اردوئے معلیٰ

طالب جوہری کا یومِ وفات

آج پاکستان کے معروف مسلم اسکالر، شاعر، مؤرخ اور فلسفی علامہ طالب جوہری کا یومِ وفات ہے

علامہ طالب جوہری(پیدائش: 27 اگست 1939ء – وفات: 22 جون 2020ء)
——
علامہ طالب جوہری ادبی تنظیم قافلہ کے خصوصی پڑاؤ میں
——
آیت اللہ حضرت علامہ طالب جوہری ایک زندہ شخصیت کا تابندہ نام ہے۔ وہ علم کاایک جہان تھے ۔بظاہر قدوقامت بڑا نہیں تھا لیکن علمی، ادبی اور روحانی اعتبار سے بلندقامتی میں آسمان تھے ۔ وہ ہماری نظروں سے اوجھل ضرور ہوئے ہیں لیکن آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں بستے ہیں ۔خطیب مجالس ِ شام ِ غریباں کی حیثیت سے انہوں نےجس سوز و گداز کے ساتھ شہیدان کربلا کو سلامی دے کرمسلمانوں کو رُلایا، تڑپایا اور ان کے دلوں میں آتش ِ شوق کو بھڑکایا ، یہ تمام مناظر علامہ طالب جوہری کانام زبان پرآتے ہی جاگ اٹھتے ہیں۔اس لئے بھی کہ ان مناظر کو پی ٹی وی نے برس ہابرس براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا اور نبی ء رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیاروں اور کربلا کے پیاسوں پر جوقیامت ٹوٹی ،ان زخموں کو ہرسال علامہ طالب جوہری تازہ کرتے دکھائی دئیے۔کو ئی شیعہ ہو یا سنی، دیو بندی ہویابریلوی، حنفی ہویاشافعی ۔ان کے خطابت کے جوہر دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔۔لگتاہے آج بھی وہ منبر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی آواز کانوں کے راستے ہمارے دلوں میں اتررہی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : علامہ اقبال کا یوم وفات
——
علامہ طالب جوہری اتحاد بین المسلمین کے داعی ،امن کے پرچارک،صلح جوئی کے پیکر،محبت و مودت کےعلم بردار،حبِ اہل بیت ِ اطہار سے سرشار،خوش فکر ،خوش گفتارتھے۔علامہ طالب جوہری کے کیا کہنے۔دست ِ قدرت نے انہیں غیرمعمولی توانائیوں اور خوبیوں سے نوازاتھا۔وہ کہنے کوایک شخصیت تھے لیکن ان کی شخصیت میں بہت سی شخصیات نے گھر کررکھاتھا۔۔وہ اپنی ذات میں ایک قافلہ،ایک ادارہ اورایک ایسا جہان تھے۔جس میں ایک اسکالر،مفسر، مورخ ، مفکر، فلسفی ،خطیب ، شاعر، ادیب، دانشور اور ایک انتہائی مہذب، شائستہ ،وضعدار اور باوقار انسان موجود تھا۔ایک ایسا انسان جس کے لوگ قدردان تھے۔ارباب علم وادب ہی نہیں اپنے عہد کے جید علمائے دین بھی ان کی مجالس میں شریک ہوکراپنے دامن میں علم و عرفان کے موتی سمیٹ کر لےجاتے تھَے۔ہرچند کہ ان کی زندگی کی روشن کتاب بظاہر بند ہوچکی ہے،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کی کتاب ِ زندگی کا ورق ورق کھلا ہوا نظر آرہا ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہےاور اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ دنیا سے پردہ کرجانے کے بعد ان کی کثیر الجہت شخصیت کے بہت سے پہلو دنیا کے سامنے آئے ہیں ۔