نعت (Naat)، آدابِ نعت اور لوازماتِ نعت

الف: نعت (Naat)کی تعریف- لغوی اور اصطلاحی مفہوم

نعت کی تعریفنعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی وصف و خوبی اور تعریف و توصیف کے ہیں۔ لیکن عُرفِ عام میں نعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ثناوستایش اور تعریف و توصیف بیان کرنے والی منظومات کو کہا جاتا ہے۔ یوں تو نعت کا لفظ مستقل ایک موضوع یا مضمون کا احاطہ کرتا ہے اور جب یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو وہ تمام خزائن اور ذخائر مراد ہوتے ہیں جو حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے فضائل و مناقب، شمائل و خصائل، اخلاق و کردار، تعریف و توصیف اور مدح و ثنا پر مشتمل ہوتے ہیں۔ چاہے وہ نظمی ہوں یا نثری۔ لہٰذا ذیل میں عربی، فارسی اور اردو لغات سے نعت کا لغوی مفہوم اور ان مفاہیم سے ماخوذ تصریحات کی روشنی میں نعت کے اصطلاحی مفہوم پر روشنی ڈالنا غیر مناسب نہ ہو گا۔
لسان العرب :نعت:انعت : وصفک الشئی تنعتہ بما فیہ و تبالغ فی وصفہ والنعت : مانعت بہ نعت ینعتہ نعتا:وصفہ ورجل ناعت من قوم ناعت قال الشاعر ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
انعتہا انی من نعتہا
ونعت الشئی وتنعتہ اذا وصفہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
قال ابن الاعرابی : انعت اذا حسن وجہۃ حتی ینعت وصفہ صلی اللہ علیہ و سلم
یقول ابن الاثیر : النعت وصف الشئی بما فیہ من حسن ولا یقال فی القبیح الا یکلف متکلف فیقول نعت سوء والوصف یقال فی الحسن والقبیح وناعتون ونا عتین جمیعا موضع یقال الراعی ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
حی الدیار دیار ام بشیر
بنو یعتیین فشاطی التسریر
۔۔۔۔۔۔۔۔
انہا اراد اناعتین 3/2 فصحی(1)
تاج العروس:(نعت کالمنع)ای فی کونہ مفتوح العین فی الماضی والمضارع (الوصف) تنعت الشئی بما فیہ وتبالغ فی وصفہ وانعت ما نعت بہ نعتہ ینعتہ نعتا وسفہ ورجل ناعت من قوم نعات قال الشاعر ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
انعتہا انی من نعتہا
وفی صفتہ صلی اللہ علیہ و سلم (2)
۔۔۔۔۔۔۔۔
لسان العرب اور تاج العروس دونوں ہی عربی لغات سے نعت کاجو مفہوم سامنے آیا ہے اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ نعت کسی شَے کی خوبی یا وصف کو اس طرح بیان کرنا ہے کہ اس میں مبالغہ سے کام لیا جائے اورقبح کا ذرّہ بھر شائبہ نہ ہو۔ صاحبِ لسان العرب نے ابنِ اعرابی کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صفت کو بھی کہتے ہیں اور صاحبِ تاج العروس نے بھی نعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صفت شمار کیا ہے۔ لیکن صاف طور پر ان لغات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ نعت کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔
المنجد: نعتہ (ف)نعتا تعریف کرنا، بیان کرنا، نعت کلمۃ :کلمہ کی صفت لانا، نعت (س)نعتا: اچھی صفات دکھانا، نعت (ک)نعاتہ الرجل پیدایش ہی سے اچھی صفات والا ہونا۔ (3)
معجم العربیہ : نعت ینعت نعتاوانتعت کسی چیز کو بیان کرنا یا اس کے اوصاف بیان کرنا (خصوصاً)تعریف میں، سراہنا، تعریف کرنا، خوبیاں بیان کرنا، صرف و نحو میں صفت کو موصوف کے ساتھ ملانا۔
نعت : صفت، وصف، جوہر، ہنر، تعریف
نعت(ج) نعوت، اسم صفت، وصف، صفت، خاصیت، گُن
نُعتَہُ: بہت خوبصورت، حسن
منعوت : وہ اسم جس کے ساتھ صفت بیان کی گئی ہو۔ موصوف (صرف و نحو) (4)
مصباح اللغات: نعتہ (ف) نعتاً: تعریف کرنا، بیان کرنا(اور اکثر اس کا استعمال صفات حسنہ کے لیے ہوتا ہے)۔ (5)
فرہنگ آصفیہ: صفت و ثنا، تعریف و توصیف، مدح، ثنا، مجازاً خاص حضرت سید المرسلین رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کی توصیف۔ (6)
غیاث اللغات : نعت (ء) :نعت بالفتح تعریف و توصیف کردن از منتخب اگرچہ نعت بمعنی مطلق صفت است لیکن اکثر استعما ل ایں لفظ ستایش و ثنائے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) آمدہ است، بمعنیٰ صیغۂ اسمِ فاعل و اسمِ مفعول و صیغۂ صفتِ مشبہ نیز می آید۔ (7)
ترجمہ: زبرسے نعت کے معنی صفاتِ حسنہ کے ساتھ تعریف و توصیف کرنا ہیں اگرچہ لفظِ نعت کے مطلق معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و ثنا میں آتا ہے، اسمِ فاعل و مفعول اور صفت کے صیغے کے اعتبار سے یہ ثنائے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے معنی میں آتا ہے۔
لغاتِ فارسی : نعت (ء) تعریف، صفت، ستایش، تعریف کرنا، خاص کر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و سلم ) کی تعریف و توصیف کو نعت کہتے ہیں۔ (8)
لغات کشوری: نعت(ء) :تعریف، صفت، تعریف کرنا خاص کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم )کی (9)
نور اللغات: نعت (ء : بالفتح ):یہ لفظ بمعنی مطلق وصف ہے لیکن اس کا استعمال آں حضرت (صلی اللہ علیہ و سلم )کی ستایش و ثنا کے لیے مخصوص ہے۔ (10)
فیروز اللغات:نعت (ئ، ا، مونث) : (1)مدح، ثنا، تعریف (2)رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم )کی شان میں مدحیہ اشعار۔ (11)
فرہنگ ادبیات:پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف کا حامل کلام۔ (12)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
درج بالا میں عربی لغات سے اخذ کردہ لغوی تصریحات سے لفظ ’’نعت‘‘سے متعلق اردو اور فارسی زبان میں جو تصور پایا جاتا ہے اس کا مکمل اظہار نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ عربی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی توصیف و ثنا میں جو اشعار کہے گئے تھے ان کو’’ نعت ‘‘تو نہیں، ہاں ! ’’مدحیۂ رسول اللہ‘‘ کا سرنامہ اہلِ عرب دیا کرتے تھے، بہ ہر کیف !یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ لفظ ’’نعت‘‘ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے وصف و خوبی بیان کرنے والی مدحیہ نظم کے سرنامہ کے طور پر استعمال کرنے کا سہرا اردو والوں کے سر جاتا ہے۔
عربی زبان کی متذکرۂ بالا لغات میں نعت کے جو معنی درج ہیں ان سے تو یہ تصور سامنے آتا ہے کہ نعت کے معنی وصف کے ہیں خصوصاً جب آپ کسی چیز کے وصف میں مبالغہ سے کام لیں تو اس وقت نعت کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
ڈاکٹر سراج بستوی کے بہ قول : ’’قرآن مجید میں اس مادہ ’’نعت ‘‘کا کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا ہے۔ مفسرین کرام نے قرآن کی شرح و ترجمانی میں اس لفظ کو وصف کے معنی میں استعمال کیا ہے احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و شمائل ترمذی (حافظ محمد عیسیٰ ترمذی م279ھ) میں نعت کا لفظ اپنی مختلف نحوی اور صرفی صورتوں میں قریباً پچاس مقامات پر استعمال ہوا ہے۔
مطالعۂ حدیث ہی کی روشنی میں بعض شارحینِ حدیث نے اپنی تحریروں میں نعت کو مطلق وصف کی عمومیت سے نکال کر اسے آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف سے وابستہ کیا ہے اور اسے ایک خاص مفہوم کا حامل ٹھہرایا۔ غالباً ’’النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر ‘‘وہ پہلا ماخذ ہے جس میں اس کے مرتب ابن اثیر (544ھ/606ھ)نے لفظ نعت کو اصطلاحی مفہوم میں پیش کیا ہے۔ ‘‘
نعت کے اصطلاحی معنوں کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد المجید سندھی نے بھی اپنے خیال کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے کہ :
’’نعت کے معنی ہیں ’خوب صورت وصف ‘یعنی کسی کی خوبیاں بیان کرنا لیکن اب نعت مستقل اصطلاح کی صورت اختیار کر چکا ہے اور اس کے معنی ہیں آں حضرت (صلی اللہ علیہ و سلم )کی ثنا اور وصف بیان کرنا ‘‘(13)
اس ضمن میں ڈاکٹر رشاد عثمانی کا خیال یوں ہے کہ :
’’اردو لغات میں اگر چہ عربی و فارسی لغات کی پیروی میں نعت کا لفظ مطلق وصف اور ثنائے رسول دونوں معنی میں آیا ہے۔ مگر جیسا کہ ’’نور اللغات‘‘ کے مرتب نے لکھا ہے کہ ’’یہ لفظ بمعنی مطلق وصف ہے لیکن اس کا استعمال آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ستایش اور ثنا کے لیے مخصوص ہے ‘‘اردو زبان و ادب میں مطلق وصف کے معنی میں اس کا استعمال قریب قریب ناپید ہے۔ شعر و ادب میں لفظِ نعت کا استعمال وصفِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کے علاوہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کی بڑی وجہ غالباً یہ ہے کہ عربی سے فارسی اور پھر فارسی سے اردو شعر و ادب تک یہ لفظ وصفِ مطلق کی عمومیت سے نکل کر آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف اور مدح و ثنا کے لیے مخصوص ہو چکا تھا۔ یعنی اردو لغت اور زبان و ادب میں اس کے معنی سرکار دو عالم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف کے مفہوم سے منسوب و مختص ہے۔ ‘‘ (14)
مذکورہ بالا عربی، فارسی، اُردو لغات اور تمام حضرات کی مختلف آرا کو سمجھنے کے بعد نعت کے معنی و مفہوم اور تعریف و توصیف میں یہی کہنا منا سب معلوم ہوتا ہے کہ ہر وہ ادب پارہ جس میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر ہو، مدح ہو، ثنا ہو، تعریف و توصیف ہو، سراپا کا بیان ہو، شبیہ و شمائلِ اقدس کی لفظی تصویر کشی ہو، عادات و اخلاق کا بیان ہو، فضائل ومحاسن جمیلہ کا اظہار ہو، حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب ہو، آ پ سے استغاثہ و فریاد ہو، عقیدت و محبت کے جذبات کی ترجمانی ہو، مقصد و بعثتِ نبوت کا تذکرۂ خیر ہو یا ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر جمیل ہو۔ الغرض ہر وہ ادبی کاوش جو اپنے قاری یاسامع کو مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف متوجہ کرے اور قرب کا احساس پیدا کرے چاہے وہ نثری ہو یا نظمی بلا شبہ ’’نعت‘‘ ہے۔
چناں چہ متذکرۂ بالا خیال کی تصدیق مشہور محقق ڈاکٹر رفیع ا لدین اشفاقؔ اور معروف ادیب ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی کے گراں قدر خیالات سے ہوتی ہی،ڈاکٹر رفیع الدین اشفاؔ ق۔۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں :
’’اصولاً آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح سے متعلق نثر اور نظم کے ہر ٹکڑے کو نعت کہا جائے گا، لیکن اردو اور فارسی میں جب لفظِ نعت کا استعمال ہوتا ہے تو اس سے عام طور پر آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی منظوم مدح مراد لی جاتی ہے۔ ‘‘ (15)
اور ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی نے یوں تحریر کیا ہے کہ :
’’نعت ایک موضوع کا نام ہے اس کے لیے کوئی خاص صنف، فارم یا ٹیکنک نہیں ہے اسے غزل، مثنوی، مسدس، مخمس، رباعی، قطعہ وغیرہ کسی بھی صنف میں لکھا جا سکتا ہے۔ نعت کا موضوع مخصوص نہیں بہت ہی وسیع ہے۔ ‘‘ (16)
نعت کا موضوع ادب کی کسی ایک صنف سے مخصوص نہیں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف اور آپ کی سیرتِ طیبہ کا تذکرہ کسی بھی صنف اور ہیئت میں ہو سکتا ہے۔ شعرائے کرام نے کم و بیش تمام اصناف میں نعتیں قلم بند کی ہیں۔ جو صنفِ سخن جس عہد میں زیادہ مقبول رہی، اس کو نعت کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس تجزیے کے بعد صاحبِ فرہنگِ ادبیات سلیم شہزاد کی نعت سے متعلق مکمل عبارت نقل کی جا رہی ہے جسے نعت کی جملہ تعریفوں میں جامع ترین تعریف سے تعبیر کرنا غیر مناسب نہ ہو گا۔ اس میں موصوف نے نعت کی صنفی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کے عہد بہ عہد عروج و ارتقا کی تاریخ کو بھی اجمالاً سمیٹ لیا ہے:
’’نعت : پیغمبرِ اسلام حضرت محمد( صلی اللہ علیہ و سلم )کی تعریف و توصیف کا حامل کلام۔ نعت شاعری کی مختلف ہیئتوں میں کہی گئی ہے اور مثنوی اور طویل بیانیہ نظموں کی یہ روایت رہی ہے کہ ابتدا نعت سے کی جائے۔ عربی اور فارسی کے اثر سے جس طرح اردو مرثیے میں محض واقعاتِ کربلا کو نظم کر دیا جاتا ہے اسی طرح نعت ایک موضوعی صنفِ سخن ہے جس میں قصائد، منظوم واقعاتِ سیرت، غزلیں، رباعیاں اور مثنویاں سبھی ہیئتیں شامل ہیں۔ حضور(صلی اللہ علیہ و سلم ) اپنی حیاتِ مبارکہ ہی میں اس شاعری کے زندہ موضوع بن گئے تھے اور آپ نے کعب بن زہیر، لبید بن ربیعہ، کعب بن مالک اور حسان بن ثابت وغیرہ اصحاب سے اپنی نعتیں سماعت فرمائی ہیں۔ عربی سے نعت فارسی میں آئی تو اسے حافظؔ ، سعدیؔ ، صائبؔ اور عرفیؔ جیسے شعرا میسر آئے۔ ہندوستان میں خسروؔ ، نظامیؔ اور بیدلؔ نے فارسی میں نعتیں کہیں، خسروؔ نے اسے ہندوستانی بولیوں میں بھی رواج دیا۔
اردو کے تشکیلی دور میں متعدد صوفی شعرا نے اس صنف میں طبع آزمائی اور بہ طور ایک زبان کے اپنی حیثیت منوا لینے کے بعد اردو کے سبھی چھوٹے بڑے شعرا کے یہاں اس کی مثالیں تخلیق ہوئیں اگرچہ انیسؔ و دبیرؔ نے جس طرح صرف مرثیے میں اپنے فنّی کمال دکھائے اس طرح صرف نعت سے منسلک کوئی کلاسیکی شاعر اردو کو نہیں ملا۔ البتہ یہ سعادت دورِ جدید کے بہت سے شعرا کو حاصل ہے۔
انیسویں صدی کے اواخر میں امام احمد رضا خاں رضاؔ اور محسنؔ کاکوروی نے اپنے شعری اظہار میں صرف نعت کو جگہ دی جن کا کلام آج بھی زبان زد خاص و عام ہے ان کے بعد نعت پھر اپنی روایتی حدود میں سمٹ گئی یعنی مثنوی کی ابتدا یا غزل کے چند اشعار میں۔ اس ضمن میں ’’مسدسِ حالی‘‘ کی یہ اہمیت ہے کہ اس کے اختتام پر شاعر نے حضور( صلی اللہ علیہ و سلم )سے خطاب کیا ہے۔ حالیؔ کے بعد حفیظؔ جالندھری کا ’’شاہ نامۂ اسلام‘‘ جس میں سیرت کے مضامین باندھے گئے ہیں، جدید نعت نگاری کے لیے تازیانہ بن گیا۔ اقبالؔ کی شاعری عشقِ رسول( صلی اللہ علیہ و سلم )کے تجربہ پسند شعری اظہار کی مثال ہے۔ اس میں نعت کے عنوان سے کوئی نظم نہیں ملتی لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم ) کے افکار کی شاعرانہ تفسیر و توضیح نے اقبالؔ کی کئی نظموں کو نعتیہ رنگ دے دیا ہے۔
انجمن ترقی پسند مصنفین اور حلقۂ اربابِ ذوق کے غلبے نے اس صنف کو ایک بار تو شاعری سے خارج ہی کر دیا کیوں کہ ان فن کاروں کے نظریات مادّی، جسمانی اور غیر مذہبی( بل کہ مذہب بے زار) نظریات تھے مگر آزادی کے کچھ عرصے بعد جدید شاعروں نے پھر اسمِ محمد(صلی اللہ علیہ و سلم ) سے اجالا کرنے کی تخلیقی کوشش شروع کر دی ہیں۔ ان میں اسلامی ادب کے بعض پیرو کار حفیظؔ میرٹھی، نعیمؔ صدیقی، یونسؔ قنوجی اور حفیظؔ تائب کے نام اہمیت رکھتے ہیں۔ عمیقؔ حنفی اور عبدالعزیز خالدؔ نے اپنی طویل نعتیہ نظموں ’’صلصلۃ الجرس‘‘ اور ’’فارقلیط‘‘ کے لیے، جن میں زبان و بیان کے گراں قدر تجربات ملتے ہیں، خاصی شہرت پائی ہے، ہندو پاک میں آج کئی شعرا صرف نعت کہنے میں مصروف ہیں۔ ‘‘(17)
مشہور و معروف محققین و ناقدین کے گراں قدر اقوال و تاثرات کی روشنی میں اس امر کی مکمل وضاحت و صراحت ہو جاتی ہے کہ نعت سرورِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف میں لکھی جانے والی منظومات ہی کو نہیں بل کہ ایسے نثری شہ پاروں کو بھی کہا جا تا ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا کسی بھی طرح سے ذکرِ خیر ہو، اور نعت اصنافِ ادب میں نہ صرف یہ کہ شامل ہے بل کہ یہ ادب کی ہر صنف میں مسلسل لکھی جا رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)ابن منظور:لسان العرب، دار لسان العرب، بیروت ص668
(2)زبیدی :تاج العروس، با المطبعۃ الخیریۃ المنشاہ بجمالیہ، مصر ج 1، ص93
(3) المنجد:مرکزی ادارۂ تبلیغ دینیات، دہلی، ص1028
(4) ولیم ٹامسن ورٹے :معجم العربیہ، مولی رام منیجر مفید عام پریس، چٹر جی روڈ، لاہور، ص1121/1122
(5) عبد الحفیظ بلیاوی، مولوی:مصباح اللغات، ایچ ایم سعید اینڈ کمپنی لاہور، ص887
(6) خانصاحب سید احمد دہلوی، مولوی : فرہنگ آصفیہ، نیشنل اکاڈمی دہلی، 1974ء ج4، ص579
(7) غیاث الدین:غیاث اللغات، رزاق پریس، کان پور 1332ھ
(8)لغاتِ فارسی : پبلشر لالہ رام نرائن لال بینی مادھو، الٰہ آباد، 1931ء، ص 904
(9)لغات کشوری :مولوی تصدق حسین رضوی، دار الاشاعت کراچی، ص537
(10) نور اللغات : مولوی نورالحسن نیّرؔ کاکوروی، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی، 1998ء، ص 833
(11) فیروزالدین، مولوی:فیروز اللغات، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤ س دہلی، ص683
(12) سلیم شہزاد:فرہنگ ادبیات، منظر نما پبلشرز، مالیگاؤں، ص709
(13)اوج: نعت نمبر ج2، گورنمنٹ کالج شاہدرہ، لاہور ص562
(14)اوج: نعت نمبر ج2، گورنمنٹ کالج شاہدرہ، لاہور ص155
(15) رفیع الدین اشفاقؔ ، ڈاکٹر :اردو کی نعتیہ شاعری، اردو اکیڈمی، سندھ، 1976ء، ص 21
(16)عبدالنعیم عزیزی، ڈاکٹر :رضا گائڈ بک، رضا اکیڈمی برطانیہ، ص2
(17)سلیم شہزاد:فرہنگِ ادبیات، منظر نما پبلشرز، مالیگاؤں، ص 709/710
۔۔۔۔۔۔۔۔
ب: نثری نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ تحقیق کی جاچکی ہے کہ ہر وہ ادب پارہ جس میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف بیان کی جائے یا جس کے سننے، پڑھنے سے سے قاری یا سامع بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف متوجہ ہو وہ نعت ہے، خواہ وہ نظم ہو یا نثر۔
اگر دیکھا جائے تو نعت گوئی کا آغاز میثاق النبین ہی سے ہو گیا تھا اور اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیائے کرام کی امتوں کے نیک طینت اور پاک باز افراد کو اس بات کا علم تھا کہ لوحِ محفوظ پر جن کا نام لکھا گیا ہے وہ ہی سب سے محترم و بزرگ ہستی ہیں۔ اس لحاظ سے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شانِ اطہر و اقدس میں مدحت و تہنیت کا نذرانہ پیش کرنے کو وہ باعثِ سعادت سمجھتے تھے۔ آسمانی کتب و صحائف میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت و بعثتِ طیبہ کے اذکار بڑی شان کے ساتھ موجود ہیں۔ یہی نہیں بل کہ انبیائے سابقہ نے اپنی امتوں کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد آمد کی بشارتیں بھی سنائی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : زخمی دل کا پنبۂ مرہم نامِ پاکِ سرورِ عالمؐ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت آدم و حضرت شیث و حضرت یعقوب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے علاوہ حضرت عیسیٰ، حضرت اشعیاہ، حضرت دانیال، حضرت ابراہیم و اسماعیل، حضرت ارمیاہ، اور حضرت ہبقوق علیہم السلام نے بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد آمد کی عظیم خوش خبریاں سنائیں۔ یہ بشارتیں ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے قبل، ایک سے ڈھائی ہزار برس کے درمیان سنائی گئیں۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد کا انتظار تمام انبیائے کرام کی امتوں اور نیک بندوں کو تھا۔ یہی وجہ ہے کہ احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادتِ باسعادت کے بعد شاہِ حبش نجاشی، عبداللہ بن سلام، کعب احبار، سلمان فارسی (رضی اللہ عنہم)کہ علمائے یہود و نصاریٰ میں تھے۔ ان حضرات نے توریت، انجیل اور انبیائے کرام کی بشارتوں اور پیش گوئیوں کی تصدیق کی اور مشرف بہ اسلام ہوئے اور ان میں شاہِ حبش نجاشی کے علاوہ جملہ حضرات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبتِ بابرکت نصیب ہوئی جس پر جملہ موجوداتِ عالم کو رشک ہے۔
