اردوئے معلیٰ

آج ممتاز شاعر شاد عظیم آبادی کا یومِ وفات ہے۔

شاد عظیم آبادی(پیدائش: 8 جنوری، 1846ء- وفات: 7 جنوری، 1927ء)
——
شاد عظیم آبادی کی غزل گوئی از پرویز احمد عظمی
——
شاد عظیم آبادی انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے ان مستقل مزاج کلاسیکی شاعروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے غزل کی صنف پر طرح طرح کے اعتراضات کے زمانے میں بھی اپنی غزل گوئی کے عَلَم کو بلند رکھا۔ حسرت موہانی، فانی بدایونی اور اصغرگونڈوی کو عموماً اردو غزل کی نشاۃ ثانیہ کا ضامن تصور کیا جاتاہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ شادعظیم آبادی نے غزل کو انیسویں صدی کے نصف آخر میں اس وقت پوری قوت اور ہمہ گیری کے ساتھ اپنے اظہار کا وسیلہ بنائے رکھا تھا جب مغربی نظموں کے تراجم، جدید نظم کی تحریک اور غزل کی صنف پر وارد ہونے والے اعتراضات کا بازار گرم تھا۔ شادؔ چوںکہ سکّہ بند انداز میں کسی مخصوص شعری دبستان سے وابستہ یا اس کے مقلد نہیں تھے اس لیے ان کے اندازِبیان، انتخابِ مضامین اور شعری طریقِ کار میں آزادانہ تنوع ملتاہے۔ اسی باعث ان کی شاعری پر دہلی یا لکھنؤ اسکول کے مفروضہ دبستانی عناصر کی تلاش زیادہ کارآمد نہیں معلوم ہوتی – وہ چوںکہ لگاتار عظیم آباد میں رہے اس لیے ان کے طرزِکلام میں اس نوع کی تسلیم شدہ دبستانی وابستگی یا عدم وابستگی کا التباس تک قائم نہیں ہوتا۔
اس پس منظر میں شادعظیم آبادی کی غزل اگر آج تک اپنے آپ کو مقبول، بامعنی اور غیرزمانی بنائے ہوئے ہے تو اس کی وجہ ان کی غزل کی فکری اور فنی توانائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاد ؔکی غزل کم و بیش ڈیڑھ سوسال کے بعد آج بھی اگر زندہ ہے تو محض اپنے ڈکشن کے بل بوتے پر زندہ ہے۔ اس لیے کہ ہم میں سے کون نہیں جانتاکہ تنقیدی طورپر شاد کی شاعری کے مرتبہ کے تعین کی کوئی مربوط یا مبسوط کوشش ہنوز نہیں کی گئی۔ ہوسکتاہے اس میں دبستانی عصبیت بھی شامل رہی ہو جس کے باعث شاد کی غزل گوئی کو کسی رائج یا بنے بنائے تنقیدی محاورے یا سیاق و سباق میں دیکھے جانے اور سہل انگاری کے ساتھ اس پر فیصلہ صادر کردینے کی سہولت حاصل نہ رہی ہو۔
——
یہ بھی پڑھیں : لب شاد ، زباں شاد ، دہن شاد ہوا ہے
——
تاہم ان معروضات کا شمار اس وقت تک مفروضات میں ہی ہوگا جب تک باضابطہ ان کی تنقیدی درجہ بندی کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور اگر یہ شاعری خود اپنے دم خم پر قائم ہے تو اس کی توانائی اور فنی طورپر کارفرما عناصر کی جستجو کی کوشش نہ کرلی جائے۔ شاد کی شاعری کا بالاستیعاب مطالعہ کرتے ہوئے جو چیز سب سے پہلے قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتی ہے وہ ان کی کثیرالاصواتی اور لہجے کا تنوع ہے۔ ظاہر ہے کہ
موضوعاتی اشعار کے ساتھ سب سے بڑا خطرہ یہ لاحق رہتاہے کہ شاعر مضمون کی جدت کے زعم میں کہیں شعریت سے نہ دست بردار ہوجائے – غنچے کے چٹکنے کی امید کو حسن تعلیل کے انداز میں ہنسی اور مسکراہٹ کا نام دینا اور اس کیفیت سے طنزملیح کا پہلو بھی نکال لینا، اس شعر کو کئی اعتبار سے بلند مرتبت بنا دیتاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شعر میں محض قافیہ کے استعمال سے کلیدی کام لیا گیاہے ’’زمانہ آنے تو دو نموکا‘‘ کے فقرے میں یہ قافیہ ہی ہے جو ماقبل کے بیانات کو منقلب کرکے رکھ دیتاہے۔ دوسرا شعر بھی کچھ کم اہم نہیں، انسان کا اپنے دل اور آنکھوں میں ہزاروں حسرتیں لیے ہوئے دنیا سے رخصت ہوجانا عام سی بات یا بالکل پامال مضمون ہے۔ مگر اس شعر میں شاد ؔنے آنکھ کو آنکھ کے بجائے ’دیدۂِ تر‘ اور سمندر، کے استعاروں میں بیان کیاہے۔ اس طرح دیدۂ تر کے استعارے میں سمندر کا مشاہدہ ایک طرف انوکھی امیجری تو ہے ہی، مگر ساتھ ہی ایک پامال مضمون کو کسی نئے تناظر سے آشنا کرنے کی کوشش کا ثبوت بھی فراہم ہوتاہے۔ پھر یہ کہ اس شعر میں حرمان و حسرت کو ایک بے کس ڈوبنے والا کہہ کر شاعر نے اپنے مخصوص شعری طریقِ کار کے مطابق تجرید کو تجسیم میں تبدیل کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے۔ شاد کی شاعری میں اس فنی حکمت عملی کا ذکر بعد میں مناسب جگہ پر آئے گا۔ جہاں تک تیسرے شعر کا سوال ہے تو اس میں شاد نے اپنے لہجے کے طنطنے سے ہی شعر کے آہنگ کو مقناطیسی بنا دیاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لہجے اور آہنگ کا یہ رویہ متذکرہ شعروں کی طرح حوصلے اور امید پر قائم نہیں۔ اس شعر میں انسانی زندگی کے ساتھ کائنات کی تمام ہماہمی تک پر ایک نگاہ غلط انداز ڈال کر اس کی لایعنیت کو اپنے لہجے سے مسترد کردیاگیاہے۔ اس نوع کی بے اعتنائی اور بے نیازی غیرمعمولی استغنا کی منزل پر پہنچے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس قسم کی صوفیانہ بے نیازی کی مثالیں ہماری کلاسیکی غزل میں بھی شاذونادر ہی ملتی ہیں۔ نظیراکبرآبادی کی بعض نظموں میں البتہ دنیا اور مکروہات ِ دنیا سے اسی قسم کی لاتعلقی اور عدم وابستگی کا برمَلا اظہار ہواہے۔ مثال میں پیش کیے گئے آخری شعر میں جس طرح پہلے مصرعے کے پہلے فقرے میں استفہام انکاری سے قائم کیا گیاہے اور اس کے ساتھ اسی مصرعے کے دوسرے فقرے میں جس طرح خود تنقیدی کے لیے ’’جو یاپہ ترے لاحول ولا‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان سے بلاشبہ ایک سے زیادہ صوتی لہجے کو نمایاں ہونے کا موقع ملاہے۔ جب کہ دوسرے مصرعے میں دشت و جبل کو چھاننے کی جفاکشی اور پاؤں کو توڑے بیٹھے ہونے کی مرکزیت کا تضاد ایک فنی صنعت میں تبدیل ہوگیاہے- شادعظیم آبادی کی غزل کے لہجے کی انفرادیت کے مزید نمونے کے طورپر ان اشعار کو بھی نظرانداز کرنا مشکل معلوم ہوتاہے:
——
ہم تھے مٹے ہوئے یونہی روزِازل سے اے اجل
روئے زمیں پہ ہیں تو کیا، زیرِزمیں ہوئے تو کیا
——
دل مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں
——
چارہ گر کون زمانے میں ہے چارہ کس کا
آپ تو اپنا سہارا ہے سہارا کس کا
——
گذشتہ سطور میں حسرت اور دیدۂ تر کے حوالے سے شاد کے ایک شعر کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے پسندیدہ تمثیلی اور تجسیمی طریقِ کار کی نشان دہی کی گئی تھی۔
——
یہ بھی پڑھیں : لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا
——
یہ طریقِ کار شادعظیم آبادی کا ایسا انفرادی رویہ ہے جس کی کارفرمائی اردو کے دوسرے شعرا کے کلام میں مشکل سے ہی تلاش کی جاسکتی ہے۔ یہاں غزل کے شعر کے ایک مصرعے میں دعویٰ اور دوسرے میں دلیل دینے، جیسے تمثیلی انداز کو اس لیے بحث سے خارج رکھنا چاہیے کہ مجرد اشیا کو مجسّم بناکر پیش کرنے کی صنعت مغرب اور مشرق میں allegory یا تمثیل کی اصطلاحوں میں جانی جانی جاتی رہی ہے۔ شاد کے مخصوص شعری کردارنگاری سے یہی مراد ہے۔ شاد اس قسم کے تمثیلی کردار تخلیق کرنے میں اکثر مقامات پر مجرد اشیا، تصورات اور صفات کو مشخص کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بعض اوقات وہ اپنے شعری کردار سے اس کے اعضا اور جوارح کو الگ کرکے افراد کے طورپر بھی پیش کردیتے ہیں۔ اس رویّے کی مثالیں تو بہت سی ہیں مگر یہاں صرف دو تین شعر نمونے کے طورپر کافی ہوںگے:
——
انھیں دیکھے گی تو اے چشم پُرنم، وصل میں، یا میں
تیرے کام آئے گا رونا کہ میرے کام آئے گا
