا حلیہ اختیار کر لیا۔پھر اس میں تدریجاً ترقی کرتے گئے، لوہے کے تین گولے، گلے کی مالا، لمبا اور بھاری بھر کم اوور کوٹ، بغیر استر کے پتلون کی جیبیں اور ہاتھ عام طور پر جیب کے اندر، بے تحاشہ شراب نوشی، سماجی ذمہ داریوں سے یکسر بے گانگی۔۔۔ یہ سارے نشان میرا جی کی ظاہری شخصیت کی پہچان بنتے گئے
——
یہ بھی پڑھیں : دل آپ کی خوشبو سے ہے آباد نبی جی
——
بقول محمد حسن عسکری
’’جب انہوں نے دیکھا کہ دوست انہیں افسانہ بنا دینا چاہتے ہیں تو بے تامل افسانہ بن گئے، اس کے بعد ان کی ساری عمر اس افسانے کو نبھاتے گزری‘‘۔
میرا سین سے میرا جی کی پہلی ملاقات یا پہلی بار دیکھنا ۲۰ مارچ ۱۹۳۲ء کا واقعہ ہے۔وہ اپنی تعلیم مکمل کرنا تو کیا میٹرک بھی نہ کر سکے۔اس کے باوجود انگریزی زبان اور ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔جدید نظم کا تجربہ انگریزی ادب سے ہی آیا تھا میرا جی نے اسے ہندوستان کی مقامیت میں گوندھ کر اردو کی مستقل اور جاندار صنف بنا دیا۔ان کے کئے ہوئے سارے تراجم بھی انگریزی سے ہوئے ہیں۔ پھر ان کی تنقیدی بصیرت میں مغربی علوم سے مثبت استفادہ کے ساتھ اسے اپنے ادب کے تناظر میں دیکھنے کا رویہ بھی موجود ہے۔یوں میٹرک فیل میرا جی، جو ظاہری زندگی میں ایک ملنگ سا شاعر ہے ادب کے معاملہ میں بہت ذمہ دار دکھائی دیتا ہے۔۲۹ اپریل ۱۹۳۶ء کو بزم داستاں گویاں کے نام سے لاہور میں ایک ادبی تنظیم قائم ہوئی جو بعد میں حلقہ ارباب ذوق بن گئی۔۲۵ اگست ۱۹۴۰ء کو میرا جی پہلی مرتبہ حلقہ کے اجلاس میں شریک ہوئے، ان کی آمد نے حلقہ میں ایک نئی روح پھونک دی۔
میرا جی کے والد نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے مولانا صلاح الدین احمد کے ساتھ مل کر ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کھولی۔ لیکن ایجنسی گھاٹے کا شکار ہوئی۔نوبت مقدمہ بازی تک پہنچی۔ایسی فضا میں میرا جی نے مولانا صلاح الدین احمد کے ادبی رسالہ ’’ادبی دنیا‘‘ میں شمولیت اختیار کر لی۔والد نے برا منایا تو انہیں سمجھا بجھا دیا۔ ’’ادبی دنیا‘‘ میں ان کی شمولیت سے جدید ادبی رویوں کو فروغ ملنے لگا۔ ۱۹۴۲ء میں ’’ادبی دنیا‘‘ کو چھوڑ کر دہلی گئے۔جون ۱۹۴۷ء کو بمبئی گئے لیکن اپنے مخصوص مزاج کے باعث دنیا داری میں کہیں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔لاہور کے زمانہ سے لے کر دہلی کے دور تک طوائفوں کے پاس بھی جاتے رہے اور لاہور کی ایک طوائف سے آتشک کا موذی تحفہ لے کر آئے۔دہلی میں ریڈیو کی ملازمت کے دوران دو اناؤنسرز کو کچھ پسند کرنے لگے لیکن ایک اناؤنسر کی پھٹکار کے بعد میرا سین کی مستی میں واپس چلے گئے۔بمبئی کی فلمی دنیا میں پاؤں جمانے کی کوشش کی۔مگر کامیاب نہ ہوئے۔اس دوران ماں سے ملنے کی خواہش لاہور جانے پر اکساتی رہی، لاہور تو نہ جا سکے البتہ ’’سمندر کا بلاوا‘‘ جیسی خوبصورت نظم تخلیق ہو گئی۔