آسمانی کتب توریت، زبور، انجیل اور دیگر آسمانی صحائف میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادتِ باسعادت کا تذکرۂ خیر موجود ہے ان تذکروں کو ہم نثری تہنیت نامے قرار دے سکتے ہیں۔ ولادتِ باسعادت سے قبل اور بعد حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف و توصیف اسی طرح جاری رہی اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلانِ نبوت کا حکم دیا اور وحی کے ذریعہ آپ پر قرآنِ کریم نازل کیا تو ساری دنیا نے دیکھا کہ وہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ہی اللہ رب العزت کی عظمت اور وحدانیت کا آئینہ دار ہے اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح و ستایش کا مظہر بھی۔ خالق کائنات نے اس مقدس کتاب میں جگہ جگہ اپنی حمد وثنا بھی فرمائی ہے اور اپنے حبیبِ پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ و سلم کی نعت و صفات بھی بیان کی ہیں۔ جو کہ نثری نعت کے بہترین نمونے ہیں ، چند آیاتِ طیبات خاطر نشین ہوں :
وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّاکاَ فَّۃً لِّلنَاس(اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے۔ سورہ سبا آیت 28)اِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیم(بے شک تمہاری خوٗ بوٗ بڑی شان کی ہے۔ سورہ قلم آیت4) مَا کَانَ مُحَمُّدُ‘ اَبَا اَحَدٍمِّنْ رِّجَالِکُم وَلٰکن رَّسولَ اللّٰہِ و خاتَمَ النبیین(محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں ! اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ سورہ احزاب آیت 40)اِنَّا اعطینٰک الکوثر (اے محبوب بیشک ہم نے تمھیں بیشمار خوبیاں عطا فرمائیں۔ سورہ کوثر آیت 1)لاتَر فَعُوا اَصواتَکُم فَوقَ صوتِ النَّبی(اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔ سورہ حجرات آیت 2)قد جآء کُم مِنَ اللّٰہِ نورُ‘ وَّکِتابُ‘ مُّبین(بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔ سورہ مائدہ آیت 15) یَا اَیُّھَا النَّبِیُ اِنَّا اَرْسَلنٰکَ شَاہِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیرًا(بیشک ہم نے تمھیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔ سورہ فتح آیت8) وَرَفَعَنا لَکَ ذِکْرَک(اور ہم نے تمھارے لیے تمھارا ذکر بلند کر دیا۔ سورہ انشراح آیت4 )وَلَو اَنَّہُم اِذ ظَلَمُوا اَنفُسَہُم جَآءُ وْکَ فَاسْتَغفِرُاللّٰہَ وَاسْتَغفَرَ لَھُمُ الرَّسُولُ لَوَ جَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (اور وہ جب اپنی جانوں پر ظلم کریں، تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ سورہ نسآء آیت 64) وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوَی اِن ہُوَ اِلَّا وَحْیُ‘ یُّوحیٰ(اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انھیں کی جاتی ہے۔ سورہ نجم آیت3/4)وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃَ لَّلعالَمِین(اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا، مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔ سورہ انبیاء آیت107)(تراجم از: کنز الایمان)
یہاں نثری نعت کے نمونے کے طور پر چند آیات ہی نقل کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے مگر حق تو یہ ہے کہ اللہ تبار ک و تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بے شمار جگہوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکرِ خیر کیا ہے اور ان پر خود درود و سلام بھی بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بالکل ہی منفرد انداز میں اپنے محبوب کی تعریف یوں بھی کی ہے کہ لَا تَجْعَلُوا دُعَآ ءَ الرَّسُولِ بَیْنَکُمْ کَدُعَا ٓءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا (رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ سورہ نورآیت63)۔۔ ۔۔۔ایسی شان اور رفیع مرتبہ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے محبوب کو بخشا۔ یہ بات قرآن شریف سے اس طرح ثابت ہے کہ خالقِ کائنات نے ’’یا آدم، یا موسیٰ اور یا عیسیٰ ‘‘کے انداز میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب نہیں کیا بل کہ انھیں بڑے احترام سے ’’یا ایھا الرسول، یا ایھا النبی، یا ایھا المزمل، یا ایھا المدثر‘‘ وغیرہ کہہ کر پکارا ہے۔ اور بلا شبہہ انھیں ایسی شان اور وجاہت عطا کی ہے جو کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آئی۔ یہاں یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ قرآنِ کریم سرورِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی نعت بھی ہے اور کامل و اکمل ترین اوّلین درس گاہِ نعت بھی۔
واضح ہو کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادتِ باسعادت کے بعد اور بچپن سے عالمِ شباب تک آپ کو جتنے لوگوں نے بھی دیکھا آپ کی تعریف و توصیف بیان کی۔ ان کلمات کو بھی نثری نعت کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نورانی پیکر سے متعلق عرب کی بدّو خاتون اُمِّ معبد کے اس بیان کو بہ طورِ مثال پیش کرنا غیر مناسب نہ ہو گا جو اس نے اپنے خاوند کو دیا :
’’ام معبد کہنے لگی۔ میں نے ایک ایسا مرد دیکھا جس کا حُسن نمایاں تھا، جس کی ساخت بڑی خوب صورت اور چہرہ ملیح تھا۔ نہ رنگت کی زیادہ سفیدی اس کو معیوب بنا رہی تھی اور نہ گردن اور سرکا پتلا ہونا اس میں نقص پیدا کر رہا تھا۔ بڑا حسین، بہت خوب روٗ۔ آنکھیں سیاہ اور بڑی تھیں، پلکیں لانبی تھیں۔ اس کی آواز گونج دار تھی۔ سیاہ چشم۔ سرمگین۔ دونوں ابروٗ باریک اور ملے ہوئے۔ گردن چمک دار تھی۔ ریشِ مبارک گھنی تھی۔ جب وہ خاموش ہوتے تو پُر وقار ہوتے۔ جب گفتگو فرماتے تو چہرہ پُر نور اور با رونق ہوتا۔ شیریں گفتار۔ گفتگو واضح ہوتی نہ بے فائدہ ہوتی نہ بے ہودہ۔ گفتگو گویا موتیوں کی لڑی ہے جس سے موتی جھڑ رہے ہوتے۔ دور سے دیکھنے پر سب سے زیادہ با رعب اور جمیل نظر آتے۔ اور قریب سے سب سے زیادہ شیریں اور حسین دکھائی دیتے۔ قد درمیانہ تھا۔ نہ اتنا طویل کہ آنکھوں کو بُرا لگے۔ نہ اتنا پست کہ آنکھیں حقیر سمجھنے لگیں۔ آپ دو شاخوں کے درمیان ایک شاخ کی مانند تھے جو سب سے سر سبز و شاداب اور قد آور ہو۔ ان کے ایسے ساتھی تھے جو ان کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ اگر آپ انہیں کچھ کہتے تو فوراً تعمیل کرتے۔ اگر آپ انہیں حکم دیتے فوراً بجا لاتے۔ سب کے مخدوم۔ سب کے محترم۔ ‘‘ (1)
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے خدا دادحسن و جما ل کے بارے میں دو چار یا دس بیس کی یہ رائے نہ تھی بل کہ ہر وہ شخص جس کو قدرت نے ذوقِ سلیم کی نعمت سے نوازا ہوتا، وہ آ پ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ کراسی طرح مسحور ہو جایا کرتا اور ہر ایک کی زبان سے بے ساختہ آپ کے حسن و جمال کی تعریف نکلنے لگتی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جو دیکھتا سو جان سے قربان ہونے لگتا دوست، دشمن، اپنے اور بے گانے میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا۔
اسی طرح حضرت جعفر طیّار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ بے مثل و بے نظیر خطبہ جو آپ نے نجاشی بادشاہ کے دربار میں پیش فرمایا تھا وہ بھی نثری نعت کا اعلا نمونہ اور عمدہ شاہ کار تصور کیا جاتا ہے ، ذیل میں اردو ترجمہ نشانِ خاطر فرمائیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ و سلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اے بادشاہ! ہم جاہل قوم تھے، بتوں کی پوجا کیا کرتے۔ مردار کھایا کرتے اور بد کاریاں کیا کرتے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بے رحمی کا سلوک کرتے ہم میں سے طاقت ور، غریب کو کھا جایا کرتا۔ ہمارا یہ نا گفتہ بہ حال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ہم میں سے ایسا رسول بھیجا جس کے نسب کو بھی ہم جانتے ہیں جس کی صداقت، امانت اور عفت سے بھی ہم اچھی طرح آگاہ ہیں اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ کہ ہم اس کو وحدہٗ لاشریک مانیں۔ اور اسی کی عبادت کریں اور وہ پتھر اور بت جن کی پوجا ہم اور ہمارے آبا و اجداد کیا کرتے تھے ان کی بندگی کا پٹہ اپنی گردن سے اتار پھینکیں۔ اس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سچ بولیں۔ امانت میں خیانت نہ کریں۔ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ ہم سائیوں کے ساتھ عمدگی سے پیش آئیں۔ برے کاموں سے اور خوں ریزیوں سے باز رہیں۔ اس نے ہمیں فسق و فجور، جھوٹ بولنے، یتیموں کا مال کھا نے، پاک دامن عورتوں پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ کسی چیز کو اس کا شریک نہ بنائیں۔ نیز اس نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم نماز پڑھیں زکوٰۃ دیں اور روزے رکھیں۔ ‘‘(2)
نثری نعت کے ذیل میں بخاری شریف، مسلم شریف، ابن ماجہ، نسائی شریف، مشکوٰۃ شریف اور ترمذی شریف کے ابوابِ فضائل نیز مختلف اقسام کے درود شریف وغیرہ شمار کیے جاتے ہیں۔ اردو زبان میں امام العلما ء مولانا نقی علی خاں بریلوی ( والدِ ماجد امام احمد رضا بریلوی) کی ’’تفسیر سورۂ الم نشرح‘‘ اور ’’سرور القلوب‘‘ کی بعض عبارتیں تو نثر میں نعت نگاری کی ایسی اعلا ترین مثالیں ہیں کہ پڑھتے ہوئے کیف آگیں جذبات سے روح وجد کر اُٹھتی ہے۔ ’’تفسیرِ سورۂ الم نشرح‘‘ کی ایک خاصی طویل، عشق و محبتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور صفاتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کے پُر لطف بیان سے معمور عبارت خاطر نشین فرمائیں، جو نثری نعت کے ایک عمدہ شاہ کار سے کم نہیں، اس کا ایک ایک فقرہ اپنی جگہ خود ایک مکمل اور بہترین نعت ہے :
’’سرورِ بنی آدم۔۔ روحِ روانِ عالم۔۔ انسان عین وجود۔۔ دلیلِ کعبۂ مقصود۔۔ کاشفِ سرِّ مکنون۔۔ خازنِ علمِ مخزون۔۔ اقامتِ حدود و احکام ۔۔ تعدیلِ ارکانِ اسلام ۔۔ امامِ جماعتِ انبیا۔۔ مقتدائے زمرۂ اتقیا۔۔ قاضیِ مسندِ حکومت۔۔ مفتیِ دین و ملت۔۔ قبلۂ اصحابِ صدق و صفا۔۔ کعبۂ اربابِ حلم و حیا۔۔ وارثِ علومِ اولین۔۔ مورثِ کمالاتِ آخرین۔۔ مدلولِ حروفِ مقطعات۔۔ منشائے فضائل و کمالات۔۔ منزلِ نصوصِ قطعیہ ۔۔ صاحبِ آیتِ بینہ۔۔ حجت حق الیقین۔۔ تفسیرِ قرآنِ مبین۔۔ تصحیح علومِ متقدمین ۔۔ سندِ انبیا و مرسلین۔۔ عزیزِ مصر احسان۔۔ فخرِ یوسفِ کنعان۔۔ مظہرِ حالاتِ مضمرہ۔۔ مخبرِ اخبارِ ماضیہ۔۔ واقفِ امورِ مستقبلہ۔۔ عالمِ احوالِ کائنہ ۔۔ حافظِ حدودِ شریعت۔۔ ماحیِ کفر و بدعت ۔۔ قائدِ فوجِ اسلام ۔۔ دافعِ جیوشِ اصنام ۔۔ نگینِ خاتمِ سروری ۔۔ خاتمِ نگینِ پیغمبری۔۔ فاتح مغلقاتِ حقیقت۔۔ سرِّ اسرارِ طریقت۔۔ یوسفِ کنعان جمال۔۔ سلیمانِ ایوانِ جلال۔۔ منادیِ طریقِ رشاد۔۔ سراجِ اقطار وبلاد۔۔ اکرمِ اسلاف ۔۔ اشرفِ اشراف۔۔ لسانِ حجت۔۔ طرازِ مملکت۔۔ نورسِ گلشنِ خوبی ۔۔ چمن آرائے باغِ محبوبی۔۔ گلِ گلستانِ خوش خوئی۔۔ لالۂ چمنستانِ خوب روئی۔۔ رونقِ ریاضِ گلشن۔۔ آرایشِ نگارستانِ چمن۔۔ طرۂ ناصیۂ سنبلستان۔۔ قرۂ دیدۂ نرگستان۔۔ گل دستۂ بہارستانِ جنان۔۔ رنگ افزائے چہرۂ ارغواں ۔۔ ترطیبِ دماغِ گل روئی ۔۔ طراوتِ جوے بارِ دل جوئی ۔۔ تراوشِ شبنمِ رحمت۔۔ توتیائے چشمِ بصیرت۔۔ نسرینِ حدیقۂ فردوسِ بریں ۔۔ رَوحِ رائحہ روحِ ریاحین۔۔ چمن خیابان زیبائی۔۔ بہار افزائے گلستانِ رعنائی۔۔ نخل بند بہارِ نو آئین ۔۔ رنگ آمیز لالہ زارِ رنگین ۔۔ رنگ روے مجلس آرائی۔۔ رونقِ بزمِ رنگیں ادائی۔۔ گل گونہ بخش چہرۂ گل نار ۔۔ نسیمِ اقبالِ بہارِ ازہار ۔۔ نگہت عنبر بیزانِ گل زار ۔۔ نفحۂ مشک ریزانِ موسمِ بہار ۔۔ اصلِ اصول۔۔ سرا بستانِ ملکوت۔۔ بیخِ فروغِ نخلستانِ ناسوت ۔۔ فارسِ میدانِ جبروت ۔۔ شہ سوارِ مضمارِ لاہوت ۔۔ قمری سرو یکتائی ۔۔ تدرو باغِ دانائی ۔۔ شاہ بازِ آشیانِ قدرت ۔۔ طاوسِ مرغ زارِ جنت ۔۔ شگوفۂ شجرۂ محبوبیت ۔۔ ثمرۂ سدرۂ مقبولیت ۔۔ نوبادۂ گل زارِ ابراہیم ۔۔ نورسِ بہارِ جنتِ نعیم ۔۔ اعجوبۂ صنعت کدۂ بو قلموں ۔۔ زینتِ کارگاہِ گوناگوں ۔۔ لعلِ آب دارِ بدخشانِ رنگینی ۔۔ دُرِّ یتیم گوش مہ جبینی ۔۔ جگر گوشۂ کانِ کرم ۔۔ دست گیرِ درماندگانِ اُمم ۔۔ یاقوتِ نسخۂ امکان ۔۔ روحِ روانِ عقیق و مرجان ۔۔ خزانۂ زواہرِ ازلیہ۔۔گنجینۂ جواہرِ قدسیہ ۔۔گوہرِ محیطِ احسان ۔۔ ابرِ گہر بارِ نیساں ۔۔ لوٗ لوٗئے بحرِ سخاوت وعطا ۔۔ گہرِ دریائے مروت و حیا ۔۔ مشک بار صحرائے ختن ۔۔ گل ریز دامن گلشن ۔۔ غالیہ سائے مشامِ جان ۔۔ عطر آمیز دماغِ قدسیاں ۔۔ جوہرِ اعراض و جواہر ۔۔ منشائے اصنافِ زواہر ۔۔ مخزنِ اجناسِ عالیہ ۔۔ معدنِ خصائصِ کاملہ ۔۔ مقوم نوعِ انساں ۔۔ ربیعِ فصلِ دوراں ۔۔ مکمل انواعِ سافلہ۔۔ مربی نفوسِ فاضلہ ۔۔ اخترِ برجِ دل بری ۔۔ خورشیدِ سمائے سروری ۔۔ آبروے چشمۂ خورشید ۔۔ چہر ہ افروز ہلالِ عید ۔۔ ہلالِ عیدِ شادمانی۔۔ بہارِ باغِ کام رانی ۔۔ صفائے سینۂ نیّرِ اعظم ۔۔ نورِ دیدۂ ابراہیم و آدم ۔۔زیبِ نجمِ گلستاں ۔۔ گلِ ماہ تابِ باغِ آسماں ۔۔ مُشرقِ دائرۂ تنویر ۔۔ مَشرقِ آفتابِ منیر ۔۔ شمسِ چرخِ استوا ۔۔ چراغِ دودمانِ انجلا۔۔ مجلیِ نگار خانۂ کونین ۔۔ سیارۂ فضائے قاب قوسین ۔۔ زہرۂ جبینِ انوار ۔۔ غرۂ جبہۂ اسرار ۔۔عقدہ کشائے عقدِ ثریا ۔۔ ضیائے دیدۂ یدِ بیضا ۔۔ نورِ نگاہِ شہود ۔۔ مقبولِ ربِّ ودود ۔۔ بیاضِ روئے سحر ۔۔ طرازِ فلکِ قمر ۔۔ جلوۂ انوارِ ہدایت ۔۔ لمعانِ شموسِ سعادت ۔۔ نورِ مردمکِ انسانیت ۔۔ بہائے چشمِ نورانیت ۔۔ شمعِ شبستانِ ماہِ منور ۔۔ قندیلِ فلکِ مہر انور ۔۔ مطلعِ انوارِ ناہید ۔۔ تجلیِ برق و خورشید ۔۔ آئینۂ جمالِ خوب روئی ۔۔ برقِ سحابِ دل جوئی ۔۔ مشعلِ خور تابِ لامکاں ۔۔ تربیع ماہ تابِ درخشاں ۔۔ سہیلِ فلکِ ثوابت ۔۔ اعتدالِ امزجۂ بسائط۔۔ مرکزِ دائرۂ زمین و آسماں ۔۔ محیطِ کرۂ فعلیت و امکاں ۔۔ مربع نشینِ مسندِ اکتائی ۔۔ زاویہ گزینِ گوشۂ تنہائی ۔۔ مسند آرائے ربعِ مسکوں ۔۔ رونقِ مثلثات گردوں ۔۔ معدنِ نہارِ سخاوت۔۔منطقۂ بروجِ سعادت ۔۔ اوجِ محدبِ افلاک ۔۔ رونقِ حضیضِ خاک ۔۔ اسدِ میدانِ شجاعت ۔۔ اعتدالِ میزانِ عدالت ۔۔ سطحِ خطوطِ استقامت ۔۔ حاویِ سطوحِ کرامت۔۔ طبیبِ بیمارانِ ضلالت ۔۔ نباضِ محمومانِ شقاوت ۔۔ علاجِ طبائعِ مختلفہ ۔۔ دافعِ امراضِ متضادہ ۔۔ جوارشِ مریضانِ محبت ۔۔ معجونِ ضعیفانِ امت ۔۔ قوتِ دل ہائے ناتواں ۔۔ آرامِ جاں ہائے مشتاقاں ۔۔ تفریحِ قلوبِ پژمردہ ۔۔ دوائے دل ہائے افسردہ ۔۔ مقدمۂ قیاسِ معرفت ۔۔ ممہدِ قواعدِ محبت ۔۔ عقلِ اول سلسلۂ عقول ۔۔ مبدیِ ضوابطِ فروع و اصول ۔۔ نتیجۂ استقرائے مبادیِ عالیہ ۔۔ خلاصۂ مدارکِ ظاہرہ و باطنہ ۔۔ رابطۂ علت و معلول ۔۔ واسطۂ جاعل و مجعول ۔۔ مدرکِ نتائجِ محسوسات ۔۔ مہبطِ اسرارِ مجردات ۔۔ جامعِ لطائفِ ذہنیہ۔۔ مجمعِ انوارِ خارجیہ ۔۔ حقیقتِ حقائقِ کلیہ ۔۔ واقفِ اسرارِ جزئیہ ۔۔ مبطلِ مزخرفاتِ فلاسفہ ۔۔ مثبتِ براہینِ قاطعہ ۔۔ اوسطِ طرفینِ امکان و وجوب ۔۔ واسطۂ ربطِ طالب و مطلوب۔۔ معلمِ دبستانِ تفرید ۔۔ مدرسِ مدرسۂ تجرید ۔۔ سالکِ مسالکِ طریقت ۔۔ دانائے رموزِ حقیقت ۔۔ اثباتِ وحدتِ مطلقہ ۔۔ برہانِ احدیتِ مجردہ ۔۔ خزینۂ اسرارِ الٰہیہ ۔۔ گنجینۂ انوارِ قدسیہ ۔۔ تصفیۂ قلوبِ کاملہ ۔۔ تزکیۂ نفوسِ فاضلہ ۔۔ سرِ دفترِ دیوانِ ازل ۔۔ خاتمِ صحفِ ملل ۔۔ تخمِ مزرعِ حسنات ۔۔ ترغیبِ اہلِ سعادات ۔۔ جمعِ محاسنِ فتوت ۔۔کفایتِ حوائجِ خلقت ۔۔ ہادیِ سبیلِ رشاد ۔۔ استیعابِ قواعدِ سداد ۔۔ شیرازۂ مجموعۂ فصاحت ۔۔ بہجتِ حدائقِ بلاغت ۔۔ سراجِ وہاجِ ہدایت ۔۔ نسخۂ کیمیائے سعادت ۔۔ تکمیلِ دلائلِ نبوت ۔۔ صحیفۂ احوالِ آخرت ۔۔ منسح منتہی الا رب ۔۔ لُبِ اصولِ ادب ۔۔ بیاضِ زواہرِ جواہر ۔۔ تمہیدِ نوادرِ بصائر ۔۔ مقتدائے صغیر و کبیر ۔۔ مفتاحِ فتحِ قدیر ۔۔ میزبانِ نزل ابرار ۔۔ مفیدِ مستفیدانِ اسرار ۔۔ قلزمِ دررِ قلائد ۔۔ درجِ جواہرِ عقائد ۔۔ تیسیرِ اصولِ تاسیس ۔۔ روضۂ گلستانِ تقدیس ۔۔ احیائے علوم و کمالات ۔۔ مطلعِ اشعۂ لمعات ۔۔ مقدمۂ طبقاتِ بنی آدم ۔۔ رہِ نمائے دینِ مسلم و محکم ۔۔ تشریحِ حجتِ بالغہ ۔۔ تصریحِ واقعاتِ ماضیہ۔۔ تقریرِ قصصِ انبیا ۔۔ تحریرِ معارفِ اصفیا ۔۔ دلیلِ مناسکِ ملت ۔۔ منتقیِ اربابِ بصیرت ۔۔ وسیلۂ امدادِ فتاح ۔۔ سببِ نزہتِ ارواح ۔۔ خازنِ کنزِ دقائق ۔۔ درِ مختار بحرِ رائق ۔۔ ذخیرۂ جواہرِ تفسیر ۔۔ مشکوٰۃِ مفاتیحِ تیسیر ۔۔ جامعِ اصول ۔۔ غرائب معالم ۔۔ مصدرِ صحاح بخاری و مسلم ۔۔ منظورِ مدارکِ عالیہ۔۔ مختارِ عقولِ کاملہ ۔۔ ملتقطِ کتابِ تکوین ۔۔ نہایتِ مطالبِ مومنین ۔۔ انسانِ عیونِ ایمان ۔۔ قرۃ عینینِ انسان ۔۔ منبعِ شریعت و حکم ۔۔ مجمعِ بحرین حدوث و قدم ۔۔ خلاصۂ مآرب سالکین ۔۔ انتہائے منہاج عارفین ۔۔ شرفِ ائمۂ دین ۔۔ تنزیہہ شریعتِ متین ۔۔ زبورِ غرائبِ تدقیق ۔۔ تلخیص عجائبِ تحقیق۔۔ ناقدِ نقدِ تنزیل ۔۔ ناسخِ توریت و انجیل ۔۔ حافظِ مفتاحِ سعادت ۔۔ کشفِ غطائے جہالت ۔۔ واقفِ خزائنِ اسرار ۔۔ کاشفِ بدائعِ افکار ۔۔ عالمِ علومِ حقائق ۔۔ جذبِ قلوبِ خلائق ۔۔ زیبِ مجالسِ ابرار ۔۔ نورِ عیونِ اخیار ۔۔ تہذیبِ لطائفِ علمیہ ۔۔ تجریدِ مقاصدِ حسنہ ۔۔ بیاضِ انوارِ مصابیح ۔۔ توضیحِ ضیائے تلویح ۔۔ حاویِ علومِ سابقین ۔۔ قانونِ شفائے لاحقین ۔۔ معدنِ عجائب و غرائب ۔۔ مدارِ مکارمِ و مناقب ۔۔ نقش فصوصِ حکمیہ ۔۔ منتخب جواہرِ مضیہ ۔۔ عین علم و ایقان ۔۔ حصن حصین امتان ۔۔ تبیین متشابہاتِ قرآنیہ ۔۔ غایت بیان اشارات فرقانیہ۔۔ تنقیح دلائلِ کافیہ ۔۔ تصحیح براہینِ شافیہ ۔۔ زُبدۂ اہلِ تطہیر ۔۔ ملجائے صغیر و کبیر ۔۔ غواصِ بحارِ عرفان ۔۔ زُبدۂ اربابِ احسان ۔۔ مرقاتِ معارجِ حقیقت ۔۔ سلمِ مدارجِ معرفت ۔۔ موضحِ صراطِ مستقیمِ نجات ۔۔ اقصیِٰ معراجِ اصحابِ کمالات ۔۔ قوتِ قلوبِ ممکنات ۔۔ صفائے ینابیعِ طہارات ۔۔ وقایہ احکامِ الٰہیہ ۔۔ افقِ مبینِ انوارِ شمسیہ ۔۔ دستورِ قضاۃ و حکام ۔۔ ایضاحِ تیسیرِ احکام ۔۔ نورِ انوارِ مطالع ۔۔ تنویرِ منارِ طوالع ۔۔ کمالِ بدورِ سافرہ ۔۔ طلعتِ بوارقِ متجلیہ ۔۔ موردِ فتحِ باری ۔۔ تابشِ نورِ سراجی ۔۔ بحرِ جواہرِ درایت ۔۔ طغرائیِ منشورِ رسالت ۔۔ عدیمِ اشباہ و نظائر ۔۔ امینِ کنوزِ ذخائر ۔۔ ملخّصِ مضمراتِ عوارف ۔۔ شرحِ مبسوطِ معارف ۔۔ سراجِ شعبِ ایمان ۔۔برزخِ وجوب و امکان ۔۔ دُرِ تاجِ افاضل ۔۔ ملتقیٰ بحرِفضائل ۔۔ ناطقِ فصلِ خطاب ۔۔ میزانِ نصابِ احتساب ۔۔ منشائے فیضِ وافی ۔۔ مبدئِ علمِ کافی ۔۔ تبییضِ دُرِ مکنون ۔۔ موجبِ سرورِ محزون ۔۔ صرحِ برہانِ قاطع۔۔ نقایہ دلیلِ ساطع ۔۔ رافعِ لوائے ہدیٰ ۔۔ حکمتِ بالغۂ خدا ۔۔ ضوئِ مصباحِ عنایت ۔۔ معطیِ زادِ آخرت ۔۔ عمدۂ فتوحاتِ رحمانیہ ۔۔ مخزنِ مواہبِ لدنیہ ۔۔ نتیجۂ دلائلِ خیرات ۔۔ لمعانِ مطالعِ مسرات ۔۔ قاموسِ محیطِ اتقان ۔۔ بلاغِ مبینِ فرقان ۔۔ نہرِ خیابانِ توحید ۔۔ نورِ عینِ خورشید ۔۔ شمسِ بازغۂ مشارقِ انوار ۔۔ رونقِ ربیعِ بستانِ ابرار ۔۔ شناورِ قلزمِ ملاحت ۔۔ آب یارِ جوے لطافت ۔۔ تراوشِ ابرِ سیرابی ۔۔ ابرِ بہارِ شادابی ۔۔ سحابِ دُر افشانِ سخاوت ۔۔ نیسانِ گہر بارِ عنایت ۔۔ کوثرِ عرصۂ قیامت ۔۔ سلسبیلِ باغِ جنت ۔۔ آبِ حیاتِ رحمت ۔۔ ساحلِ نجاتِ امت ۔۔ روحِ چشمۂ حیواں ۔۔ آشنائے دریائے عرفاں ۔۔ محمد شاہدِ دیں جانِ ایماں ۔۔ محمد رحمتِ حق لطفِ یزداں ۔۔ ()‘‘(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اردوئے معلیٰ پہ موجود تمام حمد ِ باری تعالیٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علاوہ ازیں امام احمدرضا محدث بریلوی کی مختلف تصنیفات کے اقتباسات، مولوی شبلی نعمانی کی نثر ’’ظہورِ قدسی‘‘، سید سلیمان علی ندوی کے ’’خطباتِ مدراس‘‘، مفتی محمد شریف الحق امجدی کی ’’نزہۃ القاری شرح بخاری ‘‘کی مختلف جلدیں، پیر کرم شاہ ازہری کی سیرت پر سات مجلدات کو محیط ’’ ضیاء النبی ‘‘ کی جلد 2؍ 3؍ 4؍ 5، اور پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقش بندی مجددی کراچی کی ’’جانِ ایمان‘‘ اور ’’ جانِ جاناں‘‘ ماہر القادری کی ’’دُرِّ یتیم‘‘ اور دیگر کتبِ سیرت وغیرہ نثری نعت کے نہایت خوبصورت اور دل کش نمونوں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ متذکرۂ بالا کتب سے بعض کی عبارتیں ذیل میں ہدیۂ قارئین ہے :