——
خدا بخشے دکھاکر اک جھلک یوں ہی سی آنکھوں کو
قیامت ہے جوانی کا مری کافور ہوجانا
——
کراہنے میں مجھے عذر کیا، مگر اے دوست
گلا دباتی ہے رہ رہ کے آبرو میرا
——
ان تینوں شعروں میں خواہ معاملہ عاشق کے دیکھنے یا چشم پُرنم کے دیکھنے اور رونے کا ہو، یا پھر آنکھوں کو محض ایک جھلک دکھاکر متکلم کی جوانی کے کافور ہونے کا – دونوں جگہوں پر انسانی اعضا یا پھر عمر کے کسی خاص مرحلے کو کرداروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان مثالوں میں سے آخری شعر میں صرف تمثیل کا ہی خوب صورت استعمال نہیں کیاگیا ہے بلکہ یہاں شاد نے اپنے اس مخصوص شعری طریقِ کار کو نقطۂ عروج پر پہنچا دیاہے۔ کراہنا، خواہ وہ دکھ کے سبب ہو، بیماری کے سبب ہو یا شومیٔ قسمت کے سبب ، مگر ہے یہ بالکل فطری اور عام انسانی رویّہ۔ مگر یہاں شاعر جس نکتہ کو نمایاں کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ غم و اندوہ پر کراہ کر وہ اپنے ہلکے پن اور کم ظرفی کا ثبوت نہیں دینا چاہتا۔ اس موقع پر اس کے کام جو چیز آتی ہے وہ رہی سہی عزّت و آبرو ہے جس نے اس کے رکھ رکھاؤ اور باظرف ہونے کو سہارا دے رکھاہے۔ مگر شاعر اس مضمون کو سپاٹ انداز میں بیان نہیں کرتا، پورے فن کارانہ لوازم کے ساتھ اس طرح بیان کرتاہے کہ آبرو، جیسی مجرد چیز بھی ایک مشخص کردار بن کر ان کو کراہنے سے روکنے کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دو مصرعوں میں تمثیل کے ساتھ حسن تعلیل، مضمون کی ندرت اور لہجے کی انفرادیت نے مل کر شعر کی قدر و منزلت میں خاصا اضافہ کردیاہے۔
گذشتہ سو ڈیڑھ سوسال میں ہمارے ادبی رویوں یا رجحانات میں طرح طرح کی تبدیلیوں کے باوجود شاد جیسا ممتاز اور مختلف شاعر نظر انداز تو ضرور ہوتا رہا مگر ان کی شاعری اپنی قوت اور لازمانی معنویت کی بدولت آج بھی کچھ کم مقبول اور اہمیت سے عاری تصور نہیں کی جاتی۔ یوں شاد کا ایک امتیاز ان کے بعض اشعار کی غیرمعمولی مقبولیت میں بھی مضمرہے۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ ان کا کوئی شعر ناپختہ جذبات نگاری یا سستی رومانیت یا سنسنی خیزی کے باعث مقبولِ خاص و عام نہیں۔ ان کے کئی درجن اشعار بلاشبہ ہمارے ادبی حافظے کا حصہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پذیرائی میں وہ کون سے شعری یا ادبی عناصر شامل ہیں جن کے سبب ایسے اشعار کی صحیح اہمیت کا تعین کیا جاسکے۔ کیا محض اشعار کا مشہور ہوجانا یا کلاسیکی مضامین میں بعض نئے گوشوں کا اضافہ کرلینا، ان کی شاعری کی بقاء کی ضمانت بن سکتاہے۔ شاد کو اگر ان کا جائز مقام ہنوز نہیں ملا تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے کلام کو یکسوئی اور توجہ سے بہت کم پڑھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر توجہ سے ان کی شاعری کامطالعہ کیا جائے تو ان کے آہنگ اور لہجے کا معاملہ ہو یا نئے استعاروں کی تلاش یا رائج مضامین کے سیاق و سباق کو تبدیل کرنے کی بات ہو، ان تمام پہلوؤں کو شاد کی غزل کی انفرادیت اور امتیاز کے اسباب میں شمار کیا جاسکتاہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : پاک ہوتی ہے زباں تو شاد ہو جاتا ہے دل
——
