حمد اور نعت میں جو فرقِ جلی ہے زاہدؔ
ہاں وہی فرق مٹانا نہیں آتا مجھ کو نعت کو نعت ہی رکھنے کو سمجھتا ہوں کمال نعت کو حمد بنانا نہیں آتا مجھ کو
معلیٰ
ہاں وہی فرق مٹانا نہیں آتا مجھ کو نعت کو نعت ہی رکھنے کو سمجھتا ہوں کمال نعت کو حمد بنانا نہیں آتا مجھ کو
تِیرگی چیخ اٹھی ، روشنی روشنی رحمتِ ہر دو عالم کا اعجاز ہے خار، گُل بن گئے ، تِیرگی روشنی آفتابِ جہاں تابِ پیغمبری آپ کی روشنی ، دائمی روشنی جنگِ بدر و اُحد کا خلاصہ ہے یہ روشنی کو بچانے چلی روشنی دینِ حق ہے تو بس ، آپ کا دین ہے روشنی ہے […]
درحقیقت ہیں امام الانبیاء میرے نبی اپنی مرضی کے مطابق آپ جلوہ گر ہوئے ازل ازل تا بہ ابد ہیں پیشوا میرے نبی رحمۃ للعالمیں رب نے بنایا آپ کو سب جہانوں کے لیے ہیں رہنما میرے نبی آپ جب تشریف لائے نور کی بارش ہوئی مرحبا صد مرحبا صد مرحبا میرے نبی مشکلیں خود […]
آپ ہی کا فیض ہے سارے کا سارا یا نبی کر رہا ہوں آپ کے در کا نظارا یا نبی آپ کو جب بھی مصیبت میں پکارا یانبی مل گیا ہے آپ کا ہم کو سہارا یا نبی آپ سے ہی استغاثہ کر رہے ہیں ہم سدا آپ پر ہے حال سارا آشکارا یا نبی […]
ہے کتنا حسیں کتنا بھلا نامِ محمد یہ نام تو کونین کی زینت ہے ازل سے آدم کی زباں پر بھی رہا نامِ محمد فردوسِ بریں اس کی گواہی کو ہے کافی اللہ نے ہر شے پہ لکھا نامِ محمد یہ عظمت و توقیر ہے اس نامِ مبیں کی ’’تعظیم سے لیتا ہے خدا نامِ […]
ساری اُمّت کو وہ دیں گے جامِ کوثر دیکھنا نور کی برسات ہوتی ہے وہاں آٹھوں پہر گر خدا لے جائے تو طیبہ میں جا کر دیکھنا دیکھتے ہی دل میں گھر کر لیتے ہیں عشاق کے مسجدِ آقا کے وہ محراب و منبر دیکھنا پھر بُلایا ہے مدینے میں مرے سرکار نے دیکھنے والو […]
کرم یہ خاص ہے محبوبِ کبریا کے طفیل ہر ایک گام فقط تیرگی تھی ظلمت تھی اُجالا ہوتا گیا شاہِ دو سرا کے طفیل ہر ایک زمانے میں ہر اِک نبی کی اُمّت کو ملی ہیں نعمتیں سردارِ انبیا کے طفیل نہ کوئی حُسنِ عمل ہے نہ زادِ راہِ حرم میں خوش نصیب ہوا آپ […]
منوّر دونوں عالم ہیں برائے گنبدِ خضرا نجاتِ اُخروی کا راستہ طیبہ سے ملتا ہے ہے خوش قسمت وہی جو دیکھ آئے گنبدِ خضرا مدینے میں ہمیشہ نور کی برسات ہوتی ہے نہ کیسے نور میں ہر دم نہائے گنبدِ خضرا اسے نسبت ملی ہے مصطفیٰ کے نوری جلوؤں کی ہمیشہ نور کے چشمے بہائے […]
ہے عطا رب کی اور کیا، کیا ہے جو فقیرانِ کوئے طیبہ ہیں اُن کی عظمت کا پوچھنا کیا ہے کیف و مستی ہے لب پہ نعتِ نبی یہ نجانے مجھے ہوا کیا ہے خواہشیں ساری جانتے ہیں حضور کیا بتاؤں کہ مدعا کیا ہے عاشقِ مصطفیٰ ہی جانتا ہے عاشقی کیا ہے اور وفا […]
پیشِ حضور دیدۂ نَم بار مت تڑپ تابِ جمال کب ہے تجھے چشمِ آرزو بہرِ نویدِ موجۂ دیدار مت تڑپ ناقہ سوار آئے تھے ، ٹھہرے ، چلے گئے جاتے ہوؤں کو دیکھ کے اب غار مت تڑپ اُن کے عطا و اذن پہ موقوف ہے چنا حدِ ادب ہے ! خامۂ بے کار مت […]