’’ہم سر اس کا دیکھا نہ سنا، فر رسالت اس سے پیدا، اور افسرِ شفاعت اس پر زیبا، سرفرازانِ عالم اس کی سرکار میں فِرقِ ارادت زمینِ انکسار پر رکھتے ہیں اور سرشارانِ بادۂ نخوت اپنی سرکشی اور خود سری سے توبہ کرتے ہیں ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ روئے روشن زلفِ سیاہ میں نمایاں ہے، یا نورِ بصر مُردَمکِ چشم سے درخشاں، ماہِ دو ہفتہ پُر نور عارض سے تاباں، شمسِ بازغہ اس کے مدرسۂ تنویر میں شمسیہ خواں، لعلِ بدخشاں کا اس کی رنگینی سے دم فنا اور گلستانِ ارم کا صرصرِ خجالت سے رنگ ہَوا۔ اس عارضۂ پُر نور کے عشق میں رنگِ رخسارِ سحر فق ہے۔ اور سینۂ ماہ شق، مراء تِ خیال کو سکتہ، چراغِ صبح سسکتا، مطبخِ گل زار سرد، رنگِ شفق زرد، دلِ شبنم افسردہ، روئے گل پژ مردہ، دُربا گریاں، مرجانِ بے جان آئینۂ حیران، خورشید سرگرداں، شمعِ چراغِ سحر، عقیق خون در جگر، لالۂ خونین کفن، قمری طوقِ غم بہ گردن، یاقوت بے دم، لعل زیر بارِ غم، یدِ بیضا دست بردل، تدرو بے تیغِ بسمل، بلبل کو اس گلستانِ خوبی کی یاد میں سبقِ بوستان فراموش، اور مرغِ چمن اس گلِ رنگین کے شوق میں روز و شب نالاں و مدہوش، آئینۂ حلب پر اگر وہ سرِّ عرب عکس افگن ہو سوزِ محبت سے گل جائے، اور ورقِ گل پر اگر وصفِ عارضِ رنگین زیبِ رقم ہو پیرہن میں پھولا نہ سمائے۔ یا ایہا المشتاقون بنورِ جمالہٖ صلوا علیہ و آلہٖ۔ ‘‘(4)
’’ہاں ! جشن کی وہ رات، راتوں کی سرتاج۔۔ رشکِ شبِ قدر، ۔۔ نازشِ لیلۃ القدر ۔۔ ہاں ! اس رات ستارے چمک رہے تھے۔۔ چاندنی کھل رہی تھی۔۔ نور کی چادر پھیلی ہوئی تھی۔۔ فضائیں مہک رہی تھیں، ہوائیں چل رہی تھیں، خاموشیاں مسکرارہی تھیں ۔۔ وہ آنے والا پیکرِ بشری میں آ رہا تھا۔۔ ہاں ! رات گذر گئی، وہ آ گیا۔۔ صبح ہو گئی، ہر طرف چہل پہل ہے۔۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں ۔۔ ماں خوش ہو رہی ہیں ۔۔ دادا عبدالمطلب مسکرا رہے ہیں ۔۔ چچاؤں کے دل کی کلیاں کھل رہی ہیں ۔۔ خوشی میں باندیوں کے بندھن کھل رہے ہیں ۔۔ سدا کے اسیروں کو آزادیاں مل رہی ہیں ۔۔ اللہ اللہ ! وہ پیارا، ماں کا دُلارا، سیہ کاروں کا سہارا کیا آیا عالم میں بہار آ گئی۔۔ اُس کی آمد آمد کی ساتویں دن خوشی منائی گئی ۔۔ دادا نے نام رکھا۔۔ محمد۔۔ مگر یہ نام تو قرنوں پہلے رکھا جا چکا تھا۔۔‘‘(5)
’’حسن و جمال کا یہ داتا۔۔ جس نے سارے عالم کو حسن و جمال کی بھیک بانٹی۔۔ جس کے صدقے کائنات کے ذرّے ذرّے پر نکھار آیا ۔۔ جو کائنات کا سنگھار ہے۔۔ دیکھیے دیکھیے، آگے قدم بڑھا رہا ہے۔۔ رُخ سے پردہ اٹھانے والا ہے۔۔ جلوہ دکھانے والا ہے۔۔ مگر وہ تو آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پہلے بھی نبی تھا۔۔ دیکھنے والوں نے ا سے دیکھا بھی تھا۔۔مگر ہم نے نہ دیکھا تھا۔۔ ہم کو دکھا یا جانا تھا۔۔ اسی لیے نا معلوم کب سے اُس کی رسالت و ختمیّت کی بات ہو رہی تھی ۔۔ اس کے آنے سے صدیوں پہلے اس کے آنے کی خبریں دی جا رہی تھیں ۔۔ ذرا ماضی کی طرف چلیے، دور ۔۔ بہت دور۔۔ سنیے سنیے۔۔ نو عمری کا زمانہ ہے، چچا کے ساتھ شام کے سفر پر جا رہے ہیں، اچانک بحیرہ راہب کی نظر پڑتی ہے، بے ساختہ پکار اٹھتا ہے یہ بچہ وہی نبی ہے جس کی عیسیٰ (علیہ السلام) نے بشارت دی تھی۔۔ پھر جب جوانی میں تجارت کے لیے تشریف لے گئے تو نسطورا راہب کی نگاہ پڑ گئی وہ بھی پکار اٹھا آپ اس امت کے نبی ہیں ۔۔‘‘(6)
’’جب وہ جانِ راحت کانِ رافت پیدا ہوا۔۔ بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کیا اور ربِّ ھب لی اُمّتی فرمایا۔۔ جب قبر شریف میں اُتاراگیا، لبِ جاں بخش کو جنبش تھی، بعض صحابہ نے کان لگا کر سُنا، آہستہ آہستہ اُمتی فرماتے تھے ۔۔ قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے۔۔ تانبے کی زمین۔۔ ننگے پاؤں ۔۔ زبانیں پیاس سے باہر۔۔ آفتاب سروں پر۔۔ سایے کا پتا نہیں ۔۔ حساب کا دغدغہ۔۔ مَلِکِ قہار کا سامنا۔۔ عالَم اپنی فکر میں گرفتار ہو گا۔۔ مجرمانِ بے یار دامِ آفت کے گرفتار۔۔ جدھر جائیں گے سوا نفسی نفسی اِذہبوا الیٰ غیری کچھ جواب نہ پائیں گے ۔۔ اُس وقت یہی محبوبِ غم گسار کام آئے گا ۔۔ قفلِ شفاعت اس کے زورِ بازو سے کھل جائے گا۔۔ عمامہ سرِ اقدس سے اُتاریں گے اور سر بہ سجود ہو کر’’ اُمتی ‘‘ فرمائیں گے۔۔ وائے بے انصافی! ایسے غم خوار پیارے کے نام پر جاں نثار کرنا اور مدح و ستایش و نشرِ فضائل سے اپنی آنکھوں کو روشنی اور دل کو ٹھنڈک دینا واجب۔۔یا یہ کہ حتی الوسع چاند پر خاک ڈالے اور اِن روشن خوبیوں میں انکار کی شاخیں نکالے۔۔‘‘(7)
۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)پیر کرم شاہ ازہری، علامہ: ضیاء النبی، مطبوعہ دہلی، ج 2، ص174/175
(2)پیر کرم شاہ ازہری، علامہ: ضیاء النبی، مطبوعہ دہلی، ج 2، ص365
(3)نقی علی خاں بریلوی، علامہ : تفسیرِ سورۂ الم نشرح، رضوی کتاب گھر دہلی، ص 4/7
(4)نقی علی خاں بریلوی، علامہ: سرورالقلوب بذکرِ المحبوب، فاروقیہ بک ڈپو، دہلی، ص 119/120
(5)محمد مسعود احمد، پروفیسر ڈاکٹر: جانِ جاناں، رضوی کتاب گھر، دہلی، 1990، ص49/50
(6)محمد مسعود احمد، پروفیسر ڈاکٹر: جانِ جاناں، رضوی کتاب گھر، دہلی، 1990، ص57
(7) احمد رضا بریلوی، امام:مجموعۂ رسائل نور اورسایا، رضا اکیڈمی، ممبئی، 1998ء، ص 73
۔۔۔۔۔۔۔۔
ج: نعت گوئی کا فن۔ اقوالِ علمائے ادب کی روشنی میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرح دیگر اصنافِ سخن میں قصیدہ، مثنوی، رباعی، غزل وغیرہ کا اپنا ایک منفرد اور جداگانہ مقام ہے۔ اسی طرح نعت بھی اپنے اصول و ضوابط کے اعتبار سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ دراصل اصنافِ ادب میں نعت سے زیادہ لطیف، نازک اور مشکل ترین کوئی صنفِ سخن نہیں اور اس سے کماحقہٗ عہدہ بر آ ہونا ممکن بھی نہیں اس لیے کہ ذاتِ باریِ تعالیٰ خود رسول کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی ثنا خواں و مدح خواں ہے۔
نعت نگار کو اپنا شہبازِ فکر بڑے ہی ہوش و خرد کے ساتھ اس پُر خطر وادی میں پرواز کرنا پڑتا ہے۔ اگر اس سے اس راہ میں ذرہ بھر بھی لغزش اور کوتاہی ہو جاتی ہے تو اس کا ایمان و اسلام اور دین و مذہب دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نعت کے میدان میں آہستگی کے ساتھ نہایت سنبھل کر حزم و احتیاط کے دامن کو تھامے ہوئے قدم رکھنا ضروری ہے۔ اکثر نعت گو شعرا نے اس پُر خطر وادی میں بڑے ہو ش و حواس کے ساتھ قدم رکھا ہے۔ علاوہ ازیں ایسے نعت گو شعرا بھی ہیں جن سے اس راہ میں لغزشیں ہوئی ہیں اُن کا ذکر آئندہ ضمنی باب میں کیا جائے گا۔ البتہ جن نعت گو شعرا نے اس پُر وادی کے خطرات اور فنِ نعت کی اہمیت و عظمت، اس کے مقام و مرتبہ اور تقدس کو محسوس کیا ہے ان کے جذبات و احساسات کو ذیل خیالات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔
امام احمد رضا محدثِ بریلوی :
’’حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے، جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہونچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے، غرض ایک جانب اصلا حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب سخت پابندی ہے۔ ‘‘ (1)
عبد الکریم ثمرؔ :
’’نعت نہایت مشکل صنفِ سخن ہے نعت کی نازک حدود کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کی آفاقیت قائم رکھنا آسان کام نہیں۔ سرکارِ اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کی شانِ اقدس میں ذرا سی بے احتیاطی اور ادنا سی لغزشِ خیال و الفاظ ایمان و عمل کو غارت کر دیتی ہے۔ ‘‘ (2)
مجید امجد:
’’حقیقت یہ ہے کہ جنا بِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف میں ذرا سی لغزش نعت گو کو حدودِ کفر میں داخل کر سکتی ہے۔ ذرا سی کوتاہی مدح کو قدح میں بدل سکتی ہے، ذرا سا شاعرانہ غلو ضلا لت کے زمرے میں آسکتا ہے، ذرا سا عجزِ بیان اہانت کا باعث بن سکتا ہے۔ ‘‘ (3)
ڈاکٹر ابواللیث صدیقی:
’’نعت کے موضوع سے عہدہ برآہوناآسان نہیں موضوع کا احترام کلام کی بے کیفی اور بے رونقی کی پردہ پوشی کرتا ہے، نقاد کو نعت گو سے باز پُرس کرنے میں تامّل ہوتا ہے اور دوسری طرف نعت گو کو اپنی فنی کمزوری چھپانے کے لیے نعت کا پردہ بھی بہت آسانی سے مل جاتا ہے، شاعر ہر مرحلہ پر اپنے معتقدات کی آڑ پکڑتا ہے اور نقاد جہاں کا تہاں رہ جاتا ہے لیکن نعت گوئی کی فضا جتنی وسیع ہے اتنی ہی اس میں پرواز مشکل ہے۔ ‘‘ (4)
ڈاکٹر اے۔ ڈی۔ نسیم قریشی:
’’نعت گوئی کا راستہ پُل صراط سے زیادہ کٹھن ہے اس پر بڑی احتیاط اور ہوش سے چلنے کی ضرورت ہے اس لیے اکثر شاعروں نے نعت کہنے میں بے بسی کا اظہار کیا ہے جس ہستی پر خدا خود درود بھیجتا ہے انسان کی کیا مجال کہ اس کی تعریف کا احاطہ کر سکیں۔ ‘‘ (5)
ڈاکٹر فرمان فتح پوری:
’’نعت کا موضوع ہماری زندگی کا ایک نہایت عظیم اور وسیع موضوع ہے اس کی عظمت و وسعت ایک طرف عبد سے اور دوسری طرف معبود سے ملتی ہے۔ شاعر کے پا ے فکر میں ذرا سی لغزش ہوئی اور وہ نعت کے بجائے گیا حمد و منقبت کی سرحدوں میں۔ اس لیے اس موضوع کو ہاتھ لگانا اتناآسان نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ حقیقتاً نعت کا راستہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے۔ ‘‘ (6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اردوئے معلیٰ پہ موجود تمام نعوتِ مبارکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا فکر انگیز، پاکیزہ خیالات سے یہ امر واضح ہو جا تا ہے کہ ایسی ارفع و اعلا ذات کو جب شاعر اپنی شاعری کا موضوع بناتا ہے تو اسے کن سنگلاخ وادیوں سے گذرنا پڑے گا اور کس قدر قیود و آداب اس کے عنان گیر رہیں گے، لہٰذا نعت گوئی ہماری شاعری میں سب سے زیادہ اہم اور دشوار گزار وہ موضوع ہے جو اس خیال کو استحکام بخشتا ہے کہ جن حضرات کوسرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم سے دلی تعلق اور روحانی رابطہ ہو گا یقیناً وہی اس پُر خار وادی میں قدم رکھ سکتے ہیں۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور جذبۂ ایمانی سے سرشار ہو کر نعت گوئی کے لیے دیوانہ وار قلم برداشتہ نہیں لکھا جائے گا کہ اس طرح شاعر اس مقام تک جا سکتا ہے جو کفر واسلام اور شرک و توحید کی سرحد ہے۔ اس لیے نعت گو شاعر پر اوزان و بحور ہی کی پابندیاں عائد نہیں ہوتی ہیں بل کہ اسلام اور شریعت کاپاس و لحاظ اس کے لیے لازمی ہے۔ دراصل نعت ہماری شاعری کی وہ محبوب اور پاکیزہ صنف ہے جس کے ڈانڈے ایک طرف عبد سے اور دوسری طرف معبود سے ملتے ہیں اور اس کا راستہ بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے، نعت گو جب تک عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ڈوب کر توحید ورسالت اور عبودیت کے نازک رشتوں میں ہم آہنگی پیدا نہ کرے اس وقت تک وہ نعت گوئی کے منصب سے عہدہ بر آ نہیں ہو سکتا۔ نعت کا فن نہایت مشکل ہے، کیوں کہ نعت کے مضامین قرآن و حدیث سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ اُن مضامین کو نظم و نثر میں اس اسلوب اور طرزِ ادا میں بیان نہیں کیا جا سکتا جسے دوسرے معشوقانِ مجازی کے ذکر کے وقت شاعراستعما ل کرتا ہے، یہاں چشمِ زدن کے لیے بھی ادب کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جانے پر شاعر کا اسلام و ایمان تباہ و برباد ہوسکتا ہے۔
دراصل نعت ایک ایسے ممدوح کی تعریف و توصیف ہے جس کی بارگاہ میں بے جا مبالغہ آرائی قربتِ ممدوح کا وسیلہ نہیں بن سکتی اور نہ یہاں اس بیان کو باریابی حاصل ہے جو حق و صداقت کی ترجمانی سے محروم ہو۔ یہاں قدم قدم پر خطرات کا سامنا ہے، کیوں کہ نعت اُس ذاتِ مقدس کی مدح سرائی ہے جن کی بارگاہ میں دانستہ و نادانستہ ذرا بھی سوے ادب حبطِ اعمال کا سبب ہوسکتا ہے، یہاں ’’با خدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار‘‘ کی منزل ہمہ وقت سامنے رہنی چاہیے۔ غرض یہ کہ نعت کی راہ شاعری کی سخت ترین راہوں میں سے ہے اور تمام اصنافِ سخن سے مشکل، اگر حد سے تجاوز کرتا ہے تو الوہیت کی تجلی خاکستر کر دے گی اور کمی کرتا ہے تو تنقیصِ شانِ رسالت کی تیز تلوار شاعر کی گردن ناپ دے گی لہٰذا اس فن کی نزاکتوں سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے بڑے محتاط فکر و تخیل، ہوشیاری اور ادب شناسی کی ضرورت پڑتی ہے کسی خیال کو فنی پیکر عطا کرنے سے پہلے اس کو سو بار احتیاط کی چھلنی میں چھان لینا پڑتا ہے تب کہیں جا کر وہ معرضِ وجود میں آتا ہے اور احتیاط کے تقاضوں کو ادا کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) مصطفیٰ رضا نوری بریلوی، علامہ:الملفوظ، مطبوعہ کانپور، ص144/145
(2) نقوش: رسول نمبر، لاہور، ج10، ص24
(3) نقوش: رسول نمبر، لاہور، ج10، ص24
(4) نقوش: رسول نمبر، لاہور، ج10، ص25
(5) نقوش: رسول نمبر، لاہور، ج10، ص25
(6) نقوش: رسول نمبر، لاہور، ج10، ص25
۔۔۔۔۔۔۔۔
د: حزم و احتیاط اور موضوع روایتیں
نعت جملہ اصنافِ ادب میں انتہائی مشکل ترین اور حزم و احتیاط کی متقاضی صنف ہے، یہ پُل صراط پر چلنے اور تلوار پر قدم رکھنے کے مترادف ہے، بہ قولِ عُرفیؔ ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
عُرفیؔ مَشَتاب ایں رہِ نعت است نہ صحرا
آہستہ کہ رہ بر دمِ تیغ است قدم را
ہشدار کہ نتواں بیک آہنگ سرودن
نعتِ شہ کونین و مدیحِ کے و جم را
۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ اوراق میں نعت اور آدابِ نعت سے متعلق جید علمائے ادب کے گراں قدر اقوال و تاثرات کو پیش کیا گیا ہے جن کے مطالعہ کے بعد نعت کا سب سے اہم ترین اور قابلِ توجہ پہلوجوسامنے آیا ہے وہ حزم و احتیاط کا ہے۔
حزم و احتیاط نعت کے دیگر جملہ لوازمات و ضروریات میں انتہائی اہم جز ہے۔ اگر شاعر اس میں سرِ مو بھی حد سے تجاوز کرتا ہے تو الوہیت تک پہونچ کر شرک جیسے گناہِ عظیم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے اور اگر بال برابر بھی کمی کرتا ہے تو تنقیصِ شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم ہو جاتی ہے اور وہ بجائے ثنا خوانِ رسول کہلا نے کہ بارگاہِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں بے ادب اور گستاخ سمجھا جاتا ہے اور لعنت کے طوق کا حامل ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں باتیں شاعر کے لیے دنیا و آخرت دونوں جگہ نقصان کی باعث بنتی ہیں۔ اسی لیے نعت کے میدان میں آہستگی کے ساتھ نہایت سنبھل کر حزم و احتیاط کے دامن کو سختی سے تھامے ہوئے قدم بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے، نعت کے میدان میں لمحہ لمحہ با ادب، با ملاحظہ، ہوشیار کی صدائے باز گشت گونجتی رہتی ہے اور یہاں پا ے اسلوب میں ہر لحظہ شریعتِ مطہرہ کی بیڑیوں کی کار فرمائیاں ہوتی ہیں۔
نعت دراصل حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح سرائی، تہنیت، ثنا گوئی اور قصیدہ خوانی کا نام ہے کہ جن کے اوصافِ حمیدہ اور خصائلِ جمیلہ کو خود خالقِ کائنات جل شانہٗ نے قرآنِ پاک میں بیان فرمایا ہے، کہیں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کو مزمل و مدثر، کہیں طہٰ و یٰٓس، کہیں منذر و نذیر، کہیں سراجِ منیرجیسے القاب و خطابات سے یا د فرما کر محبوبِ رعنا صلی اللہ علیہ و سلم کی تقدس مآب بارگاہ کا ادب و احترام بتایا اور نعت گوئی کرنے والوں کو سلیقہ و شعور بخشا۔ دیکھا جائے تو قرآنِ مقدس کے ورق ورق میں ثنائے مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا مسطور ہے اور اس کی سطر سطر بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے ادب و احترام اور تعظیم و توقیر کا نورِ بصیرت اکنافِ عالم میں عام کر رہی ہیں۔ غرض یہ کہ قرآنِ مقدس مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی نعت بھی ہے اور کامل و اکمل ترین اولین درس گاہِ نعت بھی۔
قرآن و سنت اور سیرتِ طیبہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اگر نعت قلم بند کی جائے تو شاعر ہر قسم کی بے راہ روی، افراط و تفریط، غلو و اغراق اور کج بیانی سے کوسوں دور رہے گا، بہ قول رضا بریلوی ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی
تاکہ رہے احکامِ شریعت ملحوظ
۔۔۔۔۔۔۔۔
چناں چہ یہ امر ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے وہی شاعر نعت گوئی میں کام یاب و کام ران ہوسکتا ہے جو شریعتِ مطہرہ کے رموز واسرار سے کماحقہٗ واقف ہو اور سیرتِ طیبہ کا قاری و عامل بھی۔ کیوں کہ نعت میں خیالات کی بے راہ روی، افراط و تفریط اور غلو و اغراق کی چنداں گنجایش نہیں ہوتی یہاں لمحہ بھر کے لیے بھی زمامِ حزم و احتیاط ہاتھ سے بہ ہر صورت نہیں چھوٹنا چاہیے ورنہ شاعر کا ایمان واسلام اور دین و مذہب خطرے میں پڑ جائے گا اور جس کے نتیجے میں وہ خسر الدنیا و الآخرۃ قرار دیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : حمدیہ ہایئکو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ مبارکہ قیس و فرہاد، وامق و رانجھا اور لیلا و مجنوں کی طرح بے محابا عشق و محبت کے اظہار و اشتہار کی بارگاہ نہیں بل کہ یہاں صدیق و فاروق، عثمان و علی، سلمان و بوذر، خالد و ابنِ رواحہ اور دیگر جاں نثار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تئیں مخلصانہ احترام و عقیدت، تعظیم و توقیر اور عشق و محبت کی خاموش عبادت مقبول ہے، اس مقام پر دلِ رنجور کے ہزار پارچے یہاں وہاں بکھیرنے والوں کا ازدحام نہیں بل کہ کفر و شرک، باطل پرستوں اور دشمنانِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و سلم )کے لشکرِ جرار کے مقابل چند فدایانِ شوق، حق پرست دیوانگانِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و سلم ) کی سر بہ کف عقیدت مندیاں اور جذبۂ ایثار و قربانی کی الفت آمیز سرشاریاں ہیں۔ اس بارگاہِ عظمت نشان میں دربارِ ایزدی کے مقرب قدسیانِ کرام اس درجہ ادب و احترام سے حاضر ہوتے ہیں کہ ان کے پروں کی آہٹ بھی محسوس نہیں ہوتی بہ قولِ علامہ اخترؔ رضا ازہری بریلوی ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرشِ نازک تر‘‘
یہاں آتے ہیں یوں قدسی کہ آوازہ نہیں پر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔
نعتیہ ادب کا ناقدانہ مطالعہ و تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح اور عیاں ہو جاتی ہے کہ جہاں بیش تر نعت گو شعرا نے انتہائی درجہ حزم و احتیاط سے کام لیتے ہوئے بارگاہِ مصطفیٰ(صلی اللہ علیہ و سلم ) میں اپنا خراجِ عقیدت و محبت پیش کیا ہے وہیں بعض شعراسے نعت گوئی کے میدان میں لغزشیں بھی ہوئی ہیں اور ان کے ہاتھوں سے احتیاط کا دامن چھوٹتا نظر آیا ہے انھوں نے نعت میں ان مضامین کو نظم کر دیا ہے جن سے بچنا اور دور رہنا لا زمی امر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان شعرا کے اشعار میں افراط و تفریط اور غلو و اغراق پایا جاتا ہے۔ ویسے نعتیہ ادب کی روح سے واقف حضرات نے تنقید و اصلاح کا کارنامہ شروع سے ہی جاری رکھا تھا۔ اس ضمن میں ایک تاریخی واقعہ کا ذکر کرنا غیر مناسب نہ ہو گا۔ اردو زبان کے مشہور شاعر جناب اطہر ہاپوڑی نے ایک نعت لکھ کر امام احمد رضا بریلوی کے پاس بہ غرضِ ملاحظہ ارسال کی، جس کا مطلع تھا ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
