پروفیسر جلیل عالی : فن، شخصیت اور خدمات ماہ و سال کے آئینے میں

پروفیسر جلیل عالی
محترم جلیل عالی کا شمار پاکستان کے معروف شعراء اور ادباء میں ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہاں جہاں اردو بولی ، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے ، وہاں وہاں ان کی شہرت و مقبولیت کی خوشبو پہنچ چکی ہے ۔ وہ محض جدید لہجے کے شاعر نہیں ، ان کا اپنا ایک شعری انداز اور طرز احساس ہے۔یہ انداز بیاں ان کی پہچان بناہواہے ۔آپ انہیں پورے اعتماد کے ساتھ کثیر الجہت ادبی شخصیت قرار دے سکتے ہیں۔ ادیب ، دانشور، نقاد اور اردو ادبیات کے استاد کی حیثیت سے انہوں نے اپنے رنگ دکھائے بھی ہیں اورخوب جمائے بھی ہیں۔وہ یہ ضرور کہتے اور سمجھتے ہیں کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائرہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ استاد کبھی ریٹائرنہیں ہوتا۔ وہ علم کے موتی لٹا تارہتا ہے اور اس کی گواہی آپ کو ان کا ادبی سفر بھی دیتا دکھائی دے گا جو زورشور سے جاری ہے۔
———-
جلیل عالی جی سے میری پہلی ملاقات راولپنڈی آرٹس کونسل میں 1982میں ہوئی تھی ، جہاں میرے والد بزرگوارسید فخرالدین بلے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر تھے۔ جلیل عالی صاحب بھی ان کے پاس آتے رہتے تھے۔ اور ان کی ادبی تنظیم کی محفلیں بھی بسا اوقات راولپنڈی آرٹس کونسل ہی میں سجا کرتی تھیں ۔ وہ میرے والد بزرگوار کے قدردان تھے اور میرے والد ان کے ساتھ ساتھ ادب دوستوں کا کھلی بانہوں سے استقبال کرتے تھے۔ پھرراولپنڈی سے تبادلہ ہونے کے بعد ہماری فیملی ملتان آبسی اوراس کے دوسال بعد جلیل عالی صاحب نے اپنا اولین شعری مجموعہ خواب دریچہ میرے والد کو بھیجا ۔ اس کتاب نے ادبی حلقوں میں تہلکہ مچائے رکھا ۔ جلیل عالی صاحب جادہء ادب پر اپنے گہرے نقوش ثبت کرتے رہے ۔ داد و تحسین سمیٹتے رہے ۔پھرمحترم خاور اعجاز صاحب ان کا شعری انتخاب لفظ مختصر سے مِرے کے زیرعنوان کتابی شکل میں سامنے لائے ۔ جلیل عالی عرض ِ ہنر سے آگے بھِی دیکھتے نظرآئے۔ان کایہ شعری مجموعہ بھی ادبی حلقوں میں بڑا مقبول ہوا۔ میں نے ان کا نور نہایا رستہ بھی دیکھا ہے۔ادبی جرائد میں ان کی شعری تخلیقات چھپتی رہتی ہیں اورادب دوست گھر بیٹھے ان کے کلام اور کام سے مستفید ہورہے ہیں۔ عصر حاضر کے بڑے بڑے نقاد ان کے گُن گاتے نظرآتے ہیں ۔
———-
یہ بھی پڑھیں : ثنائے ربِ جلیل ہے اور روشنی ہے
———-
جلیل عالی جی کا کیسا رہا سفر ؟ اسی پر ڈالنے کیلئے ایک نظر ، میں نےکچھ جھلکیاں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی تصانیف اور تالیفات کےذکر کے ساتھ ساتھ آپ ان کے کلام سےبھی فیضیاب ہوسکیں گے ۔ کسی شخصیت کو جانے اور سمجھے بغیر اس کے ادبی زاویوں ، تخلیقی جہتوں اور فکری وسعتوں کی معنوی تفہیم ممکن نہیں ۔اسی لئے میں نے ان کے سوانحی خاکے کے خدو خال اجاگرکرنے کیلئے چند سطریں سپرد ِ قرطاس و قلم کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کے فنی اور تخلیقی سفر کاجائزہ لینا میرا منصب نہیں ، وہ بڑی قدآور شخصیت ہیں ،البتہ اتنا ضرور کہناچاہوں گاکہ عالی جی نے بہت سی اصناف میں اپنے تخلیقی جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی نعتوں میں تعشق ، غزلوں میں تغزل ، نظموں میں ترفع ، فکر میں تعمق اور مضامین میں تنوع اور تلون دامن ِ دل و نگاہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے
(ظفر معین بلے جعفری)۔
———-
جلیل عالی (تمغۂ امتیاز)
(شاعر،نقاد،ایجوکیشنسٹ،سوشیالوجسٹ،اقبال شناس)
———-
( کوائف)
———-
پورا نام۔ محمد جلیل عالی ؛ پیدائش۔ 12 مئی 1945 (ویروکے) امرتسر ،بھارت
تعلیم۔ ایم۔اے اُردو 1967 ، ایم۔اے سوشیالوجی 1969 پنجاب یونیورسٹی لاہور
پیشہ۔ تدریس ۔ ایف جی ڈگری کالج واہ کینٹ 1970 سے 1978 تک
ایف جی سر سید ڈگری کالج مال روڈ راولپنڈی 1979 تا 2002
ریٹائرمنٹ۔ 2002 بطور صدرِ شعبہ اُردو ایف۔ جی سر سیّد کالج مال روڈ راولپنڈی
———-
اضافی سرکاری خدمات۔
———-
• رکن گورننگ باڈی اقبال اکادمی پاکستان
• رکن مجلسِ عاملہ اقبال اکادمی پاکستان
* رکن اشاعتی کمیٹی اکادمی ادبیات پاکستان
* رکن فروغ پیامِ اقبال کمیٹی اقبال اکادمی پاکستان
* سابق رکن بورڈ آف سٹڈیز شعبۂ اُردو پنجاب یونیورسٹی لاہور