ایک بار والدہ سے ملنے کے لیے معقول رقم جمع کر لی تھی کہ ایک تانگے والے نے اپنا مسئلہ بتایا کہ رقم نہ ہونے کی وجہ سے شادی نہیں ہو رہی۔میرا جی نے ساری رقم اٹھا کر تانگے والے کو دے دی اور والدہ سے ملنے کا پروگرام موخر کر دیا جو تا دمِ مرگ موخر ہی رہا۔ایک اور موقعہ پر ایک ترقی پسند شاعر کی درد بھری داستان سن کر ساری جمع پونجی اس کے حوالے کر دی۔بمبئی میں سخت غربت، بھیک مانگنے جیسی حالت، دن میں چالیس سے پچاس تک پان کھانے کی عادت، کثرت شراب نوشی، استمنا بالید اور آتشک کے نتیجہ میں ۳ نومبر ۱۹۴۹ء کو میرا جی بمبئی کے ایک ہسپتال میں ساڑھے ۳۷ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔الطاف گوہر کی تحریر کے مطابق ’’مرنے سے چند دن پہلے جب ایک پادری نے ان سے پوچھا۔۔’آپ یہاں کب سے ہیں ؟ ‘
تو میرا جی نے بڑی متانت سے کہا۔۔’ازل سے‘۔‘‘
اخترالایمان نے بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ چونکہ تقسیم بر صغیر کے معاً بعد کا زمانہ تھا۔ اس لیے میرا جی جیسا شاعر جو زندگی بھر قدیم ہندوستان کی رُوح کا پرستاررہا، اس کا مسلمان اور پاکستانی ہونا تعصب کا موجب بن گیا۔اختر الایمان نے خود اخبارات کے دفاتر میں فون کر کے خبر دی۔دوسرے دن خود جا کر میرا جی کی وفات کی خبر دی لیکن کسی اخبار نے ان کی وفات کی خبر چھاپنا گوارا نہیں کیا(۲)۔میرا جی کو بمبئی کے میرن لائن قبرستان میں دفن کیا گیا۔جنازے میں صرف پانچ افراد شامل ہوئے۔اخترالایمان، نجم نقوی، مدھو سودن، مہندر ناتھ اور آنند بھوشن۔
——
یہ بھی پڑھیں : مدینے کو جائیں یہ جی چاہتا ہے
——
میرا جی کی داستان کے اس مقام پر ڈاکٹر رشید امجد نے میرا جی کی ایک غزل کا ایک مصرعہ بڑا ہی برجستہ درج کیا ہے
——
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا
——
میرا جی اپنی زندگی کے مختصر دور میں دہلی، لاہور، بمبئی، پونہ تک جن مختلف ادیبوں کے کسی نہ کسی رنگ میں قریب رہے، ان میں سے چند نام یہ ہیں۔ مولانا صلاح الدین احمد، شاہد احمد دہلوی، منٹو، یوسف ظفر، قیوم نظر، الطاف گوہر، مختار صدیقی، ن۔م۔راشد، اخترالایمان، راجہ مہدی علی خان، کرشن چندر، احمد بشیر، محمود نظامی، و دیگر۔
مقالہ کے دوسرے باب میں میرا جی کی نظم نگاری پر بات کی گئی ہے۔تیسرے باب میں میرا جی کے گیتوں اور غزلوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔چوتھے باب میں ان کی تنقید کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔پانچویں باب میں میرا جی کے تراجم کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ چھٹے باب میں میرا جی کی نثر کا ذکر کیا گیا ہے۔یہاں کم از کم مجھے پہلی بار علم ہوا کہ اپنی عام ظاہری ہیئت کے بر عکس انہوں نے حالاتِ حاضرہ کے حوالے سے اور سماجی موضوعات پر بھی بعض فکر انگیز مضامین تحریر کیے تھے اور علم فلکیات میں بھی انہیں دلچسپی تھی۔ ساتویں باب میں مذکورہ تمام حوالوں سے میرا جی کے ادبی مقام کا تعین کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رشید امجد نے میرا جی کی ذاتی زندگی سے لے کر ان کے ادبی مقام تک مقالہ لکھتے ہوئے انتہائی محنت اور عرق ریزی سے کام لیا ہے۔تحقیق کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھا ہے۔مختلف اور متضاد آراء کو بھی یکجا کیا ہے اور اپنی طرف سے اپنا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔
یہاں ڈاکٹر رشید امجد کے ایسے تجزیوں کے چند اقتباس پیش کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔
’’میرا جی خود کو تکلیف دے کر ایک طرح کی خوشی محسوس کرتے تھے۔ان کا کچھ تعلق ملامتی فرقے سے بھی بنتا ہے۔ملامتی خود کو برا بھلا کہہ کر ایک قسم کی روحانی بالیدگی حاصل کرتے ہیں۔ میرا جی کے یہاں کچھ ملامتی اور کچھ بھگتی تحریک کے اثرات نے ایک ملی جلی کیفیت پیدا کر دی تھی لیکن مکمل طور پر انہیں کسی خانے یا خاص اثر کے تحت نہیں دیکھا جا سکتا۔بہت سے اثرات سے مل کر جو کچھ بنا وہ خالصتاً ’’میرا جیت‘‘ تھی‘‘ (ص ۹۵)
’’یہ ان کا بہت سوچا سمجھا فیصلہ تھا کہ وہ ثناء اللہ ڈار کی حیثیت سے نہیں بلکہ میرا جی کی حیثیت سے زندہ رہیں گے۔انہوں نے اپنی شخصیت کی یہMyth ممکنہ رنج و غم سہہ کر بنائی تھی اور یہ محض ڈرامہ نہیں تھا کیونکہ ساری زندگی دکھوں کی نگری میں مارا مارا پھرنے والا مسافر اتنا طویل ڈرامہ نہیں کر سکتا۔یہ تو ایک شخصیت کیMyth کی تعمیر تھی جس کے لیے انہوں نے ثناء اللہ ڈار ہی کی قربانی نہیں دی بلکہ تمام ظاہری آرام و آسائش اور معمولات سے بھی کنارہ کشی کی۔زندگی کا جہنم بھوگ کر وہ میرا جی کو زندہ کر گئے۔یہی ان کا مقصد بھی تھا اور یہی ان کا ثمر بھی ہے۔(ص۱۰۵)
میرا جی کی نظم نگاری کے حوالے سے ڈاکٹر رشید امجد لکھتے ہیں :
’’میرا جی کی شاعری میں تنوع ہے ہی ایسا کہ اس کی کئی جہتیں وا ہوتی چلی جاتی ہیں ‘‘ (ص۱۵۸)
’’میرا جی کی نظموں کا منظر نامہ اتنا پھیلا ہوا اور متنوع ہے کہ اس میں داخلیت پسندی کا گزر ہی نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اس خارجی منظر نامے اور وسیع کینوس کو اپنی ذات کے حوالے سے دیکھا اور بیان کیا ہے۔
داخلیت پسندی اور بیمار ذہنیت کے الزامات میرا جی پر ان لوگوں نے لگائے تھے جو ان کی نظموں کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے۔‘‘ (ص ۱۵۹)
میرا جی کی گیت نگاری اور غزل گوئی کے بارے میں ڈاکٹر رشید امجد اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں :
’’میرا جی کے گیتوں میں جو کرب اور دکھ ہے وہ ان کی ذات کے ایوان سے چھن چھن کر وہاں آ رہا ہے اور خاص طور پر سنجوگ کی ایک کیفیت، تمناؤں کی مستقل کسک، اور آشاؤں کی ایک بے انت دنیا، یہ سب ان کی ذات کے وہ گوشے ہیں جو ان کے مزاج کو گیت کے قریب لاتے ہیں اور گیت بطور صنف ان کے اس مزاج سے ایسا تال میل کھاتا ہے کہ میرا جی کے گیت نہ صرف یہ کہ ایک انفرادی حیثیت حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کی ایک پہچان بھی بنتے ہیں ‘‘ (ص ۱۷۱۔۱۷۲)