اور آرہے ہیں ۔علامہ طالب جوہری ساری زندگی علم کےطالب اور نادرو نایاب کتابوں کے جوہری رہےہیں۔وہ اتحاد بین المسلمین کےایسے داعی تھے،جن کی آواز دیگر مسالک کے حلقوں میں بھی توجہ سے سنی جاتی تھی۔یہ مقام ہر کسی کامقدر نہیں بنتا۔ایسا اس لئے بھی تھا کہ انہوں نےنفاق کے بجائے اتفاق، انتشار کے بجائےاتحاد،نفرت کے بجائے محبت کادرس دیا اور صرف درس ہی نہیں دیا،دل کھول کر محبت کی دولت دونوں ہاتھوں سے لٹائی۔وہ ایک شخصیت نہیں تھے ۔ان کی ذات میں بہت سی شخصیات نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، وہ محض اتحاد بین المسلمین کے داعی نہیں تھے بلکہ انہوں نے اس کیلئے اپنی فکری توانائیوں کو وقف کررکھا تھا۔انہوں نےاپنی تحریروں اور تقریروں سے کبھی اختلافات اور تعصبات کو ہوا نہیں دی، بلکہ انہیں حتی المقدور دورکرنےکیلئے سرگرم عمل دکھائی دئیے۔علامہ طالب جوہری نے دیس دیس میں جاکر اپنی خطابت کے جوہر دکھائےاور علم وعرفان کے گوہر لٹائے۔ان کا مسلک حب ِ اہل بیت ِ اطہارع تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسوں اور کربلا کے پیاسوں کےفضائل بیان کرنے میں انہوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ قرآن حکیم کے مفسر تھے ۔اسی لئے کسی بھی موضوع پر گفتگو کاآغاز کرتے تو کسی آیت قرآنی ہی کو بنیاد بناتے۔دلیل قرآن حکیم سے لاتے ۔ احادیث ِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات آگے بڑھاتے ۔ ائمہ ء معصومین کےارشادات کی روشنی سے معرفت کے چراغ جلاتے۔ ان کے لب و لہجے کو وہ تاثیر قدرت نے عطا کررکھی تھی کہ ان کی ایک ایک بات کانوں کے راستے سے سننے والوں کے دلوں میں اترتی چلی جاتی تھی۔ روح کو آسودگی ملتی اور ایمان تازہ ہوجایا کرتا تھا ۔وہ کبھی کسی کا مسلک چھیڑتے نہیں تھے اور اپنا مسلک چھوڑتے نہیں تھے ۔محبت ، مروت اور مودت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور سچ پوچھئے تو انہوں نے ساری زندگی محبت، مروت اور مودت ہی کے چراغ روشن کرکے ایمان کا اجا لا پھیلایا۔ منبر ِرسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس کا ہمیشہ خیال رکھا۔اس منبر پرآکر کبھی کوئی ایک جملہ ، کوئی ایک بات ،کوئی ایک لفظ ایسا زبان سے ادا نہیں کیا، جوکسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی دل آزاری کاباعث بنتا۔ یہی وجہ ہےکہ ان کی مجالس میں اہل ِسنت والجماعت سمیت تمام مسالک کےعلمائے کرام اور پیروکاران بھی بڑی تعداد میں شریک ہوکر اپنی علمی پیاس اور ذوق و شوق کی تسکین کاسامان بہم پہنچاتے تھے۔سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روشنی پھیلانے میں انہوں نے جو کارنامے انجام دئیے ،انہیں مدتوں فراموش نہیں کیا جاسکے گا ۔
——
یہ بھی پڑھیں : جو تولتے پھرتے ہیں ایمانِ ابو طالب
