یاد
گو رزق کے چکر نے بہت جور کیا ہم پھرتے رہے ، صبر بہر طور کیا شانوں پہ تری یاد کی چادر لے کر یوں گُھومے کہ ہر شہر کو لاہور کیا
معلیٰ
گو رزق کے چکر نے بہت جور کیا ہم پھرتے رہے ، صبر بہر طور کیا شانوں پہ تری یاد کی چادر لے کر یوں گُھومے کہ ہر شہر کو لاہور کیا
آج معروف اہل حدیث عالم دین، کارکن تحریک پاکستان محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کا یومِ وفات ہے ۔ (ولادت: 1874ء – وفات: 12جنوری 1956ء) —— علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اہل حدیث عالم دین، کارکن تحریک پاکستان تھے۔ میر سیالکوٹی آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن تھے۔ آپ کو ابراہیم میر سیالکوٹی کے نام سے […]
محفل میں جو ہم تُجھ سے پرے بیٹھے ہیں بے بس ہیں سو اشکوں سے بھرے بیٹھے ہیں فی الحال کوئی اور تواضع مت کر ہم لوگ تو پہلے ہی مرے بیٹھے ہیں
آج ممتاز شاعر احمد فراز کا یومِ پیدائش ہے ۔ ( یوم پیدائش 12 جنوری 1931ء – یوم وفات 25 اگست 2008ء) —— احمد فراز کوہاٹ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ ‘ تھا۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران […]
آج معروف ادیب ، خاکہ نگار اور براڈکاسٹر اخلاق احمد دہلوی کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 12 جنوری، 1919ء – وفات: 20 مارچ، 1992ء) —— اخلاق احمد دہلوی (پیدائش: 12 جنوری، 1919ء – وفات: 20 مارچ، 1992ء) اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیب، خاکہ نگار اور براڈکاسٹر تھے۔ اخلاق احمد دہلوی […]
ہم آتے ہی رہے ہیں اور ہم آتے رہیں گے یہ آنسو: ان گنت قرنوں کے ماتھے کا پسینہ یہ وحشت: بے شمار ادوار کے غم کا خزینہ یہ لامحدود اذیّت ، یہ زمانوں کے کچوکے مگر ہم عشق والے ہیں، خدا بھی کیسے روکے ؟ خدا سے لڑ جھگڑ کے بھی اُسے بھاتے رہیں […]
مجھے تمغۂ حُسنِ دیوانگی دو کہ میں نے سہی ہے دل و جاں پہ دونوں جہانوں کی وحشت نفس در نفس در نفس وہ اذّیت کہ جس سے اُبل آئیں یزداں کی آنکھیں اذیّت کہ جس سے مرے روزوشب سے نچڑنے لگا ہے شفق رنگ لاوا شفق رنگ لاوا جو میرا لہو ہے لہو جو […]
!فروغ وہ تجھ سے ڈر گئے تھے !فروغ تُو سر بسر جنُوں تھی سو عقل و دانش کے دیوتا تجھ سے ڈر گئے تھے اندھیر نگری کے حکمرانوں کو تیری آنکھوں کی روشنی میں دکھائی دیتی تھی موت اپنی ازل کے اندھوں کو تیرے ماتھے کے چاند سے خوف آرہا تھا ترے سخن میں وہ […]
ایک اُمید پسِ دیدہء تر زندہ ہے فاختہ خُون میں لت پت ہے، مگر زندہ ہے ورنہ گُل چیں سبھی کلیوں کو مسل ڈالے گا غیرتِ اہلِ چمن ! جاگ، اگر زندہ ہے ریزہ ریزہ ہیں مرے آئنہ خانے لیکن مُطمئن ہوں کہ مرا دستِ ہُنر زندہ ہے سانحہ یہ ہے میرا رختِ سفر لُوٹا […]
سُن اے اَن دیکھی سانولی! تری آس مجھے ترسائے مری رُوح کے سُونے صحن میں ترا سایہ سا لہرائے ترے ہونٹ سُریلی بانسری ، ترے نیناں مست غزال تری سانسوں کی مہکار سے مرا حال ہوا بے حال کچھ دُھوپ ہے اور کچھ چھاوٗں ہے ترا گھٹتا بڑھتا پیار انکار میں کچھ اقرار ہے ، […]