——
یہ بھی پڑھیں : خادم رزمی کا یوم وفات
——
’’میرا جی کی یہ غزلیں اسلوب اور اظہار کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی لفظیات بھی وہی ہیں جو میرا جی کی نظموں اور گیتوں کی ہیں۔ گویا انہوں نے اپنے گیتوں کے مزاج کو غزل کے مزاج سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے، اس لیے یہ غزلیں نظم کا رنگ بھی لیے ہوئے ہیں ‘‘ (ص۱۸۷)
یہاں میں اپنی طرف سے یہ بات ایزاد کرنا چاہوں گا کہ میرا جی اپنے عہد کے نظم نگاروں میں بھی اور بعد میں آنے والے بیشتر اہم نظم نگاروں میں بھی اس لحاظ سے منفرد مثال ہیں کہ تخلیقی لحاظ سے جتنی ان کی نظمیں اعلیٰ پائے کی ہیں، اتنی ہی ان کی غزلیں بھی اعلیٰ پائے کی ہیں۔ یہ الگ بات کہ انہوں نے غزلیں بہت کم کہی ہیں۔ ان کے برعکس ہمارے بیشتر اچھے نظم نگار (بہ استثنائے چند)جب غزل کہتے ہیں تو بہت ہی کمزور غزل کہہ پاتے ہیں۔
میرا جی کی تنقیدی بصیرت ان کی تنقیدی آراء سے عیاں ہے۔ایم ڈی تاثیر کی ایک نظم میں تخلص کے استعمال پر میرا جی نے اپنی رائے کا اظہار یوں کیا:
’’تخلص غزل کی پیداوار ہے اور غزل تک ہی اسے محدود رہنا چاہیے کیونکہ غزل میں اس کی کھپت بہت خوبی سے ہو جاتی ہے۔نظم میں اس کے استعمال سے تسلسل میں فرق پڑتا ہے۔خصوصاً اس نظم میں جس کی خوبی اس کے تصورات کا بہاؤ ہے۔ایسی نظم میں موضوع سے قرب ہر لمحہ ضروری تھا اور تخلص موضوع کی بجائے شاعر کے قریب لے جاتا ہے۔‘‘ (ص۲۰۰)
ڈاکٹر رشید امجد نے میرا جی کی تنقید نگاری کے سلسلے میں کئی اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ان کے بقول:
’’میرا جی کا رجحان نفسیاتی تنقید کی طرف تھا لیکن انہوں نے نظموں کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے ایک فریم کے طور پر استعمال نہیں کیا۔انہوں نے مختلف شاعروں کی نظموں کا تجزیہ کیا ہے، ان میں ترقی پسند بھی شامل ہیں، جن کے نظریات سے ان کا بنیادی اختلاف تھا، لیکن انہوں نے ان کی نظموں کو ان کے نظریے کی روشنی میں رکھ کر ان کا فنی تجزیہ کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا جی فن پارے کو کسی مخصوص نظریے سے دیکھنے کی بجائے اس کی فنی حیثیت کو سامنے رکھتے تھے‘‘ (ص۲۰۲)
’’نظم کے بنیادی خیال کی تلاش میرا جی کی تنقید کا مرکزی نقطہ ہے اور اس مرکزی نقطہ کو وہ اکثر نفسیاتی توجیہات سے واضح کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ‘‘ (۲۰۴)
’’میرا جی کی تنقید میں ایک تحقیقی ذائقہ بھی شامل ہے۔یہ در اصل ان کے وسیع مطالعہ کی عطا ہے‘‘ (۲۰۹)
میرا جی کی ایک خوبصورت نظم ’’میں ڈرتا ہوں مسرت سے‘‘ دیکھیے:
——
میں ڈرتا ہوں مسرت سے
کہیں یہ میری ہستی کو
پریشاں کائناتی نغمۂ مبہم میں الجھا دے
کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت
مِری ہستی ہے اک ذرہ
کہیں یہ میری ہستی کو چکھا دے کہر عالم تاب کا نشہ
ستاروں کا علمبردار کر دے گی، مسرت میری ہستی کو
اگر پھر سے اسی پہلی بلندی سے ملا دے گی
تو میں ڈرتا ہوں۔۔۔ڈرتا ہوں
کہیں یہ میری ہستی کو بنا دے خواب کی صورت
میں ڈرتا ہوں مسرت سے کہیں یہ میری ہستی کو
بھلا کر تلخیاں ساری
بنا دے دیوتاؤں سا
تو پھر میں خواب ہی بن کر گزاروں گا
زمانہ اپنی ہستی کا
——
اس نظم کے حوالے سے ڈاکٹر رشید امجد نے میرا جی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’ان کے نزدیک اگر انسانی زندگی سے درد کی میراث چھِن جائے تو آدمی محض دیوتا بن جاتا ہے، یا محض خواب۔میرا جی کے نزدیک تلخیوں سے بھرا ہوا انسان مسرت کے ان لمحوں سے زیادہ قیمتی ہے جہاں آدمی دیوتا بن جاتا ہے یا خواب۔دونوں کیفیتیں میرا جی کے یہاں ایک ہیں۔ دنیا کے دکھوں سے بھرے لوگ ان کے نزدیک معراج انسانیت ہیں، اسی لیے انہیں وہ لوگ بھی عزیز ہیں جو دکھوں کی دلدل میں ہمیشہ پھنسے رہتے ہیں۔ اس سے یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ وہ دکھوں کے حامی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ان کے نزدیک انسان کا مقدر دکھوں سے عبارت ہے اور خوشیاں اس کے مقابلے میں نا پائیدار ہیں ‘‘(ص۱۵۰ )
اپنے تجزیے میں آگے چل کر ڈاکٹر رشید امجد نے مہابھارت کے حوالے سے ایک بڑی عمدہ مثال پیش کی ہے۔جنگ کے خاتمہ پر جب کرشن جی مہاراج دوارکا جانے لگے تو تو انہوں نے مہارانی کنتی سے کہا کہ اے ماتا ! میں واپس جانے لگا ہوں تم کوئی ور مانگ لو۔اس پر مہارانی کنتی نے پوچھا مہاراج آپ واپس کب آئیں گے؟
——
یہ بھی پڑھیں : اِذن دے دیجیئے اک بار مرے آقا جی
——
اس پر کرشن جی نے کہا کہ جب تم دکھ اور تکلیف میں ہو گی تب واپس آ جاؤں گا۔اس پر ماتا کنتی نے ور مانگا کہ سدا دکھ اور تکلیف میں رہوں۔ اس قصہ کو بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر رشید امجد لکھتے ہیں :
’’کنتی اور میرا جی نے ایک ہی ور مانگا ہے یعنی دکھ اور تکلیف کا ور، لیکن کنتی اور میرا جی کے ور میں فرق یہ ہے کہ ماتا کنتی نے یہ ور کرشن جی کے درشنوں کے لیے مانگا تھا مگر میرا جی نے یہ خواہش بھی نہیں کی، انہوں نے ایک طرف تو دکھ اور تکلیف کا انتخاب کیا اور میرا سین کی واپسی کی خواہش کی بجائے خود میرا سین بن کر اسے ہمیشہ کے لیے اپنے اندرسمو لیا۔رانجھا رانجھا کردی نی میں آپ ای رانجھا ہوئی‘‘ (ص۱۵۱)
اپنے مقالہ کے صفحہ ۱۶۰ تا ۱۶۱ پر انہوں نے میرا جی کی نظم کی انفرادیت کے جو گیارہ نکات بیان کیے ہیں، وہ سب اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر رشید امجد کی تحقیقی و تنقیدی بصیرت یہاں کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر رشید امجد کی یہ رائے میرا جی کی شخصیت کے ایک مخفی پہلو کو روشن کرتی ہے:
’’جنس کا حوالہ میرا جی کے ساتھ اس طرح چپک گیا ہے کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ میرا جی کا سارا مسئلہ جنس ہی ہے اور انہوں نے دوسرے مسائل کی طرف بالکل توجہ نہیں دی۔در اصل میرا جی کے شخصی افسانے نے ان کے گرد ایک ایسا ہالہ بنا دیا ہے کہ اس سے باہر نکلنے کی دوسروں نے کو ئی کو شش ہی نہیں کی اور عام لوگ میرا جی کو ان افسانوں اور ان کی شاعری پر ہونے والے سطحی اعتراضات ہی کے حوالے سے جانتے ہیں۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ میرا جی نے اپنے مضامین میں جس سیاسی اور سماجی شعور کا اظہار کیا ہے اور ان کے مضامین جس طرح بر صغیر کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی صورت حال کا احاطہ کرتے ہیں وہ شعور ان کے بہت کم ہم عصروں کو حاصل تھا۔عام طور پر میرا جی کو اینٹی ترقی پسند سمجھا جاتا ہے لیکن میرا جی نے اپنے مضامین میں بر صغیر کی اقتصادی صورتحال کے جو تجزیے کیے ہیں وہ ان کے عہد کا بڑے سے بڑا ترقی ترقی پسندبھی نہیں کرتا‘‘ (ص۲۸۷)
آج کل مابعد جدیدیت کے نام پر، قاری (در حقیقت غیر تخلیقی نقاد) کی قرات کو غیر ضروری بلکہ ناجائز اہمیت دلانے کا کھیل چل رہا ہے۔ یوں قاری کی اہمیت کے جو ’’ راز‘‘ کھولے جا رہے ہیں میرا جی نے کسی لسانی گورکھ دھندے کے بغیر آج سے ساٹھ ستر سال پہلے اس بات کا معقول پہلو آسان لفظوں میں بیان کر دیا تھا اور نا معقول پہلو آج کے مابعد جدید نقاد کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ان کے ایک مضمون کا یہ اقتباس دیکھیے :
’’ہر لفظ ایک تصور یا خیال کا حاصل ہے اور اس تصور یا خیال کے ساتھ ساتھ ہی اس کے لوازم بھی ایک ہالے کی مانند موجود ہوتے ہیں۔ لوازم کا یہ ہالہ انفرادی انداز نظر کا پابند ہے، یعنی ایک ہی لفظ زید کے لیے اور تلازم خیال ہے اور بکر کے لیے اور۔لیکن ایک ہی زبان سے بہت سے افراد کا مانوس ہونا مختلف افراد کے لیے الفاظ میں قریباً قریباً یکساں تلازم خیال پیدا کر دیتا ہے۔جب کوئی لفظ ہمارے فہم و ادراک کے دائرے میں آتا ہے تو یہ تلازم خیال کا ہالہ ذہن میں ایک خاص ہیئت اختیار کرتا ہے اور جب اس پہلے لفظ کے ساتھ کوئی دوسرا لفظ ملایا جائے تو ہالہ اپنی ہیئت کو دوسرے لفظ کی مناسبت سے تبدیل کر لیتا ہے‘‘ (ص۲۰۶)
میرا جی کے ادبی مقام کے تعین میں ڈاکٹر رشید امجد لکھتے ہیں :
——
یہ بھی پڑھیں : تجھ سے جی لگتا ہے میرا، جانِ تنہائی ہے تو
——
’’میرا جی کے یہاں مادیت اور ماورائیت کا جو امتزاج نظر آتا ہے وہ انہیں اپنے عہد کے دوسرے شعراء سے منفرد و ممتاز بناتا ہے۔اپنے عہد کے مجموعی انتشار اور مختلف نظریات اور فلسفوں کی یلغار کے باوجود میرا جی کی شخصیت میں ایک روایتی عنصر بھی موجود تھا۔یہ عنصر ایک ایسی باطنی یا روحانی تنہائی ہے جس کے ڈانڈے صوفیانہ درد و غم سے جا ملتے ہیں۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو انسان کو اپنے آس پاس کی الجھنوں سے بے نیاز کر دیتا ہے‘‘ (ص۳۰۲)