——
علامہ طالب جوہری نے ایک علمی اور دینی گھرانے میں 27 اگست 1939 کوآنکھ کھولی ۔ یہ گھرانہ متحدہ ہندوستان کی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں آبادتھا ۔ آیات قرآنی کی تلاوت بچپن میں لوریوں کی صورت میں بھی سنیں ۔گھرکی فضائیں دورودو سلام سے گونجتی رہتی تھیں ۔ سلام اور مناقب کی شکل میں اہلِ بیت اطہار کی فضیلتوں سے آشنا ہوتے رہے ۔یہ گھر نہیں ایک تہذیبی اور تعلیمی ادارہ بھی تھا۔ والد بزرگوار نے ان کی تعمیر شخصیت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ان کے دل میں حصول ِ علم کی آتش ِ شوق بھڑکا دی ۔ جتنی کتابیں پڑھتے رہے، اتنی ہی یہ آگ دل کے آتش کدے میں بھڑکتی رہی۔ اعلی ٰ مذہبی تعلیم کےحصول کیلئے ان کے والد بزرگوار نے انہیں مولائے کائنات حضرت علی مرتضی ٰ کرم اللہ و تعالی ٰ وجہہ الکریم کے شہر نجف اشرف بھجوادیا۔ ان کے تیور بتارہے تھے کہ یہ سفر اسی استقامت کے ساتھ جاری رہا تو وہ دنیائے علم و ادب میں بڑا نام ،احترام اور مقام کمائیں گے ۔اورایسا ہی ہوا۔ ۔دیکھتے ہی دیکھتے ان کی علمی شہرت و مقبولیت کا دائرہ پھیلتا چلاگیا ۔
علامہ طالب جوہری کی مرتب کردہ کتابوں نے دیس دیس میں دھوم مچائے رکھی ۔انشااللہ العزیز علم و ادب کےیہ دئیے رہتی دنیا تک روشن رہیں گے۔
علامہ طالب جوہری بلاشبہ عرفان ،آگہی اور علم کے طالب بھی تھے اور نایاب کتابوں کے جوہری بھی ۔انہوں نے خود بھی جو شاہکار کتابیں لکھیں یا تخلیق کیں ، ان میں تفسیر قرآن ، احسن الحدیث ،حدیث ِکربلا، مقاتل ،اور علامات ِ ظہور امام مہدی علیہ السلام بھی شامل ہیں ، جن میں علامہ طالب جوہری کا تبحر ِ علمی بولتا ہوا محسوس ہوتاہے۔ زندگی مجالس ِ عزا برپا کرتے گزری ، اس لئےان حوالوں سے بھی آپ نےروح پروراورایمان افروز کتابیں لکھ کراپنے جذبوں کو کتابوں میں اجاگر کردیا۔ اس حوالے سے ان کی یادگار کتابوں میں مجالس ۔ اساس ِ آدمیت اورقرآن،مجالس ۔میزان الہدایت اورقرآن۔مجالس۔ منصب ِ ہدایت اورقرآن، مجالس ۔میراث ِ عقل الوحی الہیٰ،مجالس ۔انسانی معاصراورقرآن،مجالس۔ انسانیت کاالوحی منشور، مجالس۔ عالمی معاشرہ اورقرآن، یہ وہ کتابیں ہیں جن میں حب ِ اہل ِبیتِ اطہار سانسیں لیتی محسوس ہوتی ہے ۔ذکرِ معصوم ، نظام ِحیات انسانی اور خلفائے اثناعشری بھی ان کی ایسی تین کتابیں ہیں ،جودلوں میں اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کی مقرب ہستیوں کی محبت جگا کر پڑھنے والوں پر فکر و خیال کے نئے دروازے کھول دیتی ہیں۔ان کی کتاب عقلیات ِ معاصر کو پڑھ کرایک زیرک فلسفی ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتاہے ۔ان کے کئی شعری مجموعےبھی دنیائے ادب میں موضوع گفتگو بنے رہے، جن میں حرفِ نمو، پسِ آفاق اورشاخ ِ صدا شامل ہیں ۔