* سابق رکن کورس کمیٹی شعبۂ اُردو فیڈرل انٹرمیڈئیٹ بورڈ اسلام آباد
* رکن مجلسِ زبانِ دفتری ضلع راولپنڈی
* رکن رائٹرز ویلفئیرکمیٹی راولپنڈی پنجاب گورنمنٹ
(۵) مدیر ’’ محور ‘‘ میگزین پنجاب یونیورسٹی لاہور(1968تا1969)
مدیر “شفق” ایم اے او کالج لاہور میگزین 1964 تا 1965
———-
تصا نیف و تالیفات۔
———-
* خواب دریچہ ( شعری مجموعہ) 1984
* شوق ستارہ ( شعری مجموعہ) 1998
* عرضِ ہنر سے آگے ( شعری مجموعہ) 2007 (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ 2007 ) ، (رائٹرز گلڈ ایوارڈ 2005 تا 2007 کا بہترین شعری مجموعہ)
* لفظ مختصر سے مرے ( انتخاب کلامِ جلیل عالی از خاور اعجاز 2016)
* نور نہایا رستہ ( مجموعۂ نعت) دسمبر 2018 (اوّل سیرت انعام ہجری 1440)
* شعری دانش کی دُھن میں (تنقیدی مضامین) نومبر 2021
* پاکستانی ادب (شعری انتخاب برائے اکادمی ادبیاتِ پاکستان) 2002
* پاکستانی اد ب (شعری انتخاب برائے اکادمی ادبیاتِ پاکستان) 2005
زیرِ ترتیب و اشاعت کتابیں۔
• قلبیہ (اردو نظمیں)
* ایک لہر ایسی بھی ( اردو غزلیں)
* عشق دے ہور حساب(پنجابی شعری مجموعہ )
———-
تحسین و انتقاد۔
———-
* جلیل عالی کی شاعری کا فکری و فنی مطالعہ ( مقالہ برائے ایم۔فل ازاشفاق احمد علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ) اگست 2012
* جلیل عالی ، شخصیت اور غزل، خواب دریچہ اور شوق ستارہ کے حوالے سے (مقالہ برائے ایم۔اے اردو از عبدالقدوس نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگو ئجز) 2001
* جلیل عالی کی نعت نگاری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ ( مقالہ برائے ایم ۔اے اردو از صدف شفیق ۔شعبۂ اردو ادبیات یونورسٹی آف ایجوکیشن فیصل آباد کیمپس) 2016
* جلیل عالی کی تنقید نگاری مقالہ برائے ایم فل از سائرہ بی بی مانسہرہ یونیورسٹی
* جلیل عالی کی شاعری میں نعتیہ عناصر مقالا برائے ایم فل از نائلہ جیلانی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی (زیرِ تکمیل)
* جلیل عالی کی شخصیت و فن پر ماہنامہ ’’ بیاض‘‘ لاہور کا خصوصی شمارہ اپریل 2001
* جلیل عالی کی شاعری پر خصوصی گوشہ ماہنامہ ’’ نیرنگِ خیال‘‘ راولپنڈی سالنامہ 2009
* جلیل عالی کے فکر و فن پر خصوصی حصہ ماہنامہ ’’ سیّارہ‘‘ لاہور 2010
———-
یہ بھی پڑھیں : اے شہ انس و جاں جمال جمیل
———-
* مؤقر ادبی جریدوں میں جلیل عالی کے فن پر 175 سے زیادہ تنقیدی مضامین شائع ہو چکے ہیں
———-
اعزازات۔
———-
ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی (بہ سلسلہ اقبال میلہ لاہور 9 نومبر تا 17 نومبر 2019)
سیرت ایوارڈ اوّل برائے نعت ” نور نہایا رستہ”سن ہجری 1440
* صدارتی تمغۂ امتیاز (شاعری) 2016
* “بیاض” خالد احمد لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ 2018
* “اشارہ انٹرنیشنل” لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ 2019
• ایکسیلینس ایوارڈ برائے ادب عالمی اکادمی ادبیات یو ایس اے 2017
• غزل کا بہترین شاعر بہ مطابق سروے امیریکن اردو سرکل 2016
* احمد ندیم قاسمی ادبی ایوارڈ (شاعری) 2007 برائے ’’ عرضِ ہُنر سے آگے‘‘
* رائٹرز گلڈ ادبی ایوارڈ (شاعری)2005 تا 2007 برائے’’ عرضِ ہُنر سے آگے‘‘ ۔
* تخلیقی تسلسل ایوارڈ ( نظم) 2007 از ماہنامہ ’’ بیاض ‘‘ لاہور
* میاں محمد ادبی ایوارڈ (شاعری) 2005
* لائف ٹائم اچیومینٹ ادبی ایوارڈ سخن ساز راولپنڈی 2019
* وثیقۂ اعتراف برائے ادبی خدمات (شاعری ) از انجمن نوائے ادب راولپنڈی
* رکن مجلسِ عاملہ حلقۂ اربابِ ذوق اسلام آباد ۔
* سابق رکن مجلسِ عاملہ حلقۂ اربابِ ذوق راولپنڈی ۔
* جلیل عالی کے پچیس کے قریب انٹرویو مختلف اخبارات اور ادبی پرچوں میں شائع ہو چکے ہیں
* جلیل عالی کے کئی سمعی و بصری انٹرویو یو ٹیوب پر موجود ہیں
* جلیل عالی کا کلام گانے والے ؛ استاد حامد علی خان،استاد حسین بخش گُلو،استاد ذاکر حسین،استاد محمد صدیق ، استاد فیاض اورگلوکار خلیل حیدر
———-
دیگر مصروفیات
———-
مطالعۂ کتب،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لیکچر دینا ،ادبی تنظیموں کی تقریبات ،ریڈیو اور مختلف ٹیلی ویژن چینلوں کے ادبی، تہذیبی، سماجی اورفکری مذاکروں میں شرکت کرنا