’’یہ حقیقت ہے کہ میرا جی بیسویں صدی کے اردو ادب میں ایک اہم اور منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری خصوصاً نظموں کے ذریعے جدید اردو کی بنیاد رکھی اور اپنی تنقید کے توسط سے اردو شاعری کی تفہیم کی اور نئے تنقیدی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ان کا کام ان کی عظمت کی سند ہے کہ میرا جی اپنے عہد ہی میں نہیں، آج بھی ایک اہم ادبی شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں ‘‘
——
منتخب کلام
——
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
——
غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں
غم بھی راس آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریں
——
چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں
عمر ہے فانی ، عمر ہے باقی ، اس کی کچھ پروا ہی نہیں
تُو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں
——
ڈھب دیکھے تو ہم نے جانا دل میں دھن بھی سمائی ہے
میراؔ جی دانا تو نہیں ہے ، عاشق ہے سودائی ہے
——
چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں
عمر ہے فانی عمر ہے باقی اس کی کچھ پروا ہی نہیں
تو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں
تجھ سے دوری دوری کب تھی پاس اور دور تو دھوکا ہیں
فرق نہیں انمول رتن کو کھو کر پھر سے پانے میں
دو پل کی تھی اندھی جوانی نادانی کی بھر پایا
عمر بھلا کیوں بیتے ساری رو رو کر پچھتانے میں
پہلے تیرا دیوانہ تھا اب ہے اپنا دیوانہ
پاگل پن ہے ویسا ہی کچھ فرق نہیں دیوانے میں
خوشیاں آئیں اچھا آئیں مجھ کو کیا احساس نہیں
سدھ بدھ ساری بھول گیا ہوں دکھ کے گیت سنانے میں
اپنی بیتی کیسے سنائیں مد مستی کی باتیں ہیں
میراجیؔ کا جیون بیتا پاس کے اک مے خانے میں
——
ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا
چپکے چپکے بہا کر آنسو دل کے دکھ کو دھونا ہوگا
بیرن ریت بڑی دنیا کی آنکھ سے جو بھی ٹپکا موتی
پلکوں ہی سے اٹھانا ہوگا پلکوں ہی سے پرونا ہوگا
کھونے اور پانے کا جیون نام رکھا ہے ہر کوئی جانے
اس کا بھید کوئی نہ دیکھا کیا پانا کیا کھونا ہوگا
بن چاہے بن بولے پل میں ٹوٹ پھوٹ کر پھر بن جائے
بالک سوچ رہا ہے اب بھی ایسا کوئی کھلونا ہوگا
پیاروں سے مل جائیں پیارے انہونی کب ہونی ہوگی
کانٹے پھول بنیں گے کیسے کب سکھ سیج بچھونا ہوگا
بہتے بہتے کام نہ آئے لاکھ بھنور طوفانی ساگر
اب منجدھار میں اپنے ہاتھوں جیون ناؤ ڈبونا ہوگا
جو بھی دل نے بھول میں چاہا بھول میں جانا ہو کے رہے گا
سوچ سوچ کر ہوا نہ کچھ بھی آؤ اب تو کھونا ہوگا
کیوں جیتے جی ہمت ہاریں کیوں فریادیں کیوں یہ پکاریں
ہوتے ہوتے ہو جائے گا آخر جو بھی ہونا ہوگا
میراجیؔ کیوں سوچ ستائے پلک پلک ڈوری لہرائے
قسمت جو بھی رنگ دکھائے اپنے دل میں سمونا ہوگا
——
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