کب ہیں درخت حضرتِ والا کے سامنے
مجنوں کھڑے ہیں خیمۂ لیلا کے سامنے
۔۔۔۔۔۔۔۔
امام احمد رضا بریلوی اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ مطلع کا مصرعِ ثانی منصبِ رسالت سے فروتر ہے۔ محبوبِ کردگار صلی اللہ علیہ و سلم کے گنبدِ خضرا کو خیمۂ لیلا سے تشبیہ دینا بے ادبی ہے اور مجنوں میاں بیچ میں کہاں سے آ گئے؟ یہ تو ذاتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا معاملہ ہے، ساتھ ہی قلم برداشتہ یوں اصلاح فرمائی ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
کب ہیں درخت حضرتِ والا کے سامنے
قدسی کھڑے ہیں عرشِ معلا کے سامنے
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت اطہر ہاپوڑی اس اصلاح پر اتنا خوش ہوئے کہ تا عمر اس پر نازاں رہے۔ یہ ان تمام شعرا کے لیے لمحۂ فکریہ ہے جو نعتِ پاک میں بے احتیاطی اور من گھڑت واقعات کے باب میں توجہ دلانے پر برافروختہ ہو جاتے ہیں۔
میدانِ نعت میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اچھے اچھے اور نام ور شعرا کے کلام میں بھی بے اعتدالی پائی جاتی ہے اور وہ نعتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل تک پہنچ جاتے ہیں اور بے خبری کے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ، مثلاً استاذالاساتذہ امیرؔ مینائی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
ظاہر ہے لفظِ اَحد و احمدِ بے میم
بے میم ہوئے عین خدا احمدِ مختار
۔۔۔۔۔۔۔۔
ظاہر ہے لفظِ ’’احد‘‘ حقیقت میں بے میم ہے یا لفظِ ’’احمد ‘‘ سے میم کو جدا کر دیں تو لفظ’’ احد‘‘ رہ جاتا ہے۔ جس سے امیرؔ مینائی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ’’ احد ‘‘ و ’’احمد‘‘ ایک ہیں اور’’ احمدِ مختار‘‘ معاذ اللہ ’’عین خدا‘‘ ہیں۔ آپ مشکل سے یقین کریں گے کہ یہ امیرؔ مینائی جیسے ہوش مند شاعر کا شعر ہے۔ مزید دیکھیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن ہے خورشید تو نجم صحیفے
اللہ گہر اور صدف احمدِ مختار
۔۔۔۔۔۔۔۔
مصرعۂ ثانی شرعاً قابلِ گرفت اور لائقِ اعتراض ہے، کیوں کہ صدف سے گہر (موتی) پیدا ہوتا ہے اور امیرؔ مینائی کے مذکورۂ بالا شعر کی روشنی میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم صدف ہوئے اور اللہ تعالیٰ جل شانہٗ گہر تو غور فرمائیے کہ معنی و مفہوم کہاں سے کہاں تک جا پہنچا ہے ؟موصوف کے اس شعر سے بھی صَرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
طور کا جلوہ تھا جلوہ آپ کا
لن ترانی تھی صدائے مصطفیٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔
شاعر کے نزدیک طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو تجلی دیکھی تھی وہ جلوۂ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہی تھا، اور لن ترانی بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہی نے کہا تھا (گویا حضور صلی اللہ علیہ و سلم خدا کے پردے میں خود ہی لن ترانی فرما رہے تھے، معاذ اللہ) یہ عقیدہ بھی توحید کے یک سر منافی اور شرعاً نادرست ہے۔ اسی طرح امیرؔ مینائی کا ہی ایک شعر دیکھیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
طور وہ روضہ ہے، میں صورتِ موسیٰ لیکن
اَرِ نی مُنہ سے نکالوں جو مزار آئے نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شعر میں موصوف کہہ رہے ہیں کہ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کوہِ طور ہے اور میں بہ صورتِ موسیٰ (علیہ السلام) ۔۔ جب مجھے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نظر آ جائے گا تو میں ربِّ ارِنی کہوں گا۔ یہاں نبیِ کونین صلی اللہ علیہ و سلم کو ’’رب‘‘ کہنا نعت گوئی کا منصب نہیں بل کہ یہ آدابِ نعت اور لوازماتِ نعت سے بھٹک جانا ہے۔ یہ شعر بھی ملاحظہ کریں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
پاک تھی رنگِ دو رنگی سے وہ خلوت گہہِ خاص
وہی شیشہ، وہی مَے خوار تھا معراج کی شب
۔۔۔۔۔۔۔۔
قابَ قوسین کی خلوتِ گاہِ خاص میں دو نہ تھے بل کہ صرف ایک ہی ذات تھی۔ وہی ذات شراب کی بوتل، وہی ذات شراب پینے والی تھی۔ امیرؔ مینائی کا ’’وہی ‘‘ سے خدا کی طرف اشارہ ہے یا حبیبِ خدا کی جانب، یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ خدا کو رسولِ خدا کا منصب دینا یا رسولِ خدا کو خدا کے مقام پر فائز کرنا یا دونوں کو ایک ہی قرار دینا دونوں ہی صورتیں قابلِ گرفت ہیں۔ نیز خدا اور حبیبِ خدا کو شیشہ و شراب اور مَے خوار جیسے سوقیانہ الفاظ سے تشبیہ دینا ادب و احترام کے یک سر خلاف ہے۔
مندرجہ بالا اشعار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امیرؔ مینائی سے لغزشیں ہوئی ہیں کیوں کہ ان اشعار میں حضور احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات والا صفات کا بیان الوہیت کی صفات سے متصف کر کے کیا گیا ہے جس سے اخذ ہونے والا مفہوم یہی بتاتا ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذاللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم خدا ہیں۔ جب کہ آقا ے کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی سخت ممانعت فرمائی ہے کہ ہرگز ہرگز تم مجھ کو خدا نہ بنانا چناں چہ ارشاد فرماتے ہیں :
’’مجھے حد سے نہ بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ کیا میں تو خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہوں مجھے صرف خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو۔ ‘‘ (1)
چناں چہ اسی حدیث پاک کی ترجمانی فرماتے ہوئے عاشقِ رسول اور عظیم نعت گو شاعر حضرت علامہ شرف الدین بوصیری علیہ الرحمہ (م695ھ)اپنے مشہورِ زمانہ قصیدۂ بُردہ میں ارشاد فرماتے ہیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
’’دَع مَادَّ عَتہ ُ النَّصاریٰ فی نَبِیہِمُ
وَاحکُم بِمَا شِئتَ مَدحاً فیہِ وَاحتَکَمٖ
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : وہ نعت چھوڑ جو عیسا ئیوں نے اپنے نبی کی شان میں کہی، کہ ابنُ اللہ بنا ڈالا اور اس کے سوا جو کچھ نعت میں کہنا چاہے حکم لگا کر اور فیصلہ کر کے کہہ۔ ‘‘
اسی قبیل کا ایک شعر اور ملاحظہ ہو، امیرؔ مینائی کہتے ہیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
آیا خیالِ انجمنِ لامکاں ہمیں
دیکھے کبھی جو عاشق و معشوق ڈاب میں
(امیرؔ مینائی : محامدِ خاتم النبیین، مطبع نول کشور، لکھنؤ، صفحاتِ متفرقہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شعر کا مصرعۂ ثانی مبتذل ہے۔ انجمنِ لامکاں اور بزمِ اسرا میں اللہ جل شانہٗ اور محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کی ملاقات کہاں اور دنیاوی عاشق و معشوق اور اُن کا ملن اور ڈاب کہاں ؟ اس شعر کا مضمون و تخیل اور تشبیہ کا انداز عامیانہ و سوقیانہ اور مبنی بر تضحیک و ابتذال ہے جو نعت جیسی تقدیسی صنف کے لیے قطعاً نامناسب اور خلافِ ادب ہے۔
اس طرح کے معاملات مشہور اور عظیم نعت گو شاعر محسنؔ کاکوروی کے کلام میں بھی ملتے ہیں، آپ کا کلام ملاحظہ ہو ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
عینیت سے غیرِ رب کو رب سے
غیریتِ عین کو عرب سے
ذاتِ احمد تھی یا خدا تھا
سایا کیا میم تک جدا تھا(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔
ان شعروں میں ’’احمد‘‘ کے ’’میم‘ ‘ کو ہٹا کر ’’اَحد‘‘ اور ’’عرب‘‘ سے ’’عین‘‘ کو لفظ سے جدا کر کے ’’رب ‘‘ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جن سے شرعی سقم مترشح ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت کرامت علی شہیدیؔ کا یہ شعر دیکھیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا منہ چوم لیتا ہے شہیدیؔ کس محبت سے
زباں پر میرے جس دم نام آتا ہے محمد کا
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ شعر عاشقِ رسول () حضرت شہیدیؔ کا سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے تئیں والہانہ وارفتگی کا اشاریہ ہے، جس کے پُر خلوص ہونے سے انکار محال ہے لیکن ’’منہ چومنا‘‘۔۔ ’’بوسا لینا‘‘ یہ سب انسانی افعال ہیں جن سے سبحان السبوح و القدوس جل شانہٗ پاک و منزہ ہے۔ اسی طرح حضرت بیدمؔ شاہ وارثی کا یہ شعر بھی ملاحظہ کریں کہ بیدمؔ شاہ وارثی آدابِ نعت اور لوازماتِ نعت اور تقاضائے نعت کی حدود سے کتنی آگے نکل گئے ہیں اس شعر کو کسی بھی طرح سے نعت کا عمدہ شعر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس قسم کی بے جا خیال آرائیوں کی نعت میں چنداں گنجایش نہیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق کی ابتدا بھی تم عشق کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندے بھی تم خدا بھی تم
۔۔۔۔۔۔۔۔
امیرؔ مینائی، کرامت علی شہیدیؔ ، بیدمؔ شاہ وارثی اور محسنؔ کاکوروی جیسے اساتذۂ نعت کے علم و فضل پر ذرّہ بھر بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان حضرات کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مخلصانہ تہہ داریوں کو نشانۂ تنقید بنایا جا سکتا ہے۔ اردو نعت گوئی کے فروغ و ارتقا اور استحکام میں ان کی خدمات یقیناً آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں ان حضرات سے جوشِ عقیدت میں جو شرعی لغزشیں واقع ہوئی ہیں اگر وہ ان سے باخبر ہو جاتے تو ایسے مضامین کو اپنے کلام سے خارج کر دیتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : نعتیہ ہائیکو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقالہ نگار کے ممدوح مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوری بریلوی قدس سرہٗ رسولِ کونین کی الفت و محبت میں والہانہ سرشار ی کے با وصف ایسے نازک مقامات سے چراغِ شریعت اور عشقِ حبیب کے اُجالے میں سلامت روی کے ساتھ گذرے ہیں۔ شعر نشانِ خاطر کریں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا ہے تو نہ خدا سے جُدا ہے اے مولا
ترے ظہور سے رب کا ظہور آنکھوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ دو شعر دیکھیں ، جوشِ عقیدت اور جذبۂ محبت میں عقیدہ کیسا سلامت ہے، فرماتے ہیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
سجدہ کرتا جو مجھے اس کی اجازت ہوتی
کیا کروں اذن مجھے اس کا خدا نے نہ دیا
حسرتِ سجدہ یوں ہی کچھ تو نکلتی لیکن
سر بھی سرکار نے قدموں پہ جھکانے نہ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
عصرِ حاضر کے نعتیہ منظر نامے پر جو شعرا نعت کے میدان میں اپنی فکری جولانیاں دکھا رہے ہیں اُن میں بھی کچھ کے کلام میں قابلِ گرفت موضوعات در آئے ہیں۔ ذیل میں پیش مشہور نعت گو شاعر جناب اعظم چشتی کے اشعار بہ طورِ مثال پیش کیے جاتے ہیں جنھوں نے حزم و احتیاط کی شرط کو برقرار نہ رکھتے ہوئے شاعری کی ہے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
انسانیت کو بخشی وہ معراج آپ نے
ہر آدمی سمجھنے لگا ہے، خدا ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
عبد و معبود میں ہے نسبتِ تام
ہے محمد بھی احمدِ بے میم
۔۔۔۔۔۔۔۔
عقل کہتی ہے مثلُنا کہیے
عشق بے تاب ہے خدا کہیے
۔۔۔۔۔۔۔۔
آ گئی سامنے آنکھوں کے اللہ کی صورت
آئے سرکار جو اللہ کی برہاں بن کر
(اعظم چشتی: نیرِ اعظم، صفحاتِ متفرقہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا اشعار میں عبد و معبود اور الوہیت و رسالت کے فرق کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے شرکیہ مضامین قلم بند ہوئے ہیں ان اشعار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بندہ بھی اور خدا بھی بتایا گیا ہے جو کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہے اور ذیل کے دو اشعار دیکھیں ان اشعار میں بارگاہِ خداوندی کے لیے جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اسے بے ادبی قرار دینا غیر مناسب نہ ہو گا ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد نے خدائی کی خدا نے مصطفائی کی
کو ئی سمجھے تو کیا سمجھے کو ئی جانے تو کیا جانے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کے پلّے میں وحدت کے سوا کیا ہے
جو کچھ ہمیں لینا ہے لے لیں گے محمّد سے
(نامعلوم)
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ نعت کا فن نعت نگار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ نعت لکھتے ہوئے شریعت کا پاس و لحاظ کرے اور الوہیت و رسالت کے فرق کوسمجھے۔ نعت گوئی میں حزم و احتیاط اور لغزشوں پر مبنی جن اشعار کی مثالیں دی گئی ہیں ان سے مقصود بزرگ نعت گو شعرا پر نشترِ تنقید چلانا نہیں ہے بل کہ اس محاکمہ سے مجھے اس خیال کو مزید تقویت پہنچانا ہے کہ یقیناً نعت کے پلِ صراط پر چلنا نہایت مشکل کام ہے، اور نعت گوئی ’’اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں ‘‘ سے عبارت ہے۔
علاوہ ازیں مدینۂ طیبہ کے لیے ’’یثرب‘‘ کا استعمال شرعاً منع ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے، یقولونَ یَثربَ وہِیَ المدینۃ، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حال آں کہ یہ مدینہ ہے۔ ممانعت کے باوجود بعض شعرا مثلاً امیرؔ مینائی، ڈاکٹر اقبالؔ ، محمد علی جوہرؔ ، ظفرؔ علی خاں، حفیظؔ جالندھری وغیرہ نے یثرب کا استعمال کیا ہے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
خاکِ یثرب ہے مرتبے میں حرم
واہ رے احترام احمد کا
(امیرؔ مینائی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
نگاہ عاشق کی دیکھ لیتی ہے پردۂ میم اٹھا اٹھا کر
وہ بزمِ یثرب میں آ کے بیٹھیں ہزار منھ کو چھپا چھپا کر
(ڈاکٹر اقبالؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
جس سے چہرے دمک اٹھے تھے یثرب کے
دیکھو جوہرؔ کی بھی آنکھوں میں وہی نور ہے آج
(محمد علی جوہرؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسطو کی حکمت ہے یثرب کی لونڈی
فلاطون طفلِ دبستانِ احمد
(ظفرؔ علی خاں )
۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح جب حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم اور دیگر انبیا ے کرام علیہم السلام کا تقابل بھی شعرا کرتے ہیں تو بعض اوقات اس میں بھی بے ادبی کا پہلو نکل جاتا ہے۔ اس لیے دیگر انبیائے کرام علیہم السلام سے تقابل کے موقع پر ’’تلک الرسل فضلنا بعضہم علیٰ بعض‘‘ کو پیشِ نظر رکھ کر سلیقہ مندی اور ادب و احترام کو ملحوظ رکھنا بھی از حد ضروری ہے۔
میدانِ نعت میں ان احتیاطی رویوں کے ساتھ متن اور لفظوں کے انتخاب میں بھی غایت درجہ توجہ کی ضرورت ہے۔ نعت میں انھیں مضامین کو نظم کیا جانا چاہیے جو مستند اور قرآن و حدیث کے متقاضی ہیں اور روایت و درایت کے اصولوں سے پایۂ ثبوت تک پہنچتے ہیں۔ بابِ فضائل میں ضعیف روایتیں بھی قابل قبول ہیں۔ لیکن موضوعات اور من گھڑت واقعات و قصص اور روایتوں کو جلیل القدر محدثین و محققین اور علمائے محتاطین کے نزدیک کسی بھی قسم کا مقامِ اعتبار حاصل نہیں ہے۔ واضح ہونا چاہیے کہ نعت گوئی میں موضوع اور من گھڑت روایتوں کو بیان کرنا نعت گوئی کے اصولوں کے یک سر منافی ہے۔ نعت نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ نعت گوئی سے پہلے صرف نعتیہ شاعری ہی نہیں بل کہ مستند روایتوں پر مشتمل سیرتِ طیبہ کی کتب و رسائل کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرے۔
مشہور ناقد و شاعراحسان دانشؔ اپنے شاگردوں کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ:
’’صرف شاعری کا مطالعہ کافی نہیں ہے، اچھا اور ستھرا شعر کہنے کے لیے نثری ادب بھی پڑھنا ضروری ہے۔ ‘‘
بہ قول عزیز احسنؔ (کراچی):
’ ’نعتیہ اشعار قلم بند کرنے کے لیے تو نثری ادب کی شرط کے ساتھ ساتھ دینی ادب کی شرط بھی لگانی ضروری ہے۔ ‘‘
چناں چہ نعت گو کو چاہیے کہ وہ سیرت و مغازی، تاریخِ اسلام، حیاتِ طیبہ، اور فضائلِ سیدُ الانام صلی اللہ علیہ و سلم پر لکھی گئی مستند نثری کتب کا بھی مطالعہ کرے۔ موضوع اور من گھڑت روایتوں پر مشتمل میلاد ناموں، معراج ناموں، مواعظ، خطبات اور حکایات سے دور رہے تاکہ اس کا کلام ہر قسم کی بے اعتدالی، بے راہ روی اور شرعی اسقام سے پاک و مبرا بن سکے۔ بلا تردد ہر قسم کے زباں زدِ خاص و عام غیر ثقہ اور وضعی مضامین، جعلی حکایات اور واقعات کو نعت میں منظوم کرتے رہنا یہ کسی بھی طرح سے لائقِ تحسین نہیں۔ ہاں ! یہ بات بھی تسلیم ہے کہ دورِ متاخرین و متوسطین کے شعرا کا ماخذ عموماً سنی سنائی روایتوں اور غیر مستند واقعات و حکایات پر مشتمل کتابیں تھیں اور جن کے صحیح و سقیم کا اندازہ لگانا بہ ہر کیف ! ایک مشکل امر تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بعض علمائے اعلام نے روایت و درایت کے اصولوں پر جانچ پرکھ کر ایسی جملہ موضوع روایتوں کو اپنی کتب و رسائل میں جمع کر دیا ہے۔ اردو نعتیہ شاعری میں کثرت سے نظم کیے جانے والے بعض ایسے مضامین کی نشان دہی ذیل میں نشانِ خاطر فرمائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اردوئے معلیٰ پہ موجود مناجات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبِ معراج میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے نعلین شریف سمیت عرشِ معلا پر تشریف لے جانے سے متعلق ایک روایت کو نعت گو شعرا نے کافی نظم کیا ہے ، اس کے مفہوم سے پہلے چند مشہور شعرا کے اشعار ملاحظہ کریں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
نعلینِ پا سے عرشِ معلا کو ہے شرَف
روح الامیں ہے غاشیہ بردارِ مصطفی
(بیدمؔ وارثی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
حکم موسیٰ کو ’’فاخلع‘‘ مگر معراج میں
تاجِ فرقِ عرشِ بریں ہے نعلینِ پائے مصطفی
(وہبیؔ لکھنوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے نعلین کا مقام فلک
ان کے نعلین تک مری پرواز
(بشیر حسین ناظمؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
عرشِ اعلا کا بھی اعزاز بڑھا ہے اُن سے
سلسلہ فیض کا ایسا ترے نعلین میں ہے
(غلام قطب الدین فریدؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
سُن کے جس کے نام کو جھک جائے عقیدت کی جبیں
جس کی نعلین کہ اتری نہ سرِ عرشِ بریں
(ادیبؔ رائے پوری)
۔۔۔۔۔۔۔۔
یانبی دیکھا ہے رتبہ آپ کی نعلین کا
عرش نے چوما ہے تلوا آپ کی نعلین کا
(نثار علی اجاگرؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
متذکرۂ بالا واقعہ کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے عرشِ الٰہی کی طرف عروج فرمایا تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے پیشِ نظر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا تھا :
’’اے موسیٰ بے شک میں تیرا رب ہوں تو تُو اپنے جوتے اتار ڈال، بے شک تُو پاک جنگل طویٰ میں ہے۔ ‘‘(3)
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی نعلین اتارنے کا قصد فرمایا ، لیکن ارشاد ہوا :
یا محمد! لا تخلع نعلیک لتشرک السمآء بھما۔