پروفیسر جلیل عالی صاحب کے شعری مجموعوں سے منتخب کردہ چند شاہکار نعتیں ص ، منقبت ، سلام ، غزلیات اور نظمیں ملاحظہ فرمائیے ۔
———-
نعوتِ مبارکہ : ختم المرسلین سردارالانبیا ٕ حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
———-
صدیوں کے فاصلوں پہ بھی کون بھُلا سکا تجھے
تڑپے ترے لئے حرا یاد کرے منٰی تجھے
عقدہ کشانِ دہر کی حد سے بڑھے جو بے بسی
بہرِ جوابِ آخری کرتے ہیں رہنما تجھے
ارض و سما میں کون ہے جو تری ہمسری کرے
عظمتِ کبریا کے بعد سب نے کہا بڑا تجھے
اپنی مصیبتوں میں بھی تیری وہ دردمندیاں
آئے جب ابتلا کوئی دیتے ہیں دل صدا تجھے
تیرا خلوص با وضو روح عبادتوں کی تُو
آیتیں خود پڑھیں تجھے سجدے کریں ادا تجھے
منصبِ خاص کے لئے وصف وہ پاس تھے ترے
رنج ہوئے رجا تجھے درد ہوئے دوا تجھے
عزمِ عظیم تر ترا ایسا اثر نواز تھا
جیشِ عدو بکھر گیا مل گئے ہمنوا تجھے
دونوں جہاں ملے اُسے تیری ولا جو جی گیا
اپنی نظر سے بھی گیا جس نے بھلا دیا تجھے
اتنا کسے لکھا گیا اتنا کسے پڑھا گیا
جتنا لکھا گیا تجھے جتنا پڑھا گیا تجھے
———-
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر جمیل الدین عالی کا یومِ وفات
———-
بہت حیران ہو ہو کر زمانہ دیکھتا ہے
محمدؐ سے محبت کا یہ کیسا سلسلہ ہے
کسی مجہول محور کے طواف اندر نہیں دل
خدا جو مصطفٰے کا ہے وہی اپنا خدا ہے
خدائے دو جہاں کے بعد کس کی بادشاہی
سرِ کون و مکاں اک اسمِ احمدؐ گونجتا ہے
اُسیؐ کے دَم سے قائم ہے رَم و رفتارِ ہستی
اُسیؐ کے نم سے باغِ دہر کی نشو و نما ہے
زمانے سن! امیرِ بدر کے ہم لشکری ہیں
ہمارے حوصلوں کی لَو رضائے کِبریا ہے
شعورِ خیر و شر سے دُور ہو سکتا نہیں دل
سرِ دیوارِ جاں آئینۂ سیرتؐ سجا ہے
کسی لمحے قضا ہوتی نہیں ہے یاد اُسؐ کی
وہؐ رگ رگ میں سمایا ہے وہؐ سانسوں میں بسا ہے
طلب کرتے ہیں اُس چشمِ کرم سے نورِ رحمت
کہ اپنے چاند تارے کو کوئی گہنا رہا ہے
ہم اُس کوچے سے نسبت کی خوشی کیسے سنبھا لیں
ہمارا نام اُس کے خار و خس میں آگیا ہے
———-
خُلق(ص) جب خیر کو نکلا ہوتا
سر پہ اک ابر کا سایا ہوتا
ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے اشجار
اس(ص) کو جس رہ سے گزرنا ہوتا
حُکمِ تازہ کے لیے وقت سدا
اُس(ص) کی دہلیز پہ بیٹھا ہوتا
نبضِ ایّام پہ انگلی رہتی
اور جیسا بھی وہ(ص) کہتا ہوتا
جان جاتا وہ(ص)بیاں سے پہلے
دل میں سائل نے جو سوچا ہوتا
وہ(ص)جو دھرتا نہ قدم دھرتی پر
قہر اِس دہر میں کیا کیا ہوتا
اس(ص)کے منہ سے جو نکلتا کچھ اور
کیا سمجھتے ہو نہ ہوتا! ہوتا!
آدمی ربط جو رکھتا اُس(ص)سے
ایسے اندر سے نہ ٹوٹا ہوتا
رہنما اُس(ص) کو خرد جو کرتی
حل نہ پھر کون سا عقدہ ہوتا
مطلعِ مہرِ رسالت(ص)کے بغیر
کب شبِ غم کا سویرا ہوتا
موجِ مدحت سے ہوا ہے گلزار
ورنہ سینہ وہی صحرا ہوتا
اُس(ص) کے شایاں جسے کہتے عالی
کاش اک شعر تو ایسا ہوتا
———-
وہ دل زمینوں میں
فصلِ صدق و صفا اُگاتا ہوا تکلّم
میانِ غیب و حضور
بابِ مکالمت کھولتی خموشی
وجود اور ماورا کو
اک دوسرے میں پہچانتی نگاہیں
ہوا سے
رفتار کے توازن کا بھید کہتا
خرامِ موزوں
وہ ریگ زارِ حیات کی
سب جہات کو
پھول پھول کرتا ہوا تبسّم
رُتوں کی لوحوں پہ
شرحِ حسن و جمال لکھتی
وہ نُور پوریں
بجھے بجھے سے نصیب تاروں میں
جگمگاتی بشارتیں بانٹتی
وہ پیشانیِ درخشاں
شبِ الم کے ملول طاقوں میں
دردِ دل کے
دِئیے جلاتی شفیق پلکیں
کڑے دنوں کی تپی دوپہروں
نہالِ جاں کو
اماں میں لیتے کریم گیسو
وہ دشتِ احساس میں
بھٹکتے تلاش لمحوں کو
منزلوں کا سراغ دیتے
نقوشِ پا کے چمکتے پرچم
وہ خوف و نفرت کی
سب فصیلوں کو توڑتی
چار دانگ میں دُور دُور تک پھیلتی محبت
خیال خاروں ،
خبر خساروں کے جنگلوں میں
وہ خیر خوشیوں کے
جاگتے راستے بناتی ہوئی بصیرت
وہ شوق سینوں میں سانس لیتا
بھلے زمانوں ،
کھرے جہانوں کا خوابِ روشن
———-
یہ بھی پڑھیں : ذرۂ ناچیز کیا یہ وہ شہِ عالم کہاں
———-
منقبت مولائے کائنات امام المتقین سردار الآئمہ حضرت علی ابن ابی طالب ع
———-
اک بار نہیں ، سو بارعلی
یوں سانسوں بِیچ اتار علیؓ
رگ رگ ہو لہو رفتار علیؓ
جو دل جیتے جاں گرمائے
گفتار! علیؓ ، کردار! علیؓ
توصیف کو ہو بے تاب قلم
یوں چھیڑے دل کے تار علیؓ
خوشبوئے محبت سب کے لئے
باطل پہ تنی تلوار علیؓ
جب ذات کی بات نکلتی ہو
کرتا ہے کہاں پھر وار علیؓ