جہاں تک شاد کے اشعار کے مقبول ہونے اور متعدد شعروں کے ضرب المثل کی حدتک زبان زد خلائق ہونے کا سوال ہے، تو اس سلسلے میں شاد کے قدوقامت کے کم شاعر ایسے ہیں جن کے کلام کو اس حدتک ضرب المثل بننے کی سعادت حاصل ہوئی ہو۔ استاذ ذوقؔ اس معاملے میں خوش نصیب تصورکیے جاتے ہیں کہ ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل کی حیثیت سے یا کسی محاورے کے استعمال کے سبب، یا پھر کسی مذہبی اور اخلاقی نکتے کے باعث زبان زد خاص و عام رہے ہیں۔ ان کے مقبول ترین شعروں میں گنتی کے دوچار شعر بھی ایسے نہیں ملتے جو اپنی شعریت یا فنی ہنرمندی کے باعث کثرت معنی کا امکان پیدا کرتے ہوں۔ ذوق کے برخلاف شاد کے ایسے اشعار میں برجستگی کے ساتھ ساتھ لہجے کی ندرت اور معنوی تعبیر کی کثرت کا امکان زیادہ نمایاں ہے۔ مزید یہ کہ اس قسم کے اشعار سے الگ الگ قاری اپنی مخصوص صورت حال میں الگ الگ معنی نکالنے کی گنجائش محسوس کرلیتاہے۔ شاد کے مقبول ترین بہت سے اشعار میں سے چند کو یہاں بھی ملاحظہ کیا جاسکتاہے:
——
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
——
ہمارے زخم دل نے دل لگی اچھی نکالی ہے
چھپائے سے تو چھپ جانا مگر ناسور ہوجانا
——
سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنی
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
——
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
لحد میں کیوں نہ جاؤں منھ چھپائے
بھری محفل سے اُٹھوایا گیا ہوں
——
کدورت سے دل اپنا پاک رکھ اے شاد پیری میں
کہ جس کو منھ دکھانا ہے یہ آئینہ اسی کا ہے
——
متذکرہ اشعار میں کہیں استعارہ سازی کی وجہ سے کوئی شعر ناقابلِ فراموش بن گیا ہے اور کہیں کسی آفاقی سیاق و سباق کی وجہ سے اور کہیں ناسور کی تکلیف اور اذیت کو بھول کر زخم دل کی دل لگی کو تمسخر کے انداز میں یاد کرنا شاعر کا اپنے شعری کردار سے ایک قسم کا معروضی فاصلہ قائم کرلینے کا ثبوت بن گیا ہے۔ ایک شعر میں تمناؤں کو بچوں کے کھلونوں سے تشبیہ دے کر شاد نے ایسا اچھوتا انداز اختیار کیا ہے جس کی مثال قدیم تو کیا ان کی معاصر شاعری میں بھی مشکل سے ہی تلاش کی جاسکتی ہے۔ شاد نے یہاں انسان کو قدرت کی طرف سے دی جانے والی طفل تسلیوں کو ایک بڑے اور آفاقی استعارے میں بھی تبدیل کردیا ہے اور کائنات میں انسانی وجود کے کھوکھلے پن کو نہایت بلاغت کے ساتھ بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔
مذکورہ اشعار میں سے موخرالذکردو شعروں میں سے پہلا شعر حسن تعلیل کاکامیاب نمونہ بن گیاہے اور ہرزمانے کے انسان کی صورت حال کا ترجمان ہے۔ دوسرا شعر اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں ہرچندکہ ایک پامال مضمون یعنی اعمال اور حشر میں سرخروئی کے معاملہ کو شاد نے دل کی کدورت اور دل کی جلد پر مرکوز کردیا ہے مگر دل کے آئینے کی جلا یا صفائی خود نگاہ آئینۂ ساز میں کتنی مستحسن ہوگئی ہے اس کو شدت سے محسوس کرانے کی کوشش کی ہے۔ پہلے شعر میں دنیا کی بھری محفل سے اٹھوائے جانے کو کفن میں شرمندگی کے مارے منھ چھپانے سے تعبیر کرکے ایک رسمی اور روایتی مضمون کو تبدیلی سے گزارکر اپنے انفرادی رویّے کا ترجمان بنادیا گیا ہے۔ دوسرے شعر میں خالق کائنات کی عظمت کا اعتراف تو ہے ہی، اس کے ساتھ ہی آئینہ کی مناسبت سے کدورت سے صاف رکھنا اور منھ دکھانا ایک خوب صورت امیجری کی تخلیق بھی کرتاہے۔ مزید اس شعر میں ایک طرح کا بامعنی ابہام بھی موجود ہے کہ دل کے آئینے میں منھ دیکھنا تو ایک طرف ذات باری کے جلوے کا استحقاق ہے، دوسری طرف شعر کی خودکلامی منھ دکھانے کو کچھ اس طرح نمایاں کرتی ہے کہ وہ مالک حقیقی کے سامنے سرخرو ہونے کی ایک نئی تعبیر بن جاتی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہے
——