کیا بھولا کیسے بھولا کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھو
کارن دوش نہیں ہے کوئی بھولا بھالا بھول گیا
کیسے دن تھے کیسی راتیں کیسی باتیں گھاتیں تھیں
من بالک ہے پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا
اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی
دھندلی چھب تو یاد رہی کیسا تھا چہرہ بھول گیا
یاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگی
دکھ میں سکھ ہے سکھ میں دکھ ہے بھید یہ نیارا بھول گیا
ایک نظر کی ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کی
ایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا بھول گیا
سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ
لہر لہر سے جا سر پٹکا ساگر گہرا بھول گیا
——
جسم کے اس پار
——
اندھیرے کمرے میں بیٹھا ہوں
کہ بھولی بھٹکی کوئی کرن آ کے دیکھ پائے
مگر سدا سے اندھیرے کمرے کی رسم ہے کوئی بھی کرن آ کے دیکھ پائے
بھلا یہ کیوں ہو
کوئی کرن اس کو دیکھ پائے تو اس گھڑی سے
اندھیرا کمرہ اندھیرا نہیں رہے گا
وہ ٹوٹ کر تیرگی کا اک سیل بے کراں بن کے بہہ اٹھے گا
اور اس گھڑی سے اس اجالے کا کوئی مخزن بھی روک پائے بھلا یہ کیوں ہو
ہزار سالوں کے فاصلے سے یہ کہہ رہا ہوں
ہزاروں سالوں کے فاصلے سے مگر کوئی اس کو سن رہا ہے یہ کون جانے
سیاہ بالوں کی تیرگی میں تمہارا ماتھا چمک رہا ہے
تمہاری آنکھوں میں اک کرن ناچ ناچ کر مجھ سے کہہ رہی ہے
کہ میرے ہونٹوں میں ہے وہ امرت
ہزاروں سالوں کے فاصلے سے جو رس رہا ہے
مگر یہ سب سال نور کے سال تو نہیں تیرگی کے بھی سال یہ نہیں ہیں
یہ سال تو فاصلے کی پیچیدہ سلوٹیں ہیں
اندھیرا کمرہ اندھیرا کیوں ہے
تمہارے بالوں کی تیرگی میں نگاہ گم ہے
یہ بند جوڑا جو کھل کے بکھرے تو پھر کرن بھی سنور کے نکھرے
تمہارا ملبوس اک سپیدی پہ دھاریوں سے سجھا رہا ہے
اندھیرے کمرے میں جب کرن آئی تیرگی دھاریاں بنے گی
اور اس کرن سے اندھیرا پل بھر اجالا بن کر پکار اٹھے گا
کہ بھولی بھٹکی یہاں کبھی تیرگی بھی آئے
ہزاروں سالوں کا فاصلہ تیرگی بنا ہے
تمہارے ہونٹوں پہ گیت کے پھول مسکرائے کہ تم نے اپنے لباس کو یوں اتار پھینکا
کہ جیسے راگی نے تان لی ہو
تمہاری ہر تان تیرگی کی سیاہ دھارا بنی ہوئی ہے
کوئی کرن اس سے پھوٹ پائے بھلا یہ کیوں ہو
سیاہ کمرہ تمہاری تانوں سے گونجتا ہے
ہزاروں سالوں سے گونجتا ہے
سیاہ کمرہ تمہارے بالوں کی تیرگی سے چمک رہا ہے
سیاہ کمرہ لباس کی ہر اچھوتی کروٹ سے کہہ رہا ہے
یہاں تم آؤ یہاں کوئی تم کو دیکھ پائے نہیں یہ ممکن
یہاں کرن آئی تو وہ فوراً اندھیرے کمرے میں جا چھپے گی
اور اس پہ دھارا لباس کی یوں بہے گی جیسے
اندھیرا کمرہ اندھیرا کمرہ کبھی نہیں تھا
وہ اک کرن تھی
——
حوالہ جات :
کتاب : میرا جی شخصیت اور فن ، مصنف ڈاکٹر رشید امجد
شائع شدہ : 1995، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