جس شرکت میں شک شرک کا ہو
اُس شرکت کا انکار علی
سب سوچ سوالوں کے بیڑے
پل بھر میں لگا دے پار علی
حل کر دے آنکھ جھپکنے میں
کیا کیا عقدے دشوار علی
جب ٹھہرا علم کا دروازہ
ہر دانش کا معیار علیؓ
گر فکر کو فیض بنانا ہو
ہر نکتے پر درکار علیؓ
تاریخ کو جو تہذیب کرے
وہ قدرت کا اسرار علیؓ
جس مکتب کے استاد نبیؐ
اُس مکتب کا شہکار علیؓ
ہر شوق شعور ظہور اُس کا
ہر سوچ سخن اظہار علیؓ
اِس نام سے قوت ملتی ہے
اک بار نہیں سو بار علیؓ
———-
بارگاہ امامت مولا امام حسین ابن علی ع میں سلام
———-
دامِ دنیا نہ کوئی پیچِ گماں لایا ہے
سوئے مقتل تو اُسے حکمِ اذاں لایا ہے
خونِ شبیر سے روشن ہیں زمانوں کے چراغ
شِمر نسلوں کی ملامت کا دھواں لایا ہے
فیصلہ حُر نے کیا اور حِرا نے دیکھا
جست بھرتے ہی اُسے بخت کہاں لایا ہے
آج بھی سر بہ گریباں ہے اُسی حُزن میں وقت
شامِ غربت سے جو احساسِ زیاں لایا ہے
وہ شہِ رنج و رجا ہے سو یہ اُس کا شاعر
نذر کو چشمِ رواں قلبِ تپاں لایا ہے
———-
غزلیات
———-
غزل نے کون سا احساس اظہارا نہیں ہے
وہ کیا دل ہیں یہ پیمانہ جنہیں وارا نہیں ہے
زباں پر کیوں نہیں لاتے کبھی حرفِ محبت
یہ برگِ گل ہے یارا کوئی انگارا نہیں ہے
قبولا ہے فقط باغِ وطن کی نسبتوں سے
کوئی شہ گل بھی اپنی آنکھ کا تارا نہیں ہے
ہر اندازِ نظر میں دیکھتا ہے سچ کا پرتَو
کسی دانش طرف بھی دل مگر سارا نہیں ہے
ہم ایسے ڈھور ڈنگر اپنی مرضی کیا جتائیں
اُدھر کیوں جائیں جس جانب کا ہنکارا نہیں ہے
اُدھر بہنا ہے لے جائے جدھر ڈھلوان ہم کو
ہمارے بس میں اپنی سوچ کا دھارا نہیں ہے
ثوابی راحتوں کی دُھن میں تو دنیا تیاگی
کسی کے درد میں دل کا سکوں ہارا نہیں ہے
اِسے ہم خود تباہی کے کنارے لا چکے ہیں
زمیں اپنی اب اک محفوظ سیارہ نہیں ہے
غزل تکمیل پاتے ہی کروں محسوس عالی
مرے معیار کا تو یہ سخن پارہ نہیں ہے
———-
اک ترنگ ایسی کہ پھولوں کی طرف کھنچتی ہے
ایک وحشت کہ ببولوں کی طرف کھینچتی ہے
جسم گردابِ بلا میں ہے مگر موجِ خی جنال
اوج کی رَو میں بگولوں کی طرف کھینچتی ہے
کون سی شے ہے جو اِس عرصہِ انکار میں بھی
آدمیت کو رسولوں کی طرف کھینچتی ہے
تلملاتا ہے بہت جبر اُن اہلِ دل پر
سچ کی دُھن جن کو اصولوں کی طرف کھینچتی ہے
کیا کھلے رمزِ قیام اُن کے دلوں پر کہ جنہیں
نا رسی سُکر کے جھولوں کی طرف کھینچتی ہے
جب نہ دشمن ہو مقابل نہ کوئی سوچ ہدف
بے دلی ذہن کو بھولوں کی طرف کھینچتی ہے
وقت ہر روز اٹھاتا ہے سوالات نئے
دانشِ دوش مقولوں کی طرف کھینچتی ہے
شہر میں جب بھی ذرا تیز ہوا چلتی ہے
اک کشش گاؤں کی دُھولوں کی طرف کھینچتی ہے
کتنے بھی تلخ حقائق میں گِھرے ہوں عالی
شاعری خواب ہیولوں کی طرف کھینچتی ہے
———-
یہ بھی پڑھیں : آمد ہے کس پیمبر عالی مقام کی
———-
کھولے وہ عرضِ حال نے امکاں غزل غزل
چشمِ ہنر بھی رہ گئی حیراں غزل غزل
مضموں ہو دھوپ کا کہ کسی روپ کا خیال
اک سایہِ جمال ہے رقصاں غزل غزل
رہتا ہے عکس ماہِ تمنا پرے پرے
ہوتا ہے حُزنِ ہجر نمایاں غزل غزل
ہو اپنی ذات کا کہ زمانے کی رات کا
ڈھونڈیں ہر ایک درد کا درماں غزل غزل
ملتا نہیں نشاں کوئی جس کا جہان میں
زندہ ہے اک وہ پیکرِ انساں غزل غزل
اک سیریِ نگاہ و سماعت ہے سطر سطر
اک تشنگیِ شوق ہے یکساں غزل غزل
خود لفظ بولتے ہیں سخن کس قلم کے ہیں
اک فیضِ منفرد ہے فروزاں غزل غزل
وہ راز خود سے بھی جو چھپانے کے تھے انہیں
اظہار کر گیا دلِ ناداں غزل غزل
عالی سمو کے قال میں بھی حالِ جان و دل
رسوائیوں کا خود کیا ساماں غزل غزل
———-
اتنی سی اپنی خواب کہانی ہے اور بس
اُس نے اِدھر نگاہ اٹھانی ہے اور بس
کرنی ہے اُس سے ایک ملاقات آخری
جو رہ گئی ہے بات بتانی ہے اور بس
بادِ نشاطِ باغِ بدن سے کسی طرح
لَو اک چراغِ غم کی بچانی ہے اور بس
ظاہر نگر میں صادِ دل و جاں کی داد کیا
اظہارِ خیر و خُلق زبانی ہے اور بس
برہم ہوئی ہوا تو بچے گا نہ قصرِ شاہ
اُس کو تو ایک اینٹ ہلانی ہے اور بس
جیسے سخن میں جرم ہوا عرضِ مدعا
تصویر سی کوئی بھی بنانی ہے اور بس
مدت سے اک جگہ پہ ہے قصّہ رکا ہوا
اک بے جواز طول بیانی ہے اور بس
یہ کیا کہ سوچ روحِ رجا سے جدا رہے
کیا رمزِ ہست اشک فشانی ہے اور بس
عالی طلب نہیں ہمیں مال و منال کی
کافی کمالِ حرف و معانی ہے اور بس
———-
ترکش تہی ہے ٹوٹ چکی ہے کمان بھی
