شان میرے مصطفیٰ کی روزِ محشر دیکھنا

ساری اُمّت کو وہ دیں گے جامِ کوثر دیکھنا نور کی برسات ہوتی ہے وہاں آٹھوں پہر گر خدا لے جائے تو طیبہ میں جا کر دیکھنا دیکھتے ہی دل میں گھر کر لیتے ہیں عشاق کے مسجدِ آقا کے وہ محراب و منبر دیکھنا پھر بُلایا ہے مدینے میں مرے سرکار نے دیکھنے والو […]

یہ کائنات بنی میرے مصطفیٰ کے طفیل

کرم یہ خاص ہے محبوبِ کبریا کے طفیل ہر ایک گام فقط تیرگی تھی ظلمت تھی اُجالا ہوتا گیا شاہِ دو سرا کے طفیل ہر ایک زمانے میں ہر اِک نبی کی اُمّت کو ملی ہیں نعمتیں سردارِ انبیا کے طفیل نہ کوئی حُسنِ عمل ہے نہ زادِ راہِ حرم میں خوش نصیب ہوا آپ […]

عطائے رب تعالیٰ ہے ضیائے گنبدِ خضرا

منوّر دونوں عالم ہیں برائے گنبدِ خضرا نجاتِ اُخروی کا راستہ طیبہ سے ملتا ہے ہے خوش قسمت وہی جو دیکھ آئے گنبدِ خضرا مدینے میں ہمیشہ نور کی برسات ہوتی ہے نہ کیسے نور میں ہر دم نہائے گنبدِ خضرا اسے نسبت ملی ہے مصطفیٰ کے نوری جلوؤں کی ہمیشہ نور کے چشمے بہائے […]

عشق سلطانِ دو سرا کیا ہے

ہے عطا رب کی اور کیا، کیا ہے جو فقیرانِ کوئے طیبہ ہیں اُن کی عظمت کا پوچھنا کیا ہے کیف و مستی ہے لب پہ نعتِ نبی یہ نجانے مجھے ہوا کیا ہے خواہشیں ساری جانتے ہیں حضور کیا بتاؤں کہ مدعا کیا ہے عاشقِ مصطفیٰ ہی جانتا ہے عاشقی کیا ہے اور وفا […]

جائے سکوتِ تام ہے اظہار مت تڑپ

پیشِ حضور دیدۂ نَم بار مت تڑپ تابِ جمال کب ہے تجھے چشمِ آرزو بہرِ نویدِ موجۂ دیدار مت تڑپ ناقہ سوار آئے تھے ، ٹھہرے ، چلے گئے جاتے ہوؤں کو دیکھ کے اب غار مت تڑپ اُن کے عطا و اذن پہ موقوف ہے چنا حدِ ادب ہے ! خامۂ بے کار مت […]

ورَقِ فکر کی ہر سطر ہے خَم ، نقطہ ہے چُپ

درگہِ نعت میں حیرت ہے رواں ، خامہ ہے چُپ حرف اور صوت کے کس رنگ میں ہو مدح تری باغ احساس میں اظہار کا ہر غُنچۂ ہے چُپ صرف اِک شوق نہیں پیشِ ثنا عجز پذیر عرصۂ جذبِ فراواں کا ہر اِک لمحہ ہے چُپ خواب کے مطلعِ حیرت پہ ہے بے روک نمود […]

بار گاہِ ناز میں مدحت سرائی کے سبب

بارگاہِ ناز میں مدحت سرائی کے سبب باشرَف ہے ہر سخنور اس کمائی کے سبب تیری نسبت سے ہُوا ہے شوقِ مدحت با ہُنر حُسن با معنیٰ ہے تیری دلربائی کے سبب بے سبب اُونچا نہیں ہے منصبِ خیرِ اُمم اُمتی اُونچے ہوئے تیری دلربائی کے سبب کوئی بھی حسرت نہیں ہے ، کوئی بھی […]

کرم نواز بہ اوجِ تمام ہے لا ریب

تمھارا نام نویدِ مدام ہے لا ریب عجب نہیں جو کشادہ درِ اجابت ہے دعا کے اول و آخر سلام ہے لا ریب مَیں تیرے نُطق پہ قُربان صاحبِ یُوحیٰ ! ترا کلام ہی رب کا کلام ہے لا ریب اُجال دے گا مقدر مرے شبستاں کا جو ماہتاب سرِ اوجِ بام ہے ، لا […]

پردۂ تکوین پر جب جلوۂ یزداں کُھلا

دفترِ تمدیح جانِ عالمِ اِمکاں کُھلا اِک تسلسل چل رہا تھا بے نہایت دید کا خواب کے ما بعد جب یہ دیدۂ حیراں کُھلا خون حسرت تھوکتے تھے زخم ہائے شوقِ دل مندمل ہوتے گئے جب دید کا درماں کُھلا ہو گئے روشن شعور و آگہی کے قمقمے نعت کے جب بام پر بابِ شہِ […]