اس لیے شاید یہ کہنا غلط نہ ہوکہ موجودہ زمانے تک شاد کی شاعری کی پذیرائی اور مقبولیت کا باعث وہ معنوی امکانات ہیں جو ان کی نمائندہ شاعری میں معنی آفرینی کے عمل کو منقطع نہیں ہونے دیتے۔ اس موقع پر یہ بات بھی زیادہ وضاحت طلب نہیں رہتی کہ ہماری ماضی قریب کی تنقید میں جس طرح محض استعارہ یا علامت کو معنی آفرینی کی بنیاد بناکر پیش کیا گیاہے وہ بات شاد کے بارے میں جزوی طورپر تو درست ہوسکتی ہے مگر کلّی طورپر نہیں۔ استعارے کے علاوہ کبھی تلمیح، کبھی تمثیل اور کبھی رمزوکنایہ بھی اکثر معنی آفرینی کا سرچشمہ بن جاتے ہیں، یا کبھی کبھی شعر کی مخصوص کیفیت بھی معنی کے استخراج کا وسیلہ ثابت ہوتی ہے۔
بسااوقات بعض کلیدی الفاظ اپنے تناظر کی تبدیلی کے ساتھ معنی کی تبدیلی کا محرک بن سکتے ہیں۔ متذکرہ زبان زد خلائق اشعار میں بزم مے، کوتاہ دستی، مینا، ناسور، حکایت ِہستی اور آغاز و انجام سے عاری دنیا جس کو شاعر نے حکایت ِہستی کو درمیان سے سننے سے تعبیر کیاہے -اگر پوری طرح استعارہ نہ بھی ہوں تب بھی استعاراتی امکانات رکھنے والے الفاظ بن جاتے ہیں۔ یہ بات بجائے خود معنی آفرینی ہی کی ایک صورت ہے۔ اسی طرح تمنائیں، کھلونے، لحد، بھری محفل، دل، آئینہ اور آئینہ ساز جیسی لفظیات جن پر پوری طرح استعارہ یا علامت کا اطلاق بھی نہیں ہوتا، مگر وہی اس نوع کے متعدد تلازمے، لفظیات اور پیکر دراصل شاد کی غزل میں معنوی وفور کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ شاید استخراج معنی کی یہی گنجائش شاد کے اَن گنت شعروں کو اجتماعی حافظے کا حصہ بنائے ہوئے ہے۔
چوںکہ استعارے کے حوالے سے یہاں شعری صنعت گری کی بات نکل آئی ہے تو ہمیں ان کے بعض ایسے اشعار پر بھی ایک نگاہ ڈالنی چاہیے جو بظاہر عام طرز اظہار کا نمونہ معلوم ہوتے ہیں مگر کسی نہ کسی فنی ہنرمندی اور صنعت کاری کا تاثر بھی دیتے ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ شاد کی شاعری کے سرسری مطالعے کے دوران ان کی سہولت اظہار کے سبب بادی النظر میں شعری صنعت یا فن تدبیرکاری کا صحیح طورپر اندازہ نہیں ہوپاتا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ دانستہ طورپر شعری صناعی پر شعرکے تاثر یا مضمون کی ندرت کو قربان کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔ مگر یہ بات بھی غلط نہیں کہ اگر شعر کی روانی، مضمون کی مکمل گرفت اور تاثر کی منتقلی اطمینان بخش ہے تو وہ ان عناصر کو دوآتشہ بنانے کی غرض سے بعض صنعتوں کا استعمال بھی ضرور کرتے ہیں۔ یعنی شعرسازی یا متن بنانے کا عمل ان کے یہاں شعوری تو ضرور ہے مگر وہ فنی تدبیر کو زبان و بیان، فصاحت، صوتی آہنگ یا معنوی امکانات کے تابع رکھتے ہیں – چنانچہ ان کی غزل کے اشعار میں ذرا سے غوروخوض کے بعد متعدد ایسے لفظی اور معنوی محاسن کا انکشاف ہوتاہے جن کے باعث ان کے اشعار ایک سے زیادہ معنی کے استخراج کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔
شاد کی غزل میں کلاسیکیت کے تقریباً تمام رنگ ملتے ہیں۔ ان کے موضوعات اور مضامین کا انتخاب ہو یا کلاسیکی مسلمات کا تتبع، ان کا تصور کائنات ہو یا زبان و بیان کی طرف ان کے رویّے، ساری چیزیں انھیں اردو کی کلاسیکی شاعری کا حصہ تو بناتی ہی ہیں مگر اس کے ساتھ ہی وہ کلاسیکی شعری روایات میں اپنی حدتک توسیع بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ اکثر روایتی مضامین کو اپناتے تو ضرور ہیں مگر ان میں کوئی نہ کوئی نیاگوشہ بھی ضرور پیدا کرلیتے ہیں یا پھر بعض مقامات پر کسی رائج موضوع کو بڑی حدتک منقلب کردیتے ہیں۔ ان معروضات کی توثیق کسی حدتک ذیل کے اشعار سے کی جاسکتی ہے:
——
جہنم کی دہکتی آگ دم بھر میں بجھا دوںگا
سمندر باندھ کر لایا ہوں اپنے دیدۂِ تر میں
——
محو دیدار بھی ہے مانع دیدار بھی ہے
پردۂ چشم کو میں پردہ محمل سمجھا
——
ہزار مجمع خوبان ماہ رو ہوگا
نگاہ جس پہ ٹھہر جائے گی وہ تو ہوگا
——