وحشی ہوا سے ڈول رہی ہے مچان بھی
تاراج کر دیا گیا یوں باغِ خواب کو
ملتا نہیں ہے برگِ گماں کا نشان بھی
اب حکم ہے کہ بیٹھ رہیں پر سمیٹ کر
دیکھی ہے چشمِ چرخ نے اپنی اڑان بھی
کانوں میں گونجتا رہا گیتوں کا زیر و بم
ہوتی رہی درونِ دل و جاں اذان بھی
آفت میں نامِ رب جو مرے لب پہ آ گیا
لاوا اگلنے لگ گئے کچھ گل زبان بھی
شب ریگزارِ دوش میں جتنا سفر کیا
کھلتا چلا گیا تری یادوں کا تھان بھی
عالی زمیں سے عشق بھی کچھ کم نہیں ہمیں
سوچوں میں جاگتا ہے مگر آسمان بھی
———-
یہ جو الفاظ کو مہکار بنایا ہوا ہے
ایک گل کا یہ سب اسرار بنایا ہوا ہے
سوچ کو سوجھ کہاں ہے کہ جو کچھ کہہ پائے
دل نے کیا کیا پسِ دیوار بنایا ہُوا ہے
پَیر جاتے ہیں یہ دریائے شب و روز اکثر
باغ اک سیر کو اُس پار بنایا ہُوا ہے
شوق دہلیز پہ بے تاب کھڑا ہے کب سے
درد گوندھے ہُوئے ہیں ہار بنایا ہُوا ہے
یہ تو اپنوں ہی کے چرکوں کی سلگ ہے ورنہ
دل نے ہے ہر آگ کو گلزار بنایا ہوا ہے
توڑنا ہے جو تعلق تو تذبذب کیسا
شاخِ احساس پہ کیا بار بنایا ہُوا ہے
جاں کھپاتے ہیں غمِ عشق میں خوش خوش عالیؔ
کیسی لذّت کا یہ آزار بنایا ہُوا ہے
———-
مسافتیں کب گمان میں تھیں سفر سے آگے
نکل گئے اپنی دُھن میں اُس کے نگر سے آگے
شجر سے اک عمر کی رفاقت کے سلسلے ہیں
نگاہ اب دیکھتی ہے برگ و ثمر سے آگے
یہ دل شب و روز اُس کی گلیوں میں گھومتا ہے
وہ شہر جو بس رہا ہے دشتِ نظر سے آگے
خجل خیالوں کی بھیڑ حیرت سے تک رہی ہے
گزر گیا رہروِ تمنا کدھر سے آگے
طلسمِ عکس و صدا سے نکلے تو دل نے جانا
یہ حرف کچھ کہہ رہے ہیں عرضِ ہُنر سے آگے
نثار اُن ساعتوں پہ صدیوں کے سِحر عالی
جِئے ہیں جن کے جِلَو میں شام و سَحر سے آگے
———-
شاخِ بے نمو پر بھی عکسِ گُل جواں رکھنا
آگیا ہمیں عالی دل کو شادماں رکھنا
بے فلک زمینوں پر روشنی کو ترسو گے
سوچ کے دریچوں میں کوئی کہکشاں رکھنا
رہروِ تمنا کی داستاں ہے بس اتنی
صبح و شام اک دُھن میں خود کو نیم جاں رکھنا
کار و بارِ دنیا میں اہلِ درد کی دولت
سُود سب لُٹا دینا پاس ہر زیاں رکھنا
اُس کی یاد میں ہم کو ربط و ضبطِ گریہ سے
شب لہو لہو رکھنی دن دھواں دھواں رکھنا
عشق خود سکھاتا ہے ساری حکمتیں عالی
نقدِ دل کسے دینا بارِ سر کہاں رکھنا
———-
یہ بھی پڑھیں : بھارت میں آنِس معین شناسی, رفتار اور معیار ایک جائزہ
———-
اک آوارہ سا لمحہ کیا قفس میں آ گیا ہے
لگا جیسے زمانہ دسترس میں آ گیا ہے
یہ کس کونپل کھِلی ساعت صدا دی ہے کسی نے
رُتوں کا رس ہر اک تارِ نفس میں آ گیا ہے
ہم اُس کوچے سے نسبت کی خوشی کیسے سنبھالیں
ہمارا نام اُس کے خار و خس میں آگیا ہے
انا کے فیصلے کیا مرضیِ پندار کیسی
مرا ہونا نہ ہونا اُس کے بس میں آ گیا ہے
لہو میں لَو کہاں موجود زندہ رابطے کی
نبھانے کو فقط بے روح رسمیں آگیا ہے
اُتر آئے اُن آنکھوں میں کچھ ایسے عکس عالی
کہ دل پھر سے گرفتِ پیش و پس میں آگیا ہے
———-
ذرا سی بات پر صیدِ غبارِ یاس ہونا
ہمیں برباد کر دے گا بہت حسّاس ہونا
مسلسل کوئی سرگوشی ہُمکتی ہے لہو میں
میسّر ہی نہیں ہوتا پر اپنے پاس ہونا
سبھی سینوں میں تیری نوبتوں کی گونج ، لیکن
تری دُھن کا کسی دل کی نوائے خاص ہونا
ہماری شوق راہوں پر کبھی دیکھے گی دنیا
تمہارے پتھروں کا گوہر و الماس ہونا
اِدھر بھی تو اُسے اک دن اٹھانی ہیں نگاہیں
ہمیں بھی تو کبھی ہونے کا ہے احساس ہونا
کسی موسم تو اپنے بادبانوں پر بھی عالی
لکھیں گے آشنا جھونکے ہوا کا راس ہونا
———-
کب ، کون ، کہاں ، کس لیے زنجیر بپا ہے
یہ عقدۂ اسرارِ ازل کس پہ کھلا ہے
کس بھیس کوئی موجِ ہوا ساتھ لگا لے
کس دیس نکل جائے یہ دل کس کوپتہ ہے
اک ہاتھ کی دوری پہ ہیں سب چاند ستارے
یہ عرشۂ جاں کس دَمِ دیگر کی عطا ہے
آہنگِ شب و روز کے نیرنگ سے آگے
دل ایک گلِ خواب کی خوشبو میں بسا ہے
یہ شہرِطلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے
پہلو میں کھڑا شخص فرشتہ کہ بلا ہے
ہر سوچ ہے اک گنبدِ احساس میں گرداں
اور گنبدِ احساس میں دَر حرفِ دعا ہے
یہ دید تو رُودادِ حجابات ہے عالی
وہ ماہِ مکمل نہ گھٹا ہے نہ بڑھا ہے
———-
ثبوتِ اشتیاقِ ہمرہی لاؤ تو آؤ
حصارِ ذات سے باہر نکل پاؤ تو آؤ
زمانوں سے فقط لہریں گمانوں کی گنو ہو
کسی دن تم یہ دریا پار کر جاؤ تو آؤ
حدِ خواہش میں جینا ہے تو جاؤ راہ اپنی