ترجمہ: اے محمد! تم اپنے نعلین نہ اتارو تاکہ آسمان ان سے شرف حاصل کرے۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے نعلینِ مقدس کی فضیلت و عظمت پر لکھی جانے والی علامہ احمد المقری التلمسانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور و معروف کتاب ’’فتح المتعال فی مدح النعال ‘‘ اور علامہ رضی الدین قزوینی اور محمد بن عبدالباقی زرقانی علیہم الرحمۃ نے ’’شرح مواہب اللدنیہ ‘‘میں زور دے کر وضاحت کی ہے کہ یہ قصہ مکمل طور پر موضوع ہے۔
’’فتح المتعال فی مدح النعال ‘‘ کا اردو ترجمہ حضرت مولانا محمد خان قادری رضوی اور حضرت مولانا محمد عباس رضوی کی مشترکہ کاوش سے منظر عام پر آ چکا ہے۔ مذکورہ مترجم کتاب کے مقدمہ اور بعض تقریظات میں اس روایت کو نقل کر کے استشہاد کرتے ہوئے نعلینِ پاک کی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جب کہ علامہ احمد المقری التلمسانی نے شیخ السبتی، شیخ ابولحسن علی بن احمد الخزرجی اور دیگر حفاظِ حدیث کے حوالے سے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ (4)
امام محمد بن عبدالباقی زرقانی علیہ الرحمہ نے امام رضی الدین قزوینی و دیگر محدثین کے حوالے سے اس روایت کو گھڑنے والے کے غارت ہونے کی دعا کی ہے۔ امامِ نعت گویاں امام احمد رضا محدث بریلوی سے بھی اس روایت کے بارے میں سوال کیا گیا، چناں چہ احکامِ شریعت میں ہے کہ :
’’سوال: حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کا شبِ معراج عرشِ الٰہی پر نعلینِ مبارک سمیت تشریف لے جانا صحیح ہے یا نہیں ؟
جواب: یہ محض جھوٹ اور موضوع ہے۔ واللہ اعلم۔ ‘‘(5)
اسی طرح واقعۂ معراج کے ضمن میں بیان کی جانے والی وہ روایت جسے ’’معارج النبوۃ‘‘ کے حوالے سے واعظین سنایا کرتے ہیں۔ اس کا خلاصہ یوں ہے :
’’حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے شبِ معراج براق پر سوار ہوتے وقت اللہ تعالیٰ سے وعدہ لے لیا ہے کہ روزِ قیامت جب کہ سب لوگ اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے، ہر ایک مسلمان کی قبر پر اسی طرح ایک براق بھیجوں گا، جیسا کہ آج آپ کے واسطے بھیجا گیا۔ ‘‘
متذکرہ بالا روایت کو بھی بعض شعرا نے اپنی نعتوں میں نظم کیا ہے، اس کے بارے میں بھی امام احمد رضا محدثِ بریلوی سے استفسار کیا گیا کہ :
’’سوال: یہ مضمون صحیح ہے یا نہیں اور کتاب ’’معارج النبوۃ‘‘ کیسی کتاب ہے، اس کے مصنف عالمِ اہل سنت اور معتبر محقق تھے یا نہیں ؟
جواب: بے اصل ہے۔ ’’معارج النبوۃ‘‘ کے مولف سنّی واعظ تھے، کتاب میں رطب و یابس سبھی کچھ ہے۔ واللہ اعلم۔ ‘‘(6)
علاوہ ازیں معراج کے حوالے سے یہ بات بھی بے حد مشہور ہے کہ گلاب کا پھول اس رات آقا صلی اللہ علیہ و سلم کے پسینۂ مبارک سے پیدا ہوا اور اس کی خوش بو میں بھی یہی راز پوشیدہ ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں نقل کیے گئے ہیں۔
من اراد ان یشم رائحتی فلیشتم الورد الاحمر۔
ترجمہ: جو میری خوش بو کو سونگھنا چاہے وہ سرخ گلاب کو سونگھ لے۔ (7)
امام بدرالدین زرکشی نے ’’اللآ لی المنثورۃ ‘‘ میں امام سخاوی نے ’’المقاصد الحسنہ‘‘ میں اور شیخ محمد طاہر پٹنی نے ’’تذکرۃ الموضوعات‘‘ میں اسے من گھڑت اور موضوع روایت قرار دیا ہے۔ (8)
واقعۂ معراج النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے متعلق اس طرح کی بیش تر روایات ایسی کتابوں میں ملتی ہیں جو غیر مستند اور بے سروپا حکایات پر مبنی ہیں۔ اس سلسلے میں معارج النبوۃ اور نزہۃ المجالس کے ساتھ ساتھ بعض تقاریر کے مجموعوں کے نام لیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے دندانِ مبارک کی شہادت کے بارے میں خبرسُن کر حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کا اپنے تمام دانتوں کو توڑنے والی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں اذان سے روکنے اور آپ رضی اللہ عنہ کے اذان نہ پڑھنے کے سبب صبح کے طلوع نہ ہونے والی روایتیں بھی تواتر کے ساتھ ہمارے واعظین اور بیش تر نعت گو شعرا بیان کرتے رہتے ہیں۔ ذیل کے اشعار دیکھیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دنداں کے بدلے میں توڑے، دانت اپنے دہن میں نہ چھوڑے
تھے وہ عاشق اویسِ قرنی، میرے پیارے رسولِ مدنی
(مدینہ کا چاند، میلاد نامہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرتِ بلال نے جو اذانِ سحر نہ دی
قدرت خدا کی دیکھیے نہ مطلق سحر ہوئی
(نامعلوم)
۔۔۔۔۔۔۔۔
ان روایتوں کے بارے میں بھی علمائے محققین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھیں بھی موضوع قرار دیا ہے، اس ضمن میں ممتاز عالمِ اہل سنت علامہ محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی سے جب راقم نے پوچھا تو آپ نے جواباً تحریر فرمایا کہ :
’’ایک بار آپ نے واقعۂ اذانِ بلال (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں سوال لکھا تھا، میری اپنی کوئی تحقیق نہیں ہے، ہاں ! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت شارح بخاری علیہ الرحمہ اس کی تردید کیا کرتے اور کہا کرتے کہ یہ واقعہ ایسا ہے کہ اس کے راوی تواتر کی حد تک ہوں تو کسی طرح مانا جاتا مگر یہاں ضعیف حدیث بھی ملنا مشکل ہے، یوں ہی حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دانت توڑنے والے واقعے کا بھی رد فرماتے اور کہتے یہ عقل و شرع دونوں کے خلاف ہے، حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کوئی مجذوب یا مجنون تو تھے نہیں کہ ایسی خلافِ عقل حرکت کرتے۔ ‘‘(9)
نعتیہ ادب کے مطالعہ کے بعد یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ہمارے بیش تر نعت گو شعرا کے کلام میں جہاں ایسے مضامین ملتے ہیں جو صحیح اورحَسَن احادیثِ طیبہ سے ماخوذ تو ہیں ہی بل کہ بعض نے مکمل متنِ حدیث کو نظم کرنے کی کام یاب کوشش کرتے ہوئے مفہومِ حدیث کو اپنے شعروں میں خوش اسلوبی کے ساتھ برتا ہے۔ وہیں سیکڑوں نعتیہ اشعار ایسے بھی ملتے ہیں جو کسی شدید ضعیف بل کہ موضوع اور من گھڑت روایتوں پر مشتمل ہیں۔ آج کل تقریر و تحریر میں ایسی بے احتیاطی کی بھر مار ہوتی جا رہی ہے۔ واعظین اور قصہ گو قسم کے مقررین کا تو یہ معمول بنتا جا رہا ہے کہ وہ ایسی بے سروپا روایتوں کو بلا تحقیق لوگوں کے سامنے سناتے چلے جا رہے ہیں۔
حالاں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ :
’’کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ ‘‘(10)
واقعۂ معراج النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ضمن میں بعض واقعات، اذانِ حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ، حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے دانت توڑنے جیسے واقعات کا محاکمہ کیا جا چکا ہے۔ نعتیہ اشعار میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ایسی باتوں کو احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کہہ کر سُنا، سُنایا اور پڑھا جا رہا ہے جو آقائے کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمودات میں سے نہیں ہیں۔ ان موضوع روایتوں میں سے ایک مشہور قول ہے :
’’الفقر فخری وبہٖ افتخر‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اردوئے معلیٰ پہ موجود نعتیہ مجموعہ کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : فقر میرا فخر ہے اور میں اس کے ساتھ مفتخر ہوں۔
اس قول کی شہرت و مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اچھے اچھے اہلِ علم اپنی کتابوں میں اسے نقل کر کے اس سے استشہاد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اور مشہور نعت گو شعرا نے اپنے کلام میں اس مضمون کو نظم کیا ہے، چوں کہ یہاں نعت گوئی میں حزم و احتیاط اور موضوع روایتوں کے بارے میں اظہارِ خیال مقصود ہے لہٰذا چند معروف شعرا کے اشعار کے بعد ائمۂ محدثین اور ماہرینِ اصولِ حدیث کے اقوا ل کی روشنی میں اس قول کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
سماں ’’الفقر فخری‘‘ کا رہا شانِ امارت میں
’’بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زیبا را‘‘
(ڈاکٹر اقبالؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ ’’فقر فخری‘‘ رتبہ ہے تیری قناعت کا
مگر قدموں تلے ہے فرِ کسرائی و خاقانی
(حفیظؔ جالندھری)
۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کو حضرت نے کہا ’’الفقر فخری‘‘ اے ظفرؔ
فخرِ دیں، فخرِ جہاں پر وہ فقیری ختم ہے
(بہادر شاہ ظفرؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
سلام اس پر کہ تھا ’’الفقر فخری‘‘ جس کا سرمایا
سلام اس پر کہ جس کے جسمِ اطہر کا نہ تھا سایا
(ماہرؔ القادری)
۔۔۔۔۔۔۔۔
کروں مال و زر کی میں کیوں ہوس مجھے اپنے فقر پہ فخر بس
یہی حرزِ جانِ فقیر ہے یہی ’’قولِ شاہِ حجاز‘‘ ہے
(مرتضیٰ احمد خان میکشؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے فخر تجھے فقر پہ اے شاہِ دو عالم
اے ختمِ رُسل، ہادیِ دیں، خلقِ مجسم
(حافظؔ لدھیانوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
ملا ہے درس محمد سے ’’ فقر فخری‘‘ کا
کمالِ فقر میں مضمر ہے قیصری اپنی
(راجا رشید محمود)
۔۔۔۔۔۔۔۔
’’الفقر فخری‘‘ کے بارے میں امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں :
’’الفقر فخرو بہ افتخر و ہٰذا الحدیث سئل عند الحافظ ابن تیمیہ، فقال انہ لا یعرف فی کتب المسلمین المرویۃ و جزم الاصفہانی بانہ موضوع (11)
ترجمہ : اس حدیث ’’الفقر فخری‘‘ کے بارے میں ابن تیمیہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا یہ جھوٹ ہے، مسلمانوں کے ذخیرۂ مرویات میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں پائی گئی اور امام اصفہانی نے بھی اس کے موضوع (جعلی) ہونے کی تائید کی ہے۔ ‘‘
امام سخاوی علیہ الرحمہ راقم ہیں :
’’الفقر فخری وبہٖ افتخر۔۔ باطل الموضوع ‘‘(12)
ترجمہ: الفقر فخری۔۔ باطل اور گھڑی ہوئی روایت ہے۔
حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے موضوعاتِ کبیر، شیخ محمد بن طاہر پٹنی علیہ الرحمہ نے تذکرۃ الموضوعات اور شارح بخاری امام احمد قسطلانی علیہ الرحمہ نے المواہب اللدنیہ میں بھی اس کو موضوع اور من گھڑت کہا ہے۔ علاوہ ازیں مجددِ اعظم امامِ نعت گویاں امام احمد رضا محدثِ بریلوی کی بھی تحقیق ذیل میں نشانِ خاطر فرمائیں آپ نے بھی ’’الفقر فخری‘‘ کو بے اصل قرار دیا ہے :
’’حضورِ اقدس، قاسمِ نعم، مالک الارض ورقابِ امم، معطیِ منعم، قثمِ قیم، ولی والی، علی عالی، کاشف الکرب، رافع الرتب، معینِ کافی، حفیظ وافی، شفیعِ شافی، عفوِ عافی، غفورِ جمیل، عزیزِ جلیل، وہابِ کریم، غنیِ عظیم، خلیفۂ مطلقِ حضرتِ رب، مالک الناس و دیانِ عرب، ولی الفضل، جلی الافضال، رفیع المثل، ممتنع الامثال صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی شانِ ارفع و اعلا میں الفاظِ مذکورہ (یتیم، غریب، مسکین، بے چارہ) کا اطلاق ناجائز و حرام ہے۔
خزانۃ الاکمل مقدسی و ردالمحتار اواخر شتی میں ہے :
ویجب ذکرہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم باسمآء المعظمۃ فلا یجوز ان بقال انہ فقیر، غریب، مسکین۔
ترجمہ: حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا ذکر عزت و تکریم والے ناموں سے کرنا واجب ہے اور اس طرح کہنا جائز نہیں کہ آ پ فقیر، غریب اور مسکین تھے۔
نسیم الریاض جلد سابع صفحہ ۴۵۰ ؍ میں ہے :
الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام لا یو صفون با لفقر ولایجوز ان یقال نبینا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فقیر وقولہٗ عند ’الفقر فخری‘ لا اصل لہٗ کما تقدم۔
ترجمہ : انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو فقر سے موصوف نہ کیا جائے اور یہ جائز نہیں کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کو فقیر کہا جائے۔ رہا لوگوں کا ’الفقر فخری‘ کو آپ سے مروی کہنا تو اس کی کوئی اصل نہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔ اسی کے صفحہ ۳۷۸؍ میں ہے :
قال الزر کشی کالسبکی لا یجوز ان یقال لہٗ صلی اللہ علیہ و سلم فقیر او مسکین وہو اغنی الناس باللہ تعالیٰ لا سیحا بعد قولہٗ تعالیٰ ’’ووجدک عائلاً فاغنیٰ ‘‘ وقولہٗ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ’’اللہم احینی مسکیناً ‘‘ اراد بہٖ المسکنۃ القبیلۃ با لخشوع والفقر فخری، باطل لا اصل لہ ۔۔ کما قال الحافظ ابنِ حجر عسقلانی۔ ۔
ترجمہ: امام بدرالدین زرکشی نے امام سبکی کی طرح کہا ہے کہ یہ جائز نہیں کہ آپ کو فقیر یا مسکین کہا جائے اور آپ اللہ کے فضل سے لوگوں میں سب سے بڑھ کر غنی ہیں۔ خصوصاً اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’ہم نے آپ کو حاجت مند پایا سو غنی کر دیا‘‘۔ کے نزول کے بعد رہا آپ کا یہ فرمان کہ اے اللہ ! مجھے مسکین زندہ رکھ۔۔ الخ۔ تو اس سے مراد باطنی مسکنت کا خشوع کے ساتھ طلب کرنا ہے اور الفقر فخری باطل ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں جیسا کہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے فرمایا ہے۔ (13)
امام احمد رضا محدثِ بریلوی نے ’’کتاب الشفا‘‘ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے مزید اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ والا صفات کے لیے نازیبا اور غیر موزوں اسما و صفات کا استعمال حکایتاً بھی ناجائز و ممنوع ہے۔ اسی طرح بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم میں گستاخی و بے ادبی اگرچہ سہواً یا جہالت و لاعلمی کے سبب ہی ہو لائقِ گرفت اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔
واضح ہونا چاہیے کہ یہ امران جانب دار ناقدین کے لیے چشم کشا ہے جو امام احمد رضا بریلوی، برادرِ رضا استاذِ علامہ حسن رضا بریلوی اور شہزادۂ رضا مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوریؔ بریلوی علیہم الرحمہ کے کلام سے نہ صِرف یہ کہ صَرفِ نظر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں بل کہ ان محتاط نعت نگاروں کے کلام کو سوے عقیدت اور غلوئے عقیدت سے مملو قرار دینے کی سعیِ نا مشکور کرتے ہیں۔ جب کہ ان حضرات نے اپنی نثری کتب میں بے سروپا روایتوں کو حصارِ نقد میں لیتے ہوئے حزم و احتیاط کا حق ادا کیا ہے تو کیسے ان شاعروں کے یہاں ایسی روایتیں جگہ پا سکتی ہیں ؟ جب ہم ان حضرات کے کلام کا انتقادی جائزہ لیتے ہیں تو مسرت و انبساط کی لہریں نہاں خانۂ دل میں اٹھنے لگتی ہیں کہ ان کی زبان و قلم کو اللہ جل شانہٗ نے بے جا خیال آرائیوں سے محفوظ رکھا۔
غرض یہ کہ حقیقت میں نعت وہی نعت ہوتی ہے جو عبد اور معبود کے فرق، انبیائے کرام علیہم السلام کے مقام و منصب اور شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ادب و احترام کے ساتھ نظم کی جائے۔ افراط و تفریط، مبالغہ و اغراق، بے جا خیال آرائی، من گھڑت، جعلی اور موضوع روایات سے شاعر کے ایمان و اسلام پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
معروف ادیب و محقق ڈاکٹر عبدالنعیم عزیزی نے نعت نگاری میں افراط و تفریط، مبالغہ و اغراق، بے جا خیال آرائی اور جعلی و موضوع روایات کو بیان کرنے کی نفی کرتے ہوئے اپنی حتمی رائے کا اظہار یوں کیا ہے اور بتایا ہے کہ حقیقی نعت کیا ہے؟ :
’’حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا سمجھ لینا، ان سے دیگر انبیا کے تقابل میں انبیا کی توہین کا پہلو نکال دینا، نبی کو ایلچی اور بھائی کہہ کر ان کی بارگاہِ قُدس میں بے ادبی کا ارتکاب کرنا، ان کے لیے دل رُبا، رنگیلے وغیرہ کا استعمال، خدا ورسول کے فرق کو مٹا دینا، خدا کو جسم والاسمجھ کر منہ کا چوم لینا وغیرہ۔ غلط روایات اور معجزہ کا بیان، مدینۂ طیبہ کو یثرب کہنا۔ تمام باتیں شرعاً ناروا ہیں۔
یوں تو شاعری خواہ اس کا موضوع کچھ بھی ہو طہارتِ الفاظ ہر جگہ ضروری ہے اور نعت میں تو قدم قدم پر شریعت کا پہرہ ہے۔ یہ تو بڑے ادب کا مقام ہے۔ ہر لفظ کو منزلِ تطہیر سے گزار کر استعمال کرنا پڑتا ہے۔ (14)
نعت بلا شبہ عقیدے اور عقیدت کا نام ہے۔ مگر نعت میں اُن ہی عقائد اور موضوعات کو بیان کرنا ضروری ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہوں اور جن پر علمائے امت کا اجماع ہو۔ نیز جن میں کسی بے ادبی یا عدم تقدیس کا شائبہ اور شرعی گرفت میں آنے کا احتمال بھی نہ ہو۔ نعت گوئی کی ابتدائی منزل کے چند محتاط شعرا کو چھوڑ کر بیش تر کے یہاں اس طرح کی خامیاں نظر آتی ہیں۔ الغرض کہنا صرف یہی ہے کہ نعت تحریر کرتے ہوئے اس پاکیزہ فن کے لوازمات اور شرعی وقار کو ملحوظِ خاطر رکھنا لازمی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) نقوش : رسول نمبر، ج 10، ص 27
(2)محسن کاکوروی: کلیاتِ محسن، ص 232/233
(3)(سورۂ طٰہٰ :۱۲)
(4)فضائلِ نعلینِ حضور(مترجم: مفتی محمد خان قادری و مولانا محمد عباس رضوی ) ص ۳۶۲
(5)احمد رضا بریلوی، امام: احکامِ شریعت ص ۱۶۶
(6) احمد رضا بریلوی، امام: احکامِ شریعت ص ۱۶۵
(7) بدرالدین زرکشی، امام: اللا ٓ لی المنثورۃ، ص۱۴۷
(8)مختصر المقاصد الحسنہ ص ۹۱، اللآ لی المنثورہ ص ۱۴۷، تذکرۃ الموضوعات ص ۱۶۱وغیرہا کتب
(9)مکتوب بہ نام راقم ۱۵؍ ۸؍ ۲۰۰۵ء
(10)مسلم بن الحجاج قشیری، امام:مسلم شریف، مطبوعہ نور محمد، کراچی، ج ۱، ص ۸
(11)ابن حجر عسقلانی، امام: تلخیص الحبیر، جلد ۳، ص۱۰۹
(12)شمس الدین سخاوی، امام: مختصر المقاصد الحسنہ، ص ۲۹۲
(13)احمد رضا بریلوی، امام : فتاویٰ رضویہ، مطبوعہ کراچی، جلد ششم ص ۱۲۶
(14)عبدالنعیم عزیزی، ڈاکٹر :اردو نعت گوئی اور فاضلِ بریلوی، ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی، 2008ء، ص 163/164
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہ : ہیئت۔ اصنافِ سُخن
۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت اصنافِ ادب کی سب سے مقدس و محترم اور پاکیزہ صنف ہے۔ لفظِ نعت اپنی ابتدائے آفرینش سے تا حال صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اوصاف و خصائل، شمائل و فضائل اور مدح و توصیف کے اظہار کے لیے مختص ہے۔ نعت کا شمار دیگر اصنافِ سخن میں ایک معتبر و محترم اور تقدس مآب صنف کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ ہر چند کہ نعت ہر زبان میں کہی جا رہی ہے لیکن بعض ناقدین کے نزدیک نعت اب بھی صنفِ سخن کا درجہ نہیں پا سکی بہ قول اُن کے وجہ صرف اتنی ہے کہ نعت کی کوئی متعین ہیئت نہیں ہے۔ جب کہ صنفی شناخت کے لیے صرف ہیئت معیار نہیں بل کہ موضوع بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے اور موضوعی اہمیت کے لحاظ سے نعت وہ مہتم بالشان صنف ہے کہ دوسری کوئی صنف اس کے پاسنگ برابر بھی نہیں، نعت ہماری شاعری کی سب سے زیادہ محبوب، طاقت ور، مؤثر، پاکیزہ، تنوع اور مقدار و معیار کے اعتبار سے نمایاں اور ممتاز صنف ہے۔ اس ضمن میں اربابِ علم و فن کی گراں قدر آرا نشانِ خاطر ہوں :
ظہیر غازیپوری:
’’نعت بلاشبہ ایک اہم اور قابلِ توجہ صنفِ سخن ہے۔ اردو نعت نے جب ایک مستقل صنف کا درجہ حاصل کر لیا ہے تو اس کے فنی حسن و قبح پر بے باکانہ انداز میں گفتگو ہونی چاہئے تاکہ قارئین اور تخلیق کار دونوں حقائق سے واقف ہو سکیں۔ ‘‘ (1)
ڈاکٹر سید وحید اشرف:
’’نعت یقیناً ایک صنفِ شاعری ہے اور فارسی میں ایم۔ اے کے نصاب میں فارسی نعتیہ قصیدے شامل ہیں۔ اردو میں جب مرثیہ کو نصاب میں شامل کیا جا سکتا ہے تو نعتیہ شاعری کو کیوں نہیں شامل کیا جا سکتا۔ ‘‘ (2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اردوئے معلیٰ پہ موجود سلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سید طلحہ رضوی برق داناپوری :