ان شعری مجموعوں میں ایک صاحب ِ طرز اورقادراکلام شاعر سننے اور پڑھنے والوں کے دلوں کے تار ہلاتا نظرآتا ہے ۔ان کی شاعری میں کلاسکیت کے رچاءوکے ساتھ جدت کی آمیزش دکھائی دیتی ہے۔اوراسے پڑھ کر ایک قدآور ادبی شخصیت سامنے آتی ہے۔ایک ایسی شخصیت جس کےخیال میں ترفع، فکرمیں تعمق، جذبےمیں تعشق، اور اسلوب میں ایسا تاثر موجود ہے کہ سننے اور پڑھنے والا اس کی گہرائیوں اور توانائیوں کے بارے میں سوچ سوچ کر گھنٹوں سر دُھنتا رہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : جاہ کا نَے حشم کا طالب ہوں
——
ملتان اور لاہور کو میں نے قریباً سترہ سال پہلے خیرباد کہہ دیاتھا ۔کراچی میں ڈیرہ ڈالنے کےبعد نشترپارک اور دیگر اہم مقامات پر مجالس عزامیں مجھے سیکڑوں بار علامہ طالب جوہری کوسننے کااعزاز حاصل ہوا ۔ہربار روح کو آسودگی اور ایمان کو تازگی ملی۔ ۔ انہیں جتنا سنا ،مزید سننے کااشتیاق بڑھتا چلا گیا۔اس سے پہلے میں انہیں ملتان میں صرف ایک بار سابق ڈائریکٹرتعلقات عامہ سید اظہرامام زیدی کے ساتھ جاکر حضرت سید یوسف شاہ گردیز کے دربار میں سننے کااعزاز حاصل کرچکا تھا،وہاں سے واپسی پر اظہرامام زیدی صاحب نے ان کی شخصیت کےبہت سے پہلووں پر روشنی ڈالی ۔اسی لئے کراچی جاکر انہیں سننا میں نے اپنا معمول بنالیا ۔ ایک اوراہم واقعہ بھی مجھے یاد آرہاہے۔ہم لاہورمیں تھے محترمہ منصورہ احمد کا فون آیا اور انہوں نے کہا بابا یعنی محترم احمد ندیم قاسمی صاحب بات کرنا چاہ رہے ہیں اور پھر قاسمی صاحب نے بتایا کہ ہم بہت تھوڑی دیر کیلئے علامہ طالب جوہری صاحب کے ساتھ آپ کے گھر آرہے ہیں۔ میرے والد گرامی یہ ُسن کر جی اٹھے ۔انہوں نے اصرارکرکے مختصر ملاقات کو ظہرانے میں تبدیل کرانے پر علامہ صاحب کو راضی کرلیا۔ نظم کے عظیم اور معروف شاعر اختر حسین جعفری اپنے صاحبزادے منظر حسین اختر اور مشکورحسین یاد کے ساتھ تشریف لے آئے۔ادب لطیف کی چیف ایڈیٹر محترمہ صدیقہ بیگم کو بھی میں نے فون پر آگاہ کردیا۔ روزنامہ ڈان کے اشفاق نقوی کو بھی مدعو کرلیا گیا۔ مایہ ء ناز صدا کار اور فلمی اداکار محد علی بھی آگئے ۔ اہم ادبی موضوعات پر بڑے لوگوں کے مابین گفگتگو شروع ہوگئی۔ اور بڑی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد علامہ طالب جوہری والد محترم سید فخرالدین بلے کی طرف متوجہ ہوئے اور امیرخسرو کے بعد انہوں نے جو قول ترانہ تخلیق کیا ہے، اسے سننے کی فرمائش کردی۔ فضا من کنت مولا فھذا علی مولا کی صداءوں سے گونج اٹھی۔ علامہ طالب جوہری نے بڑے ذوق و شوق سے یہ سنا اور فرمایا کہ امیر خسرو کے سات سو سال بعد نیا قول ترانہ تخلیق کرنا بجائے خود اہمیت کاحامل ہے اور بلاشبہ سید فخرالدین بلے صاحب کا یہ قول ترانہ معرفت کاانمول خزانہ ہے ۔علامہ طالب جوہری نے احمد ندیم قاسمی اور محترم اختر حسین جعفری سے ان کے تازہ کلام کی فرمائش کردی۔ یہ کلام سن کر میرے والد محترم سید فخرالدین بلے نے اتنا کہا کہ آج کے عہد میں اختر حسین جعفری سے بڑا نظم کا کوئی شاعر ہوتو علامہ صاحب مجھے اس کا نام ضرور بتائیےگا۔ اداکار محمد علی نے انیس اور دبیر کا کلام اپنے مخصوص انداز میں سنا کر سماں باندھ دیا۔۔ علامہ طالب جوہری سے ان کا شعری کلام بھی سناگیا۔ انہوں نے اپنی کئی نظمیں اور غزلیں سناکردامان ِ سماعت کو علم و عرفان کے موتیوں سے بھر دیا۔ ۔ یہ بیٹھک کئی گھنٹے رہی اور اس کے نقوش اب بھی میری یادداشتوں میں محفوظ ہیں ۔ ایک یہی نشست کیا ؟ جہاں جہاں اور جب جب بھی میں نے علامہ طالب جوہری کوسنا، ان تمام یادوں اور باتوں کو شاید میں عمر بھر نہیں بھلا پاءوں گا۔ علامہ طالب جوہری کے حوالے سے کچھ قطعات قلم برداشتہ صفحہ ء قرطاس پر منتقل ہوگئے ہیں ۔ میں اظہار عقیدت و محبت کیلئے انہیں قارئین کرام کی نذر کر رہا ہوں ۔ملاحظہ فرمائیں
——
یہ بھی پڑھیں : کون جانے کس بلندی پر مرے سرکار ہیں
——
سوگ میں ڈوبی ہے دنیا،اب فضا ہی غم کی ہے
موت اِک عالِم کی بے شک، موت اِک عَالَم کی ہے
ساکت و صامت کھڑے ہیں پیڑپودے کیا کہوں؟
اتنا کہہ سکتاہوں لیکن یہ گھڑی ماتم کی ہے۔

لکھی ہے جو آپ نے تفسیر ِقرآن ِ مبیں
سب مسالک کا ہے کہنا آفریں صد آفریں
منبر ِِ سرکار سے جوہر خطابت کے کھلے
آج طالب جوہری سا دوسرا کوئی نہیں

فلسفی بھی ہیں ،مفکر بھی ہیں ، شاعر بے مثال
دیدہ ور ہیں، نکتہ بیں ہیں ،جامع ِ فضل و کمال
مسلکوں کے بیچ میں پُل آپ اِک بن کر رہے
اللہ اللہ خوش کلام و خوش مزاج و خوش خصال
——
علامہ طالب جوہری زندگی بھر نایاب کتابوں کے جوہری رہے۔ کتابوں کی دنیا اور اپنی بنائی ہوئی لائبریری ہی کے احاطے میں انہیں آخری آرام گاہ نصیب ہوئی۔ اللہ تعالی ٰ سے دعا ہے کہ ان کی قبر پر رہتی دنیا تک رحمتوں کی برسات جاری رہے ۔ مجھے یقین ہے کہ جب تک ان کی کتابیں موجود ہیں ، وہ زندہ رہیں گے ۔انہیں ریاست پاکستان کی طرف سے ستارہء امتیازسے نوازا گیا۔مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ اس سے ان کا قد و قامت نہیں بڑھا بلکہ اس ستارۂ امتیاز کو چار چاند لگ گئے ہیں۔
اب کچھ کلام علامہ طالب جوہری کا قارئین کرام کے شوق و شوق کی نذر کررہا ہوں
——
منتخب کلام
——
محسنوں کی آنکھ سے کاجل چرا لیتے ہیں لوگ
سوچتے کیا ہو، نظر رکھا کرو سامان پر
——
اول اول علم فقط اک نقطہ تھا
آخر آخر جہل بنا تاویلوں سے
——
جسم کی خیمہ گاہ میں کتنے ہم زادوں کا ڈیرہ تھا
ایک اکیلی روح کہاں تک ان میں بسر اوقات کرے
——
وحشتِ دل پر صبر کا نسخہ سب نے ہی تجویز کیا
جب پرکھا تو نسخہ لکھنے والے ہی بیمار ملے
——
دیارِ حُسن میں تجدیدِ عاشقی کے لیے
ہم ایسے لوگ ضروری ہیں ہر صدی کے لیے
——
یہی تمدّن کا ماحصل ہے، یہی ہے تہذیب کا تقاضا
کوئی تو بیٹھا مزے سے تاپے، مکان جلتا رہے کسی کی
——
