اردوئے معلیٰ

سلطان سکون کا یومِ پیدائش

آج اردو اور ہندکو کے معروف ادیب اور شاعر سلطان سکون کا یومِ پیدائش ہے

 

(پیدائش: 23 نومبر 1932ء )
——
پیدائش اور حالاتِ زندگی
——
سلطان محمد نے ادب کی دنیا میں سلطان سکون کے نام سے شہرت پائی جس کے لیے انہوں نے ایک طویل سفر طے کیا ۔ مسلسل جدوجہد کی ، زمانے کے گرم سرد جھیلے جس کی الگ داستان ہے ۔
اپنی پیدائش اور حالاتِ زندگی کے حوالے سے سلطان سکون نے بتایا کہ :
” میری تاریخِ پیدائش 23 نومبر 1932 بروز بدھ اور جائے پیدائش مقام عید گاہ کوٹھیالہ ہے ۔ یہ تاریخ مصدقہ ہے کیونکہ یہ میرے والد صاحب کی ہاتھ سے لکھی ہوئی ہے اور جس کاپی پر درج ہے وہ میرے پاس آج بھی محفوظ ہے ۔ ”
——
یہ بھی پڑھیں : میرے خدا کا مجھ پہ یہ احسان ہو گیا
——
سلطان سکون کا بچپن اپنے آبائی علاقے کے قدرتی ماحول میں گزرا جہاں امن و سکون تھا ، محبت تھی اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خلوص سے رہتے تھے ۔ یہ قیامِ پاکستان سے پہلے کا زمانہ تھا جب ہر طرف غربت کا راج تھا ۔
یہ سادگی کا زمانہ تھا ، تعلیم کا حصول ہر ایک کے لیے ممکن نہ تھا ، خاص خاص لوگ ہی پڑھے لکھے تھے ۔
سلطان سکون نے پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے ملحقہ ” پھگلہ ” سے حاصل کی جہاں اس وقت صرف پرائمری اسکول تھا جو اب کوٹھیالہ ہائی اسکول ہے ۔
وہاں سے چار جماعتیں پاس کرنے کے بعد ان کے پاس شہر جانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ گاؤں کی سطح پر اس سے آگے کی تعلیم کی کوئی سہولت میسر نہ تھی لہٰذا انہوں نے ایبٹ آباد کا رخ کیا اور اسلامیہ ہائی اسکول میں داخلہ لیا ۔
جب سلطان سکون نے میٹرک پاس کیا تب پورے علاقے میں کوئی بھی میٹرک پاس نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ سلطان سکون کو اپنے اہلِ خاندان ، والدین اور دادا بہت پیار کرتے تھے ۔
سلطان سکون کے والد فوج میں ملازم تھے ۔ سلطان سکون کی والدہ بھی نہایت سادہ اور گھریلو خاتون تھیں ۔ وہ نماز روزہ کی پابند تھیں ۔ انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش نہایت خوش اسلوبی سے کی ۔
سلطان سکون کے والد کی خواہش تھی کہ وہ پٹواری بنیں لیکن سلطان سکون کو پٹواریوں سے سخت نفرت تھی پھر بھی والد کے اصرار پہ پٹواری کی تربیت حاصل کر لی اور امتحان بھی پاس کر لیا لیکن پٹواری نہ بنے ۔
بطور سٹور کیپر سول سپلائی میں ملازمت مل گئی ۔ سلطان سکون نے اپنی سروس بہت ایمانداری سے کی اور ہمیشہ نیک نام رہے ۔
انہوں نے ہمیشہ رزقِ حلال کو ترجیح دی اور اپنی حدود سے کبھی تجاوز نہیں کیا اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ آج بھی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں حالانکہ ان کے ساتھیوں نے اچھے شہروں میں بڑے بڑے مکانات بنائے ۔
سلطان سکون اپنی زندگی سے مطمئن ہیں کہ انہوں نے مال دولت تو نہیں بنایا لیکن دلی سکون حاصل ہے ۔
سلطان سکون نے دو شادیاں کیں ۔ ان کی پہلی شادی والدین کی مرضی سے ہوئی لیکن یہ شادی بدقسمتی سے زیادہ دیر چل نہیں سکی ۔ پہلی شادی سے ان کی بیٹی ہے جو حیات ہے اور خوش و خرم زندگی بسر کر رہی ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے
——
دوسری شادی 1962 ء میں خدیجہ بی بی سے ہوئی جو محکمہ تعلیم میں ملازم تھیں ۔ یہ پسند کی شادی تھی اور دونوں نے خوب نبھائی ۔
دوسری شادی سے سلطان سکون کے چھے بچوں کی پیدائش ہوئی جن میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں ۔
——
ادبی سفر کا آغاز
——
سلطان سکون بچپن میں خوش الحان تھے ۔ ماہیہ وغیرہ گاتے تھے ، عزیز و اقارب کے ہاں شادی بیاہ کے موقع پر ان سے ماہیے سننے کی فرمائش کی جاتی اور اس حوالے سے وہ اپنے رشتہ داروں میں مشہور بھی ہو گئے تھے ۔
اس سے ان کے اندر شعر و شاعری کا شوق پیدا ہوا ۔ جب شہر آئے اور اسلامیہ ہائی اسکول میں داخل ہوئے تب انہیں غزل ، نظم وغیرہ کا کچھ زیادہ پتہ نہیں تھا لیکن جب انہوں نے کورس کی کتابوں میں شامل غزلیں اور نظمیں پڑھیں تو انہیں بہت پسند آئیں لہٰذا انہوں نے اپنے دوست غلام سرور مرحوم کے ساتھ مل کر ترنم میں پڑھنا شروع کیا ۔
اسلامیہ ہائی اسکول میں ادبی ماحول یوں بھی تھا کہ یہاں ان دنوں اردو کے استاد سید بشیر حیدر کنول تھے جو بہت اچھے شاعر اور گیت نگار تھے اور کئی زبانیں جانتے تھے ۔ ان کا مجموعۂ کلام ” من کی بستی ” کے نام سے پروفیسر صادق زاہد مرحوم نے شائع کروایا تھا ۔
یوں سلطان سکون اور ان جیسے دوسرے طلبا کے ذہنوں کی آبیاری کے لیے یہ ماحول بہت سازگار تھا ۔
پھر سلطان سکون کی محکمہ تعلیم کے دوران جب گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد میں تعیناتی ہوئی تو یہاں شعر و ادب کا ذوق خوب پروان چڑھا ۔ وہاں اس وقت صوفی عبد الرشید اور آصف ثاقب موجود تھے ۔
ممتاز منگلوری گورنمنٹ کالج کے طالب علم تھے جو کبھی کبھی سلطان سکون کے پاس دفتر میں آ کر بیٹھ جاتے اور شعر و ادب کے موضوع پہ نہ صرف گفتگو ہوتی بلکہ ہر دو حضرات ایک دوسرے کو اپنی نظمیں غزلیں دکھاتے اور اس پہ گفتگو بھی ہوتی ۔
یہاں سے سلطان سکون کی شاعری کا باقاعدہ آغاز ہوا اور پھر مختلف اخبارات و رسائل میں ان کی غزلیں شائع ہونا شروع ہوئیں ۔
شروع میں ان کا تخلص بلاکش تھا اور وہ سلطان محمد بلاکش کہلاتے تھے ۔ تخلص کے حوالے ان کا خیال یہ تھا کہ ایسا تخلص ہو جو کسی اور شاعر کا نہ ہو اس لیے انہوں نے بلاکش جیسا منفرد تخلص اختیار کیا لیکن بعد ازاں وہ سلطان محمد بلاکش سے سلطان سکون ہو گئے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : آخری حد پہ اک جنون کے ساتھ
——
اس حوالے سے انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ یہ احمد ندیم قاسمی اور چند دوسرے شعرا کے کہنے کے بعد اختیار کیا گیا ۔
سلطان سکون نے جس دور میں شاعری کا آغاز کیا یہ قیامِ پاکستان سے صرف ایک دہائی بعد کی بات ہے لیکن اس وقت تک یہاں اچھا خاصا علمی و ادبی ماحول بن چکا تھا اور یہاں شعرا اور ادیبوں کی اچھی خاصی تعداد جمع ہو چکی تھی ۔
معروف شاعر پروفیسر شوکت واسطی بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد میں آ چکے تھے اور انہوں نے احباب کے ساتھ مل کر یہاں علمی اور ادبی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا ۔