’’حمد، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، سلام وغیرہ کی طرح نعت بھی اردو فارسی کی ایک مستقل صنفِ سخن کی حیثیت حاصل کر چکی ہے۔ لہٰذا نعت اردو شاعری کے اصنافِ سخن میں یقیناً شامل ہے۔ ‘‘(3)
ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی :
’’یہ صنف (نعت) اسلامی ارادت و عقیدت کی بنا پر ہی نہیں بل کہ اپنے شعری محاسن کی وجہ سے بھی بے مثال ہے۔ اس لیے دوسری اصنافِ سخن میں یہ بھی شمار ہوتی ہے اور بے حد مقبول ہے۔ ‘‘(4)
ساجد لکھنوی:
’’اصنافِ سخن میں نعت ہی ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس کا دنیا کی ہر زبان کے ادب میں بہت کافی سرمایہ موجود ہے اور ہر مذہب اور ملت کے شاعر نے اس صنفِ سخن کے اضافے میں حصہ لیا ہے اور فخرِ کائنات، سید الرسل، محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور نذرانۂ عقیدت و محبت پیش کیا ہے۔ ‘‘(5)
ڈاکٹر محبوب راہی :
’’نعت کے اردو کی صنفِ سخن ہونے سے کون انکار کر سکتا ہے۔ نوا سۂ رسول (صلی اللہ علیہ و سلم ) حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) اور ان کے رفقا کے غم کے اظہار کے لیے اردو شاعر ی نے مرثیہ جیسی متا ثر کن اور زندۂ جاوید صنف کو زندہ کیا تو کیا خود سرورِ کائنات کے تئیں اظہار عقیدت کے لیے ’’نعت ‘‘ ایک آزاد صنفِ سخن قرار نہیں دی جا سکتی، اوروں کی رائے کچھ بھی ہو میری اپنی حتمی رائے ’’نعت ‘‘ کے اردو شاعری کی ایک لاثانی اور لافانی صنفِ سخن قرار دیے جانے کے حق میں ہے۔ ‘‘ (6)
ڈاکٹر شمس الر حمن فاروقی :
’’آپ نے حمد کو صنف سخن میں شمار کیا ہے اور صحیح شمار کیا ہے۔ اسی انداز کی چیز نعت بھی ہے یعنی یہ صنفِ سخن اس معنی میں ہے کہ اس کا موضوع متعین ہے اگرچہ ہیئت متعین نہیں۔ ملحوظ رہے کہ بعض اصناف موضوع سے زیادہ اپنی ہیئت سے پہچانی جاتی ہیں، جیسے غزل، رباعی۔ بعض اصناف میں ہیئت اور موضوع دونوں کی قید ہوتی ہے، جیسے قصیدہ۔ اور بعض اصناف صرف موضوع کی بنا پر پہچانی جاتی ہیں، مثلاً مرثیہ، حمد، نعت وغیرہ۔ لہٰذا نعت کو صنف قرار دینے میں کوئی قباحت نہیں۔ اسے ہمیشہ صنف ہی قرار دیا گیا ہے۔ ‘‘ (7)
لہٰذا تمام گراں قدر خیالات و نظریات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس طرح حمد، غزل، قصیدہ، مرثیہ، رباعی، مستزاد، مثنوی وغیرہ میں اصنافِ سخن کی ہیئت و ساخت کی واضح شکل نظر آتی ہے۔ نعت کی کوئی خاص ہیئت و ساخت کا تعین اب تک نہیں ہوسکا ہے۔ بہ ہر حال اسے غزل، مثنوی، قصیدہ، رباعی، قطعہ، مرثیہ، مستزاد، مسدس، مخمس، دوہا، ماہیا، سانیٹ، ترائیلے، ہائیکو، ثلاثی وغیرہ میں لکھا جا سکتا ہے۔ اس صنفِ سخن کی مقبولیت کا آج یہ عالم ہے کہ ادب کی ہر صنف میں شعرا نعتیہ کلام تحریر کر رہے ہیں اور اس کی آفاقیت اور عالم گیریت میں بہ تدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نعت اپنے ابتدائی دور میں قصیدے کے فارم میں کہی جاتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عربی کی شاعری میں جہاں نعت گوئی کا آغاز ہوا مافی الضمیر کے اظہار کے لیے قصیدے کی ہیئت رائج تھی، یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نعت عصری اور زمانی تقاضوں کی ہم مزاج صنف ہے کیوں کہ جس عہد میں جو صنفِ سخن مروج تھی اسی میں نعتیہ کلام تحریر کیا گیا۔ غزل چوں کہ ہماری شاعری کی مقبول صنف ہے اور ہردور میں اپنی داخلی خصوصیات اور ہیئت کے سبب پسندیدہ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ نعتیہ مضامین کے لیے بھی سب سے زیادہ غزل کی صنف ہی مستعمل رہی ہے۔ ساجد لکھنوی کے بہ قول:
’’ابتدائے اردو شاعری سے اگر آپ بہ نظر غائر مطالعہ کریں تو آپ کو پچانوے فی صد نعتیں غزل کے فارم میں ملیں گی۔ ‘‘ (8)
یہاں یہ کہنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ نعت گوئی کاسلسلہ اردو میں ابتدا ہی سے جاری ہے اردو کا غالباً ایک بھی شاعر خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم، سکھ ہویا عیسائی، یا کسی اور عقیدے کا ایسا نہ ملے گا کہ اس نے نعت نہ کہی ہو، یہ اردو کے اپنے مزاج اور تہذیب کی دین ہے۔ ذخیرۂ نعت کے مطالعہ کی روشنی میں یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ابتداء ً فارسی اور اردو میں لکھی گئی نعتیں زیادہ تر غزل کی ہیئت میں ہیں۔ پہلے ہی عرض کیا جا چکا ہے کہ نعت ایک موضوعی صنف ہے وہ کسی ایک ہیئت میں محصور نہیں رہی، بالخصوص اردو میں یہ قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، قطعہ، رباعی، نظم، معریٰ نظم، آزاد نظم، آزاد غزل، مخمس، مسدس، مثلث، مربع، ثلاثی، سانیٹ، ہائیکو، ترائیلے، ماہیے، دوہا، کہہ مکرنی وغیرہ تک میں لکھی جا رہی ہے اور اس لیے موضوعی تقدس کے شانہ بشانہ ہیئتی تنوع کے لحاظ سے بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ نعت سب سے زیادہ طاقت ور، مؤثر، نمایاں اور ممتاز صنفِ سخن ہے اور یہ صرف اپنے موضوعی تقدس اور اسلامی ارادت کی بنا پر ہی نہیں بلکہ اپنے شعری محاسن کی وجہ سے بھی بے مثال صنف تصور کی جاتی ہے۔
آج جب ہم ادب کے شعری اثاثے عموماً نعتیہ شاعری کا خصوصاً تحقیقی مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات مکمل طور پر عیاں ہو جاتی ہے کہ نعت گوئی ادب کی جملہ اصناف میں جاری و ساری ہے۔ ادب کی مختلف اصناف میں لکھے گئے نعتیہ کلام کی مثالیں ذیل میں خاطر نشین کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ غزل میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل اردو شاعری کی ایک ہر دل عزیز صنفِ سخن ہے۔ ہر دور میں شعرا نے اس صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ اردو شاعری کا بہت بڑا سرمایہ غزل کی شکل میں محفوظ ہے۔ غزل کے معنی ’’سخن با یار گفتن‘‘ کے ہیں۔ عشق و محبت غزل کے خمیر میں داخل ہے۔ لیکن غزل صرف محبت کے موضوعات ہی تک محدود نہیں۔ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس میں سماجی و سیاسی مسائل، فلسفہ و تصوف اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی ترجمانی موجود ہے۔
ظاہری ساخت کے اعتبار سے غزل کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، اسے مطلع کہا جاتا ہے۔ پہلے مطلع کے بعد آنے والے مطلع کو حُسنِ مطلع کہتے ہیں۔ آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص پیش کرتا ہے جسے مقطع کہتے ہیں۔ غزل کے تمام مصرعے کسی ایک بحر میں ہوتے ہیں اسی طرح شاعر کو قافیہ و ردیف کی پابندی بھی کرنی پڑتی ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مکمل اکائی ہوتا ہے جو جداگانہ مضامین کی عکاسی کرتا ہے۔
اردو شاعری کی ابتدا ہی سے غزل نے مقبولیت حاصل کر لی تھی اور تا حال اس میں کوئی فرق نہیں آیا ہے قلی قطب شاہ معانیؔ سے لے کر بانیؔ تک عوام و خواص میں غزل کی مقبولیت حیرت انگیز ہے۔ موجودہ زمانے میں فلم اور ٹی وی کے پھیلاؤ نے موسیقی میں غزل گایکی کو بھی خاصا رواج دیا اور عوام میں پسندیدہ بنا یا ہے۔
اس میں ولی، میرؔ ، سوداؔ ، انشاءؔ ، آتشؔ ، مصحفیؔ ، ناسخؔ ، ذوقؔ ، مومنؔ ، غالبؔ ، ظفرؔ ، داغؔ ، اکبرؔ ، اقبالؔ ، جوشؔ ، فراقؔ ، یگانہؔ ، حسرتؔ ، جگرؔ ، ریاضؔ ، اصغرؔ ، آرزوؔ ، تاباںؔ ، مجروحؔ ، جذبیؔ ، اخترؔ ، ناصرؔ ، شکیبؔ ، بانیؔ ، ظفرؔ اقبال، زیبؔ ، خلیلؔ ، اور نداؔ وغیرہ نے عہد بہ عہد نام پیدا کیا ہے۔ ان شعرا کی غزل کا مطالعہ زبان اور اس کے شعری برتاؤ کی تبدیلیوں اور غزل کی مختلف روایات کا مطالعہ بھی ہے۔
غزل ہر دور میں اپنی داخلی خصوصیات اور ہیئت کے سبب پسندیدہ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ نعتیہ مضامین کے لیے بھی سب سے زیادہ غزل کی صنف ہی مستعمل رہی ہے۔ بیشتر شعرا نے غزل ہی کے فارم میں نعتیں کہی ہیں ذیل میں مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوریؔ بریلوی کا غزل کی ہیئت میں تحریر کیا گیا نعتیہ کلام نشانِ خاطر کیجیے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
قفسِ جسم سے چھٹتے ہی یہ پرّاں ہو گا
مرغِ جاں گنبدِ خضرا پہ غزل خواں ہو گا
روز و شب مرقدِ اقدس کا جو نگراں ہو گا
اپنی خوش بختی پہ وہ کتنا نہ نازاں ہو گا
اس کی قسمت کی قسم کھائیں فرشتے تو بجا
عید کی طرح وہ ہر آن میں شاداں ہو گا
اس کی فرحت پہ تصدق ہوں ہزاروں عیدیں
کب کسی عید میں ایسا کوئی فرحاں ہو گا
چمنِ طیبہ میں تو دل کی کلی کھلتی ہے
کیا مدینہ سے سوا روضۂ رضواں ہو گا
آپ آ جائیں چمن میں تو چمن جانِ چمن
خاصہ اک خاک بسر دشتِ مغیلاں ہو گا
جانِ ایماں ہے محبت تری جانِ جاناں
جس کے دل میں یہ نہیں خاک مسلماں ہو گا
دردِ فرقت کا مداوا نہ ہوا اور نہ ہو
کیا طبیبوں سے مرے درد کا درماں ہو گا
نورِ ایماں کی جو مشعل رہے روشن پھر تو
روز و شب مرقدِ نوریؔ میں چراغاں ہو گا
اک غزل اور چمکتی سی پڑھو اے نوریؔ
دل جلا پائے گا میرا ترا احساں ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ قصیدہ میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
قصیدے کی ابتدا عربی شاعری سے ہوئی۔ عربی سے یہ صنفِ سخن فارسی شاعری میں پہونچی اور فارسی کے اثرسے اردو شاعری میں اس صنفِ سخن کو فروغ حاصل ہوا۔ قصیدہ ایک موضوعی صنفِ سخن ہے۔ جس میں کسی کی مدح یا ہجو کی جاتی ہے لیکن زیادہ تر قصائد مدح و توصیف ہی کی غرض سے لکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مناظرِ قدرت، پند و نصائح، معاشی بدحالی، سیاسی انتشار وغیرہ جیسے موضوعات بھی قصیدے میں بیان کیے جاتے ہیں، قصیدے کے اجزائے ترکیبی یہ ہیں۔ (1)تشبیب(2)گریز(3)مدح(4) دعا یا حُسنِ طلب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑیں : زُبان سے جو کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا شعر قصیدے کا مطلع کہلا تا ہے یہاں سے قصیدے کا پہلا جز تشبیب شروع ہوتا ہے۔ اس میں شاعر اپنے تعلق سے فخر و امتنان پر مشتمل اشعار کہتا ہے۔ دوسرا جز گریز جیسا کہ نام سے ظاہر ہے شاعر اپنی تعریف ترک کر کے ممدوح کی مدح و توصیف کی سمت رجوع کرتا ہے۔ اس کے بعد مدح کا مرحلہ آتا ہے جو تشبیب سے طویل تر ہوتا ہے اگرچہ ذوقؔ و غالبؔ کے قصیدوں میں مدح کے اشعار کم تعداد میں ملتے ہیں۔ حُسنِ طلب اس کے بعد کی منزل ہے جس میں قصیدہ خواں اپنے ممدوح کی جانب سے لطف و اکرام کی توقع ظاہر کرتا ہے، پھر ممدوح کے لیے دعا پر قصیدہ ختم ہو جاتا ہے۔ جس قصیدے میں اس کے تمام اجزائے ترکیبی موجود ہوں اور جس میں راست ممدوح سے خطاب کیا گیا ہو اسے خطابیہ قصیدہ کہتے ہیں۔ قصیدے میں یوں تو صرف مدح خوانی مقصود ہوتی ہے لیکن اکثر قصائد میں ہجویہ، واعظانہ، اور دوسرے بیانیہ مضامین بھی نظم کیے گئے ملتے ہیں۔ اس اعتبار سے انھیں مدحیہ، ہجویہ، واعظانہ وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ اردو میں سوداؔ ، انشائؔ ، ذوقؔ اور غالبؔ کے قصائد معروف ہیں۔ مدح و توصیف کے مقصد سے بعض شعرا نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و سلم ، خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم، اور دیگر اکابرِ دین کے بھی قصیدے لکھے ہیں جن میں مومنؔ ، محسنؔ ، رضاؔ بریلوی، عبدالعزیز خالدؔ اور بہت سے دوسرے نئے شعرا کے نام آتے ہیں۔ ذیل میں حضرت نوریؔ بریلوی کا صنفِ قصیدہ میں تحریر کیا گیا نعتیہ کلام خاطر نشین ہو ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
بہ خطِ نور اس در پر لکھا ہے
یہ بابِ رحمتِ ربِّ عُلا ہے
سر خیرہ جو اس در پر جھکا ہے
ادا ہے عمر بھر کی جو قضا ہے
مقابل در کے یوں کعبہ بنا ہے
یہ قبلہ ہے تو تُو، قبلہ نما ہے
یہاں سے کب کوئی خالی پھرا ہے
سخی داتا کی یہ دولت سرا ہے
جسے جو کچھ ملا جس سے ملا ہے
حقیقت میں وہ اس در کی عطا ہے
یہاں سے بھیک پاتے ہیں سلاطیں
اسی در سے انھیں ٹکڑا ملا ہے
شبِ معراج سے ظاہر ہوا ہے
رسل ہیں مقتدی تو مقتدا ہے
خدائی کو خدا نے جو دیا ہے
اسی در سے اسی گھر سے ملا ہے
شہ عرش آستاں اللہ اللہ!
تصور سے خدا یاد آ رہا ہے
یہ وہ محبوبِ حق ہے جس کی رویت
یقیں مانو کہ دیدارِ خدا ہے
رمی جس کی رمی ٹھہری خدا کی
کتاب اللہ میں اللہ رمیٰ ہے
ہَوا سے پاک جس کی ذاتِ قدسی
وہ جس کی بات بھی وحیِ خدا ہے
وہ یکتا آئینہ ذاتِ اَحد کا
وہ مرآتِ صفاتِ کبریا ہے
جہاں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ
جہاں شاہ و گدا سب کا ٹھیا ہے
کرم فرمایئے اے سرورِ دیں
جہاں منگتوں کی یہ پیہم صدا ہے
خزانے اپنے دے کے تم کو حق نے
نہ قاسم ہی کہ مالک کر دیا ہے
جسے جو چاہو جتنا چاہو دو تم
تمہیں مختارِ کل فرما دیا ہے
نہیں تقسیم میں تفریق کچھ بھی
کہ دشمن بھی یہیں کا کہہ رہا ہے
ضیائے کعبہ سے روشن ہیں آنکھیں
منور قلب کیسا ہو گیا ہے
مَے محبوب سے سرشار کر دے
اویسِ قرَنی کو جیسا کیا ہے
گما دے اپنی الفت میں کچھ ایسا
نہ پاؤں مَیں میں مَیں جو بے بقا ہے
عطا فرما دے ساقی جامِ نوریؔ
لبالب جو چہیتوں کو دیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ رباعی میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
رباعی اس نظم کو کہتے ہیں جس میں صر ف چار مصرع ہوں، پہلا، دوسرا اور چوتھا ہم قافیہ ہو، دوسرا شعر خصوصاً چوتھا مصرع نہایت بلند اور عجیب ہوتا کہ سننے والا متحیر ہو جائے۔ یوں تو چار مصرعوں میں ایک ہی مضمون قطعہ میں بھی بیان کیا جاتا ہے لیکن چار مصرعوں کے قطعے کے لیے کوئی عروضی وزن مخصوص نہیں جب کہ رباعی بحرِ ہزج کے چوبیس مخصوص اوزان میں کہی جاتی ہے۔ وزن کی قید کے باوجود رباعی میں اتنا تصرف جائز ہے کہ ایک ہی رباعی میں چاروں مصرعے چوبیس میں سے چار مختلف اوزان لے کر کہے جا سکتے ہیں۔ عروضیوں نے ’’لاحول ولا قوۃ الا باللہ ‘‘ کے وزن کو بھی رباعی کا وزن قرار دیا ہے۔
رباعی اور غزل کے موضوعات میں فرق صرف دو اور چار مصرعوں میں بیان کرنے کا ہے اگرچہ رباعی میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کا چوتھا مصرع ’’زور دار‘‘ ہو یعنی اس میں خیال کی بلندی پائی جائے کہ سننے والا متحیر ہو جائے۔
رباعی کی ایجاد کا سہرا فارسی شاعر رودکیؔ کے سر باندھا جاتا ہے۔ عمر خیامؔ نے صرف رباعیاں کہی ہیں جن کے سبب مشہورِ عالم شعرا میں اس کا شمار ہونے لگا۔ اردو میں یہ صنفِ شعر ابتدا ہی سے موجود ہے اور اس پر طبع آزمائی استادِ فن ہونے کے مترادف خیال کی جاتی ہے۔ میرؔ ، سوداؔ ، ناسخؔ ، انیسؔ ، دبیرؔ ، غالبؔ ، مومنؔ اور ذوقؔ سے لے کر امجدؔ ، جوشؔ ، فراقؔ ، یگانہؔ ، اکبرؔ ، اقبالؔ ، فانیؔ ، اخترؔ ، سہیلؔ اور رواںؔؔ وغیرہ شعرا نے رباعیاں کہی ہیں۔ ہمارے شعرا نے نعتیہ موضوعات کے اظہار کے لیے رباعی کا بھی سہارالیا چناں چہ اس میں نعتیہ کلام بہ کثرت ملتے ہیں۔ ذیل میں حضرت نوریؔ بریلوی کی نعتیہ رباعیاں خاطر نشین کیجیے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا تو یہ کہتی ہے سخن ور ہوں میں
ارے شعرا کا آج سرور ہوں میں
میں یہ کہتا ہوں یہ غلط ہے سوبار غلط
سچ تو ہے یہی کہ سب سے احقر ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
بدکار ہوں مجرم ہوں سیاہ کار ہوں میں
اقرار ہے اس کا کہ گنہ گار ہوں میں
بہ ایں ہمہ ناری نہیں نوری ہوں ضرور
مومن ہوں تو فردوس کا حق دار ہوں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ قطعہ میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
قطعہ کے معنی ٹکڑے کے ہوتے ہیں اصطلاحاً قصیدے یا غزل کی طرح مقفّا چند اشعار جن کا مطلع نہیں ہوتا اور جن میں ایک ہی مربوط خیال پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی قطعہ نظم نگاری کی ایک ہیئت ہے۔ قطعے میں کم سے کم دو اشعار ہونے چاہئیں زیادہ کی تعداد مقرر نہیں۔ اردو میں اقبالؔ ، چکبستؔ ، سیمابؔ اور جوشؔ وغیرہ کے قطعے مشہور ہیں۔ شعر ا نے قطعہ میں بھی نعتیہ موضوعات کو برتا ہے۔ حضرت نوریؔ بریلوی کا نعتیہ قطعہ ملاحظہ کیجیے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
کفش پا ان کی رکھوں سر پہ تو پاؤں عزت
خاکِ پا ان کی ملوں منھ پہ تو پاؤں طلعت
طیبہ کی ٹھنڈی ہوا آئے تو پاؤں راحت
قلبِ بے چین کو چین آئے تو جاں کو راحت
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ مرثیہ میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
مرثیہ عربی لفظ ’’رُثاء‘‘ بہ معنی ’’ مُردے پر رونا‘‘ سے مشتق ہے۔ قدیم ترین موضوعی صنفِ سخن ہے، دنیا بھر کی شاعری میں جس کے عمدہ نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہومرؔ کی ’’ایلیڈ‘‘، فردوسیؔ کی’’ شاہ نامہ‘‘ اور ویاسؔ کی ’’مہا بھارت‘‘ جیسی رزمیہ نظموں سے لے کر مرثیے کا سلسلہ واقعاتِ کربلا کے رزمیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ رزم میں کام آنے والے سورماؤں کے سوگ اور ماتم کے علاوہ مرثیہ بزرگانِ قوم، خویش و اقارب اور مشاہیر کی موت پر بھی لکھا گیا ملتا ہے۔ کربلا کو موضوع بنا کر کہے گئے مراثی کربلائی اور دیگر شخصیات پر کہے گئے مراثی شخصی مرثیے کہلاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : مجھ پر بڑا کرم ہے یہ رَب کی جناب کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو شاعری میں مرثیہ واقعاتِ کربلا کو موضوع بنا کر کہی گئی نظموں سے بہ طورِ صنف قائم ہوا قدیم دکنی شعرا اشرف بیابانیؔ ، محمد قطب شاہ قلیؔ ، ملاوجہیؔ ، غواصیؔ ، فائزؔ ، شاہیؔ ، کاظمؔ ، ابنِ نشاطیؔ ، ہاشمیؔ ، نصرتیؔ وغیرہ کے کلام کو مرثیے کا نقطۂ آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔ شمالی ہند میں بھی یہ روایت اسی زمانے میں اسماعیلؔ امروہوی، آبروؔ ، یک رنگؔ ، حاتمؔ ، مسکینؔ ، حزینؔ ، غمگینؔ ، فضلیؔ وغیرہ کے کلام میں ملتی ہے۔ میرؔ و سوداؔ نے مربع بندوں میں کثرت سے کربلائی مرثیے نظم کیے ہیں۔ اس ہیئت کے علاوہ مرثیہ مختلف ہیئتوں میں بھی لکھا گیا ہے لیکن لکھنوی شعرا نے اس صنف کے لیے مسدس کی ہیئت اختیار کر لی اور مسلسل تقلید نے جسے مرثیے کی روایت بنا دیا۔ میر ضمیرؔ ، میرانیسؔ اور مرزا دبیرؔ نے مرثیہ نگاری میں فن کارانہ اضافے کیے گویا انھیں پر اس صنف کا اتمام ہو گیا۔ جہاں دیگر اصناف میں نعتیہ کلام ملتے ہیں، وہیں مرثیہ میں بھی نعتیہ موضوع پر شعرا نے بند تحریر کیے ہیں، مرثیے میں نعتیہ بند کی مثال نشانِ خاطر کیجیے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
خواہاں نہیں یاقوتِ سخن کا کوئی گر آج
ہے آپ کی سرکار تو یا صاحبِ معراج
اے باعثِ ایجادِ جہاں، خلق کے سرتاج
ہو جائے گا دم بھر میں غنی بندۂ محتاج
امید اسی گھر کی، وسیلہ اس گھر کا
دولت یہی میری، یہی توشہ ہے سفر کا
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کیا ہوں، مری طبع ہے کیا، اے شہ شاہاں
حسّان و فرذوق ہیں یہاں عاجز و حیراں
شرمندہ زمانے سے گئے وائل و سحباں
قاصر ہیں سخن فہم و سخن سنج و سخن داں
کیا مدح کفِ خاک سے ہو نورِ خدا کی
لکنت یہیں کرتی ہیں زبانیں فصحا کی(9)
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ مستزاد میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظی معنی ’’اضافہ کیا گیا ‘‘، اصطلاحاً ایسی نظم، غزل یا رباعی کو کہتے ہیں جس کے ہر مصرع یا شعر کے بعد ایسا زائد ٹکڑا لگا ہو جو اسی مصرع یا شعر کی معنویت سے مربوط یا غیر مربوط اور مصرع سے ہم قافیہ یا غیر ہم قافیہ لیکن ہم وزن فقرے سے ہم قافیہ فقروں کا اضافہ کیا گیا ہو۔ اضافہ کیا گیا فقرہ اگر مصرعے سے مربوط نہ ہو تو اسے مستزادِ عارض اور مربوط ہو تو مستزادِ اَلزم کہتے ہیں۔ مستزاد میں اضافی فقروں کی تعداد متعین نہیں یعنی یہ ایک سے زائد ہوسکتے ہیں۔ اس صنف میں نعتیہ کلام کا نمونہ امام احمد رضا بریلوی کے مجموعۂ کلام ’حدائقِ بخشش‘ سے خاطر نشین کیجیے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا
تجھے حمد ہے خدایا
تمہیں حاکمِ برایا، تمہیں قاسمِ عطایا
تمہیں دافعِ بلایا، تمہیں شافعِ خطایا
کوئی تم ساکون آیا
یہی بولے سدرہ والے، چمنِ جہاں کے تھالے
سبھی میں نے چھان ڈالے، ترے پائے کا نہ پایا
تجھے یک نے یک بنایا
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ مثنوی میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
مثنوی اس نظم کو کہتے ہیں جس میں شعر کے دونوں مصرعے میں قافیہ آئے اور ہر شعر کے دونوں مصرعوں کے قافیے الگ الگ ہوں۔ محققین اسے ایرانیوں کی ایجاد بتاتے ہیں۔ عربی میں یہ صنف نہیں پائی جاتی البتہ رجز اس سے ملتی جلتی صنف ہے۔ شبلیؔ کہتے ہیں کہ رجز کو دیکھ کر ایرانیوں نے مثنوی ایجاد کی جو ایک ہیئتی صنف ہے جس میں کسی بھی موضوع کا اظہار کیا جا سکتا ہے اگرچہ مخصوص معنوں میں اسے عشقیہ منظوم داستان تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں ابیات کی تعداد متعین نہیں۔ یہ چند ابیات سے لے کر سیکڑوں ابیات پر مشتمل ہو سکتی ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کی ہر بیت معنوں میں نا مکمل ہو یعنی تمام ابیات مل کر خیال و موضوع کی اکائی تشکیل دیں۔ ’’بوستانِ سعدی‘‘ کی حکایات مختصر مثنویاں ہیں جب کہ مولانا رومؔ کی ’’مثنوی‘‘ طویل ترین مثنوی خیال کی جاتی ہے۔ اردو میں بھی عشقیہ مثنویوں کے ساتھ فلسفیانہ، واعظانہ اور اخلاقی مثنویاں بہ کثرت موجود ہیں۔
عام طور سے رزمیہ مثنوی کے لیے بحرِ متقارب اور بزمیہ کے لیے بحرِ ہزج یا بحرِ سریع مستعمل ہے۔ مثنوی کے عناصر یہ ہیں۔
(1) حمد و نعت (2) مدح فرماں روائے وقت (3) تعریفِ شعر وسخن (4) قصد یا اصل موضوع (5) خاتمہ۔ بہت سے مثنوی نگاروں نے ان روایتی پابندیوں سے انحراف کیا ہے۔ حمد و نعت جس کا التزام عام طور سے شعرا کرتے ہیں، میرؔ اور سوداؔ کی ہجویہ مثنویاں ان سے بھی خالی ہیں۔ جہاں تک مثنوی کے مضامین اور موضوعات کا تعلق ہے تو اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ مذہبی واقعات، رموزِ تصوف، درسِ اخلاق، داستانِ حُسن و محبت، میدانِ کارزار کی معرکہ خیزی، بزمِ طرب کی دل آویزی، رسوماتِ شادی، مافوق الفطرت کے حیرت زا کارنامے سبھی کچھ مثنویوں کا موضوع ہیں۔ اس طرح مثنوی کے مضامین میں بڑی وسعت اور ہمہ گیری ہے۔
اردو میں کلاسیکی اور روایتی شاعری اس صنف سے مالامال ہے۔ میراںؔ جی، نظامیؔ ، اشرف بیابانیؔ ، جانمؔ ، عبدلؔ ، ملاوجہیؔ ، غواصیؔ ، مقیمیؔ ، نصرتیؔ ، ابن نشاطی، سراجؔ ، شفیقؔ ، جعفرؔ زٹلی، فائزؔ ، آبروؔ ، حاتمؔ ، اثرؔ ، میرؔ ، سوداؔ ، انشاءؔ ، مومنؔ اور شوقؔ وغیرہ کی مثنویاں مشہور ہیں۔ مثنوی نگار شعرا میں میر حسنؔ کے حصے میں جو مقبولیت اور شہرت آئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اردو مثنوی کی تاریخ میرحسنؔ کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ علاوہ ازیں غالبؔ نے فارسی میں کئی مثنویاں لکھی ہیں اور اردو میں ایک مختصر مثنوی ’’در صفتِ انبہ‘‘۔ حالیؔ ، اقبالؔ اور جوشؔ کا کلام بھی اس سے خالی نہیں۔ ترقی پسند شعرا میں سردار جعفری نے ’’نئی دنیا کو سلام ‘‘ اور جدید شعرا میں قاضی سلیم نے ’’باغبان و گل فروش‘‘لکھ کر روایتی ہیئت میں اس صنف پر طبع آزما ئی کی ہے۔ حمد و نعت تو مثنوی کے عناصر میں شامل ہیں، ذیل میں مشہور مثنوی نگار میرحسنؔ کی مثنوی سے نعتیہ اشعار پیش ہیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
نبی کون یعنی رسولِ کریم
نبوت کے دریا کا دُرِّ یتیم
ہُوا گو کہ ظاہر میں اُمّی لقب
پَہ علمِ لدُنی کھلا دل پہ سب
کیا حق نے نبیوں کا سردار اُسے
بنایا نبوت کا حق دار اُسے
محمد کے مانند جگ میں نہیں
ہوا ہے نہ ایسا، نہ ہو گا کہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ دوہا میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندی شاعری کی مشہور صنفِ سخن ہے۔ جس میں دو ہم قافیہ مصرعوں میں ایک مکمل خیال نظم کیا جاتا ہے۔ اسے دوہرا بھی کہتے ہیں۔ دوہا نگاری میں بعض محققین خسروؔ اور بوعلی قلندرؔ کو اولیت کا درجہ دیتے ہیں۔ دوہا نگاری زیادہ تر ہندی اور علاقائی بولیوں میں ہوتی تھی لوک ادب میں دوہا ان دونوں شعرائے کرام سے پہلے بھی مقبول تھا۔ ہندوی میں کبیرؔ ، گرونانکؔ ، شیخ فریدؔ شکر گنج، ملکؔ محمد جائسی، تلسیؔ داس، سور داسؔ ، خان خاناںؔ ، رسکھانؔ ، ملاداودؔ ، سہجوؔ بائی، دَیاؔ بائی، میراؔ بائی، بہاریؔ ، ورندؔ وغیرہ کے دوہے مشہور ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : زمانے حق کی اطاعت کے طلب گار ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشہور ناقد نظامؔ صدیقی کے بہ قول اردو دوہا نگاری کے بانی اردو دوہوں کے اوّلین مجموعہ ’’پریٖت کی ریٖت‘‘کے شاعر خواجہ دلؔ محمد ہیں۔ نظیرؔ ، جلیلؔ مرزا خانی، جمیل الدین عالیؔ ، الیاس عشقیؔ ، تاجؔ سعید، پرتَوؔ روہیلہ، عادل فقیرؔ ، جمیلؔ عظیم آبادی، مشتاقؔ چغتائی، عبدالعزیزخالدؔ ، بھگوان داس اعجازؔ ، مناظر عاشقؔ ہرگانوی، جگن ناتھ آزادؔ ، نادمؔ بلخی، بیکلؔ اُتساہی، نداؔ فاضلی وغیرہ اردو دوہا نگاری کے اہم نام تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس صنف میں بیش تر شعرا نے نعتیں تحریر کی ہیں نادمؔ بلخی کے دونعتیہ مجموعے اس صنف میں ہیں۔ بیکلؔ اُتساہی کے یہاں بھی نعتیہ دوہے بہ کثرت ملتے ہیں، ذیل میں بیکلؔ کے نعتیہ دوہے ملاحظہ ہوں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
صدقہ مرے رسول کا بٹتا ہے چہو اور
گدا شاہ سب ایک ہیں کوئی تور نہ مور
۔۔۔۔۔۔۔۔
زُلفوں سے خوشبو بٹے چہرے سے انوار
اُن کے پاؤں کی دھول سے عرش و فرش اُجیار
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رب کا محبوب ہے سب اُس کی املاک
ہم سب اُس کے داس ہیں ہم کو کیا ادراک
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ ماہیا میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہیا ایسے مختصر گیت کو کہتے ہیں جس میں ہجر و فراق کے دردو آلام کا ذکر کیا گیا ہو۔ ماہیا مفعول مفاعیلن /فاع مفاعیلن/مفعول مفاعیلن کے وزن میں تین تین مصرعوں کے بندوں میں کہا جا تا ہے۔ یہ صنف اردو شاعری میں بھی مقبول ہے۔ اردو میں جگن ناتھ آزادؔ ، ظہیرؔ غازی پوری، نادمؔ بلخی، شارقؔ جمال، بھگوان داس اعجازؔ ، بیکلؔ اُتساہی، پرکاشؔ تیواری، ستیہ پال آنندؔ ، احسن امام احسنؔ وغیرہ کے ماہیے مشہور ہیں۔ دیگر اصناف کی طرح صنفِ ماہیا میں بھی نعتیہ کلام بہ کثرت ملتے ہیں، اس صنف میں بیکلؔ اُتساہی کا نعتیہ کلام ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
رحمت کا اشارا ہے
اِک نامِ شہِ طیبہ
جیٖنے کا سہارا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شافعِ محشر ہیں
سرکار کے قدموں پر
ماں باپ نچھاور ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
اشکوں سے ضیا کیجے
پھر نعتِ نبی بیکلؔ
دھڑکن سے لکھا کیجے
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ سانیٹ میں نعت (Sonnet)
۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظی معنی ’’صوتِ مختصر ‘‘ سانیٹ اطالوی ادب کی صنفِ سخن ہے جس میں ایک مضمون کو چودہ مصرعوں میں بیان کیا جاتا ہے اور بحر مخصوص ہوتی ہے۔ لیکن اردو سانیٹ کے لیے کوئی مخصوص بحر نہیں ہے۔ حنیف کیفیؔ کے بہ قول اردو شاعری میں سانیٹ انگریزی کے اثر سے داخل ہوا لیکن ایک صنفِ سخن کی حیثیت سے نہیں بل کہ جدت پسندی کے اظہار کے لیے اور نئے تجربے کی حیثیت سے۔ اردو سانیٹ کی ابتدا کے تعلق سے کیفیؔ نے ن۔م راشد کے حوالے سے لکھا ہے کہ اردو میں پہلا سانیٹ اخترؔ جونا گڑھی نے لکھا اور دوسرا خود راشدؔ نے جو راشدؔ وحیدی کے نام سے شائع ہوا۔ عام خیال یہ ہے کہ اخترؔ شیرانی نے سانیٹ کو اردو میں متعارف کرایا۔ تصدق حسین خالدؔ ، احمد ندیم قاسمیؔ ، تابشؔ مہدی، منظرؔ سلیم وغیرہ نے بھی سانیٹ لکھے ہیں۔ ان کے بعد عزیزؔ تمنائی نے اس ہیئت میں شاعری کا ایک پورا مجموعہ ’’برگِ نو خیز‘‘ کے نام سے شائع کرایا ہے۔ اس صنف میں بھی نعتیں لکھی جا رہی ہیں، نادمؔ بلخی اور علیم صباؔ نویدی کے اس صنف پر مشتمل دو نعتیہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ علیمؔ صاحب کا ایک نعتیہ سانیٹ ذیل میں خاطر نشین ہو ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
گرد آلود بدن تھے ہر طرف
صورتوں پر تیرہ بختی کے نقوش
زندگی میلی دشاؤں کی شناخت
غیر سنجیدہ فضاؤں کی شناخت
نسلِ آدم کا مقدر چاک چاک
بدنما، بے رنگ ارادے خوف ناک
دور تک پھیلے تھے پستی کے نقوش
تیرگی عریاں کھڑی تھی صف بہ صف
جلوہ فرما جب ہوئے شاہِ ہدیٰ
صورتوں میں صورتیں پیدا ہوئیں
رحمتوں پر نیتیں شیدا ہوئیں
اور منور ہو گئے ارض و سما
جسم کو تہذیب کی خوشبو ملی
زندگانی نور افشاں ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ ہائیکو میں نعت Haiku
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہا ئیکو جاپانی صنفِ سخن ہے جو سترہ ہجاؤں اور تین سطروں میں کہی جاتی ہے اس کی پہلی اور تیسری سطر میں پانچ پانچ اوردوسری سطرمیں سات ہجائیں ہوتیہیں جن میں ایک مکمل خیال یا لفظی پیکر تشکیل دیا جاتا ہے اور اس کا خاتمہ ہمیشہ کسی اسم پر ہوتا ہے۔ اردو میں پہلی بار(1936ء)’’ساقی‘‘ کے جاپان نمبر میں اس کے نمونے سامنے آئے، پھر مختصر نظم نگاری کے رجحان نے بہت سے شعرا کو ہائیکو لکھنے کی ترغیب دی اور اردو مزاج کے مطابق بے شمار ہائیکو لکھے گئے جن میں کبھی اصل کی تقلید کی گئی اور کبھی آہنگ کی دھن میں قافیے بھی نظم کر دیے گئے۔ اردو میں علیمؔ صبا نویدی، نادمؔ بلخی، بیکلؔ اُتساہی، ساحلؔ احمد، شبنمؔ سنبھلی، فرازؔ حامدی، ظہیرؔ غازی پوری، شارقؔ جمال، وغیرہ کے ہائیکو مشہور ہیں۔ بیکلؔ نے جہاں دیگر اصناف میں نعتیں تحریر کی ہیں، وہیں اس صنف میں بھی آپ کا نعتیہ کلام ملتا ہے، ذیل میں نعتیہ ہائیکو ملاحظہ ہو ؎
قرآں کی آیات
دل سے پڑھیے تو لگتی ہے
پیارے نبی کی نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
جیٖنے کا احساس
روئے تمنّا جگمگ جگمگ
ذکرِ نبی کی آس
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ ثلا ثی میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے مثلث اور تثلیث بھی کہتے ہیں۔ ثلاثی تین مصرعوں پر مشتمل شعری ہیئت ہے جو مختلف اوزان و بحور اور مختلف نظامِ قوافی کے استعمال سے کسی مکمل خیال کا اظہار کرتی ہے۔ پرانی شاعری میں تین تین مصرعوں پر مشتمل بندوں کی طویل نظمیں پائی جاتی ہیں۔ نئی شاعری میں ثلاثی کے نام سے صرف تین مصرعے ایک مکمل نظم کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ ثلاثی کے تین مصرعے آزاد بھی ہوسکتے ہیں اور پابند بھی۔ اردو میں حمایت علی شاعرؔ ، حمیدالماسؔ ، عادلؔ منصوری، محمد علویؔ ، رشیدافروزؔ ، ساحلؔ احمد، علی ظہیرؔ وغیرہ کی اکثر نظمیں ثلاثی میں ہیں۔ اس صنف میں بھی نعت گو شعرا نے بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا ہے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
شغلِ ذکرِ حبیب
ہے خدا کی قسم
ہر مرَض کا طبیب (10)
۔۔۔۔۔۔۔۔
خارزاروں کو لالہ زار کیا
مصطفی کی نگاہ نے ارشدؔ
جلتے صحرا کو برف بار کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
صنفِ ترائیلے میں نعت: (Troilet)
۔۔۔۔۔۔۔۔
فرانسیسی ادب کی ایک معروف صنفِ سخن ہے۔ جو آٹھ مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے اور جس میں پہلے مصرعے کی تکرار چوتھے اور ساتویں مصرعے کی جگہ اور دوسرے مصرعے کی تکرار آٹھویں مصرعے کی جگہ کی جاتی ہے تیسرا اور پانچواں مصرع پہلے مصرعے کے اور چھٹا مصرع دوسرے مصرعے کے قافیے میں لکھا جاتا ہے۔ اردو میں نریش کمار شادؔ ، فرحت کیفیؔ اور روف خیرؔ وغیرہ نے اس صنف میں نظمیں کہیں ہیں۔ مذکورہ صنف میں نعتیہ کلام ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
بشیر و نذیر و سراجِ منیر
رسولِ مکرّم خدا کے حبیب
دو عالم کی رحمت، خدا کے سفیر
بشیر و نذیر و سراجِ منیر
پیامیِ توحیدِ ربِّ قدیر
وہ آئے تو جاگے ہمارے نصیب
بشیر و نذیر و سراجِ منیر
رسولِ مکرّم خدا کے حبیب(11)
۔۔۔۔۔۔۔۔
کہہ مکرنی میں نعت
۔۔۔۔۔۔۔۔
کہہ مکرنی میں عورتوں کی زبان سے کوئی بات بیان کی جاتی ہے جس میں ایک سے معشوق مراد ہوتا ہے اور دوسری سے کچھ اور۔ اس کا قائل معشوق کی بات کہہ کر مکر جاتا ہے کہہ مکرنیوں کو سکھیاں اور مکرنیاں بھی کہتے ہیں۔ یہ امیر خسروؔ کی پسندیدہ صنف تھی اس میں بھی نعتیہ کلام کے نمونے ملتے ہیں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیں وہ رب کے بڑے دُلارے
ہم کو بھی ہیں جان سے پیارے
کوئی نہیں ہے اُن کا ہم قد
کیا جبریل ؟
نہیں ، محمّد!(12)
۔۔۔۔۔۔۔۔
آزاد نظم میں نعت: (Free Verse)
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی نظم جو کسی روایتی شعری ہیئت کی پابند ی نہیں کرتی اس میں مقررہ تعداد میں مصرعوں کے بند نہیں ہوتے لیکن بحر و وزن کی اتنی پابندی ضرور ہوتی ہے کہ کسی وزن کا کوئی رکن منتخب کر کے اس کی تکرار کی جائے اس نظم میں مصرعے کا روایتی تصور مفقود ہونے کے سبب سطر (یا سطروں ) کو معیار مانا جاتا ہے سطریں بالعموم چھوٹی بڑی ہو تی ہیں جن کی طوالت کا انحصار خیال کی وسعت پر ہوتا ہے ویسے حقیقی آزاد نظم کا تصور محال ہے جو کسی فنی پابندی کو قبول نہیں کرتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : جس دل میں بس گئی ہے محبت رسول کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزاد نظم مغربی شاعری کی دین ہے جس کے ابتدائی آثار بائبل میں شامل ’’نغماتِ سلیمان‘‘ اور زبور کے انگریزی تراجم میں ملتے ہیں۔ فرانسیسی شعرا نے انیسویں اور انگریزی شعرا نے بیسویں صدی میں اسے شعری اظہار کے لیے اپنایا۔ بادلئیرؔ ، والٹ وھٹمنؔ ، ہاپکنزؔ ، ایلیٹؔ ، لارنسؔ اور بہت سے مغربی شعرا نے اسے خوب ترقی دی۔ اردو میں آزاد نظم انھیں کی تقلید میں کہی گئی۔ راشدؔ ، میراجیؔ ، فیضؔ اور اخترالایمانؔ اردو آزاد نظم سے منسوب اہم نام مانے جاتے ہیں۔ جدید شاعری کا بڑا حصہ اسی میں تخلیق کیا گیا ہے اور چھوٹے بڑے ہر جدید شاعر کے یہاں اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ کلیم الدین احمد نے لکھا ہے کہ آزاد نظم لکھنا پابند نظم لکھنے سے زیادہ دشوار ہے۔ اس صنف میں ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی کی ایک نعت بہ طورِ مثال خاطر نشین ہوں ؎
بحرِ ظلمت میں یا محمّد ( صلی اللہ علیہ و سلم )
ہے آپ ہی کا بس اک سہارا
فیوضِ شبنم کی خنکیوں سے
عذار گل ہے
لگی ہے پت جھڑ سے
آگ غم میں
اندھیرا بڑھتا ہی جا رہا ہے
جو آشکارا ہے یا پیمبر ( صلی اللہ علیہ و سلم )
ہم عاصیوں کے تم ہی مسیحا
تمہارے دم سے ہے ضو فشانی (13)
مذکورہ بالا تحقیقی جائزے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نعت کی کوئی مخصوص ہیئت متعین نہیں ہے۔ لیکن اس کی مقبولیت اور آفاقیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ادب کی جملہ اصناف میں نعتیہ کلام ملتے ہیں۔ شعرا ے کرام نے بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر صنفِ شاعری کو برتا ہے۔ غزل، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، رباعی، قطعہ، مسدس، مخمس، مربع، ثلاثی، مستزاد، دوہا، ماہیا، سانیٹ، ہائیکو، کہہ مکرنی، ترائیلے، آزاد نظم وغیرہ میں نعتیہ کلام بہ کثرت ملتے ہیں جو نعت کی بے پناہ مقبولیت اور ہمہ گیریت پر دال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) مکتوب ظہیر غازی پوری، محررہ 28؍مئی 2000ء
(2) مکتوب ڈاکٹر سید وحید اشرف، محررہ 3؍جون 2000ء
(3) مکتوب ڈاکٹر سید طلحہ رضوی برقؔ داناپوری، محررہ 28؍مئی2000ء
(4) مکتوب ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی، محررہ 25؍مئی 2000ء
(5) مکتوب ظہیر غازی پوری، محررہ 28؍مئی 2000ء
(6) مکتوب ڈاکٹر محبوب راہی، محررہ 23 ؍ مئی 2000ء
(7) مکتوب ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی، محررہ 23؍ جولائی2008ء
(8) مکتوب ظہیر غازی پوری، محررہ 28؍مئی 2000ء
(9) سلیم شہزاد :فرہنگِ ادبیات، منظر نما پبلشرز، مالیگاؤں، 1998ء، ص 711
(10) دو ماہی گلبن: نعت نمبر، جنوری /اپریل 1999ء، احمد آباد، ص 42
(11) دو ماہی گلبن: نعت نمبر، جنوری /اپریل 1999ء، احمد آباد، ص 42
(12) دو ماہی گلبن: نعت نمبر، جنوری /اپریل 1999ء، احمد آباد، ص 42
(13) دو ماہی گلبن: نعت نمبر، جنوری /اپریل 1999ء، احمد آباد، ص 182
(نوٹ: اس باب میں اصنافِ سخن کی تعریفیں زیادہ تر مشہور محقق و ناقد سلیم شہزاد
صاحب کی مرتبہ فرہنگِ ادبیات سے لی گئی ہیں، مُشاہدؔ ۔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
و: ضمائر کا استعمال
۔۔۔۔۔۔۔۔
نعت گوئی کے فن میں ضمائر یعنی ’تو ‘ اور ’تم‘ کا استعمال اور ان کے مراجع کا تعین ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ضمائر کا استعمال حد درجہ سلیقہ اور قرینہ کا متقاضی ہے اس لیے کہ ضمائر کے استعمال میں اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کون سی ضمیر کس ذات کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور اس کا تعلق عبد سے ہے یا معبود سے، نیز اسی کے ساتھ یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ کس ضمیر کا مرجع کیا ہے۔ نعت میں ضمائر کے استعما ل سے زیادہ توجہ اور احتیاط اس کے مرجع کے تعین میں دامن گیر ہوتی ہے۔ بہ ہر حال! نعت میں ضمائرکا استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن مکمل حزم و احتیاط کے ساتھ کہ معنی و مفہوم تخریب کاری کے شکار نہ ہوں ورنہ عبد کا اطلاق معبود پراور معبود کا اطلاق عبد پر ہو جائے گا جس سے دنیا و آخرت کی تباہی و بربادی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔ امیرؔ مینائی کا یہ شعر دیکھیں جس میں مرجع اور مُشارُُ الیہ کا تعین سمجھ میں نہیں آتا ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
پاک تھی رنگِ دو رنگی سے وہ خلوت گہہِ خاص
وہی شیشہ، وہی مَے خوار تھا معراج کی شب
۔۔۔۔۔۔۔۔