نہ دشتِ شوق کی وسعت سے گھبراؤ تو آؤ
عجب بے اختیارانہ تھی ہر آمد تمہاری
اُسی موجِ محبت میں کبھی آؤ تو آؤ
یہ درویشوں کی دنیا ہے کرشمے اس کے دیکھو
جہاں سے ہی نہیں خود سے بھی اُکتاؤ تو آؤ
رفاقت اہلِ غم کی اک نشاطِ مختلف ہے
جو رکھتے ہو جگر میں درد کا گھاؤ تو آؤ
ہمیں اُس حکمتِ دوراں کا اک نکتہ بہت ہے
اگر دُھن ہے اُلٹ دیں وقت کے داؤ تو آؤ
———-
چلے تھے ایک تصویرِ دگر لے کر دلوں میں
نگاہیں ہو گئیں تقسیم کتنے منظروں میں
کہاں کی ہم نوائی ، ہم کلامی بھی نہیں ہے
بس اک شورِ فغاں ہے اپنے اپنے دائروں میں
درونِ ذات بھی تضحیک جاری ہے اناکی
اُڑا دیتا ہے ہر اک سوچ کوئی قہقہوں میں
اِسی صورت جو اُس سے دُوریاں بڑھتی رہیں تو
ِگِنیں گے آج کا یہ ہجر بھی اچھے دنوں میں
ستارے اپنی منزل کا پتہ پوچھیں گے اُن سے
ہمارے خواب مٹی ہو گئے جن راستوں میں
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ” آنس معین ” کا یوم ولادت
———-
نعت رسول مقبول ص ، منقبت مولا علی ابن ابی طالب ع ، سلام بحضور امام عالی مقام ع اور شاندار و جانداربلکہ شاہکارغزلیات کے بعد اب ملاحظہ فرمائیے جناب پروفیسرجلیل عالی صاحب کی چند شاہکار نظمیں
———-
الفاظ سے آگے
———-
” ٹپِکٹم ٹمینا شما شم شمینا
کپُو پُو شٹو پو شٹا شٹ شٹینا
ڈبا ڈب ڈبو بو ڈما ڈم ڈمینا
کہاں کی یہ بولی ہے جو بولتا ہوں
کبھی شیو کرتے ہوئے
تو کبھی سَیر پٹری پہ
قدموں کے آہنگ پر
گنگناتا ہوں اس میں
کبھی زندگی کا کوئی غم بھلانے
کبھی کوئی جشنِ مسرّت منانے
یہ ہونٹوں پہ آئے
اِنہیں صوت رنگوں کی لہروں پہ میں نے
ہنڈولوں میں لیٹے ہوئے
اپنے بچوں کی
اور اپنے بچوں کے بچوں کی خاطر
محبت بھرے توتلے گیت گائے
میں دریائے کنہار کے
شور ڈوبے کنارے پہ،
خنجراب کی آسمانی بلندی پہ بھی
اونچی آواز سے
اس زباں ہی میں بولا تھا
جب گرتی برفوں نے یہ راز کھولا تھا
میں ان پہاڑوں، چٹانوں، ہواؤں،
ندی نالوں،چشموں، حسیں آبشاروں، گھٹاؤں،
پرندوں، چرندوں،
گھنے جنگلوں ہی کا حصہ ہوں
قرنوں کا قصہ ہوں
لیکن
مسلسل سلگتا سوال
اور گمبھیر حیرت!
”گپا گپ گپُوپُو کھپا کھپ کھپِیرا
ترا تر ترورو چرا چر چریرا
جما جم جمومُو لفا لف لفیرا ……… ”
یہ کیسی پگلتا ہے!
کیا بولتا ہوں!
کسے کیا بتانے کو لب کھولتا ہوں
نئے سے نئے تارِ احساس پر ڈولتا ہوں
کبھی سوچتا ہوں
یہ ہونے کے دکھ سے
رہائی کی کوئی دعا تو نہیں ہے!
مری شاعری بھی
اِسی اجنبی، ” لا” مکانی
پُر اسرار بولی کے نغمات کا
ٹوٹے پھوٹے سے
مانوس الفاظ میں
ترجمہ تو نہیں ہے
———-
کھیل جاری رہے
———-
سوچ امن و محبت سے عاری رہے
بستیوں بستیوں خوف طاری رہے
یہ زمیں قریۂ آہ و زاری رہے
آگ بھڑکی رہے
کھیل جاری رہے
نفرتوں کے نئے باب کھلتے رہیں
برق و بارود جنگیں اُگلتے رہیں
شوق سپنے لہو مول تلتے رہیں
جا بجاموت میلے لگاتی ہوئی
یہ شراکت ہماری تمہاری رہے
کھیل جاری رہے
گھٹ نہ پائے بموں، راکٹوں کی طلب
روز شہروں کو ملبہ بناتے رہو
اور ہم ساز و سامانِ تعمیرکے
اپنی مرضی سے بھاؤ بڑھاتے رہیں
تم مٹاتے رہو
ہم بناتے رہیں
انگلیوں پر جہاں کو نچاتے رہیں
عالمی گاؤں کی اِس بڑی گیم میں
اپنی اپنی رُتوں اپنی باری رہے
کھیل جاری رہے
ہم جو چاہیں وہی چال تارے چلیں
کارخانے ہمارے تمہارے چلیں
چار سُو اپنے ابرُو اشارے چلیں
جس طرح سے دکھائیں زمانے دِکھیں
قسط بر دوش خوشیوں کے پیکج بِکیں
دل تہوں بیچ اک سوگواری رہے
زندگی نوعِ انساں پہ بھاری رہے
کھیل جاری رہے
———-
یہ بھی پڑھیں : ہے فلسفوں کی گرد نگاہوں کے سامنے
———-
سُبک باری کا بھاری دن
———-
مرے شانوں پہ
باغِ فرح و فرصت کے پرندے
رقص میں ہیں
پر
مِرے دفتر کی الماری
مجھے کہتی ہے
بس !
اب جا رہے ہو
چھوڑ کر مجھ کو ہمیشہ کے لئے
کیسے یہ غم جھیلوں
مِرے تالے کی چابی
کل سے کس انگُشت جُھولے گی ؟
مِرے پٹ کون سے ہاتھوں کُھلیں گے ؟
جانے کیا کچھ اندرُوں بدلے
سماں باہَر کا کیسا ہو
کن آوازوں کے کیا لہجے
لکھے ہوں میری قسمت میں
کٹھن کتنے وہ ہوں گے دن
جو گذریں گے تمہارے بِن
۔
مجھے کرسی نے
اپنے بازوؤں میں
اِس طرح سے بھینچ رکّھا ہے
نہ پا کر کوئی صورت
روک لینے کی
منانے کی
یہ جیسے ضد کئے بیٹھی ہو
میرے ساتھ جانے کی
۔
مِری ٹیبل نے
میری کُہنیاں
آج اپنے سینے میں گڑالی ہیں
سمَجھتی ہے
مجھے خود سے جدا ہونے نہیں دے گی
مقدّر کا لکھا
یہ سانحہ ہونے نہیں دے گی !