اس حوالے سے ایک تنظیم کی بنیاد بھی رکھی گئی جس کا نام شروع میں ” ایبٹ آباد لٹریری سوسائٹی ” رکھا گیا اور بعد ازاں ” بزمِ علم و فن ” کے نام سے اس نے بے پناہ شہرت حاصل کی اور کل پاکستان مشاعرے ، مذاکرے اور ڈرامے وغیرہ منعقد کروائے ۔
اسی ماحول میں سلطان سکون نے شاعری کا آغاز کیا اور آہستہ روی سے وہ شاعروں اور ادیبوں کی کہکشاں کا حصہ بن گئے ۔
سلطان سکون نے جن لوگوں کی موجودگی میں ادبی سفر شروع کیا ان میں حفیظ اثر ، آصف ثاقب ، سید مبارک شاہ ، اکمل گیلانی ، صوفی عبد الرشید اور پروفیسر افضل مرزا شامل ہیں ۔
سلطان سکون شروع میں عبد الحمید عدمؔ سے بہت متاثر تھے ۔ بقول اُن کے :
——
مل بھی سکتے عدمؔ سے کاش سکونؔ
غائبانہ ہی دل مرید ہوا
——
عدمؔ کے علاوہ ان کے پسندیدہ شعرا میں سیف الدین سیف ، باقی صدیقی ، مجید امجد ، مصطفیٰ زیدی ، قتیل شفائی ، احمد ندیم قاسمی اور احمد فراز شامل ہیں ۔
سلطان سکون نے ان سب شعرا کو پڑھا اور ان میں سے ہر ایک سے اکتسابِ فیض کیا تاہم عدمؔ آج بھی ان کے پسندیدہ شاعر ہیں ۔
بلاشبہ سلطان سکون نے اپنا سفر بہت آہستگی سے شروع کیا اور پھر مسلسل محنت اور کاوش سے اپنے وقت کے اہم شعرا میں شمار ہوئے ۔
انہوں نے کسی بھی شاعر سے باقاعدہ اصلاح نہیں لی ۔ انہوں نے نہ صرف اردو شاعری میں اہم مقام حاصل کیا بلکہ اپنی محنت اور اپنے شوق کی وجہ سے ہندکو زبان و ادب کو ثروت مند کیا ۔
ہندکو زبان و ادب کے حوالے سے ان کا کام اولیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے ہندکو زبان کے ادبی سرمائے کو یکجا کرنے کی طرح ڈالی اور زبان کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے اس کے الفاظ و محاورات اور ضرب الامثال کو مرتب کیا ۔ ہندکو زبان کے حوالے سے ان کا عظیم کارنامہ ” ہندکو اردو لغت ” ہے ۔ انہوں نے لغت نویسی جیسے کٹھن مرحلے کو تنہا انجام دیا ہے ۔
——
یہ بھی پڑھیں : سکون پایا ہے بے کسی نے حدودِ غم سے نکل گیا ہوں
——
سلطان سکون کی پہلی ہندکو اردو لغت کے علاوہ اردو اور ہندکو کی تیرہ تصانیف و تالیفات سامنے آ چکی ہیں ۔
ان کی ادبی اور علمی خدمات کے اعتراف کے طور پر شعری اتحاد تنظیم ایبٹ آباد نے ان کے گھر کی طرف جانے والی روڈ کو حکومت سے منظوری کے بعد ان کے نام سے منسوب کر دیا ہے ۔
——
منتخب کلام
——
یارب طلب نہیں کہ مال و منال دے
شاعر ہوں مجھ کو شعر و سخن میں کمال دے
اس کے سوا نہیں ہے طلب کچھ سکون کی
اک آگہی جو قلب و نظر کو اجال دے
——
فقط اپنے حال پہ دلگرفتہ تو ہم نہیں
یہ جو خلقِ شہر نڈھال ہے ، یہ ملال ہے
——
نہیں کہ رہتے ہیں اپنے ہی دکھ پر افسردہ
ہمیں تو اوروں کے دکھ بھی نڈھال رکھتے ہیں
——
کوئی سنائے تو سنتا ہوں دردمندی سے
کہ دکھ کسی کا ہو لگتا ہے ہو بہو میرا
——
میری خوشی تو یہ ہے کہ میری بھی کچھ خوشی
اک غم نصیب شخص کے دامن میں ڈال دے
——
اس دور کا عمومی وتیرہ ہے یہ سکونؔ
ایمان بک بھی جائے تو پیسہ بنائیے
——
تیرے لبوں سی نزاکت ہے پنکھڑی میں کہاں
تیرے لبوں کو کبھی پنکھڑی کو دیکھتے ہیں