امیرؔ مینائی کا یہ شعر اس امر کا اشاریہ ہے کہ قابَ قوسین کی خلوتِ گاہِ خاص میں دو نہ تھے بل کہ صرف ایک ہی ذات تھی۔ وہی ذات شراب کی بوتل، وہی ذات شراب پینے والی تھی۔ مصرعۂ اولیٰ کے لفظ’’وہ ‘‘ کا مرجع اور مُشارُُ الیہ کون سی ذات ہے واضح طور پر پتہ نہیں چلتا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات ہے یا اللہ جل شانہ کی۔ امیرؔ مینائی کا ’’وہی ‘‘ سے خدا کی طرف اشارہ ہے یا حبیبِ خدا کی جانب، یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ غرض مرجع اور مُشارُُ الیہ کے مجہول استعمال سے شعر ایک پہیلی بن کر رہ گیا ہے۔ خدا کو رسولِ خدا کا منصب دینا یا رسولِ خدا کو خدا کے مقام پر فائز کرنا یا دونوں کو ایک ہی قرار دینا دونوں ہی صورتیں قابلِ گرفت ہیں۔ نیز خدا اور حبیبِ خدا کو شیشہ و شراب اور مَے خوار جیسے سوقیانہ الفاظ سے تشبیہ دینا ادب و احترام کے یک سر خلاف ہے۔ چناں چہ آدابِ نعت میں یہ بات پیشِ نظر رکھنا شاعر کے لیے از حد ضروری ہے کہ وہ رسولِ کونین صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے جس صفت یا ضمائر کا استعمال کر رہا ہے وہ ادب اور احترام سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو، تاکہ کسی بھی طرح سے نعت کا تقدس اور پاکیزگی مجروح نہ ہوسکے۔ عربی اور فارسی کے بجائے اردو لسانیات کا یہ ایک توصیفی پہلو ہے کہ اس میں معظم اور مکرم شخصیتوں کے لیے ضمیرِ تعظیمی (آپ)کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے ممدوح کا علوئے مرتبت ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے نعت میں ضمائر ’’تو ‘‘ اور ’’تم‘‘ سے اجتناب برتنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ لیکن یہاں یہ امر ذہن نشین رہے کہ جن بزرگ شعرا نے رسولِ کونین صلی اللہ علیہ و سلم کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے نعتیہ کلام میں ضمائر کا استعمال کیا ہے انھیں شریعت سے بے خبر اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کا بے ادب اور گستاخ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جیسا کہ استاذِ محترم پروفیسر ڈاکٹر اشفاق انجم نے نعت میں ضمائر سے متعلق جو اظہارِ خیال کیا ہے اُس سے جید اکابرِ امت پر ضرب پڑتی ہے۔ موصوف راقم ہیں :
’’ آج بھی اکثر شعرا سید الثقلین، حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو ’’تو‘‘ سے مخاطب کرتے ہیں، میری نظر میں یہ گستاخی کی انتہا ہے‘‘(1)
محترم ڈاکٹر اشفاق انجم نے نعت میں ضمائر ’’تو‘‘ ۔۔’’تم‘‘ اور اس کی اضافی صورتوں کے استعمال کو بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم میں گستاخی سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن ہمیں حیرت ہوتی ہے موصوف کے مجموعۂ کلام کے نام ’’صلوا علیہ و آلہٖ‘‘ پر کہ اس میں ’’علیہ‘‘ ضمیر واحد غائب ہے جس کے معنی ہوتے ہیں ’’اُس‘‘ ۔۔ اِس طرح اگر نعت میں ضمائر ’’تو‘‘ ۔۔’’تم‘‘ اوراس کی اضافی صورتوں کا استعمال استاذِ محترم ڈاکٹر اشفاق انجم کے نزدیک بارگاہِ نبوی علیہ الصلاۃ والتسلیم میں گستاخی ہے تو موصوف خود اس کے مرتکب ہو رہے ہیں !۔۔
یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم نعت میں ضمائر کے استعمال کی وکالت کر رہے ہیں۔ بل کہ ہمارا مقصود یہ ہے کہ لسانی ترقی کا دائرہ جب تک محدود رہا تو جن شعرا نے نعت میں ضمائر کا استعمال کیا انھیں گستاخ اور بے ادب قرار دینا سراسر انصاف و دیانت کے منافی ہے۔ خود محترم ڈاکٹر اشفاق انجم کی مرقومہ ’’مناجات بہ واسطۂ صد و یک اسمائے رسولِ کریم ‘‘ کے چند اشعار نشانِ خاطر کریں جس میں آپ نے ضمائر ’’تو‘‘۔۔’’ تم‘‘ اور اس کی اضافی صورتوں کا استعمال کیا ہے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
مدد اے شفیعِ امم المدد
کہ گھیرے ہیں رنج و الم المدد
تم ہی ہو ولی و نبی و رسول
شفیق و شکور و حبیب و وصول
تمہی داعی و ہادی و ہاشمی
تمہی بالغ و صادق و ابطحی
تمہارے کرم سے ہوں میں نام دار
جلائے گی کیا مجھ کو دوزخ کی نار
ہو جنت میں ایسی جگہ گھر مرا
تمہیں دیکھوں ہر دم حبیبِ خدا
(اشفاق انجم، ڈاکٹر:روزنامہ انقلاب، ممبئی، جمعہ میگزین، بہ تاریخ 1؍ جنوری 2010ئ، ص10)
۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر اشفاق انجم کی اس مناجات سے استغاثہ و فریاد کا جو پُر سوز انداز مترشح ہوتا ہے اس سے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم میں آپ کی مخلصانہ عقیدت و محبت عیاں ہوتی ہے۔ اس مناجات میں آپ نے ضمائر ’’تو‘‘۔۔’’تم‘‘ اور اس کی اضافی صورتیں استعمال کی ہیں، لیکن کہیں بھی معنی و مفہوم کا عمل ادب و احترام کے تقاضوں سے دور نہیں ہوا ہے۔ جب انجم صاحب خود ضمائر کا استعما ل کر رہے ہیں تو انھیں چاہیے کہ اپنے فرمانِ والا شان پر نظر ثانی فرما لیں۔
اس کے علاوہ نعت میں ضمائر کے استعمال سے متعلق ڈاکٹر اشفاق انجم ہی سے ملتا جلتا خیال ڈاکٹر ملک زادہ منظورؔ نے اپنے ایک مضمون مشمولہ ماہنامہ ’’مظہرِ حق‘‘ بدایوں کے ’’تاج الفحول نمبر‘‘ میں ظاہر فرمایا ہے موصوف لکھتے ہیں :
’’ اچھے نعتیہ کلام کے حسن میں اس وقت اور اضافہ ہو جاتا ہے جب شاعر احترام و ادب کے سارے لوازمات کو ملحوظِ خاطر رکھے اور اسی سیاق وسباق میں الفاظ و محاورات، صنائع و بدائع اور ضمائر کا استعمال کرے۔ چوں کہ اردو زبان میں کلمہ تعظیمی بہت زیادہ مستعمل ہیں اس لیے نعتیہ کلام میں ’’تو ‘‘ اور ’’تم‘‘ قابلِ اجتناب ہو جاتے ہیں جو شعرا شریعت کے رموز و نکات سے واقفیت رکھتے ہیں وہ ان کی جگہ ’’وہ‘‘، ’’اُن‘‘ اور ’’آپ‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ‘‘(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : اردوئے معلیٰ پہ موجود نعتیہ اشعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر ملک زادہ منظورؔ کی محولہ بالا عبارت سے نعت لکھتے وقت ضمائر کا خیال کس طرح رکھا جائے پورے طور پر واضح ہو گیا ہے لیکن مذکورہ عبارت اس بات کا اشاریہ بھی ہے کہ جو شعرا اپنے نعتیہ کلام میں ’’تو‘‘ اور ’’تم‘‘ اور اس کی اضافی صورتوں کا استعمال کرتے ہیں گویا وہ شریعتِ مطہرہ کے اسرار و نکات سے یک سر ناواقف ہیں اور یہ کہ یہ ضمیریں نعت میں استعمال کرن ا ایک طرح کا سوئے ادب اور گستاخی ہے۔ جب کہ اردو کا کوئی بھی ایسا شاعر نہیں ہو گا جس نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم میں کمالِ ادب و احترام ملحوظ رکھنے کے باوجود ان ضمائر کا استعمال نہ کیا ہو۔ قواعد کی رُو سے ان ضمائر ’’تو‘‘ اور ’’تم‘‘ کا جب تحقیقی جائزہ لیتے ہیں تو جامعہ اشرفیہ مبارکپور کے رکنِ مجلسِ شوریٰ و معروف ادیب ڈاکٹر شکیل اعظمی ’’تو‘‘، تم‘‘ اور ’’تیرا‘‘ وغیرہ ضمائر کی تحقیق کرتے ہوئے اس طرح رقم طراز ہیں :
’’تو، تم، تیرا، وغیرہ اگرچہ لغۃً ضمیرِ مخاطب اور کلمۂ خطاب ہے جو ادنا کی طرف کیا جاتا ہے۔ فارسی میں ’’تو‘‘ اور ’’شما‘‘عربی میں ’’انت‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ’’ انتم‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ’’لک‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ’’ بک‘‘ وغیرہ ایک ہی انداز سے استعمال ہوتے ہیں خواہ مخاطب ادنا اور کمتر درجے کا ہو یا اعلا اور برتر درجے کا۔ لیکن اردو میں تو، تیرا، تم جیسے کلماتِ خطاب و ضمائرادنا اور کمتر درجے کے لئے مستعمل ہیں لیکن یہ معاملہ صرف نثر تک ہی محدود ہے، نظم میں معاملہ اس سے مختلف ہے۔
چناں چہ قواعدِ اردو از مولوی عبدالحق میں صاف درج ہے کہ نظم میں اکثر مخاطب کے لیے ’تو‘ لکھتے ہیں یہاں تک کہ بڑے بڑے لوگوں اور بادشاہوں کو بھی اسی طرح خطاب کیا جاتا ہے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
بعد شاہانِ سلف کے ’تجھے‘ یوں ہے تفضیل
جیسے قرآن پسِ توریت و زبور و انجیل
(ذوقؔ دہلوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا پر کروں ختم اب یہ قصیدہ
کہاں تک کہوں ’تو‘ چنیں و چناں ہے
(میرؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ لغوی اعتبار سے’ تو ‘اور’ تیرا‘ کے الفاظ کم تر درجے والوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں لیکن اہلِ زبان پیارو محبت کے لیے بھی ان کا استعمال کرتے ہیں اور کسی بھی زبان میں اہمیت اہلِ زبان کے محاورات اور استعمالات ہی کو حاصل ہوتی ہے اس لیے نعتِ پاک میں ان کا استعمال قطعاً درست ہے اور اس میں کسی طر ح کی بے ادبی اور شرعی قباحت نہیں۔ ‘‘ (3)
واضح ہو کہ نعت میں بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے ادب و احترام کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے ضمائر ’تو ‘اور’ تم‘ اور ان کی اضافی صورتوں کا استعمال بلاشبہ کیاجا سکتا ہے اور نعت میں ضمائر کا استعمال کرنے والے بزرگوں اور نعت گو شعرا کو بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کا بے ادب اور گستاخ قرار نہیں دینا چاہیے۔ بہ طورِ مثال مشہور و معروف اور مستند شعرا کے نعتیہ اشعار جن میں ’تو، تیرا، تم، تجھ وغیرہ ضمائر کا استعمال کیا گیا ہے ملاحظہ ہو ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
کھینچوں ہوں نقصانِ دینی یا رسول
’تیری‘ رحمت ہے یقینی یا رسول
(میر تقی میرؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تم‘ شہ دنیا و دیں ہو یا محمد مصطفیٰ
سر گروہِ مرسلیں ہو یا محمد مصطفیٰ
(نظیرؔ اکبر آبادی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
واللیل ’تیرے‘ گیسوے مشکیں کی ہے قسم
والشمس ہے ’ترے‘ رُخِ پُر نور کی قسم
(بہادر شا ہ ظفرؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
حشر میں امّتِ عاصی کا ٹھکانہ ہی نہ تھا
بخشوانا ’تجھے‘ مرغوب ہوا، خوب ہوا
(داغؔ دہلوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہے
امّت پہ ’تری‘ آ کے عجب وقت پڑا ہے
(حالیؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
جھلکتی ہے ’تری‘ امّت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
شیرازہ ہوا ملّتِ مرحوم کا ابتر
اب ’تو‘ ہی بتا ’تیرا‘ مسلمان کدھر جائے
(ڈاکٹر اقبالؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
’ترے‘ روضے کو مسجودِ زمین و آسماں کہیے
عبادت خانۂ عالم، مطاعِ دوجہاں کہیے
(محسنؔ کاکوروی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تو‘ جو چاہے ارے او مجھ کو بچانے والے
موجِ طوفانِ بلا اُٹھ کے سفینہ ہو جائے
(ریاضؔ خیرآبادی )
۔۔۔۔۔۔۔۔
دل جس سے زندہ ہے وہ تمنّا ’تمہیں ‘ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا ’تمہیں ‘ تو ہو
(ظفرؔ علی خان)
۔۔۔۔۔۔۔۔
زینت ازل کی ’تو‘ ہے تو رونق ازل کی ’تو‘
دونوں میں جلوہ ریز ہے ’تیرا‘ رنگ و آب
(سائل دہلوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
’ترے‘ کردار پہ دشمن بھی انگلی رکھ نہیں سکتا
’ترا‘ اخلاق تو قرآن ہی قرآن ہے ساقی
(ماہرؔ القادری )
۔۔۔۔۔۔۔۔
سلام اے ظلِ رحمانی سلام اے نورِ یزدانی
’ترا‘ نقشِ قدم ہے زندگی کی لَوحِ پیشانی
(حفیظؔ جالندھری)
۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کی مشکل میں ’تری ‘ ذات نہ آڑے آئی
’تیرا‘ کس پر نہیں احسان رسولِ عربی
(بیدمؔ وارثی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے آقا رسولِ محترم خیر الورا ’تم‘ ہو
خدائی بھر کے داتا شافعِ روزِ جزا ’تم‘ ہو
(جذبیؔ بریلوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تری‘ پیمبری کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے
بخشا گدائے راہ کو ’تو‘ نے شکوہِ حیدری
(جوشؔ ملیح آبادی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
حمیدِؔ بے نوا پر بھی کرم ہو
مُسلَّم ہے ’ترا‘ فیضِ دوامی
(حمیدؔ صدیقی لکھنوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے ’تری‘ ذات باعثِ تخلیقِ دوعالم
جھکتے ہیں ’ترے‘ در پر جہاں گیر و جہاں دارا
(شورشؔ کاشمیری)
۔۔۔۔۔۔۔۔
کُنتُ کنزاً سے ہویدا ہے حقیقت ’تیری‘
نور بے کیف کا آئینہ ہے صورت ’تیری‘
(عزیزؔ صفی پوری)
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تو‘ حبیبِ ربِّ جلیل ہے، ’تری‘ عظمتوں کا جواب کیا
’تو‘ ضیائے شمعِ خلیل ہے، ’تری ‘ رحمتوں کا جواب کیا
(شعریؔ بھوپالی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
’ترے ‘نام سے ہے سکونِ دل، ’ترا‘ ذکر وجہِ قرار ہے
’تری‘ یاد پر شہِ بحر و بر، مری زندگی کا مدار ہے
(نفیسؔ لکھنوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
رخشندہ ’ترے‘ حسن سے رخسارِ یقیں ہے
تابندہ ’ترے‘ عشق سے ایماں کی جبیں ہے
(صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔
کعبہ ہے زاہد کا قبلہ، میں تو ہوں ’تیرا ‘ عاشقِ شیدا
قبلہ مرا ’ترے ‘ ابروئے پُر خم، صلی اللہ علیک و سلم
(آسیؔ سکندرپوری )
۔۔۔۔۔۔۔۔
دستگیری اب ’تری‘ درکار ہے
ہے فقیرِؔ خستہ مضطر الغیاث
(فقیرؔ بدایونی)
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم سے عشق و محبت اور ادب و احترام خانوادۂ رضا بریلوی کا طرۂ امتیاز ہے، امام احمد رضا محدثِ بریلوی اور ان کے فرزندِ ارجمند مفتیِ اعظم علامہ مصطفیٰ رضا نوریؔ بریلوی بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے وہ نعت گو شعرا ہیں کہ جن کی مثیل و نظیر شاید ہی کہیں ملے۔ ان شمع رسالت کے پروانوں اور مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کے دیوانوں کے شعر شعر میں شرعی و لسانی حزم و احتیاط کے وہ جلوے پنہاں ہیں جو کسی اور کے یہاں شاذونادر ہی پائے جاتے ہوں ان واقفانِ علمِ شریعت اور محافظانِ ناموسِ رسالت نے بھی اپنے نعتیہ کلام میں ’’تو، تیرا، تم‘ وغیرہ ضمائر کا بلا تکلف استعمال فرمایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : کون جانے کس بلندی پر مرے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چناں چہ امام احمد رضا بریلوی نے اپنے مشہور و معروف نعتیہ مجموعۂ کلام ’’ حدائقِ بخشش‘‘ میں جو پہلی نعت درج کی ہے اس کی ردیف ہی ’’تیرا‘‘ ہے ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا ’تیرا‘
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا ’تیرا‘
’تو‘ جو چاہے تو ابھی میل مرے دل کے دُھلیں
کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا ’تیرا‘
’تیرے ‘ ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ ’تیرا‘
’تو‘ نے اسلام دیا ’تو‘ نے جماعت میں لیا
’تو‘ کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ ’تیرا‘
’تیری‘ سرکار میں لاتا ہے رضاؔ اُس کو شفیع
جو مرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا ’تیرا‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوریؔ بریلوی کے نعتیہ کلام میں ضمائر کا بہ کثرت استعمال ہوا ہے۔ مگرضمائر کے مراجع اور مُشارُُ الیہ میں کہیں بھی مجہول انداز نہیں دکھائی دیتا، کلامِ نوریؔ میں ضمائر کا استعمال بڑے حسن و خوبی اور سلیقہ و قرینہ سے کیا گیا ہے کہ کہیں بھی اس کے مرجع کے تعین میں کسی طرح کی کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
ضیا بخشی ’تری‘ سرکار کی عالم پہ روشن ہے
مہ و خورشید صدقہ پاتے ہیں پیارے ’ترے‘ در کا
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تو‘ ہے رحمت، بابِ رحمت ’تیرا‘ دروازہ ہوا
سایۂ فضلِ خدا سایہ ’تری‘ دیوار کا
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تو‘ اگر چاہے ملے خاک میں سلطانِ زماں
’تیرا‘ بندہ کوئی ’تو‘ چاہے تو سلطاں ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت نوریؔ بریلوی کے متذکرہ بالا اشعار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے ادب و احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اس حسن و خوبی کے ساتھ ضمائر کا استعمال کیا ہے کہ مرجع و معنی کے تعین و تفہیم میں کسی طرح کی کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی اور عبد و معبود کا واضح فرق نظر آتا ہے، مرجع اور مُشارُُ الیہ میں معقولیت کے سبب شعر فہمی میں دقت کا احساس نہیں ہوتا۔ کلامِ نوریؔ سے ضمائر کے استعمال کی مزید مثالیں نشانِ خاطر ہوں ؎
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تیرا‘ دیدارِ کرم رحمِ مجسم ’تیرا‘
دیکھنی ہو جسے رحماں کے کرم کی صورت
۔۔۔۔۔۔۔۔
مالکِ کل کے ’تم‘ ہو نائب، سب ہے ’تمہارا‘ حاضر و غائب
’تم‘ ہو شہود و غیبت والے، صلی اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیک و سلم
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر ذرہ پر ’تیری‘ نظر ہے، ہر قطرہ کی ’تجھ‘ کو خبر ہے
ہو علمِ لدنی کے ’تم‘ دانا، صلی اللہ علیک و سلم
۔۔۔۔۔۔۔۔
بہارِ جاں فزا ’تم‘ ہو، نسیمِ داستاں ’تم‘ ہو
بہارِ باغِ رضواں ’تم‘ سے ہے زیبِ جناں ’تم‘ ہو
حبیبِ ربِّ رحماں ’تم‘ مکینِ لامکاں ’تم‘ ہو
سرِ ہر دوجہاں ’تم‘ ہو شہ، شاہنشہاں ’تم‘ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تمہارے‘ فیض سے لاٹھی مثالِ شمع روشن ہو
جو ’تم‘ لکڑی کو چاہو تیز تر تلوار ہو جائے
’تمہارے‘ حکم کا باندھا ہوا سورج پھرے اُلٹا
جو ’تم‘ چاہو کہ شب دن ہوا بھی سرکار ہو جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔
’تم‘ آئے چھٹی بازی رونق ہوئی پھر تازی
کعبہ ہوا پھر کعبہ کر ڈالا تھا بت خانہ
کیوں زلفِ معنبر سے کوچے نہ مہک اُٹھیں
ہے پنجۂ قدرت جب زلفوں کا ’تری‘ شانہ
ہر پھول میں بو ’تیری‘ ہر شمع میں ضو ’تیری‘
بلبل ہے ’ترا‘ بلبل پروانہ ہے پروانہ
پیتے ہیں ’ترے‘ در کا کھاتے ہیں ’ترے‘ در کا
پانی ہے ’ترا‘ پانی دانہ ہے ’ترا‘ دانہ
میں شاہ نشیں ٹوٹے دل کو نہ کہوں کیسے
ہے ٹوٹا ہوا دل ہی مولا ’ترا‘ کاشانہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے
دافعِ غم ’تمہاری‘ دہائی ہے
’تم‘ نے کب آنکھ ہم کو دکھائی ہے
’تم‘ نے کب آنکھ ہم سے پھرائی ہے
’تو‘ خدا کا ہوا اور خدا ’تیرا‘
’تیرے‘ قبضے میں ساری خدائی ہے
تاج رکھا ’ترے‘ سر رفعنا کا
کس قدر ’تیری‘ عزت بڑھائی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا اشعار میں بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے ادب و احترام اور تعظیم و توقیر کے جملہ لوازمات کے ساتھ ضمائر کو نہایت طریقے اور سلیقے کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ لہٰذا مذکورہ مثالوں سے کلّی طور پر واضح ہو گیا کہ حضرت نوریؔ بریلوی نے بھی ضمائر کی زبان میں نعت نگاری کی ہے۔ لیکن زمامِ حزم و احتیاط کو مکمل طور پر ملحوظِ خاطر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کا کلام اپنی قادرالکلامی اور انفرادیت کی آئینہ داری کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں : معروف نعت گو شاعر ریاض مجید کا یوم پیدائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاصلِ مطالعہ یہ کہ نعت میں ضمائر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سلیقہ مندی سے کہ معنی و مفہوم کسی بھی طرح کی تخریب کاری کے شکار نہ ہوں اور نعت کے جملہ لوازمات کا احترام بھی باقی رہے۔ ہاں ! وہ شعرائے کرام جنھوں نے لسانی ترقی کے ہوتے اپنی نعتوں میں ضمائر ’’تو، تم تیرا ‘‘ اور اس کی شکلیں کی بجائے ضمیرِ تعظیمی ’’آپ‘‘ کا استعمال کیا ہے اور کر رہے ہیں وہ بلا شبہ لائقِ تحسین و آفرین ہیں۔ آج جب کہ زبان کا دائرہ وسعت اختیار کر چکا ہے تو نعت نگار شعرا کو چاہیے کہ نعت میں ضمیرِ تعظیمی کا ہی استعمال کریں تو بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی
۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) اشفاق انجم، ڈاکٹر: پیش لفظ صلو ا علیہ وآلہ، ۔۔(2)ماہنامہ اشرفیہ : ستمبر2000ء مبارک پور، ص43
(3)ماہنامہ اشرفیہ : ستمبر2000ء مبارک پور، ص48/
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

’’ گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘
’’محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں ‘‘
’’درِ احمد پہ اب میری جبیٖں ہے‘‘
کوئی نبیؐ نہیں سلطانِ انبیا کی طرح
’’رہے گا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گا‘‘
’’میں تری رحمت کے قرباں اے مرے امن و اماں ‘‘
’’ڈوبے رہتے ہیں تری یاد میں جو شام و سحر‘‘
’’جہاں بانی عطا کر دیں بھری جنت ہبہ کر دیں ‘‘
بچائیں گے تری ہم آن گنبدِ خضرا

اشتہارات