۔
روہانسی ہو کے
ایسے سیڑھیاں پاؤں پکڑتی ہیں
کہ مشکل سے چھڑاتا ہوں
قدم اٹھتے نہیں
کیس…
———-
عجب اک روشنی دیکھی
———-
کہا استاد نے
میرے عزیزو
تختہِ اسود پہ
بے قابو ہوئی
اک باؤلی بد صورتی کی
اضطراری لہر
جس نے بھی لکیری ہے
بس اتنی سی گزارش ہے
وہ اٹھ کر معذرت کر لے
کہ ایسا ہر عمل
اک داغ دل پر چھوڑ جاتا ہے
کہ ڈھلتی عمر کے موسم
جسے ہر بار
آئینے میں آنکھیں دیکھتی ہیں
اور ندامت منہ چڑاتی ہے
اگر قسمت تمہیں کل کو
یہاں میری جگہ ڈائس پہ لے آئی
تو یہ تختہ بھی اک آئینہ بن جائے گا
تم کو داغِ دل
حد سے بڑا کر کر کے دکھلائے گا
شرمندہ کرے گا
حشر برپائے گا
یوں بے حال کر دے گا
کہ آنکھوں میں دھواں بھر دے گا
پھر کیا یہ نہیں بہتر
ابھی اس داغ کو دھو لیں
زباں کھولیں
زیاں رو لیں
کہ خود اپنی نگاہوں سُرخرو ہو لیں
ابھی تھی گفتگو جاری
کہ اک اشکوں سجا پیکر
جھکائے سر اٹھا
اور اس کے دو الفاظ
“سوری سر”
کی اجلی صوت شبنم نے
سبھی چہرے بگھو ڈالے
وہ پیکر کون تھا
کیا خال و خد اس کے تھے…
———-
یہ بھی پڑھیں :  اتنا بڑھا بشر، کہ ستارے ہیں گردِ راہ
———-
منطق نہیں بنتی
———-
چلو مانا
کہ باہر سے کوئی کچھ بھی نہیں کر تا
یہ ساری کائناتی دائرے کی ہی کہانی ہے
مگر دیکھو
وجودِ فرد میں
تاریخ و تہذیب و توارث جیسے
جتنے سلسلوں کے
جو کرشمے جاگتے ہیں
اُن کےجادوئی تناسب تک
بھلا کس کی رسائی ہے
کسے معلوم ہے
ان چھوٹے چھوٹے دائروں میں
کون سی دنیا کے کیا اسرار
کیسے سانس لیتے ہیں
کبیری وارداتیں تو
کئی تازہ جہاں تخلیق کرتی ہیں
زمینیں اور زمانے
صاحبِ توفیق کرتی ہیں
سمندر سَیرتے کہسار کے
کچھ اُوپری آثار سے
پوری حقیقت پر
جو اک زعمِ یقیں کے ساتھ
اُتھلے تبصرے کرتے ہو
جاروبی بیاں دیتے ہو
گہرائی سے
کیا کیا قہقہے ان پر اچھلتے ہیں
بہت بے مایہ و محدود نظریوں سے
لا محدود امکانات کی
تفہیم کا دعوا تو کیا
گنتی بھی نا ممکن
سو جس معیار بھی سوچو
تسلسل اور پھیلاؤ کے قصے میں
کہیں پر آخری دیوار کی منطق نہیں بنتی
کسی امکان سے انکار کی منطق نہیں بنتی
———-
ا ب ج د
———-
جیسے فضا میں
کبھی کبھی
آوارہ بادل
اک واضح تصویر کی حیرت بن جاتے ہیں
.
جیسے درختوں کی شاخوں پر
کبھی کبھی
سرمست ہواؤں کے جھونکوں سے
پتوں کی آوازیں
خوش آہنگ سُروں میں ڈھل جاتی ہیں
.
جیسے کبھی
ہلکی ہلکی بارش کی بوندیں
ریت کی تختی پر پل بھر کو
نام کسی کا لکھ دیتی ہیں
.
جیسے کوئی ننھا سا بچہ
پہلی بار اچانک اک دن
ٹوٹے پھوٹے لفظ ملا کر
پوری بات بنا لیتا ہے
———-
پت جھڑ میں کھلتے گلاب
———-
شفا نام تیرا
تری ہر ہمک
جانِ لختِ جگر
زندگی کی گمک، فرح و آرام میرا
شب و روز کی سرگرانی
غبارِغمِ رائیگانی
جھٹکنے کی رو میں
یہی کام میرا
کہ زنجیرِ معمول کو توڑ کر
سوچ کے ہر سروکار کو چھوڑ کر
میں ترے پاس آؤں
تجھے پھول سا جھولنے سے اٹھاؤں
ترے ساتھ معصوم و بے ربط باتیں کروں
اپنے اندر کا بالک جگاؤں
تری موہنی مست مسکان کی
چاندنی میں جیوں
وقت کی دھوپ سامانیاں
سب پریشانیاں بھول جاؤں
سرِ شاخ تازہ شگوفوں کی صورت
ترے ادھ کھلے ہاتھ غنچوں کی
لہران کے سنگ
غوں غوں، چُسر چوں
اموں موں، ابوں بوں
کبھی میں، کبھی توں
کے صد رنگ آہنگ سے
اپنے چہرے کی شکنوں کو ہمواریاں دوں
خزاں موسموں کے ستائے ہوئے
تیری قربت کے احساس سے گدگدائے ہوئے
تن کو گلزاریاں،
من کو قلقاریاں دوں
تجھے دل سے نکلی ہوئی لوریوں میں
دعائیں مجھے جس قدر یاد ہیں
ساریاں دوں
———-
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر سید فخر الدین بلے (علیگ) کا یوم وفات
———-
کدھر کھلتا ہے در کوئی
———-
گزرتا ہی نہیں ہے
وقت جبری چھٹیوں کا
ایک اک لمحہ صدی جیسا
گھریلو کھیل کوئی کب تلک کھیلے
کسی تقریب میں شرکت تو کیا
گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں ہے
اپنے پیاروں کے بھی چہروں سے
دل اکتانے لگے ہیں
بھولتے جاتے ہیں سب آداب
جو تہذیب کا حاصل تھے
سرمایہ تھے
خوش آہنگ بہتی زندگی کا
فاصلہ تو فاصلہ ہے
صرف جسموں تک نہیں رہتا
اتر جاتا ہے روحوں میں
ملاقاتوں کے آئینے چِھنے تو
اپنی پہچانیں بھی کھو بیٹھے
گلوبی گاؤں کا سپنا
ہمیں مہنگا پڑا کتنا
کوئی رستہ نہ جب پائے
تو آخر آگ کے دریا میں بھی
انساں اتر جائے
کبھی ایسا نہ دن آئے!