اگرچہ بزم میں بیٹھے ہیں خوش جمال کئی
سب اہلِ بزم مگر اک اُسی کو دیکھتے ہیں
——
سکونؔ اس کا وہ رسماََ ہی مسکرا دینا
غمِ حیات کی ساری تھکن اتار گیا
——
بکھرا کے بال چاک لبادہ نہیں کیا
ہم نے کیا ہے عشق ، تماشا نہیں کیا
——
چمن اداس ہے گُل سرنگوں صبا ساکن
تمہارے ساتھ وہ ہنگامۂ بہار گیا
——
اک میں اللہ دوجے میں ماں ہوتی ہے
دل کے تو یہ دو ہی خانے ہوتے ہیں
——
کعبہ بنائیے کہ کلیسا بنائیے
لیکن دل و نظر کو کشادہ بنائیے
——
یہ بھی پڑھیں : یار ! تُو میرے درد کو میری سخن وری نہ جان
——
مری مشکل کا حل کوئی نہیں ہے
تیرا نعم البدل کوئی نہیں ہے
——
کچھ اس ادا سے کچھ ایسے ہنر سے اترے گا
کہ عمر بھر نہ وہ قلب و نظر سے اترے گا
عروج پر ہے تمازت دکھوں کے سورج کی
نجانے کب یہ مرے بام و در سے اترے گا
نجانے ختم ہو کب بے جہت سفر یارو
نجانے بوجھ یہ کب اپنے سر سے اترے گا
مرے خیال میں یہ انتہائے گریہ ہے
اب اس کے بعد لہو چشمِ تر سے اترے گا
ہمارے ضبط کی میعاد ختم کب ہو گی
ہمارے صبر کا پھل کب شجر سے اترے گا
مرا نگر کسی آسیب کی لپیٹ میں ہے
اب اس کا سایہ کسی دیدہ ور سے اترے گا
جو روک رکھا ہے طوفان اپنے دل میں سکونؔ
وہ بوند بوند مری چشمِ تر سے اترے گا
——
جب بھی کوئی دیرینہ شناسا نظر آیا
صحرا میں گھنے پیڑ کا سایہ نظر آیا
جب آ کے ہوا دست و گریباں غمِ دوراں
پھر کوئی بھی اپنا نہ پرایا نظر آیا
کھاتی رہی دھوکے یہ مری سادہ نگاہی
ایسا نہیں نکلا کوئی جیسا نظر آیا
ہم دل زدگاں کا تو یہی طور رہا ہے
جا بیٹھے جہاں پیار کا سایہ نظر آیا
تفصیل سے جب پُرسشِ حالات ہوئی تو
ہر آدمی اندر سے شکستہ نظر آیا
ہے میرے نگر پر کسی آسیب کا سایہ
کچھ روز بھی ڈھب سے نہیں بستا نظر آیا
جا لپٹا ہوں مجذوبِ سرِ راہ گزر سے
کچھ اُس میں مجھے اپنا حوالہ نظر آیا
چاہا تو بہت ہم نے سکونؔ اُس کو بھلا دیں
ایسا نہ مگر کوئی طریقہ نظر آیا
——
وار دنیا کا چل نہ جائے کہیں
تو بھی ہم سے بدل نہ جائے کہیں
وہ پشیماں تو لازماََ ہو گا
شوق کی عمر ڈھل نہ جائے کہیں
اے غمِ یار تیری عمر دراز
میری آہوں سے جل نہ جائے کہیں
چُپ تو بیٹھے ہیں سامنے اُس کے
کوئی آنسو نکل نہ جائے کہیں
اُس نے وعدہ کیا کل آنے کا
کل کا سورج بھی ڈھل نہ جائے کہیں
بھول بیٹھے تو ہیں سکونؔ اُسے
دل اچانک مچل نہ جائے کہیں
——
خود کو ہم آپ بھی یہ روگ لگانے لگ جائیں
جو ملے ہنس کے اُسے دل میں بسانے لگ جائیں
کیا ستمگار ہیں جو مہر و محبت کے چراغ
خود ہی روشن بھی کریں خود ہی بجھانے لگ جائیں
یہ سمجھ لو کہ غمِ ہجر کا موسم ہے قریب
لوگ جب تم سے بہت پیار جتانے لگ جائیں
کوئی دو چار قدم بھی جو چلے ساتھ اپنے
ہم تو اتنا سا تعلق بھی نبھانے لگ جائیں
کوئی رسماََ ہی اگر پُرسشِ احوال کرے
ہم وہ خوش فہم اُسے تفصیل بتانے لگ جائیں
جس کو بھی زمیں بوس ہو کرنا مطلوب
اُس کو یہ لوگ بلندی پہ اُڑانے لگ جائیں
تم کسی روز اُسے ایک جھلک دکھلا دو
میرے ناصح کے ذرا ہوش ٹھکانے لگ جائیں
——
حوالہ جات
——
سوانح و شعری انتخاب از سلطان سکون ، شخصیت اور فن
مصنف : قمر زمان ، شائع شدہ : 2020 ، متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