خیال وصل کو اب آرزو جھولے جھلاتی ہے
قریب آنا دلِ مایوس کے پھر دور ہوجانا
——
امیدیں جب بڑھیں حدسے طلسمی سانپ ہیں زاہد
جو توڑے یہ طلسم اے شادؔ گنجینہ اسی کا ہے
——
جہنم کی آگ کے لیے دیدۂِ تر میں سمندر باندھ لانا، پردہ چشم کو پردہ محمل سمجھنا، خیال وصل کو آرزو کا جھولا جھلانا یا امیدوں کو طلسمی سانپ کہنا اور شکست طلسم کے بغیر حقیقت و معرفت تک رسائی کو ناممکن بتانا، جیسی تمام باتیں گوکہ کلاسیکی مسلمات اور مضامین کا تتبع بھی ہیں مگر شاعر کی انفرادیت ہرجگہ استعارے کے تناظر کی تبدیلی اور کسی پامال بات پر نہایت انوکھے نکتے کے اضافے کے سبب اپنی کارکردگی کا احساس بھی دلاتی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : جب سے لب پر درود و سلام آپ کا
——
ان معروضات اور بعض وضاحتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شاد کی شاعری کا عمل چوںکہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک جاری تھا، اس لیے انہیں ہررنگ اور ہرآہنگ سے استفادہ بھی کرنے کا موقع ملا اور اپنی فنی انفرادیت کے نقوش مرتسم کرنے کا بھی۔ ان کے یہاں شخصیت کی پژمردگی یا کلبیت آمیز رویّے کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ انسانوں کی دنیا سے ان کا جتنا رابطہ ہے اس سے کسی طرح کم دلچسپی انھیں کائنات میں موجود حیوانات اور نباتات اور جمادات سے نہیں اور یہ تمام چیزیں بڑے ارتکاز کے ساتھ ان کی غزلوں میں ظہورپذیر ہوئی ہیں۔ ان کے لیے اشیا کی اصل حقیقت سے کہیں زیادہ ان کے لفظی اور لسانی اظہار میں استحکام اور پایداری مقصود ہوتی ہے۔ اسی باعث ان کو اظہار، بیان اور تجربے اور احساس کو لفظی قالب میں تبدیل کرنا ہی حقیقت کا نعم البدل معلوم ہوتاہے۔ انہوں نے یہ بات شاید اسی پس منظر میں کہی تھی:
——
کچھ نہ تھی داستانِ باغ و بہار
صرف بلبل کی خوش بیانی تھی
——
منتخب کلام
——
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا
——
جب کسی نے حال پوچھا رو دیا
چشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیا
——
جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھی
محسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کر
——
سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنی
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
——
پروانوں کا تو حشر ہونا تھا ہو چکا
گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں
——
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
——
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے
تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
——
یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
——
نگاہ ناز سے ساقی کا دیکھنا مجھ کو
مرا وہ ہاتھ اٹھا کے رہ جانا
——
اسیرِ جسم ہوں، معیادِ قید لا معلوم
یہ کس گناہ کی پاداش ہے خدا معلوم
تری گلی بھی مجھے یوں تو کھینچتی ہے بہت
دراصل ہے مری مٹی کہاں کی کیا معلوم
تعلقات کا الجھاؤ ہر طرح ظاہر
گرہ کشائیِ تقدیرِ نارسا معلوم
سفر ضرور ہے اور عذر کی مجال نہیں
مزا تو یہ ہے نہ منزل، نہ راستا معلوم
دعا کروں نہ کروں سوچ ہے یہی کہ تجھے
دعا کے قبل مرے دل کا مُدّعا معلوم
سنی حکایتِ ہستی تو درمیاں سے سنی
نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم
کچھ اپنے پاؤں کی ہمت بھی چاہیے اے پیر
یہی نہیں تو مددگاریِ عصا معلوم
طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔ
ہمیں کو آپ نہیں اپنا مُدّعا معلوم
——
کیوں اے فلک جو ہم سے جوانی جُدا ہوئی
اِک خود بخود جو دل میں خوشی تھی وہ کیا ہوئی