اُس کا ہر انداز سجیلا بانکا تھا
——
کچھ تو بتاؤ وہ خوش پوش کہاں کا تھا
ایک طرف سے کھلی ہوئی تھی شیر کی راہ
لیکن اس پر تین طرف سے ہانکا تھا
مت گھبرانا دوست، غبارِ ناقہ سے
ہم نے بھی اس دھول کو برسوں پھانکا تھا
اُس کے گھر سے نکل کر ہم نے شام ڈھلے
کچھ نہیں یاد کہ کتنے گھروں میں جھانکا تھا
یادوں کی الماری کھولے بیٹھا تھا
ایک اندھیرے کمرے میں بوڑھا لڑکا
وہ بوڑھا بھی کتنا دلکش بوڑھا تھا
یادوں کی دہلیز پہ چپکا بیٹھا تھا
شور مچاتے آنسو ٹپ ٹپ گرتے تھے
ہونٹوں پر اک کہر زدہ سناٹا تھا
ایک طرف پھن کاڑھے بیٹھی تھیں راتیں
ایک طرف پرشور دنوں کا میلا تھا
ٹوٹے پھوٹے چند کھلونوں کے ہمراہ
اک گوشے میں اس کا بچپن رکھا تھا
ہر شوخی پر ہر معصوم شرارت پر
ماں کے پاکیزہ آنچل کا سایہ تھا
کیسے کیسے دوست سجیلے بانکے تھے
کیا کیا ان کے ساتھ میں گھومنا پھرنا تھا
پھر ماں کے اصرار پہ اک دن رات ڈھلے
اس کے شبستاں میں کوئی در آیا تھا
اس کو بوڑھا ہوتے دیکھ کے بھاگ گیا
اس کے اندر چھپا ہوا جو لڑکا تھا
——
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
ہمیں یوسف کا سفر یاد آیا
میں نے تلوار پہ سر رکھا تھا
یعنی تلوار سے سر یاد آیا
وہ تری کم سخنی تھی کہ مجھے
بات کرنے کا ہنر یاد آیا
اے زمانے مرے پہلو میں ٹھہر
پھر سلامِ پسِ در یاد آیا
کسے اڑتے ہوئے دیکھا کہ تمہیں
اپنا ٹوٹا ہوا پر یاد آیا
آج میں خود سے ملا ہوں طالب
آج بھولا ہوا گھر یاد آیا
——
گاؤں کے اک چھوٹے سے گھر میں کچھ لمحے مہتاب رہا
لیکن اس کی یاد کا پورا برسوں تک شاداب رہا
اپنی ساری گم شدہ بھیڑیں جمع تو کیں چرواہے نے
ان بھیڑوں کے پیچھے پیچھے پورے دن بے تاب رہا
فصل خزاح کی شاخ سے لپٹا بیلے کا اک تنہا پھول
کچھ کلیوں کی یاد سمیٹے راتوں کو بے خواب رہا
بچھڑے تھے تو ساکت پلکیں سوکھے پیڑ کی شاخیں تھیں
اس سے بچھڑ کر دور چلے تو کوسوں تک سیلاب رہا
پچھلی رات کے پیاسے لمحے جن گلیوں میں بہت گئے
ان گلیوں کو چھوڑ کے پورے شہر میں قحط آب رہا
جسم نے اپنی عمر گزاری سندھ کے ریگستانوں میں
دل کم بخت بڑا ضدی تھا، آخر تک پنجاب رہا
——
الفت کی رسم و راہ سے اتنا وہ بے پروا نہ تھا
کل اجنبی بن کر ملا، پہلے تو وہ ایسا نہ تھا
اس سال کے سیلاب سے سارے کگارے کٹ گئے
دریا کے پیچ و تاب کا ساحل کو اندازہ نہ تھا
جب قربتوں کی چھاؤں میں اترے حیا کے قافلے
بڑھتے قدم خود رک گئے آگے کوئی رستہ نہ تھا
پلکوں کی چھاگل توڑ کر رزق زمیں بنتے رہے
ان آنسوؤں کے واسطے ترک وطن اچھا نہ تھا
کیا جبر فطرت کا گلہ، جب عہد ہونا مہرباں
دریا میں باڑھ آئی وہاں، بادل جہاں برسا نہ تھا
طالبؔ دریچہ ذہن کا جب ذات کے اندر کھلا
پلکیں ادھر جھک کر اٹھیں اور دور تک صحرا نہ تھا
——
شعری انتخاب از پسِ آفاق ، حرفِ نمو
بحوالہ : اردو محفل فورم
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