دعا سے ہچکچائیں تو
چلیں آمین ہی کہہ لیں
کسی لمحے
جھپکتی ہیں کہاں آنکھیں
بہت بے تاب ہیں
دیکھیں
کدھر کھلتا ہے در کوئی
کہ اپنے سب ہنر ہاری،
شکستِ زعم کی ماری ہوئی
بارِ دگر پرواز کی ہے منتظر دنیا
نئے آغاز کی ہے منتظر دنیا
———-
یہ عہدِ بے بسی کب تک
———-
تو باقی عمر کیا
ایسے ہی گھر میں قید رہنا ہے
عذابائی سمے کا صید رہنا ہے
بھلا دیوار کے پیچھے سے
بس آواز یا سیل فون کے پردے پہ
بے جاں عکس
فرشِ دل پہ
باہم رقص کیا آغاز کر پائیں
کدھر جائیں
ہر اک رستے پہ
انہونی کے کنٹینر ہیں استادہ
کسی جانب نہیں کھلتا درِ وعدہ
سماعت میں اتر پاتا نہیں
حرفِ رجا کوئی
کسی برقی دریچے میں بھی
اک عکسِ گلِ خوش رُو نہیں کِھلتا
جو لمحہ بھر
جھلک جائے کہیں پر التباس ایسا
تو پھر چشمہ نہیں ملتا
زمیں گردش میں ہے
لیکن
تعطل زندگی کا
طول کھینچے جا رہا ہے
اور داناؤں کو کیا معلوم
ابھی تاریخ نے
کتنے ورق خالی پلٹنے ہیں
قیامت بھوگتے یہ روز و شب
کس طور کٹنے ہیں
بنا رکھے تھے
برسوں کی ریاضت سے
جو دل نے سو چ منصوبے
اکارت جا رہے ہیں__
جگا رکھے تھے
جو احساس کی گہرائیوں میں
بے بدل سپنے
اکارت جارہے ہیں
———-
پری ایمپشن
———-
ربِ موسیٰ!
بُکا ہے بُکا!
سُن ذرا
اپنی طاقت کے نشے میں پاگل ہوا
کس رعونت سے چنگھاڑتا
تجھ کو للکارتا ہے (زمینی خدا)
.
’’ تُو یہ کہتا ہے
اک دن قیامت کا آئے گا
تیرا غضب ریزہ ریزہ کرے گا پہاڑوں کو
روئی کے گالے بنائے گا
تُو کیسے کیسے ڈراتا ہے لوگوں کو
اُس دن کی دہشت سے
اپنی انا آمریت کی خاطر
مگر دیکھ
آئینۂ نشر کے حشر میں
کیا زمانے نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں
میری ’’بارود میں‘‘ نے
ابھی اپنے ڈیزی کٹر قہر سے
کس طرح تورا بورا کے فولاد کہسار کو
پل میں توڑا ہے اور بھورا بھورا کیا ہے
قیامت تری آئے جب آئے گی
پر بتا
اس زمیں پر یہ انساں نما
غول در غول بے دست و پا
میری برّاق رفتار کے سامنے رینگتا سلسلہ
میرے ہمزاد ڈر سے ڈرے
میرے احکام مانے
کہ تیری اطاعت کرے‘‘
.
ربِ موسیٰ بیا
اپنا ہونا جتا!
کوئی جلوہ دکھا!
.
مصلّا اُلٹ بچھ گیا
.
کوئی جلدی نہیں تھی
مگر شیو کرتے ہوئے کٹ لگے
ناشتے پر بِلا وجہ بیوی سے جھگڑا ہوا
دودھ لے کر گوالے سے پلٹا
تو پاؤں رپَٹنے سے
برتن کا سب نُور بُردِ زمیں ہو گیا
جان ماری بہت
پر سکوٹر کی سانسیں نہ جاری ہوئیں
ٹیکسی کے کرائے کی تکرار میں اپنی اوقات جانی
گھنی مشکلوں پار کرکے ٹریفک کا جنگل
جو دفتر میں پہنچا تو دیکھا
مری میز پر باس کا خاص’’ الطاف نامہ‘‘ دھرا ہے
سرِ شام احباب کے درمیاں
شعر کی بحث
جانے سیاست کے میدان میں کیسے داخل ہوئی
چاے خانے میں بیٹھے ہوئے ہر کسی نے
ہماری برہنہ اناؤں کے یُدھ کا تماشا کیا
اب جو تھک ہار کر
سب طرف سے کڑی مار کھائے ہوئے جسم و جاں
اپنے بیڈ رُوم میں لا گرائے
تو بستر نے
آسودگی کی بجائے
ملامت کے کانٹے بچھائے
کئی ٹوٹکے آزمائے
کسی طَور بھی رات کٹتی نہیں
دُھند چھٹتی نہیں
چین آتا نہیں
وہم جاتا نہیں
صبح دَم کیا مصلّا اُلٹ بچھ گیا
لوحِ احساس پر بَد شگُوں یاد لکّھی گئی
عُمر کے روزنامے میں
اک پورے برباد
بے برکتے دن کی رُوداد لکّھی گئی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کتاب کا مقدمہ ” ہم سید فخرالدین بلے کے قرض دار ہیں”۔
منٹو اور اکیسویں صدی کا افسانہ نگار
آنس معین ، آنے والی صد ی کا توانا شاعر
انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
فخرِعلیگڑھ مسلم یونیورسٹی , سید فخرالدین بَلے علیگ
محسن نقوی اور سید فخرالدین بلے فیملی ، داستانِ رفاقت
چونکا دینے والے لہجے کے شاعر آنِس معین کے ادبی سفر کی داستان
پروفیسر منور علی خان علیگ کا سوانحی خاکہ
سید فخرالدین بلے علیگ : امید و رجا کے صاحبِ طرز شاعر اور دیدہ ور ادیب
سید فخرالدین محمد بلے علیگ کی حیات و خدمات کی کائنات

اشتہارات