گُستاخ بلبلوں سے بھی بڑھ کر صبا ہوئی
کچھ جھُک کر گوش گُل میں کہا اور ہوا ہوئی
مایوس دل نے ایک نہ مانی امید کی
کہہ سن کے یہ غریب بھی حق سے ادا ہوئی
دنیا کا فکر ، موت کا ڈر، آبرو کا دھیان
دو دن کی زندگی مرے حق میں بلا ہوئی
موتی تمہارے کان کے تھرّا رہے ہیں کیوں
فریاد کس غریب کی گوش آشنا ہوئی
برسا جو ابرِ رحمتِ خالق بروزِ حشر
سبزہ کی طرح پھر مِری نشو و نما ہوئی
بیماریوں سے چھٹ گئے اے شادؔ حشر تک
قربان اس علاج کے، اچھی دوا ہوئی
——
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ
ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں
نہیں اٹھتے قدم کیوں جانب دیر
کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں
دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں
سویرا ہے بہت اے شور محشر
ابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں
ستایا آ کے پہروں آرزو نے
جو دم بھر آپ میں پایا گیا ہوں
نہ تھا میں معتقد اعجاز مے کا
بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں
لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپا کر
بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں
عدم میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے
بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں
کجا میں اور کجا اے شادؔ دنیا
کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں
——
تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا
آنکھ والوں سے نہ دیکھا جائے گا
سب طرح کی سختیاں سہہ جائے گا
کیوں دلا تو بھی کبھی کام آئے گا
ایک دن ایسا بھی ناصح آئے گا
غم کو میں اور غم مجھے کھا جائے گا
اے فلک ایسا بھی اک دن آئے گا
جب کیے پر اپنے تو پچھتائے گا
وصل میں دھڑکا ہے ناحق ہجر کا
وہ دن آئیں گے تجھے سمجھائے گا
آ چکے احباب اٹھانے میری لاش
ناز اس کو دیکھیے کب لائے گا
چوٹ کھائے دل کا ماتم دار ہے
میرا نالہ بھی تڑپتا جائے گا
چھوڑ دے ہم وحشیوں کو اے غبار
پیچھے پیچھے تو کہاں تک آئے گا
منتظر ہے جان بر لب آمدہ
دیکھیے کب پھر کے قاصد آئے گا
ہجر میں نالے غنیمت جان لے
پھر تو خود اے ضعف تو پچھتائے گا
نیم کشتہ ہیں تو ہیں پھر کیا کریں
کچھ اگر بولیں تو وہ شرمائے گا
جوش وحشت تجھ پہ صدقے اپنی جان
کون تلوے اس طرح سہلائے گا
اور بھی تڑپا دیا غم خوار نے
خود ہے وحشی کیا مجھے بہلائے گا
راہرو تجھ سا کہاں اے خضر شوق
کون تیری خاک پا کو پائے گا
باغ میں کیا جائیں آتی ہے خزاں
گل کا اترا منہ نہ دیکھا جائے گا
میری جاں میں کیا کروں گا کچھ بتا
جب تصور رات بھر تڑپائے گا
کیوں نہ میں مشتاق ناصح کا رہوں
نام تیرا اس کے لب پر آئے گا
دل کے ہاتھوں روح اگر گھبرا گئی
کون اس وحشی کو پھر بہلائے گا
کھو گئے ہیں دونوں جانب کے سرے
کون دل کی گتھیاں سلجھائے گا
میں کہاں واعظ کہاں توبہ کرو
جو نہ سمجھا خود وہ کیا سمجھائے گا
تھک کے آخر بیٹھ جائے گا غبار
کارواں منہ دیکھ کر رہ جائے گا
دل کے ہاتھوں سے جو گھبراؤگے شادؔ
کون اس وحشی کو پھر سمجھائے گا
کم نہ سمجھو شوق کو اے شادؔ تم
اک نہ اک بڑھ کے یہ آفت لائے گا
ہے خزاں گل گشت کو جاؤ نہ شادؔ
گریۂ شبنم نہ دیکھا جائے گا
کچھ نہ کہنا شادؔ سے حال خزاں
اس خبر کو سنتے ہی مر جائے گا
——
ایک ستم اور لاکھ ادائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے
ترچھی نگاہیں، تنگ قبائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے
ہجر میں اپنا اُور ہی عالم ، ابرِ بہاراں، دیدۂ پر نم
ضد کہ ہمیں وہ آپ بلائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے
اپنی ادا سے آپ جھجکنا، اپنی ہوا سے آپ کھٹکنا
چال میں لغزش ،منہ میں حیائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے
ہاتھ میں آڑی تیغ پکڑنا تاکہ لگے بھی زخم تو اوچھا
قصد کہ پھر جی بھر کے ستائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے
کالی گھٹائیں، باغ میں جھولے، دھانی دوپٹے، لٹ جھٹکائے
مجھ پہ یہ قدغن آپ نہ آئیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے
پچھلے پہر اٹھ اٹھ کے نمازیں، ناک رگڑنی ،سجدوں پہ سجدے
جو نہیں جائز ،اس کی دعائیں ،اُف ری جوانی ہائے زمانے
شاد! نہ وہ دیدار پرستی اور نہ وہ بے نشہ کی مستی
تجھ کو کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں، اُف ری جوانی ہائے زمانے
——
کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا
مرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا
ہائے وہ خود رفتگی الجھے ہوئے سب سر کے بال
وہ کسی میں اب کہاں جو تیرے دیوانے میں تھا
جس طرف جائے نظر اپنا ہی جلوہ تھا عیاں
جسم میں ہم تھے کہ وحشی آئینہ خانے میں تھا
بوریا تھا کچھ شبینہ مے تھی یا ٹوٹے سبو
اور کیا اس کے سوا مستوں کے ویرانے میں تھا
ہنستے ہنستے رو دیا کرتے تھے سب بے اختیار
اک نئی ترکیب کا درد اپنے افسانے میں تھا
سن چکے جب حال میرا لے کے انگڑائی کہا
کس غضب کا درد ظالم تیرے افسانے میں تھا
دون کی لیتا تو ہے زاہد مگر میں کیا کہوں
متقی ساقی سے بڑھ کر کون مے خانے میں تھا
پاس تھا زنجیر تک کا طوق پر کیا منحصر
وہ کسی میں اب کہاں جو تیرے دیوانے میں تھا
دیر تک میں ٹکٹکی باندھے ہوئے دیکھا کیا
چہرۂ ساقی نمایاں صاف پیمانے میں تھا
ہائے پروانے کا وہ جلنا وہ رونا شمع کا
میں نے روکا ورنہ کیا آنسو نکل آنے میں تھا
خود غرض دنیا کی حالت قابل عبرت تھی شادؔ
لطف ملنے کا نہ اپنے میں نہ بیگانے میں تھا
شادؔ کچھ پوچھو نہ مجھ سے میرے دل کے داغ کو
ٹمٹماتا سا چراغ اک اپنے ویرانے میں تھا
——
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
اے درد بتا کچھ تُو ہی بتا! اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا
ہم میں ہے دلِ بےتاب نہاں یا آپ دلِ دلِ بےتاب ہیں ہم
میں حیرت و حسرت کا مارا، خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے، آ! کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں، کم یاب ہیں ہم
مرغانِ قفس کو پھولوں نے، اے شاد! یہ کہلا بھیجا ہے
آ جاؤ جو تم کو آنا ہوایسے میں، ابھی شاداب ہیں ہم
——
بدن میں جب تک کہ دل ہے سالم تری محبت نہاں رہے گی
یہی تو مرکز ہے یہ نہ ہو گا تو پھر محبت کہاں رہے گی
بہت سے تنکے چنے تھے میں نے، نہ مجھ سے صیّاد تُو خفا ہو
قفس میں گر مر بھی جاؤں گا میں نظر سوئے آشیاں رہے گی
ابھی سے ویرانہ پن عیاں ہے، ابھی سے وحشت برس رہی ہے
ابھی تو سنتا ہوں کچھ دنوں تک بہار اے آشیاں رہے گی
جو اُن کی مرضی، وہ اپنی مرضی ، یہی اگر روح نے سمجھا
ہمیشہ ہم کو ستائے گا دل، ہمیشہ نوبت بجاں رہے گی
گلوں نے خاروں کے چھیڑنے پر سوا خموشی کے دم نہ مارا
شریف الجھیں اگر کسی سے تو پھر شرافت کہاں رہے گی
ہزار کھچ کر جدا ہو مجھ سے، ہزار دوری ہو میرے تیرے
جو اِک کشش حسن و عشق میں ہے، مرے ترے درمیاں رہے گی
وہ چاند سا منہ وہ کالی ناگن، زمانہ کہتا ہے جس کو گیسو
جو چھیڑتا ہے تو سن لے ناصح، رہے گی یاد اس کی ہاں رہے گی
غمِ جدائی کے تذکرے میں بیان اس پردہ پوش کا کیا
غضب تو یہ ہے کہ اب ہمیشہ خجل دعا سے زباں رہے گی
اجل سلا دے گی سب کو آخر کسی بہانے تھپک تھپک کر
نہ ہم رہیں گے، نہ تم رہو گے، نہ شاد یہ داستاں رہے گی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات